Urdu Articles

Category page pattern replacing old ViewBy category URLs.

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)

Open
articleUrdu0 min

Absolute sovereignty belongs only to Allah!

29177

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 15)۔ </span><br> دین اسلام کی فطرت ایک بنیادی اور اصلی حقیقت پیشِ نظر رکھتی ہے۔وہ یہ کہ انسانی زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کا بھی اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ مطلقہ کے سامنے جھکناواجب ہے۔یہ حاکمیت مطلقہ اس کی شریعت میں متمثل ہوتی ہے۔زندگی کا جو جزو بھی اس سے باہر ہوگا، اس حد تک زندگی کو اللہ کے دین سے بغاوت و خروج سمجھا جائے گا۔اور اس سے یہ بات از خود لازم آجاتی ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی جزو بھی بشری حاکمیت کے تابع نہ رہے۔بشری حاکمیت سے پوری خلاصی حاصل کی جائے۔جس بشر کو جس حد تک تحلیل و تحریم کا اختیار سونپا جائے گا وہ اُسی حد تک سونپنے والوں کا ’’خدا‘‘ ہوگا۔وہ خود بھی۔۔۔اگر زندہ ہو اور برضاءورغبت،بالجبر و اکراہ ایسا کرے۔۔۔باغی ہے۔اور اُسے یہ اختیار دینے والے بھی اللہ کی حاکمیت کے باغی ہیں۔کائنات کا الٰہ فقط ایک اللہ واحد ہُ ہے۔ <p style="text-align: center;">سید قطب شہید ؒ (تفسیر فی ظلال القرآن)

Open
articleUrdu0 min

Tower of Light

29176

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 14)۔ </span><br> <p> ایک ایسی شخصی زندگی جو ہر طائفہ انسانی اور ہر حالت انسانی کے مختلف مظاہر اور ہر قسم کے صحیح جذبات اور کامل اخلاق کا مجموعہ ہو،صرف محمد رسول ﷺ کی سیرت ہے۔اگر دولت مند ہو تو مکے کے تاجر اور بحرین کے خزینہ دار کی تقلید کرو،بادشاہ ہو تو سلطانِ عرب کا حال پڑھو،اگر فاتح ہو تو بدر و حنین کے سپہ سالار پر ایک نظر ڈالو،اگر استاد اور معلم ہو تو صفہ کی درسگاہ کے معلم قدس کو دیکھو،اگر واعظ اور ناصح ہو تو مسجد مدینہ کے منبر پر کھڑے ہونے والے کی باتیں سنو،اگر تنہائی و بے کسی کے عالم میں حق کی منادی کا فریضہ انجام دینا چاہتے ہو تو مکے کے الصادق و الامین نبی ﷺ کا اسوۂ حسنہ تمہارے سامنے ہے۔اگر تم حق کی نصرت کے بعد اپنے دشمنوں کو زیر اور مخالفوں کو کمزوربنا چکے ہو،تو فاتح مکہ کا نظارہ کرو۔اگر یتیم ہو تو عبد اللہ و آمنہ کے جگر گوشے کو نہ بھولو،اگر عدالت کے قاضی اور پنجایت کے ثالث ہو تو کعبے میں طلوعِ آفتاب سے پہلے داخل ہونے والے ثالث کو دیکھو جو حجر اسود کو کعبے کے ایک گوشے میں کھڑا کررہا ہے،مدینے کی کچی مسجد کے صحن میں بیٹھنے والے منصف کو دیکھو،جس کی نظرِ انصاف میں شاہ و گدااور امیر و غریب برابر تھے، اگر تم بیویوں کے شوہر ہو تو خدیجہ اور عائشہk کے مقدس شوہر کی حیاتِ پاک کا مطالعہ کرو،اگراولاد والے ہوتو فاطمہk کے والد اور حسن و حسین i کے نانا کا حال پوچھو۔غرض تم جو کوئی بھی ہو،کسی حال میں بھی ہو تمہاری زندگی کے لیے نمونہ،تمہاری سیرت کی درستی اور اصلاح کے لیے سامان ،تمہارے ظلمت خانے کے لیے ہدایت کا چراغ اور رہنمائی کا نور محمد رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے خزانے میں ہر وقت اور ہمہ دم مل سکتا ہے۔صلی اللہ علیہ والہ وصحبہ وبارک و سلم! </p> <p style="text-align: center;">سید سلیمان ندوی ؒ (خطباتِ سیرت)

Open
articleUrdu0 min

Faith Demands: Accountability.

ایمان کا تقاضا: احتساب۔

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 13)۔ </span><br> <p>’’خسران سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی باقاعدگی سے اپنا احتساب کرتا رہے۔ہر نماز کے بعد اور ہر دن کو ختم کرنے پر وہ یہ دیکھے کہ کسی ادنیٰ رفتار سے بھی عقائد میں،عبادات میں، اخلاق میں، تحریکی جدوجہد میں، فریضۂ سمع وطاعت میں، دعوتِ حق کے پھیلانے میں پسپائی تو نہیں ہورہی؟فخر وریا اور شہرت طلبی اور مفاد پسندی کی منحوس پرچھائیاں تو ذہن پر نہیں پڑ رہیں؟‘‘</P> <p> خرابی جب آتی ہے تو چوروں کی طرح دم سادھے ہمارے حریم ذات میں داخل ہوتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ غیر محسوس طور پر اپنا زہر پھیلاتی ہے۔آدمی نفس اور ماحول کے دباؤ سے بعض اُمور میں ہلکی ہلکی تاویلیں کرتا ہے اور انحرافی طرزِ عمل اختیار کرنے کے لیے خاصے دلائل جمع کرتا ہے،تاکہ اپنے ضمیر اور بیرونی نا قدین و معترضین کا مقابلہ کرسکے۔تاویلوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اُصول و حد و د اور مقاصد و غایات اور اخلاقی شعائر کی جو لکیریں کتاب و سنت کی روشنی میں بہت سوچ سمجھ کر لگائی گئی تھیں اور جن کی سال ہا سال تک پاسداری کی جاتی رہی ہے،اُنہیں ذرا آگے پیچھے کیا جا سکے۔بس ایک دفعہ اگر کسی گوشے میں یہ عمل کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر دوسرے گوشوں میں بھی ایسا ہونے لگتا ہے۔پہلے اگر پسپائی یا انحراف کا عمل انچ کے دسویں حصے تک محدود تھا تو کسی دوسرے مرحلے میں پورے انچ کا فرق پڑجاتا ہے اور بعد ازاں کسی اور موقع پر فٹ بھر کا اور آگے چل کر میل بھر کا!تاریخ میں انسانی کردار کے لیے سنت اللہ یہی ہے کہ جو تھوڑا سا آگے بڑھنے کے لیے زور لگاتا ہے،اُسے زیادہ پیش قدمی کے لیے حالات مہیا کیے جاتے ہیں۔اسی طرح جو قدم کو پیچھے ہٹاتا ہے اس کو مزید پیچھے ہٹانے والے حالات پیش آتے ہیں۔<span class="Font_AlMushaf">نُوَلِّھ مَا تَوَلّٰی</span> اس خطرے سے تحفظ صرف احتساب میں ہے۔احتساب کرتے ہوئے ہمیشہ اپنے اوّلین طے کردہ حدود وقیود کا مطالعہ کرنا چاہیئے۔پھر دیکھنا چاہیئے کہ ان خطوط و حدود میں کیاتبدیلی کی گئی۔یوں بھی سوچا جاسکتا ہے کہ کل تک کسی معاملے میں التزام اور کسی غلط چیز سے اجتناب اور کسی خاص رویے کی پسندو ناپسند کے بارے میں ایک شخص(یا سارا گروہ) کہاں قدم جمائے ہوئے تھا اور آج کہاں ہے! <p style="text-align: center;">نعیم صدیقی ؒ (تحریکی شعور)

Open
articleUrdu0 min

Is Jihad a Defensive war?

کیا جہاد دفاعی جنگ کا نام ہے؟

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 12)۔ </span><br> <p> یہ انسانی حاکمیت کے خلاف ایک انقلابی نعرہ ہے۔زمین پر حکومتِ الٰہی کے قیام کا مقصد:اللہ کی ربویت کے معنی یہ ہیں:زمین کے ہر ایک گوشہ میں انسانی حاکمیت کو چیلنج کردینا جس صورت میں کہ یہ موجود ہو‘یا یوں کہئے کہ االلہ کی ربویت کے معنی ہیں کہ انسان کی خدائی کو چیلنج کیا جائے جس صورت میں کہ یہ موجود ہو‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ جس حکم کا سر چشمہ انسان کی اپنی رضا ہو اور جس حکم میں اقتدار اعلیٰ انسان ہی کو تسلیم کیا گیا ہو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس حکم میں انسان کو الٰہ بنالیا گیا ہے‘بعض نے بعض کو اللہ کے مقابلے میں رب ٹھرالیا۔</P> <p> تو اس صورت میں اللہ کی ربویت کے اعلان کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کے غصب کردہ اقتدار اعلیٰ کو ان کے ہاتھوں سے چھین کر اللہ تعالیٰ کے حوالہ کردینا اور ان غاصبوں کو اقتدار اعلیٰ کے اس منصب سے اتاردینا۔یہ غاصب جو لوگوں کو اپنے بنائے ہوئے قانون کا پابند بناتے ہیں خود ان کے سامنے رب بن کر بیٹھتے ہیں اور انہیں غلاموں کا درجہ دیتے ہیں۔</p> اس کا مطلب ہے ’’بشری حاکمیت کے مقابلہ میں حکومت الٰہیہ کا قیام‘‘۔قرآن مجید کے اپنے الفاظ میں اس کی تعبیر یہ ہے کہ <span class="Font_AlMushaf"> ( هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌؕ) </span> ’’اللہ کی حاکمیت جس طرح آسمانوں پر ہے اُسی طرح زمین پر بھی ہے۔‘‘ <p>زمین پر حکومتِ الٰہیہ کے قیام کی یہ صورت نہیں ہے کہ اقتدار اعلیٰ کے اونچے مقام پر کسی مذہبی طبقہ کو فائز کردیا جائے جس طرح کلیسا کے اقدار کے دور میں ہوا۔اسی طرح حکومتِ الٰہیہ کے قیام کی یہ شکل بھی نہیں ہے کہ تھیا کریسی کے نام سے مذہبی طبقہ کو الٰہ بنالیا جائے ۔اس کی تو ایک ہی صورت ہے کہ اللہ کی شریعت کا نفاذ عمل میں لایا جائے اور حاکمیت کے معاملہ کو اللہ کی طرف لوٹا دیا جائے اور اسی کے حکم کے مطابق فیصلے کئے جائیں جس طرح کہ اس نے اپنی نازل کردہ شریعت میں بیان فرمادیا ہے۔</P> <p style="text-align: center;">سید قطب شہید ؒ (تفسیر فی ظلال القرآن)

Open
articleUrdu0 min

A favorite act on Eid day.

28782

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 11)۔ </span><br> <span class="Font_AlMushaf"> وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللہَ عَلٰی مَا ہَدٰىكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوۡنَ ﴿۱۸۵﴾(البقرہ)</span> <p> ’’اور تم بڑائی کرو اللہ کی اس پر جو ہدایت اُس نے تمہیں بخشی ہے اور تاکہ تم شکر کرسکو۔‘‘</p> قرآن حکیم میں ماۃِ رمضان کے روزوں کی فرضیت اور اُن سے متعلق احکام بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمیا کہ ’’ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تنگی نہیں چاہتا تاکہ پورا کرو گنتی کو اور تاکہ تکبیر(بڑائی)کرو اللہ کی اس پر کہ اُس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو‘‘۔گویا رمضان کے روزوں کی تکمیل پر اللہ تعالیٰ کی تکبیر اور اُس کے شکر ادا کرنے کی تلقین خود ربِ کائنات فرما رہے ہیں۔چناچہ یکم شوال یعنی عید کے دن مسلمان اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ <p> سیرت نبویﷺ سے بھی ہمیں یہی رہنمائی ملتی ہے کہ اس روز مسلمان نہا دھو کر،صاف ستھرےکپڑے پہن کر اور خوشبو لگا کر عید گاہ کی جانب روانہ ہوں تو بلند آواز بلند اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے جائیں اور واپسی پر بھی اس عمل کو دہرائیں کہ پوری بستی اللہ کی تکبیر سے گونج اُٹھے۔آنے اور جانے کے لیے مختلف راستوں کو اختیار کرنے کی تلقین بھی اسی لیے ہے کہ بستی کا کوئی کونہ تکبیر الٰہی کی گونج سے محروم نہ رہے۔نماز عید تو ہے ہی دو رکعت شکرانہ جو مسلمان اجتماعی طور پر صف بستہ ہوکر اپنے آقا و مالک کی جانب میں ادا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں عید کے معمولات کو اس کی اصل روح کے مطابق سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا ربُ العالمین!</P> <p style="text-align: center;">ڈاکٹر اسرار احمد ﷫(خطاب عید سے اقتباس)

Open
articleUrdu0 min

Unity and Trust in Allah.

28781

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 10)۔ </span><br> <p> جب تک ہمارے دل آپس میں جڑے نہ ہوں،جب تک مقاصدایک نہ ہوں،جب تک کوئی مشرک نظریہ نہ ہو کوئی ملک جاندار نہیں ہوسکتا۔ہماری قومیت کی واحد بنیاد اسلام ہے۔قائداعظم نے کہا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ ’’ پاکستان میں عہد حاضر میں اسلام کے اصول ِ حریت و اخوت و مساوات کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔‘‘ظاہر بات ہے کہ ہم نے ایسا نہ کرکے اللہ کے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے۔</P> <p> اب یہ اس کی سزا ہے جو ہم بھگت رہے ہیں۔’’علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی۔‘‘</p> ہم نے اگر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرلیا تو اللہ کی رحمت کے سزاوار ہوں گے اور اس کی رحمت سے ہمارے وہ تمام مسائل حل ہوجائیں گے جو آج ہمارے سروں پر مسلط ہیں اور جنہیں میں بھنور سے تشبیہہ دیتا ہوں۔بس ان کاموں کے لیے ہمت مردانہ چاہیے۔اللہ پر توکل چاہیے،آخرت کا یقین چاہیے،اللہ تعالیٰ کے ساتھ خلوص اور اخلاص چاہیے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم میں سے ہر فرد اپنی جگہ پر شریعت کا علمبردار بن کر کھڑا ہو،اپنے گھر میں شریعت نافذ کرے اور اس ملک میں جو ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا،دین حق کے قیام اور شریعت کے نفاذ کے لیے کمربستہ ہوجائے۔اگر ہم نے یہ کرلیا تو اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مزید مہلت دے دے گا اور ہم اسلام کے عادلانہ نظام کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرسکیں گے۔ <p style="text-align: center;">ڈاکٹر اسرار احمد ﷫(حقیقت ایمان)

Open
articleUrdu0 min

The place of Fasting in Religion.

28780

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 09)۔ </span><br> <p>یہ ایک فطری سی بات ہے کہ جس امت پر اللہ کے نظام کو دنیا میں قائم کرنے اور اس کے ذریعہ نوع انسانی کی قیادت کرنے اور انسانوں کے سامنے حق کی گواہی دینے کے لیے جہاد فی سبیل اللہ فرض کیا جائے،اس پر روزہ فرض ہو!روزہ ہی سے انسان میں محکم ارادے اور عزم بالحزم کی نشونما ہوتی ہے ۔روزہ ہی وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنے رب سے اطاعت و انقیاد کے ساتھ مربوط ہوتا ہے۔پھر روزہ ہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے انسان خدا کی رضا اور اجر آخرت کے لیے تمام جسمانی ضرورتوں پر قابو پاتا اور تمام دشوارویوں اور زحمتوں کو برداشت کرنے کی قوت حاصل کرتا ہے۔</p> اس فریضہ کا اولین مقصود تقویٰ ،صفائے قلب،احساسِ ذمہ داری اور خشیتِ الٰہی کے لیے دلوں کو تیار کرنا ہے۔تقویٰ دل میں زندہ بیدار ہو تو مومن اس فریضہ کو اللہ کی فرمانبرداری کے جذبے کے تحت اس کی رضا جوئی کے لیے ادا کرتا ہے۔تقویٰ ہی دلوں کا نگہبان ہے۔وہی معصیت سے روزے کو خراب کرنے سے انسان کو بچاتا ہے،خواہ یہ دل میں گزرنے والا خیال ہی کیوں نہ ہو۔قرآن کے اولین مخاطب جانتے تھے کہ اللہ کے یہاں تقویٰ کا کیا مقام ہے اور اس کی میزان میں تقویٰ کا کیا قزن ہے۔یہ ان کی منزل مقصود تھی، جس کی طرف ان کی روحیں لپکتی تھیں۔روزہ اُس کے حصول کا ذریعہ اور اس تک پہنچانے کا راستہ ہے۔قرآن اس تقویٰ کو منزل مقصود کی حیثیت سے ان کے سامنے رکھتا ہے،تاکہ روزے کے راستے سے وہ اس منزل کا رُخ کرسکیں۔ <p style="text-align: center;"> سید قطب شہیدؒ

Open
articleUrdu0 min

The purpose of fasting and praying during Ramadan.

28779

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 08)۔ </span><br> <p>صیام و قیام رمضان کی اصلی غایت و حکمتاور ان کا اصل ہدف و مقصود ایک جُملے میں اس طرح سمویا جاسکتا ہے کہ: ایک طرف روزہ انسان کے جسدِ حیوانی کے ضعف و اضمحلال کا سبب بنے تا کہ رُوحِ انسانی کے پاؤں میں پڑی ہوئی بیڑیاں کچھ ہلکی ہوں اور بہیمیت کے بھاری بوجھ تلے دبی ہوئی اور سسکتی اور کراہتی ہوئی رُوح کو سانس لینے کا موقع ملے۔اور دوسری طرف قیام اللیل میں کلام ِ ربّانی کا روح پر ور نزول اُس کے تغذیہ و تقویت کا سبب بنے۔تاکہ ایک جانب اس پر کلام الٰہی کی وعظمت کما حقہ منکشف ہو جائے اور وہ اچھی طرح محسوس کرے کہ یہی اُس کی بھوک کو سیری اور پیاس کو آسودگی عطا کرنے کا ذریعہ اور اُس کے دکھ کا علاج اور درد کا در ماں ہے!اور دوسری جانب رُوحِ انسانی از سرِ نو قوی اور توانا ہوکر ’’ اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز‘‘ہو‘ گویا اس میں تقرب اِلیٰ اللہ کا داعِیہ شدّت سے بیدار ہوجائے اور وہ مشغولِ دعاو مناجات ہو‘جو اصل رُوح ہے عبادت کی اورلُبِ لُباب ہے رُشدو ہدایت کا!</p> <p> دوسری بدنی اور مالی عبادتوں کا حاصل ہے تزکیہ و تطہیر نفس ‘وہاں صومِ رمضان کا حاصل ہے تغزیہ و تقویّتِ روح جو‘متعلّق ہے براہِ راست ذاتِ خدا وندی کے ساتھ۔لہذا روزہ ہوا خاض اللہ کے لیے،وہ خود ہی اس کی جزادے گا خدا تو منتظر رہتا ہے کہ جیسے ہی کوئی بندہ خلوص و اخلاص کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہو‘وہ بھی کمالِ شفقت و عنایت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوجائے۔یہاں تک کہ ایک حدیثِ قدسی کی رو سے اگر بندہ اُس کی جانب چل کر آتا ہے تو بندے کی جانب دوڑ کر آتا ہے‘اور اگر بندہ اُس کی طرف بالشت بھر بڑھتا ہے تو وہ بندے کی طرف ہاتھ بھربڑھتا ہے۔گویا بقول علامہ اقبالؔ مرحوم ؎</p> <p style="text-align: center;"> ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں! <p style="text-align: center;"> راہ کھلائیں کسے؟رہرومنزل ہی نہیں! <p style="text-align: center;">ڈاکٹر اسرار احمد ﷫(عظمت صوم)

Open
articleUrdu0 min

Ramadan- The Annual Celebration of the Revelation of the Quran.

28778

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 07)۔ </span><br> <p>اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ رمضان المبارک کے پروگرام کی دو شقیں ہیں: ایک دن کا روزہ اور دوسرےرات کا قیام اور اس میں قراءت و استماع قرآن!اور اگرچہ ان میں سے پہلی شق فرض کے درجے میں ہے اور دوسری بظاہر نفل کے،تاہم قرآن ِ مجید اور احدیث ِ نبویہ علیٰ صاحبیا الصلوٰۃ و السلام دونوں نے اشارۃُ اور کنایۃُ واضح فرمادیا کہ یہ ہے رمضان المبارک کے پروگرام کا جزوِلاینفک!۔۔۔۔۔۔چناچہ قرآن نے وضاحت فرمادی کہ روزوں کے لیے ماۃِ رمضان معین ہی اس لیے کیا گیا ہے کہ اس میں قرآن مجید نازل ہوا: تھا ’’ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوا۔‘‘ گویا یہ ہے ہی نزولِ قرآن کا سالانہ جشن!</p> اور احادیث نے تو بالکل ہی واضح کردیا کہ رمضان المبارک میں ’صیام ‘ اور ’قیام‘ لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں: چناچہ:۔ <p>1-امام بیہقی﷫ نے رمضان المبارک کی فضیلت کے ضمن میں جو خطبہ آنحضورﷺ کا ’شعبُ الایمان ‘میں نقل کیا ہے،اُس کے الفاظ ہیں:’’اللہ نے قرار دیا اس میں روزہ رکھنا فرض اور اُس کا قیام اپنی مرضی پر۔‘‘ گویا قیام اللیل اگرچہ ’’تطوُّعاً‘‘ ہے تا ہم اللہ کی جانب سے ’مجعول‘ بہرحال ہے!</p> 2- امام بیہقی﷫ نے شعب الایمان میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت کیا کہ آنحضورﷺ نے فرمایا:’’روزہ اور قرآن بندۂ مومن کے حق میں سفارش کریں گے۔روزہ کہے گا،اے رب! میں نے اسے روکے رکھا دن میں کھانے اور خواہشات سے،پس اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔اور قرآن کہے گا میں نے روکے رکھا اسے رات کو نیند سے ،پس اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔تو دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘ <p style="text-align: center;">ڈاکٹر اسرار احمد ﷫(عظمت صوم)

Open
articleUrdu0 min

The place of fasting in Religion.

28776

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 06)۔ </span><br> <p>یہ ایک فطری سی بات ہے کہ جس امت پر اللہ کے نظام کو دنیا میں قائم کرنے اور اس کے ذریعہ نوع انسانی کی قیادت کرنے اور انسانوں کے سامنے حق کی گواہی دینے کے لیے جہاد فی سبیل اللہ فرض کیا جائے،اس پر روزہ فرض ہو!روزہ ہی سے انسان میں محکم ارادے اور عزم بالحزم کی نشونما ہوتی ہے ۔روزہ ہی وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنے رب سے اطاعت و انقیاد کے ساتھ مربوط ہوتا ہے۔پھر روزہ ہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے انسان خدا کی رضا اور اجر آخرت کے لیے تمام جسمانی ضرورتوں پر قابو پاتا اور تمام دشوارویوں اور زحمتوں کو برداشت کرنے کی قوت حاصل کرتا ہے۔</p> اس فریضہ کا اولین مقصود تقویٰ ،صفائے قلب،احساسِ ذمہ داری اور خشیتِ الٰہی کے لیے دلوں کو تیار کرنا ہے۔تقویٰ دل میں زندہ بیدار ہو تو مومن اس فریضہ کو اللہ کی فرمانبرداری کے جذبے کے تحت اس کی رضا جوئی کے لیے ادا کرتا ہے۔تقویٰ ہی دلوں کا نگہبان ہے۔وہی معصیت سے روزے کو خراب کرنے سے انسان کو بچاتا ہے،خواہ یہ دل میں گزرنے والا خیال ہی کیوں نہ ہو۔قرآن کے اولین مخاطب جانتے تھے کہ اللہ کے یہاں تقویٰ کا کیا مقام ہے اور اس کی میزان میں تقویٰ کا کیا قزن ہے۔یہ ان کی منزل مقصود تھی، جس کی طرف ان کی روحیں لپکتی تھیں۔روزہ اُس کے حصول کا ذریعہ اور اس تک پہنچانے کا راستہ ہے۔قرآن اس تقویٰ کو منزل مقصود کی حیثیت سے ان کے سامنے رکھتا ہے،تاکہ روزے کے راستے سے وہ اس منزل کا رُخ کرسکیں۔ <p style="text-align: center;"> سید قطب شہیدؒ

Open
articleUrdu0 min

What kind of people are needed to revive Islam?

28775

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 05)۔ </span><br> عوام کی کشتِ قلوب میں ایمان کی تخم ریزی اور آبیاری کا مؤ ثر ترین ذریعہ ایسے اصحاب علم و عمل کی صحبت ہے جن کے قلوب و اذہان معرفت ِ ربانی و نور ایمانی سے منور ‘سینے کبر ‘بغض اور ریا سے پاک اور زندگیاں حرص‘طمع‘لالچ اور حبّ ِ دنیا سے خالی نظر آئیں۔خلافت علی منہاج النبوۃ کے نظام کے درہم برہم ہوجانے کے بعد ایسے ہی نفوسِ قدسیہ کی تبلیغ و تعلیم ‘ تلقین و نصحیت اور تربیت و صحبت کے ذریعے ایمان کی روشنی پھیلتی جا رہی ہے اور اگرچہ جب سے مغرب کی الحاد و مادہ پرستی کے زہر سے مسموم ہواؤں کا زار ہوا‘ایمان و یقین کے یہ بازار بھی بہت حد تک سردپڑ گئے‘تاہم ابھی ایسی شخصیتیں بالکل نا پید نہیں ہوئیں جن کے ’’ دل روشن‘‘ نورِ یقین اور ’’ نفس گرم‘‘ حرارتِ ایمانی سے معمور ہیں اور اب ضرورت اس کی ہے کہ ایمان و یقین کی ایک عام روایسی چلے کہ قریہ قریہ اور بستی بستی ایسے صاحب عزیمت لوگ موجود ہوں جن کی زندگیوں کا مقصد ِ و حیدخدا کی رضا جوئی اور اس کی خوشنودی کا حصول ہو۔ <p style="text-align: center;"> ڈاکٹر اسرار احمدؒ (اسلام کی نشأۃ ثانیہ)

Open
articleUrdu0 min

Is our destination the hereafter or this world?

28774

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 04)۔ </span><br> سورۃ الشعراء کی آیت 20 میں ارشاد الٰہی ہے : ’’تم سے جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے‘ اُس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں‘اور دنیا کی کھیتی جو چاہتا ہے ‘ اُسے ہم دنیا ہی میں دے دیتے ہیں ‘ مگر آخرت میں اُس کا کوئی حصّہ نہیں ہے‘‘۔<p> یہ بڑا پیارا اور اٹل قانون ہے جو اختصار کے ساتھ یہاں بیان ہوا ہے۔آپ فیصلہ کیجئے کہ آپ آخرت کے طالب ہیں یا دنیا کے؟آپ کا مقصود و مطلوب آخرت ہے یا دنیا؟عقبی چاہئےیا دنیا چاہئے؟فیصلہ کیجئے! شعوری طور پر فیصلہ ہو‘پھر اُس پر ڈٹ جایئے۔یہ نہ ہو کہ دنیا ذرا ہاتھ سے جاتی دکھائی دی تو دل پژمردہ ہوگیا اور طبیعت مضمحل ہوگئی۔اگر تم فیصلہ کرچکے ہو کہ تمہاری مراد آخرت ہے تو اگر دنیا میں کمی آرہی ہے تو کہیں کو ئی پریشانی اور پشیمانی نہیں ہونی چاہئے۔’’جو کوئی آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہے تو اس کی کھیتی میں ہم برکت دیتے رہتے ہیں۔‘‘اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔اس دنیا کی زندگی میں جو نیک اعمال انسان آگے بھیجتا ہے،اللہ تعالیٰ انہیں پروان چڑھاتا ہے‘پالتا ہے‘پوستا ہے‘ترقی دیتا ہے‘۔’’اور جو کوئی طالب بن جاتا ہے،دنیا کی کھیتی کا۔‘‘ جس کا مقصود و مطلوب دنیا بن گئی تو ہم اُسے دے دیتے ہیں اس میں سے۔ہم یہ نہیں کرتے کہ جو بہرحال دنیا کا طالب بن گیا ہے‘جس کی مراد دنیا ہی ہوگئی ہے‘ اُسے ہم دنیا سے بھی محروم کردیں۔لہذا دنیا میں اُسے ہم کچھ دے دلایتے ہیں۔</p> <p> پھر ایسے شخض کے لیے آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہے۔’’تم یہ چاہو کہ یہ بھی ملے اور وہ بھی ملے‘دو دو اور وہ بھی چپڑی‘یہ مشکل ہے۔طے کرو کہ کیا اصل مطلوب و مقصود اور مراد ہے!آخرت کے طلب گار ہو تو آخرت کی کھیتی میں برکتیں ہی برکتیں ہیں‘بڑھو تری ہی بڑھوتری ہے‘لیکن اگر تم طالب دنیا بن گئے ہو تو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں سے تمہیں کچھ نہ کچھ ضرور دے دے گا لیکن آخرت میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے۔ <p style="text-align: center;"> ڈاکٹر اسرار احمدؒ (توحید عملی)

Open
articleUrdu0 min

Big Job.

28773

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 03)۔ </span><br> <p>احیا ئے اسلام کی جدوجہد اتنا برا کام ہے کہ میری اور آپ کی اور ہم جیسے سینکڑوں آدمیوں کی پوری پوری زندگیاں بھی اس کے لیے کافی نہیں ہیں۔اگر ہم یہ اُمید کریں کہ ہماری زندگی میں اس کے پورے نتائج سامنے آجائیں گے تو یہ غلط اُمید ہوگی۔یہ کھجور کا درخت لگانا ہے‘جو اس کو بوتا ہے وہ اس کے پھل نہیں توڑسکتا ۔ہم اس درخت کو لگائیں گے اور اپنے خونِ جگر سے اس کو سینج کر چلے جائیں گے۔ہمارے بعد دوسری نسل آئے گی اور شاید وہ بھی اس کے پھلوں سے پوری طرح لذت آشنانہ ہو سکے گی۔کم از کم دو تین پُشتیں یا اُس سے بھی زائد اس کے پورے نتائج ظاہر کرنے کے لیے درکار ہیں۔لہذا ہمیں نتائج کے لیے بے صبر نہ ہونا چاہیے۔ہمارا کا م یہ ہے کہ عمارت کا نقشہ ٹھیک ٹھیک ‘جیسا کہ ہم بنا سکتے ہیں‘بنادیں اور اس کی بنیادیں اُٹھا کر نئی آنے والی نسل کو تعمیری کام جاری رکھنے کے لیے تیار کردیں ۔اس سے زیادہ غالباً ہم کچھ نہ کرسکیں گے۔ </P> <p style="text-align: center;"> مولانا سید موددیؒ (دینایت)

Open
articleUrdu0 min

Live in the Quranic Atmosphere.

28772

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 02)۔ </span><br> <p>قرآن کی اپنی ایک فضا ہے،جس میں اس کے قاری،اس کے مطالعہ کرنے والے،اس کے مضامین پر غور کرنے والے اور اُس کے ساتھ ساتھ قدم بقدم چلنے والے زندہ رہتے ہیں۔یہ فضا محض اس کا درس و تدریس اور قراءت و مطالعہ نہیں ہے،قرآنی فضا میں زندہ رہنے سے ہماری مراد یہ ہے کہ انسان اس قسم کے احوال و ظروف میں زندگی گزارے جس میں قرآن نازل ہوا تھا۔وہی تحریکہو،وہی جدوجہد ہو،مخالفت کے طوفانوں سے وہی مقابلہ ہو،معاندین کے ساتھ وہی کشتی ہو،وہی انتظام و اہتمام ہو جو اُمّت ِ مسلمہ نے کیا تھا۔قرآنی فضا میں زندگی گزارنے والے کے دل و جان اور حرکت و سکون نیں یہی ولولہ ہو کہ اسے اپنے نفس میں اور تمام انسانوں کے ولب و روح میں اسلام کی روح کو پھونکنا ہے،جس طرح پہلی بار جاہلیت سے مقابلہ ہوا تھا،اب ایک بار پھر وہی مقابلہ کرنا ہے،جاہلیت کے ہر تصور ،ہر عقیدے،ہر رسم و رواج اور ہر تنظیم کو مٹا کر اس کی جگہ پر زندگی کے ہر انفرادی و اجتماعی شعبے میں اسلام کو نافذ کرنا ہے۔قرآن کا نزول اس فضا میں ہوا تھا،اور اس کا عمل دخل انہی حالات میں قائم ہوا تھا۔جو لوگ اس قرآنی فضا میں زندگی نہیں گزارتے،وہ قرآن کے درس و تدریساور قراءت اور علوم کے خواہ کتنے ہی ماہر ہوں،اور ہر وقت اسی میں غرق رہیں،مگر وہ قرآن سے الگ تھلگ ہیں۔ </P> <p style="text-align: center;"> سید قطب شہیدؒ (تفسیر فی ظلال القرآن)

Open
articleUrdu0 min

Enjoining good and forbidding evil.

28771

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 01)۔ </span><br> <p>اُمتِ مسلمہ صرف کلمہ گو جماعت نہیں بلکہ داعی الی الخیر بھی ہے۔یہ اُس ک دینی فرائض میں داخل ہے کہ بنی نوع انسان کی دنیا کی سرفرازی اور آخرت کی سر خروئی کے لیے جو بھی بھلے کام نظر آئیں،بنی آدم کو اُس کا درس دیں اور اُس کی مخالف سمت چلنے سے اُن کو روکیں۔اس فریضہ سے کوئی مسلمان بھی مستثنیٰ نہیں۔مسلم معاشرے کے ہر فرد کا فرض ہے کہ کلنہ حق کہے،نیکی اور بھلائی کی حمایت کرئے۔الاقرب فالاقرب کے اصول کو مدِ نظر رکھتے ہوئے گھر،معاشرے اور مملکت میں جہاں بھی غلط کام ہوتے نظر آئیں اُن کو روکنے کی مقدو ربھر کوشش کرے۔ایمان بااللہ کے بعد دینی ذمہ داریوں میں سب سے بڑی ذمّہ داری امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا ہے۔امر بالمعروف کا مطلب ہے نیکی کا حکم دینا اور نہی عن المنکر کا مطلب ہے برائی سے روکنا۔یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیک لوگوں کو پسند اور ربرائی اور برے لوگوں کو ناپسند فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ نیک لوگوں اور نیکی کا غلبہ رہے اور برے لوگ اور برائی مغلوب رہے۔اللہ تعالیٰ نے اہل ِ ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی سے بچنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا حکم دیا ہے۔اسی عظیم مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے انبیاء ﷩ کو مبعوث فرمایا اور انبیاءکرام﷩ کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد اُمّتِ محمدیﷺکے حکمرانوں،علماء و فضلاء کو خوصوصاً اور اُمّت کے دیگر افراد کو عموماً اس کا مکلف ٹھرایا ہے۔قرآن و حدیث میں اس فریضہ کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں پر اپنے اپنے دائرہ کار اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرنا واجب قرار دیا گیا ہے۔</P> <p style="text-align: center;"> فرید اللہ مروت (رکن مجلسِ ادارات)

Open
articleUrdu0 min

The Reality of Good and Bad Situations in the world.

دنیا میں اچھے بُرے حالات کی حقیقت۔

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 50)۔ </span><br> <p> ’’جب کوئی شخص یا قوم ایک طرف تو حق سے منحرف اور فسق و فجور اور ظلم و طغیان میں مبتلا ہو،اور دوسری طرف اُس پر نعمتوں کی بارش ہورہی ہو،تو عقل اور قرآن دونوں کی رو سے یہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ خدا نے اُس کو شدید تر آزمائش میں ڈال دیا ہے اور اس پر خدا کی رحمت نہیں بلکہ اُس کا غضب مسلط ہوگیا ہے۔اُسے غلطی پر چوٹ لگتی تو اس کے معنی یہ ہوتے کہ خدا ابھی اُس پر مہربان ہے،اُسے تنبیہہ کر رہا ہے اور سنبھلنے کا موقع دے رہا ہے۔لیکن غلطی پر ’’انعام‘‘ یہ معنی رکھتا ہے کہ اُسے سخت سزا دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اُس کی کشتی اس لیے تَیر رہی ہے کہ خوب بھر کر ڈوبے۔اس کے برعکس جہاں ایک طرف سچی خدا پرستی ہو،اخلاق کی پاکیزگی ہو،معاملات میں راست بازی ہو،خلقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک اور رحمت و شفقت ہو،اور دوسری طرف مصائب اور شدائد اُس پر موسلادھار برس رہے ہوں اور چوٹوں پر چوٹیں اُسے لگ رہی ہوں،تو یہ خدا کے غضب کی نہیں،اُس کی رحمت ہی کی علامت ہے۔’سنار‘ اس سونے کو تپا رہا ہے،تاکہ خوب نکھر جائے اور دنیا پر اُس کا کامل المعیار ہونا ثابت ہوجائے۔دنیا کے بازار میں اس کی قیمت نہ بھی اُٹھے تو پروا نہیں، ’سنار‘ خود اس کی قیمت دے گا، بلکہ اپنے فضل سے مزید عطا کرئے گا۔اُس کے مصائب اگر غضب کا پہلو رکھتے ہیں تو خود اُس کے لیے نہیں بلکہ اُس کے دشمنوں ہی کے لیے رکھتے ہیں، یا پھر اس سوسائٹی کے لیے جس میں صالحین ستائے جائیں اور فساق نوازے جائیں۔‘‘ <p style="text-align: center;"> سیّد مودودی ؒ (تفہیم القرآن) (سورۂ مومنون آیت 56)

Open
articleUrdu0 min

The Ignorance of the Present Era.

عہدِ حاضر کی جاہلیت

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 49)۔ </span><br> <p>موجودہ انسانی زندگی کی بنیادیں اور ضابطے جس اصل اور منبع سے ماخوذ ہیں، اس کی رو سے اگر دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ آج ساری دنیا ’’جاہلیت‘‘ میں ڈوبی ہوئی ہے اور ’’ جاہلیت ‘‘ بھی اس رنگ ڈھنگ کی ہے کہ یہ حیرت انگیز مادی سہولتیں اور آسائشیں اور بلند پایہ ایجادات بھی اس کی قباحتوں کو کم یا ہلکا نہیں کرسکتیں۔اس جاہلیت کا قصر جس بنیاد پر قائم ہے،وہ ہے اس زمین پر اللہ کے اقتدارِ اعلیٰ پر دست درازی،اور حاکمیت جو الوہیت کی مخصوص صفت ہے اس سے بغاوت۔چنانچہ اس جاہلیت نے حاکمیت کی باگ ڈور انسان کے ہاتھ میں دے رکھی ہے۔ اور بعض انسانوں کو بعض دوسرے انسانوں کے لیے ارباب ’ مّن دون اللہ ‘ کا مقام دے رکھا ہے۔اس سیدھی سادی اور ابتدائی صورت میں نہیں جس سے قدیم جاہلیت آشنا تھی بلکہ اس طنطنے اور دعوے کے ساتھ کہ انسانوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ خود افکار و اقدار کی تخلیق کریں،شرائع و قوانین وضع کریں اور زندگی کے مختلف پہلؤں کے لیے جو چاہیں نظام تجویز کریں۔اور اس سلسلے میں انہیں یہ معلوم کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی کے لیے کیا نظام اور لائحہ عمل تجویز کیا ہے،کیا ہدایت نازل کی ہے اور کس صورت میں نازل کی ہے۔اس باغیانہ انسانی اقتدار اور بے لگام تصورِ حاکمیت کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ خلق اللہ ظلم و جارحیت کی چکی میں پس رہی ہے۔چنانچہ اشترا کی نظاموں کے زیر سایہ انسانیت کی جو تذلیل ہوئی،یاسر مایہ دارانہ نظاموں کے دائرے میں سرمایہ پرستی پر رجوع الارضی کے عفریت نے افراد و اقوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں وہ دراصل اُسی بغاوت کا شاخسانہ ہے،جو زمین پر اللہ تعالیٰ کے اقتدار کے مقابلے میں دکھائی جارہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو تکریم اور شرف عطا کیا ہے،انسان اُسے خود اپنے ہاتھوں پامال کر کے نتائج بد سے دو چار ہے! </p> <p style="text-align: center;"> سید قطب شہیدؒ (جادہ منزل)

Open
articleUrdu0 min

The complaint of Shafi'i (peace be upon him) about Muslims' rejection of the Holy Quran.

شافع محشرؐ کی مسلمانوں کے قرآن مجید سے اعراض کی شکایت۔

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 48)۔ </span><br> <p> <span class="Font_AlMushaf"> ﴿ وَ قَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوۡا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہۡجُوۡرًا ﴿۳۰﴾ ﴾ </span> (الفرقان ) </p> <p>’’ اور پیغمبر (ﷺ) کہیں گے کہ اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔‘‘ </p> آیت سے ظاہر یہ ہے کہ قرآن کو مہجور اور متروک کردینے سے مراد قرآن کا انکار ہے جو کفار ہی کا کام ہے۔مگر بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ جو مسلمان قرآن پر ایمان تو رکھتے ہیں مگر نہ اس کی تلاوت کی پابندی کرتے ہیں،نہ اس پر عمل کرنے کی۔وہ بھی اس حکم میں داخل ہیں۔حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ جس شخص نے قرآن پڑھا مگر پھر اس کو بند کر کے گھر میں معلق کردیا کہ نہ اس کی تلاوت کی پابندی کی، نہ اس کے احکام میں غور کیا۔قیامت کے روز قرآن اس کے گلے میں پڑا ہوا آئے گا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کرے گا کہ آپ کے اس بندے نے مجھے چھوڑ دیا۔اب اس کے اور میرے معاملہ کا فیصلہ فرمائیں۔‘‘ (قرطبی) تو غور کا مقام ہے کہ حشر کے میدان میں جب شافع محشر دربار خداوندی میں شکایت فرمائیں گے کہ اے میرے پروردگار! میری قوم نے اس قرآن کو بالکل نظر انداز کر رکھا تھا اور قرآن کریم فریاد کرے گا کہ مجھے چھوڑ دیا گیا تھا تو اس وقت کیا تدارک اور کیا تدبیر ہوسکے گی۔رسول اللہ ﷺ کے ان الفاظ اور قرآن کریم کی اس شکایت سے بچنے کی اور کیا صورت ہوگی خدا وند قدوس کی گرفت سے بچنے کی۔اللہ تبارک و تعالیٰ اس قرآن کریم کی طرف سے ہماری آنکھیں اس دنیا میں کھول دے اور اس کے حقوق کو پہچاننے اور ان کے ادا کرنے کی توفیق اور سمجھ عطا فرمادے اور قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے شرمندگی اور ندامت سے بچالے۔ <p style="text-align: center;"> تفسیر معارف القرآن( مفتی محمد شفیع ﷫ )

Open
articleUrdu0 min

Slavery of the self

28253

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 47)۔ </span><br> <p> ارشاد باری تعالیٰ ہے :</p> <p> <span class="Font_AlMushaf"> ﴿ وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ بِغَیۡرِ ہُدًی مِّنَ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ لَا یَہۡدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿٪۵۰﴾﴾ </span> (القصص:50 ) </p> <p>یعنی’’ اُس سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جس نے اللہ کی ہدایت کے بجائے اپنے نفس کی خواہش کی پیروی کی۔ایسے ظالم لوگوں کو اللہ ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ </p> مطلب یہ ہے کہ سب سے بڑھ کر انسان کو گمراہ کرنے والی چیز انسان کے اپنے نفس کی خواہشات ہیں۔جو شخص خواہشات کا بندہ بن گیا،اُس کے لیے خدا کا بندہ بننا ممکن ہی نہیں۔وہ ہر وقت یہ دیکھے گا کہ مجھے روپیہ کس کام میں ملتا ہے،میری عزت اور شہرت کس کام میں ہوتی ہے،مجھے لذت اور لطف کس کام میں حاصل ہوتا ہے،مجھے آرام اور آسائش کس کام میں ملتی ہے۔بس یہ چیزیں جس کام میں ہوں گی،اُسی کو وہ اختیار کرے گا،چاہے خدا اس سے منع کرے اور یہ چیزیں جس کام میں نہ ہوں،اُس کو ہرگز نہ کرے گا،چاہے خدا اس کا حکم دے۔تو ایسے شخص کا خدا اللہ تبارک و تعالیٰ نہ ہوا،اس کا اپنا نفس ہی اس کا خدا ہوگیا۔اس کو ہدایت کیسے مل سکتی ہے؟۔۔۔۔۔نفس کے بندے کا جانوروں سے بد تر ہونا ایسی بات ہے جس میں کسی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے۔کوئی جانور آپ کو ایسا نہ ملے گا جو خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے بڑھتا ہو۔ہر جانور وہی چیز کھاتا ہے جو خدا نے اُس کے لیے مقرر کی ہے۔اُسی قدر کھاتا ہے جس قدر اس کے لیے مقرر کی ہے۔اور جتنے کام جس جانور کے لیے مقرر ہیں بس اتنے ہی کرتا ہے۔مگر یہ انسان ایسا ’ جانور‘ ہے کہ جب یہ اپنی خواہش کا بندہ بنتا ہے تو وہ وہ حرکتیں کر گزرتا ہے،جس سے شیطان بھی پناہ مانگے۔ <p style="text-align: center;"> خطبات( سید مودودیؒ )

Open
articleUrdu0 min

love of the world.

28238

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 46)۔ </span><br> <p> آخرت اور قیامت کے انکار کا ایک بڑا سبب دُنیا کی حد سے بڑھی ہوئی محبت ہے۔چنانچہ ارشاد ہوا :</p> <p><span class="Font_AlMushaf"> ﴿کَلَّا بَلْ تُحِبُّوۡنَ الْعَاجِلَۃَ ﴿۲۰﴾ وَ تَذَرُوۡنَ الْاٰخِرَۃَ ﴿۲۱﴾﴾(القیامہ) </p></span> <p>’’ہر گز نہیں! بلکہ تم لوگ دنیا سے محبت رکھتے ہوا اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو!‘‘ </P> یعنی تمہاری گمراہی کا اصل سبب یہ ہے کہ تم عاجلہ کی محبت میں گرفتار ہو،اور اس کے پرستار بن گئے ہو۔لفظ ’’عاجلہ‘‘ عجلت سے بنا ہے،اس سے مراد ’’دنیا‘‘ ہے۔اس لیے کہ اس کا نفع بھی فوری اور نعقد ہے اور نقصان بھی فوری اور نعقد۔اس کی لذتیں بھی بالفعل محسوس ہوتی ہیں اور اس کی کلفتیں بھی فوری اثر کرنے والی ہوتی ہیں۔تم اس عاجلہ سے دل لگائے ہوئے ہو اور آخرت کی زندگی کو نظر انداز اور فراموش کئے ہوئے ہو ۔یہاں عاجلہ کا لفظ استعمال کرکے اس حقیقت کی جانب توجہ مبذول کرادی گئی کہ اس دُنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ فوری لذتوں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور فوری آسائشوں کو قربان نہیں کرسکتے،وہ آگے نہیں بڑھ سکتے۔اس کے برعکس جنہیں آگے بڑھنا ہوتا ہے اور جو دُور بین ہوتے ہیں،وہ فوری راحت و آرام کو تج دیتے ہیں اور سخت محنت کرتے ہیں یہاں تک کہ راتوں کو جاگتے ہیں تاکہ اپنے دُنیوی کیریئر کو روشن بناسکیں۔بالکل اسی طرح جو لوگ دُنیا کی فوری لذت اور عیش و راحت کو قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے،جو اس عاجلہ (دنیا) کی محبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور اس عروسِ ہزار داماد کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوکر رہ جاتے ہیں،جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ آخرت سے غافل رہتے ہیں اور اللہ کی جانب میں محاسبہ کے لیے کھڑے ہونے کو فراموش کردیتے ہیں،وہ اُخروی زندگی میں لامحالہ ناکام اور خائب و خاسر ہوکر رہیں گے۔لیکن افسوس کہ انسان مختصرسی حیاتِ دُنیوی میں تو مستقبل سے غافل نہیں ہوتا،لیکن آخرت کی ابدی زندگی سے غافل رہتا ہے۔ <p style="text-align: center;"> ڈاکٹر اسرار احمد ؒ ( قرآن کریم کا منتخب نصاب )

Open
articleUrdu0 min

If You Still Don't Wakeup......

28225

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 45)۔ </span><br> <p> ’’آج مسلمان ایک دانشمندانہ اور حقیقت پسندانہ دینی قیادت کے محتاج ہیں۔اگر آپ مسلمانوں کو سو فیصد ’’تہجد گزار‘‘بنادیں‘ سب کو متقی و پرہیز گار بنادیں‘ لیکن اُن کا ماحول سے کوئی تعلق نہ ہو‘ وہ یہ نہ جانتے ہوں کہ ملک ڈوب رہا ہے‘ اُس میں بد اخلاقی ‘ وبا اور طوفان کی طرح پھیل رہی ہے ‘سچے مسلمانوں سے نفرت عام کی جارہی ہے‘ تو تاریخ کی شہادت ہے کہ پھر تہجد تو تہجد‘ ’’پانچ وقتوں کی نمازوں‘‘ کا پڑھنا بھی مشکل ہوجائے گا۔اگر آپ نے دینداروں کے لیے اس ماحول میں سے کوئی جگہ نہ بنائی‘اور ان کو ملک کا بے لوث مخلص اور شائستہ شہری ثابت نہیں کیا‘ جو ملک کو بے راہ روی سے بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتا ہے‘ اور ایک بلند کردار پیش کرتا ہے‘ تو یاد رکھٔے کہ ’’عبادات و نوافل‘‘ اور دین کی علامتیں اور شعائر تو الگ رہے‘وہ وقت بھی آسکتا ہے کہ مسجدوں کا باقی رہنا بھی مشکل ہو جائے۔اگر آپ نے مسلمانوں کو اجنبی بنا کر اور ماحول سے کاٹ کر رکھا ‘ زندگی کے حقائق سے اُن کی آنکھیں بند رہیں اور ملک میں ہونے والے انقلابات‘ ’’نئے نئے قوانین‘‘ اور عوام کے دل و دماغ پر حکومت کرنے والے رجحانات سے وہ بے خبر رہے تو پھر قیادت تو الگ رہی جو خیر امۃ کا فرضِ منصبی ہے‘ اپنے وجود کی حفاظت بھی مشکل ہوجائے گی۔</p> یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اُن کا مذہبی صحیفہ قرآن اور ان کے پیغمبر ﷺ کی تعلیم (جو خدا کا شکر ہے اپنے اندر بے پناہ طاقت رکھتی ہے)اُن کو نہ صرف اس عام بگاڑ‘ اس سے پھیلی ہوئی آگ اور دولت کی آندھی پرستش کے اس بہتے ہوئے گندے پانی سے بچنے کی تلقین کرتی ہے‘ بلکہ اُن پر اس کو روکنے اور اس سے لوگوں کو بچانے کی ذِمّہ داری بھی عائد کرتی ہے۔ان کو ان کے پیغمبر ﷺ نے صاف طریقہ پر سمجھادیا ہے اگر کشتی کے کسی بھی سوار کو ایسی حرکت سے باز رکھنے کی کوشش نہ کی گئی‘ جس سے یہ کشتی خطرے میں پڑجاتی ہے تو پھر کشتی کے ڈوبنے کی صورت میں کوئی سوار بھی بچ نہ سکے گا‘ کیونکہ یہ کشتی نیک و بد‘ قصور وار اور بے قصور‘ سوتے جاگتے سب کے ساتھ ڈوب جائے گی اور پھر کوئی نیکی اور کوئی دانائی کام نہ آئے گی۔‘‘ <p style="text-align: center;"> سید ابو الحسن علی ندویؒ (کاروانِ زندگی (جلد دوم))

Open
articleUrdu0 min

Sacrifice is inevitable!

قربانی ناگزیر ہے!۔

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 44)۔ </span><br> <p>دین حق کو جب کبھی قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی،کوئی نہ کوئی دین باطل قوت اور زور کے ساتھ قائم شدہ تو پہلے سے موجود ہوگا ہی۔طاقت بھی اس کے پاس ہوگی،رزق کے خزانے بھی اُسی کے قبضے میں ہوں گے،اور زندگی کے سارے میدان پر وہی مسلط ہوگا۔ایسے ایک قائم شدہ دین کی جگہ کسی دوسرے دین کو قائم کرنے کا معاملہ بہرحال پھولوں کی سیج تو نہیں ہوسکتا۔آرام اور سہولت کے ساتھ میٹھے میٹھے قدم چل کر یہ کام نہ کبھی ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے۔آپ چاہیں کہ جو کچھ فائدے دین باطل کے ماتحت زندگی بسر کرتے ہوئے حاصل ہوتے ہیں،یہ بھی ہاتھ سے نہ جائیں اور دین حق بھی قائم ہوجائے،تو یہ قطعاً محال ہے۔یہ کام تو جب بھی ہوگا اسی طرح ہوگا کہ آپ اُن تمام حقوق کو،اُن تمام فائدوں کو،اُن تمام آسائشوں کو لات مارنے کے لیے تیار ہوجائیں جو دین باطل کے ماتحت آپ کو حاصل ہوں،اور جو نقصان بھی اس مجاہدے میں پہنچ سکتا ہے اُس کو ہمت کے ساتھ انگیز کریں۔جن لوگوں میں یہ کھکھیڑ اُٹھانے کی ہمت ہو،جہاد فی سبیل اللہ انہی کا کام ہے،اور ایسے لوگ ہمیشہ کم ہی ہوا کرتے ہیں،رہے وہ لوگ جو دین حق کی پیروی کرنا تو چاہتے ہیں،مگر آرام کے ساتھ ،تو اُن کے لیے بڑھ بڑھ کر بولنا مناسب نہیں ،اُن کا کام تو یہی ہے کہ آرام سے بیٹھے اپنے نفس کی خدمت کرتے رہیں اور جب خدا کی راہ میں مصیبتیں اُٹھانے والے آخر کا راپنی قربانیوں سے دین حق کو قائم کردیں تو وہ آکر کہیں إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ یعنی ہم تو تمہاری ہی جماعت کے آدمی ہیں،لاؤ اب ہمارا حصہ دو۔ </P> <p style="text-align: center;"> سید مودودی ؒ ( خطبات )

Open
articleUrdu0 min

Take Time for Religous Observance

28207

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 43)۔ </span><br> <p> ہم میں سے اکثر کے دلوں میں آرزو پیدا ہوتی ہے کہ دین کے لیے کچھ کریں،لیکن اکثر و بیشتر کا حال کیا ہے کہ ذرا یہ کام کرلوں،ذرا اِن ذمہ داریوں سے عہدہ بر آہولوں۔بچے ابھی چھوٹے ہیں،ذرا بڑے ہوجائیں۔بڑے ہیں تو ذرا ان کی شادی بیاہ سے فراغت ہوجائے۔بچیوں کے ہاتھ پیلے ہو جائیں۔فلاں کام ہوجائے۔بس پھر اپنے آپ کو ہمہ تن،ہمہ وقت لگادوں گا اللہ تعالیٰ کے لیے اور وہ وقت کبھی نہیں آتا۔کارِ دنیا کسے تُمام نکّرد(دنیا کا کام کسی نے ختم نہ کیا)بیٹے،بیٹیوں سے فارغ ہوئے،تو پوتے پوتیاں موجود ہیں۔ہوس کبھی ختم نہیں ہوتی،جن کے پاس دس دس پشتوں کے کھانے کے لیے سامان موجود ہے وہ بھی صبح سے شام تک ہیرا پھیری اور حلال و حرام کی تمیز کیے بغیر لگے ہوئے ہیں۔</P> سورۃ التکاثر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:<p>’’ یہ تکاثر اور بہتات میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ جو لگی ہوئی ہے وہ تمہیں غافل کیے رکھتی ہے یہاں تک کہ قبروں تک جا پہنچے ہو‘‘۔(آیات:2،1) <p>ایسے لوگ نظر آجائیں گے کہ ٹانگیں اُن کی قبر میں اُتری ہوئی ہیں ،لیکن مجال نہیں کہ حرص میں کوئی کمی ہو۔</p> انسان بوڑھا ہوتا ہے،حرص جو ان ہوتی ہے۔فرمایا: <p><span class="Font_AlMushaf"> أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ ﻻ </p></span> ’’کیا وقت نہیں آیا ہے،اہل ایمان کے لیے(کس چیز کے منتظر ہیں)جھک جائیں ان کے دل اللہ کی یاد میں اور جو کچھ نازل ہوا ہے حق میں سے اُس کے ساتھ۔‘‘ <p style="text-align: center;"> ڈاکٹر اسرار احمد ؒ ( سوشل میڈیا سے انتخاب )

Open
articleUrdu0 min

Wilayat-e-Anbiya aur Wilayat-e-Auliya

The Jurisdiction and Authority,Guardianship of the Messenger's of Allah and Guardianship of the Saints of Allah.

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 42)۔ </span><br> <p> سید احمد شہیدؒ نے ولایتِ انبیاء اور ولایتِ اولیاء کی تشریح پوچھی تو شاہ اسمٰعیل شہیدؒ نے فرما یا کہ جس شخص کو ولایتِ اولیا ء عطا ہوتی ہے،وہ دن رات ریاضت و مجاہدات،صوم و صلوٰۃ اور کثرتِ نوافل میں مشغول رہتا ہے،لوگوں کی صحبت پسند نہیں کرتا۔چاہتا ہے کہ گوشئہ تنہائی میں خدا کی یاد سے لذت اندوز ہوتا رہے۔اُسے فاسقوں اور فاجروں کو نصحیت سے کوئی سرو کار نہیں ہوتا ،صوفیاء کی اصطلاح میں اسے ’’قرب بالنوافل‘‘کہتے ہیں۔</p> <p>ولایتِ انبیاء کا درجہ جس خوش نصیب کو مرحمت ہو،اُس کے دل میں محبتِ الٰہی اِس طرح سما جاتی ہے کہ اس کے سوا کسی چیز کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔وہ ہر وقت بندگانِ خدا کو نیکی کی راہ پر لگانے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔مرضیات باری تعالیٰ کے کسی کام میں دنیا داروں کے طعن کی پروا نہیں کرتا۔وہ توحید کی اشاعت میں بے خوف اور سننِ رسول پاک ﷺ کے احیاء میں بے باک ہوتا ہے۔ضرورت پیش آئے تو مخالفوں کے ساتھ مجاہدات میں مال و جان قربان کرنے میں متامل نہیں ہوتا۔وہ للہ فی اللہ تمام محفلوں اورمجلسوں میں جاتا ہے،سب کو وعظ و نصیحت سناتا ہے۔اس کارِ خیر میں جو تکلیفیں اور اذیتیں پیش آئیں اُن پر صبر کرتا ہے۔اس اصطلاح میں ’’قرب بالفرائض‘‘ کہتے ہیں۔</P> <p style="text-align: center;"> تحریکِ شہیدین جلد اوّل ( مولانا غلام رسول مہر ؒ )

Open
articleUrdu0 min

The Stability and survival of Pakistan are Indispensable

استحکام و بقاء پاکستان کے ناگزیر لوازم

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 41)۔ </span><br> <p> ملک و ملت کے استحکام ہی نہیں،بقا تک کے لیے حسبِ ذیل چیزیں نا گزیر اور لازمی ہیں : </p> <p> • ایک ایسا طاقتور انسانی جذبہ جو جملہ حیوانی جبلّتوں پر غالب آجائے اور قوم کے افراد میں کسی مقصد کے لیے تن من دھن لگا دینے حتیٰ کہ جان تک قربان کردینے کا مضبوط ارادہ اور قومی داعیہ پیدا کردے۔</p> <p> • ایک ایسا ہمہ گیر نظریہ جو افرادِ قوم کو ایک ایسے مضبوط ذہنی و فکری رشتے میں منسلک کرکے بنیان مرصوص بنادے جو رنگ ،نسل ، زبان اور زمین کے تمام رشتوں پر حاوی ہوجائے اور اس طرح قومی یک جہتی اور ہم آہنگی کا ضامن بن جائے!</p> <p> • عام انسانی سطح پر اخلاق کی تعمیرِ نو جو صداقت ،امانت،دیانت اور ایفاءِ عہد کی اساسات کو از سرِ نو مضبوط کردے اور قومی و ملی زندگی کورشت،خیانت،ملاوٹ،جھوٹ،فریب،نا انصافی ، جانبداری،ناجائز اقرباپروری اور وعدہ خلافی ایسی تباہ کن بیماریوں سے پاک کردے۔</p> <p> • ایک ایسا نظامِ عدلِ اجتماعی (System of Social Justice)جو مرد اور عورت،فرد اور ریاست،اور سرمایہ اور محنت کے مابین عدل و اعتدال اور قسط و انصاف اور فی الجملہ حقوق و فرائض کا صحیح و حسین توازن پیدا کردے! تحریک پاکستان کے تاریخی اور واقعاتی پس منظر،اور پاکستان میں بسنے والوں کی عظیم اکثریت کی فکری و جذباتی ساخت،دونوں کے اعتبار سے یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ اس ملک میں یہ تمام تقاضے صرف اور صرف دین و مذہب کے ذریعے اسلام کے حوالےاور ناتے سے پورے کیے جاسکتے ہیں۔</p> <p style="text-align: center;"> استحکام پاکستان ( ڈاکٹر اسرار احمد ؒ )

Open
articleUrdu0 min

The power of Faith and Belief.

ایمان و عقیدہ کی طاقت۔

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 40)۔ </span><br> <p> جب ایمان کی حقیقت دل میں جا گزیں ہوجاتی ہے تو وہ اس عمل پر اُ کساتی ہے،تاکہ واقعاتی اور عملی زندگی میں اپنا فرض ادا کرے۔دنیا میں عقیدے کے عملی معجزات ماضی میں اور حال میں بہت سے ہوئے ہیں،اور مستقبل میں بھی ہوں گے۔ان معجزات نے دُنیا میں انقلاب برپاکئے ہیں۔دراصل عقیدہ انسان کی جان میں ایک عظیم قوت پیدا کردیتا ہے،اس قوت کے باعث نفسِ انسانی بڑے بڑے کارنامے انجام دینے کے قابل ہوجاتا ہے۔عقیدہ،فرد اور جماعت کو حیرت انگیز قربانیوں پر آمادہ کرتا ہے۔عقیدے کے زور سے دُنیا کی فانی زندگی آخرت کی باقی زندگی کی کامیابی میں بدل جاتی ہے۔عقیدہ انسان کی تمام قوتوں کی مجتمع کردیتا ہے،اس کو ہدف اور مقصد عطا کرتا ہے اور اس کے لیے قربانی کرنے کی اُمنگ پیدا کرتا ہے۔عقیدہ انسان کو حکومت،مال و دولت اور لوہے اور آگ کی قوتوں کے آگے کھڑا کردیتا ہے۔ایسا شخص باطل سے نہیں گھبراتا اور برائی کی قوتوں سے نہیں ڈرتا،خواہ وہ قوتیں کس قدر ہوں اور کتنی طاقت ور ہوں۔عقیدے کی طاقت ان تمام قوتوں کو شکست دے دیتی ہے اور اُن پر غالب آجاتی ہے۔یہ فتح ایک فانی فرد کی نہیں ہوتی بلکہ ایک باقی اور قائم و دائم عقیدے کی ہوتی ہے۔ <p style="text-align: center;"> فی ظلال القرآن (سید قطب شہیدؒ)

Open
articleUrdu0 min

The Sharia law was not revealed for the slaves of the world!

28170

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 39)۔ </span><br> <p>یہ شریعت بزدلوں اور نامردوں کے لیے نہیں اُتری ہے،نفس کے بندوں اور دنیا کے غلاموں کے لیے نہیں اُتری ہے،ہوا کے رُخ پر اُڑنے والے خس وخاشاک،اور پانی کے بہاؤ پر بہنے والے حشرات الارض اور ہر رنگ میں رنگ جانے والے بے رنگوں کے لیے نہیں اُتری ہے۔یہ اُن بہادر شیروں کے لیے اُتری ہے جو ہوا کا رُخ بدل دینے کا عزم رکھتے ہوں،جو دریا کی روانی سے لڑنے اور اُس کے بہاؤکو پھیردینے کی ہمت رکھتے ہوں،جو’’صبغۃ اللہ‘‘کو دنیا کے ہر رنگ سے زیادہ محبوب رکھتےہوں اور اُسی رنگ میں تمام دنیا کو رنگ دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔مسلمان جس کانام ہے وہ دریا کے بہاؤ پر بہنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ہے۔اس کی آفرینش کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ زندگی کے دریا کو اُس راستہ پر رواں کردے جو اس کے ایمان و اعتقاد میں راہ راست ہے،صراطِ مستقیم ہے۔اگر دریا نے اپنا رُخ اس راستہ سے پھیردیا ہے تو اسلام کے دعوے میں وہ شخص چھوٹا ہے جو اس بدلے ہوئے رُخ پر بہنے کے لیے راضی ہوجائے۔حقیقت میں تو سچا مسلمان ہے،وہ اس غلط رو دریا کی رفتار سے لڑے گا،اس کا رُخ پھیر نے کی کوشش میں اپنی پوری قوت صرف کردے گا،کامیابی اور ناکامی کی اس کو قطعاً پروانہ ہوگی،وہ ہر اُس نقصان کو گوارا کرے گا جو اس لڑائی میں پہنچے یا پہنچ سکتا ہو حتیٰ کہ اگر دریاکی روانی سے لڑتے لڑتے اُس کے بازو ٹوٹ جائیں،اُس کے جوڑ بند ڈھیلے ہوجائیں،اور پانی کی موجیں اُس کو نیم جاں کرکے کسی کنارے پر پھینک دیں،تب بھی اُس کی روح ہر گز شکست نہ کھائے گی۔</p> <p style="text-align: center;"> مولانا سید مودودی (ماخذ’’اشارات‘‘)

Open
articleUrdu0 min

Deviation of Muslim Governments from Sharia

مسلمان حکومتوں کا شریعت سے انحراف

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 38)۔ </span><br> مسلمان حکومتیں آج عدالت،سیاست اور انتظام میں ہر لحاظ سے اسلامی شریعت سے منحرف ہوچکی ہیں۔اسلام کے بنیادی اصولوں کو انہوں نے اس طرح فراموش کردیا ہے کہ اسلام کے عطا کردہ آزادیٔ فکر،مساوات اور انصاف آج کہیں ڈھونڈےسے بھی نہیں ملتے۔اسلام کے واجبات کو اُنہوں نے نظر انداز کر رکھا ہے۔ملتِ مسلمہ میں اتحاد،خیر خواہی اور باہمی تعاون کے جذبات کا خطرناک حد تک فقدان ہے۔یہ حکومتیں ظلم،وحشت اور درندگی،بہیمیت پر دلیر ہوگئی ہیں۔معاشرے کی عمارت کو فساد، تحزیب کاری، گناہ اور نافرمانی،بغاوت اور سرکشی کی بنیادوں پر استوار کر رہی ہیں۔ان لوگوں نے اسلام کے دشمنوں کو اپنا دوست بنالیا ہے،حالانکہ اسلام ایسی دوستیوں اور اتحادوں کا سختی سے مخالف ہے۔یہ لوگ مسلمانوں کے معاملات میں اپنے ان کافر دوستوں کی آراء سے فیصلے کرتے ہیں۔حالانکہ یہ اطاعت اُن کے لیے قطعاً جائز نہیں۔اس لیے مسلمان حکمران اسلام کی موجودہ حالت کے لیے دوسرے تمام لوگوں سے بڑھ کر جوابدہ ہیں۔ہوسکتا ہے وضعی قوانین انہیں جوابدہی سے مستثنیٰ کردیں،لیکن اللہ کے ہاں اُنہیں ہر چھوٹےسے چھوٹے اور بڑے سے بڑے عمل کے لیے جوابدہی کرنی ہوگی۔ </p> <p style="text-align: center;"> عبد القادر عودہ شہید ؒ (کتاب’’راہِ وفا‘‘)

Open
articleUrdu0 min

For the dominance of the religion, the Ummah must become a single nation!

غلبہ دین کے لیے اُمّتِ واحدہ بننا ہوگا!۔

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 37)۔ </span><br> <p>تمیں ایک فرد سے آگے بڑھ کر ایک اُمّت بننا ہے۔دنیا میں انقلاب برپا کرنے کے لیے، اللہ کے دین کا بول بالا کرنے کے لیے، اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے۔تمہیں تو خدائی فوجدار بننا ہے۔لہذا تمہیں جُڑنا ہوگا،تمہیں جوڑنے والی شے کون سی ہوگی۔فصیل کی مضبوطی کا دارومدار دو چیزوں پر ہے: ایک اینٹیں پکی ہوں،افراد میں جب تقویٰ آگیا،فرمانبرداری آگئی،تو اینٹ پکی ہوگئی دینی اعتبار سے۔دوسری چیز ان کو جوڑنے والی شے کیا ہے؟فرمایا:</p> ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ﴾ (آل عمران:103) <p> ’’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو مل جل کر اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘</p> <p> (Divided you fall ,United you Stand) </P> اگر تم مضبوط ہو،مجتمع ہو،بنیان مرصوص ہو تو تمہیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔اگر تمہارے دل پھٹے ہوئے ہوں،تمہارے اندر رخنے ہوں،تو تمہارے اندر سے ہی غدار نکل آئیں گے۔ <p style="text-align: center;"> ڈاکٹر اسرار احمد ؒ (سوشل میڈیا سے اقتباس)

Open
articleUrdu0 min

Some Aspects of the example of the Prophet Muhammad (ﷺ) and Guidance for thought and action.

28091

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 36)۔ </span><br> <p>اقامتِ دین،اعلائے کلمتہ اللہ اور قیام عدل کے لئے خلافتِ ارضی کی تعبیر عبادتِ رب ہی ہے،جو تمام جن و انس اور ہر حاکم و محکوم پر فرض ہے۔اگر قرآن و سنت سے عبادتِ رب کے معنی و مفہوم کو تعصب سے پاک ہو کر سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اس کے بعد جس کے دل کے اندر بھی خدائے علیم و خبیر سے کچھ بھی حیاء ہو،وہ بشرطِ سلامتی ہوش و حواس عبادتِ رب سے حکمرانوں کو مستثنیٰ کرنے اور اسے صرف عوام کے لئے خاص کرنے کی بات نہیں کرسکے گا۔اسلام کے جن اَحکام کا تعلق قُوّتِ نافذہ کے ساتھ ہے انہیں اگر حکمران طبقہ عبادتِ رب سمجھ کرادا کرنے سے گریز کرتے ہیں تو کیا اُن کی اِس ہٹ دھرمی پر انہیں خدا کی عبادت سے استثناء کے سرٹیفکیٹ جاری کئے جائیں؟</p> اقامتِ دین کی بحث دراصل سنت و سیرتِ رسول ﷺ کی بحث ہے،سیرتِ رسول ﷺاورمقام نبوّت سے وہ لوگ قطعاً نا واقف ہیں جو آپ ﷺ کی پوری مدنی زندگی کے شب و روز کی جدوجہد اور جہاد وقتال فی سبیل اللہ میں گزری مبارک حیاتِ طیبہ کو صرف مسجد نبوی کے درس و تعلیم تک محدود کرتے ہیں۔ </p> <p style="text-align: center;"> پروفیسر ڈاکٹر شمس الحق انیس (کی تحریر سے ایک اقتباس)

Open
articleUrdu0 min

The Prophet's ﷺ invitation was for all mankind.

28083

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 35)۔ </span><br> <p>رسول اللہ ﷺجو دعوت لے کر آئے تھے،وہ کسی مخصوص قوم کے لیے نہیں بلکہ تمام انسانوں کے لیے تھی۔آپ ﷺ کا پیغام پوری انسانیت کے لیے عام تھا۔وہ کسی نسلی،قومی یا گروہی مزاج کا حامل نہ تھا۔اسی لیے حضور ﷺ نے اپنی دعوت کو روئے زمین کے تمام حکمرانوں اور شہنشاہوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔مسلمانوں پر لازم ہے کہ پہلے اپنے درمیان دعوت کا فریضہ انجام دیں اور اپنی اصلاح کریں۔یہاں تک کہ جب اس راہ میں بڑا فاصلہ طے کرلیں اور اسلامی نظام کو اپنی زندگی اور اپنے معاملات میں نافذ کر چکیں، تب اس دوسرے فریضہ کو انجام دیں یعنی دوسروں کو اسلام کی دعوت دیں۔مسلمانوں کی ذاتی اصلاح دوسروں کو اسلام کی دعوت دینے کا ایک اہم جزو ہے۔لوگ اخلاق و کردار میں صالح نمونہ کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ اس کے نقش قدم پر چلیں اور اس کی اتباع کریں۔اگر آج مسلمان اپنے اسلام پر فخر کریں اور اس کے حصول و مبادی اور احکام کو اپنے معاشروں میں نافذ کریں تو اس کی ضوفشانی سے افریقہ کے بیابان اور یورپ کے دور دراز علاقے منور ہوجائیں گے۔</p> <p style="text-align: center;"> سیرت نبویہ ﷺ (ڈاکٹر محمد سعید رمضان البوطی)

Open
articleUrdu0 min

Biography of the Prophet Muhammad ﷺ and us

28078

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 34)۔ </span><br> <p>کون شمار کر سکتا ہے کہ ہر سال کتنی مجالس میلاد اور جلسہ ہائے سیرت ہمارے ملک میں منعقدد ہوتے ہوں گے؟ ایک ربیع الاوّل ہی کے مہینے میں کتنے وعظ اور کتنی تقریریں ہوا میں لہریں اُٹھادیتی ہوں گی؟ کتنے مقالے اور کتابیں لکھی جاتی ہوں گی؟ کتنے جرائد کے خاص نمبر اس موضوع پر شائع ہوتے ہوں گے؟شعراءکتنی نعتیں لکھتے ہوں گے۔لیکن دوسری طرف یہ بھی ذرا سوچئے کہ ایک اچھے مقصد پر قوتوں اور روپے کے اس صرف کا واقعی نتیجہ کیا نکلتا ہے؟کتنےافراد ہوں گے جو ان نیک مساعی کی بدولت سیرت نبویؐ کے سانچے میں اپنی زندگیاں ڈھالنے کی مہم میں ہر سال لگ جاتے ہوں گے؟اور اگر عملاٌ حاصل نہیں ہورہا جو مطلوب ہے،بلکہ اس سے بڑھ کر ماتم اس کا ہے کہ ہمارے پلّے وہ کچھ پڑ رہا ہے جو محسن انسانیتؐ کے پیغام اور کارنامے سے کھلم کھلا ٹکراتا ہے۔</p> ہمارے اندر آج ایسے عناصر پروان چڑھ رہے ہیں جو حضورﷺ کے مشن کو زمانۂ حال کے لیے ناکارہ اور حضور ﷺ کے عطا کردہ نظامِ زندگی کو ناقابلِ عمل قرار دیتے ہیں، ایسے عناصر جو حضورﷺ کی تعلیمات کا مذاق اڑاتے ہیں،ایسے عناصر جو سیرت اور حدیث کا سارا ریکارڈ دریابرد کر دینا چاہتے ہیں،ایسے عناصر جو قرآن کو،قرآن پیش کرنے والی ہستی ؐ کی 23 سالہ جدوجہد اور لازوال تحریکی کارنامے سے بے تعلق کردینا چاہتے ہیں اور حضور ﷺ کی ہستی کو بطور عملی نمونۂ انسانیت کے ہماری نگاہوں سے گم کردینے کے لیے کوشاں ہیں۔پھر ستم بالائے ستم یہ کہ تعبیر و تاویل کے نام پر ہمارے ہاں یہ کوشش ہورہی ہے،کہ حضور ﷺ کی شخصیت،پیغام اور کارنامے کو موجودہ فاسد تہذیب کے فکری سانچے میں ڈھال دیا جائے اور محسن انسانیتؐ کی بالکل نئی تصویر عالمی طاقتوں کے ذوق کے مطابق تیار کردی جائے۔ <p style="text-align: center;"> محسنؐ انسانیت (نعیم صدیقی)

Open
articleUrdu0 min

Prophet Muhammad ﷺ: The Revolutionary Preacher

28062

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 33)۔ </span><br> اس میں ہر گز کوئی شک نہیں کہ ’’داعیٔ انقلاب ‘‘ کا اطلاق اگر نسلِ آدم کے کسی فرد پر بتمام و کمال ہو سکتا ہے تو وہ صرف مُحَمَّدُرَّسُولُ اللهﷺہیں! اس لیے کہ تاریخِ انسانی کے دوران اور جتنے بھی انقلاب آئے وہ بشمول انقلاب فرانس و انقلابِ روس سب کے سب جُزوی تھے اور اُن سے حیاتِ انسانی کے صرف کسی ایک گوشے ہی میں تبدیلی رُونما ہوئی۔ جیسے انقلاب فرانس سے نظامِ سیاسی اور ہیٔتِ حکومت میں اور انقلابِ روس سے نظامِ معیشت کے تفصیلی ڈھانچے میں جب کہ نبی اکرمﷺ نے جو انقلاب ِعظیم دنیا میں برپا کیا اُس سے پوری انسانی زندگی میں تبدیلی رونما ہوئی اور عقائد ونظریات ، علوم وفنون ، قانون و اخلاق، تہذیب و تمدُن ، معاشرت و معیشت اور سیاست و حکومت الغرض حیاتِ انسانی کا کوئی گوشہ بھی بدلے بغیر نہ رہا۔<p> رہی آپؐ کی انقلابی جدوجہدتو واقعہ یہ ہےکہ اس اعتبارسے بھی نسلِ انسانی کی پوری تاریخ میں کوئی دوسری مثال موجود نہیں ہے کہ کسی ایک ہی شخص نے انقلابی فکر بھی پیش کیا ہو، پھر دعوت کا آغاز بھی خودہی کیا ہو، پھر تنظیمی مراحل بھی آپ ہی نے طے کیے ہوں اور پھر اس انقلابی جدوجہد کو کشمکش اور تصادم کے جَملہ مراحل اور ہجرت و جہاد و قتال کی تمام منازل سے گزار کر کامیابی سے ہمکنار بھی کر دیا ہو۔ اور یہ نہایت محیرُ العقول کارنامہ اور حد درجہ عظیم معجزہ ہے نبی اکرمﷺ کا کہ آپؐ نے ایک فردِ واحد سے دعوتِ حق کا آغاز فرما کر کل 23 برس ( اور وہ بھی قمری) کی مختصر سی مدت میں اعلاءِ کلمۃِ اللہ کا حق ادا فرمادیا اور سرزمینِ عرب پر دین حق کو بالفعل غالب و نافذ فرما دیا۔</p> <p style="text-align: center;"> نبی اکرمﷺ کا مقصد بعثت (ڈاکٹر اسرار احمد ﷫)

Open
articleUrdu0 min

Ending Oppression and Establishment of Justice

28054

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 32)۔ </span><br> <p> ظلم کسی بھی حالت میں قابلِ قبول نہیں ہے۔ظالم فرد ہو یا جماعت،عوام ہوں یا حکومت،ظالم کا ساتھ کسی صورت میں بھی نہیں دیا جاسکتا۔ظالم کے ساتھ تعاون کرنے والا بھی اللہ اور اُس کے رسولﷺ کے نزدیک ظلم میں برابر کا شریک ہے۔حضورﷺ نے فرمایا: ’’ جس کسی نے حق کو دبانے کے لیے باطل کا ساتھ دیا، اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے اُس سے برأت و بے زاری کا عام اعلان ہے۔‘‘(سنن نسائی)</P> <p> صحابئ رسول ﷺ حضرت عمر بن سعد ؓ نے اسلام کی کتنی خوشنما تعریف کی ہے! فرماتے ہیں </p> <p> ’’اسلام ایک ناقابلِ شکست فصیل ہے اور مضبوط دروازہ! اسلام کی فصیل اس کا عدل و انصاف ہے اور اس کا دروازہ حق و صداقت! اگر یہ فصیل گرجائےاور یہ دروازہ ٹوٹ جائے تو اسلام مغلوب ہوجائے گا۔جب تک سلطان مضبوط ہوگا،اسلام غالب رہے گا اور سلطان کی مضبوطی تلوار اور کوڑے کی بدولت نہیں ہوتی بلکہ اس کی مضبوطی کا راز حق و انصاف اور عدل و مساوات میں پنہاں ہے۔‘‘</P> سچی بات یہ ہے کہ جس قوم میں ظلم و ستم عام ہوجائے،وہ ہر لحاظ سے پستی میں مبتلا ہوجاتی ہے اور جس قوم میں عدل و انصاف کا بول بالا ہو وہ ہر میدان میں سرخرو ہوتی ہے۔ <p style="text-align: center;"> سید عمر تلمسانیؒ (شہید المحراب عمرؓ بن خطاب)

Open
articleUrdu0 min

The Greatness of the Quran

28051

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 31)۔ </span><br> <p> نبی کریم ﷺنے فرمایا: ’’تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔‘‘(صحیح بخاری)</p> دوسری حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ اسی کتاب کے ذریعے سے کچھ قوموں کو بامِ عروج تک پہنچائے گا اور اسی کو ترک کرنےکے باعث کچھ کو ذلیل و خوار کردے گا۔‘‘(رواہ المسلم) اس حدیث کو جس قدر اہمیت علامہ اقبال نے دی ہے میرے علم کی حد تک کسی اور نے نہیں دی۔ <p style="text-align: center;"> وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر <p style="text-align: center;"> اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر <p> کہ وہ ایک ہاتھ میں قرآن اور ایک ہاتھ میں تلوار لے کر نکلے تھے اور دنیا پر چھاگئے تھے اور تم اسی قرآن کو چھوڑ کر ذلیل و رسوا ہوگئے ہو! اور اسی مضمون کو علامہ نے فارسی میں کس قدر خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے ؎</p> <p style="text-align: center;">خوار از مہجوریٔ قرآں شدی شکوہ سنجِ گردشِ دوراں شدی! <p>’’اے اُمت مسلمہ! تو قرآن کو ترک کرنے کے باعث ذلیل و خوار ہوئی ہے ،لیکن تو گردشِ دوراں کا شکوہ کررہی ہے اور اپنے زوال کا سبب ’’فلک کج رفتار‘‘ کو قرار دے رہی ہے حالانکہ فلک تو کسی قوم کی قسمت نہیں بدلتا۔اپنی ذلت و رسوائی کے ذمہ دار تم خود ہو۔‘‘</p> <p style="text-align: center;">اےچوشبنم بر زمیں افتندۂ در بغل داری کتابِ زندۂ <p>’’اے وہ اُمت جو شبنم کی طرح زمین پر پامال پڑی ہوئی ہے اور لوگ تجھے اپنے پاؤں تلے روند رہے ہیں،اگر اب بھی تم بلندی چاہتے ہو تو جان لو کہ تمہاری بغل میں ایک زندہ کتاب(قرآن مجید) موجود ہے۔‘‘</p> <p style="text-align: center;"> پروفیسر محمد عارف (کے کالم سے اقتباس)

Open
articleUrdu0 min

Unity of Nation

28039

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 30)۔ </span><br> <p style="text-align: center;"> فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں <p style="text-align: center;"> موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں <p> اتحاد میں بڑی طاقت ہے۔ کسی ملک کی بقاء اور سالمیت کا انحصار قومی یکجہتی اور اتفاق پر ہے۔ کوئی جماعت ، کوئی ملک ، کوئی قوم ، اقوام عالم کی نگاہ میں عزت و آبرو اور وقار و احترام کا مقام نہیں پا سکتے جب تک کہ اس کے افراد میں یکجہتی اور ہم آہنگی نہ ہو۔ قومی اتحاد کے بغیر ترقی اور خوشحالی کا تصور بھی ایک خام خیال ہے۔</p> <p style="text-align: center;"> ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ <p style="text-align: center;"> پیوستہ رہ شجر سے،امید بہار رکھ <p style="text-align: center;"> اقبال مسلمانوں کو آپس میں متحد اور ہم آہنگ زندگی بسر کرنے کی پُر زور اپیل کرتے ہیں: <p style="text-align: center;"> منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک <p style="text-align: center;"> ایک ہی سب کا نبیؐ،دین بھی،ایمان بھی ایک <p style="text-align: center;"> حرم پاک بھی،اللہ بھی،قرآن بھی ایک <p style="text-align: center;"> کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک <p style="text-align: left;"> ابو عبد اللہ (سوشل میڈیا سے اقتباس)

Open
articleUrdu0 min

Exclusive Position, Specific Demands

28021

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 28)۔ </span><br> اقامت دین کا کام در حقیقت ایک انقلابی جدوجہد (Revolutionary Struggle) کا متقاضی ہے۔ ایک قائم شدہ نظام کو بیخ و بُن سے اکھاڑ کر اُس کی جگہ ایک صالح نظام کو قائم کرنے کے تقاضے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ یہ انقلاب صرف دعوت و تبلیغ اور وعظ و نصیحت سے نہیں آتا۔ اگرچہ اس میں بھی آغاز دعوت و تبلیغ اور وعظ و نصیحت ہی سے ہوگا اور اس میں تذکیر بھی ہو گی، تبشیر بھی اور انذار بھی ہو گا، لیکن اس کا ہدف یہ ہوگا کہ ان تمام کاموں کے نتیجہ میں ایک انقلابی جمعیت فراہم کی جائے ، اُسے منظم کیا جائے ، اُس کی تربیت کی جائے اور اُس میں وہ تمام ضروری اوصاف پیدا کئے جائیں جو کسی انقلابی جماعت کے لیے لازم اور ناگزیر ہیں ۔۔۔۔ اور جب اس جمعیت میں مطلوبہ نظم اور ڈسپلن پیدا ہو جائے تو پھر اُسے نظامِ باطل سے ٹکرا دیا جائے۔ <p>بقول علامہ اقبال ؎ <p style="text-align: center;"> بانشۂ درویشی در سازودمادم زن!<br> چون پختہ شوی خود رابر سلطنت جم زن! <p style="text-align: center;"> منہج انقلاب نبویؐ (ڈاکٹر اسرار احمدؒ)

Open
articleUrdu0 min

Eternal Sunnah of Allah is the Support of the Believers.

28007

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 26)۔ </span><br> بلاشبہ یہ اللہ کی دائمی اور ناقابلِ تغیّر سنت ہے کہ وہ اہل ایمان کی نصرت فرماتا اور کافروں کو ذلیل کردیتا ہے‘ جبکہ بظاہر حالات اس کے برعکس نظر آرہے ہوتے ہیں۔قرآن کریم بتلاتا ہے اللہ سبحانہ کی ہمیشہ جاری رہنے والی سنت کے نتائج ضرور ظاہر ہو کر رہتے ہیں‘مگر ان نتائج کے اظہار میں افراد انسانی کی عمریں مقیاس نہیں ہیں اور نہ تاریخ کا کوئی عارضی مرحلہ پیمانہ ہے۔کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی وقت باطل وقتی طور پر کامیاب و کامران ہو کر روئے زمین کی غالب و کار فرما قوت بن جائے‘ لیکن یہ مرحلہ دائمی نہیں ہوتا بلکہ یہ دراصل ہمہ پہلو سنت اللہ کے اجرا کا ایک حصہ ہوتا ہے۔<p> باطل کی کارفرمائی کا یہ مرحلہ یا تو اس لیے آجاتاہے کہ اس مرحلے میں لوگوں کی باطل کے خلاف مزاحمت کی قوتیں ٹھٹھری ہوئی ہوتی ہیں اور ان میں باطل کے خلاف جہاد کرکے اسے ختم کردینے کا بُوتا نہیں ہوتا۔</p> ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔‘‘(الرعد:11)<p> اور کبھی اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ لوگ باطل کے ظلم کو انگیز کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں‘بلکہ اسے خوشگوار محسوس کرنے لگتے ہیں۔فرمان نبوی ﷺ ہے :’’ جیسے تم خود ہوگے ویسے ہی تمہارے حکمران ہوں گے۔‘‘(رواہ الحاکم)</p> اور کبھی ظلم و باطل خود ظالموں کی آزمائش کے لیے ہوتا ہے۔’’تاکہ وہ قیامت کے روز اپنے پورے بوجھ اٹھائیں۔‘‘(النمل:25)اور کبھی یہ مرحلۂ باطل و ظلم اس لیے آتا ہے کہ اللہ چاہتا ہے کہ مومنین کی جماعت کو چھانٹ کر علیحدہ فرمالے تاکہ وہ سلامتی ،استعداد اور قوت کے ساتھ حق کی ذمہ داری کو سنبھال سکیں۔جیسے سورۂ آل عمران(آیات 139تا141)میں فرمایا:’’دل شکستہ نہ ہو‘غم نہ کرو‘تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو۔اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے۔یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہے ہیں۔تم پر یہ وقت اس لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی(راستی کے) گواہ ہوں کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں۔اور وہ اس آزمائش کے ذریعے سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کردینا چاہتا تھا۔‘‘ <p style="text-align: center;">سید محمد قطب شہیدؒ (اسلام کا نظام تربیت)

Open
articleUrdu0 min

Lessons from Tragedy of Karbala

28000

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 25)۔ </span><br> واقعہ کربلا تاریخ اسلامی کا وہ اندوہناک سانحہ ہے جو 10 محرم الحرام 61 ہجری کو عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔سانحہ کربلا میں سیدنا حسین نے اپنے اہل بیتؓ اور رفقاء کے ساتھ دین اسلام کی سر بلندی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔سانحٔہ کربلا منزل کی طرف جانے کا ایک راستہ ہے۔وہ منزل جو عظمتِ انسانی کا درس دیتی ہے اور جس کی وجہ سے حق و باطل کے درمیان اس فرق کی نشاندہی ہوتی ہے،جو کائنات میں ازل سے ابد تک انسانیت کے لیے رکھ دیا گیا ہے۔حضرت حسین کی ذاتِ اقدس در حقیقت وہ استعارہ ہے جو رہتی دنیا تک باطل کے سامنے ڈٹ جانے کی مثال پیش کرتا رہے گا۔حضرت حسین نے ظلم و جابر حکمران کے ہاتھوں جان بلب اسلام کو ایک دفعہ پھر زندگی عطا کی اور اسلامی معاشرے کو اپنے خطوط پر استوار کیا جن خطوط پر رسول اللہﷺ نے استوار فرمایا تھا ۔اسلامی تہذیب سے رُخ پھیر کر جاہلیت کی طرف پلٹنے والی قوم کو پھر سے قرآن و سنت کے سائے میں بندگی کا درس اور تر بیت دے کر پھر سے ایک مہذب قوم میں بدل دیا۔تاریخ میں ایسے بہت کم واقعات ملتے ہیں جہاں انسان کے پاس جان بچانے کا راستہ بھی موجود ہو مگر وہ اپنے اصول ، نظرئیے اور سچ کی خاطر وہ راستہ اختیار نہ کرے بلکہ اپنے خاندان سمیت جان دے کر حق و سچائی کے راستے میں ایک ایسی لازوال شمع جلادے، جو تا ابدانسانوں کے لیے مشعل راہ بن جائے۔کربلا ایک ایسا آفتاب ہےجس کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑے گی۔جس کے اُجالے ہمیشہ عالم انسانی کو یہ احساس دلاتے رہیں گے کہ چند روزہ زندگی یا کسی معمولی سے مفاد کے لیے باطل کی اطاعت قبول کرلینا ایک ایسا سانحہ ہے جو انسان کی انفرادی اور معاشرے کی اجتماعی زندگی کو ذلت و زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں اتار دینا ہے۔دنیا آج بھی وقت کے یزیدوں سے بھری پڑی ہے۔ظلم آج بھی ہورہا ہے،کہیں فلسطین و غزہ میں اور کہیں کشمیر میں اور کہیں برما میں، کہیں بھی باطل غالب نہیں آسکا، ہر جگہ ایک مزاحمت جاری ہے،یہ کربلا کا سبق ہے کہ کسی بھی یزید کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہونا۔<p> حق اور سچ کے لیے ڈٹ جانا ہے،چاہے اس میں جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔</p> <p style="text-align: center;">نسیم شاہد(کے کالم سے انتخاب)

Open
articleUrdu0 min

Message of Muharram

27990

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 24)۔ </span><br> اللہ تعالیٰ نے ماہ محرم کو عزت و احترام اور فضیلت کا مہینہ قرار دیا ہے۔محرم الحرام ایثار ،قربانی،اتحادِ اُمت ،باہمی رواداری اور پُر امن بقائے باہمی کا درس دیتا ہے۔مدینہ طیبہ سے میدان کربلا تک اسلام کے لیے عظیم قربانیوں کی تاریخ اسی ماہِ مبارک سے وابستہ ہے۔<p>جس طرح قبل از اسلام تاریخ کے ایسے عظیم واقعات اس ماہ مبارک میں پیش آئے جنہوں نے انسانیت کو اپنی طرف متوجہ کیا۔اسی طرح دورِ نبوت و رسالتؐ اور اسلام کے صدر اوّل میں ایسے واقعات پیش آئےکہ اُمت مسلمہ انہیں فراموش نہیں کرسکتی ۔خاص طور پر یکم محرم الحرام کو خلیفہ دوم،مراد رسولﷺ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور دس محرم الحرام کو نواسۂ رسولؐ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی اپنے قافلے اور خاندان نبوتؐ کے افراد کے ساتھ شہادت جیسے واقعات سے نا صرف مسلمان بلکہ انسانیت اور تاریخ انسانیت متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ان اہم واقعات کی وجہ سے اُمت نے اسلام کی سربلندی کی جدوجہد کے سفر کو مدینہ اور کربلا سے وابستہ کر لیا ہےکہ خون شہادت سے اسلامی تاریخ سرخ رُو ہے اور مسلمانوں کا ایمانی جذبہ اس سے جدوجہد کا درس دیتا ہے اور زندگی کی حرارت محسوس کرتا ہے۔</p> ان قربانیوں کا سب سے بڑا درس یہ ہے کہ ذاتی جذبات و خواہشات اور مفادات کو کسی بھی عظیم مقصد کے حصول کے لیے قربان کردیا جائے۔آج کے حالات میں جب امت مسلمہ بیرونی دباؤ کا شکار اور چاروں طرف سے دشمن طاقتوں کے گھیرے میں ہے۔ان حالات میں ہمارا فرض ہے کہ داخلی طور پر رواداری اور پُر امن بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل کیا جائے اور امت میں انتشار کی ہر کوشش کو ناکام بنادیا جائے۔یہی وقت کی ضرورت اور محرم الحرام کا پیغام ہے اور امت کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کی سب سے بڑی تدبیر بھی۔ <p style="text-align: center;">مولانا عبد الرؤف فاروقی(ایک کالم سے اقتباس)

Open
articleUrdu0 min

False Systems of Life and Moral Corruption

27982

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 23)۔ </span><br> یہ ایک عملی حقیقت ہے کہ ہمیشہ اس کرۂ ارض پر ایسی قوتیں رہی ہیں جن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی اس دنیا میں قدم نہ جماسکے۔اس لیے کہ دنیا کے جس قدر غیر اسلامی نظام ہیں اُن کے کچھ مفادات و امتیازات ہوتے ہیں۔یہ نظام بعض کھوٹی اور جھوٹی قدروں پر قائم ہوتے ہیں۔جب بھی دنیا میں اسلامی نظام قائم ہوتا ہے،ایسی قوتوں کے مفادات ختم ہوجاتے ہیں۔چناچہ یہ باطل نظام ہائے زندگی انسانی نفوس کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور انسانوں کو انسانی سطح سے نیچے گرا کر اُن کے اندر اخلاقی بگاڑ پیدا کر کے ،اور ان کو حقیقت سے نا آشنا رکھ کر اسلامی نظام کی مخالفت میں لاکھڑاکر دیتے ہیں۔یوں عوام الناس اپنی جہالت کی وجہ سے اسلام کی راہ روکنے لگتے ہیں۔چناچہ شر کا زور ہوتا ہےاور باطل پھولا ہوا دکھائی دیتا ہے۔اور شیطان کی چالیں بہت گہری ہوتی ہیں۔اندریں حالات قرآن حاملین ایمان اور اسلامی منہاج حیات کے علمبرداروں کے لیے اعلیٰ اخلاقی معیار تجویز کرتا ہے تاکہ وہ شر اور شیطان کے ایجنٹوں سے اچھی طرح مقابلہ کرسکیں۔ان کی اخلاقی حالت مضبوط ہو،وہ دشمنوں کے خلاف لڑ سکیں اور ہر وقت ایسی جنگ کے لیے تیار ہوں جو اُن پر اسلام کے دشمن مسلط کردیں۔یہی ایک ضمانت ہے جس کی وجہ سے اسلام کی دعوت کی راہ نہیں رکتی،اور اسلامی نظام قائم ہوتا ہے۔ <p style="text-align: center;">فی ظلال القرآن(سید قطب شہیدؒ)

Open
articleUrdu0 min

Is Someone Setting the Stage for Another Trial?

27975

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 22)۔ </span><br> ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’یہ چاہتے ہیں کہ اللہ (کے چراغ)کی روشنی (اسلام) کو منہ سے(پھونک مارکر)بجھادیں۔حالانکہ اللہ اپنی روشنی کو پُوراکر کے رہے گا ،خواہ کا فر نا خوش ہی ہوں۔‘‘(الصّف:8) <p>اس آیت میں یہود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ وہ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ یہودی کے بارے میں یہ بات کیوں کہی گئی کہ وہ اللہ کے نور کو گل کرنا چاہتے ہیں؟اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے جزیرہ نمائے عرب میں اس وقت مسلمانوں کے جو دشمن موجود تھے،ان پر ایک نگاہ ڈالنی ہوگی۔ان میں سے ایک تو مشرکین تھے جن کے سرخیل قریش مکہ تھے مگر یہ بہت بہادر اور جری لوگ تھے ،سامنے سے حملہ کرتے تھے، جبکہ دوسرے دشمن یہود تھے۔یہ انتہائی بزدل تھے۔ان کے بارے میں سورۂ حشر میں آیا ہے کہ یہ کبھی کھلے میدان میں مقابلہ نہیں کریں گے،ہاں چھپ کر قلعوں کے اندر سے پتھراؤ کریں گے۔ابو جہل نے تو اپنے باطل ’’دین‘‘ کے لیے بھی بہر حال گردن کٹوائی مگر ان میں اس کی ہمت نہیں۔یہ تو صرف پھونکوں سے کام چلانا چاہتے ہیں کیونکہ پروپیگنڈے اور سازشوں کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں۔مگر ان کی سازشوں اور پروپیگنڈےکے جواب میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اللہ تعالیٰ اپنے نور کا اتمام کرکے رہے گا چاہے یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو‘‘۔</p> آج کے حالات میں بھی اسی صورتحال کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔گویا <p> <p style="text-align: center;">آگ ہے،اولادِ ابراہیم ہے،نمرود ہے<center> کیا کسی کو پھر کؔسی کاامتحاں مقصود ہے؟</p> بعینہ یہی کیفیت یہود کی آج بھی ہے۔اس وقت صہونیت جس طرح اسلام کے اس نور کو بجھانے کی فکر میں ہے اور جس تیزی سے یہود اپنے منصوبے رو بہ عمل لارہے ہیں،اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ دنیا کی سب سے بڑی حکومت کے سر پر بھی وہی سوار ہیں۔انہوں نے اسلام کا راستہ روکنے کے لیے پوری دنیا میں اسلامی بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کو ہوا بنا کر کھڑا کر دیا ہے۔ <p style="text-align: center;">(ڈاکڑ اسرار احمدؒ)

Open
articleUrdu0 min

The true philosophy and message of sacrifice

27964

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 21)۔ </span><br> فلسفہ قربانی میں بات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے کی قربانی سے شروع ہوتی ہے۔وہ بیٹا جو انھیں پیرانہ سالی میں ملا تھا،عمر کے اُس حصہ میں جب انسان اولاد کا تصور نہیں کرتا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑی خواہش کے بعد بیٹے کی نعمت سے سرفراز ہوتے ہیں لیکن حکم ہوتا ہے تو اسی بیٹے کی قربانی کے لیے نکل کھٹرے ہوتے ہیں،اور جب اُس کی گردن پر چھری رکھتے ہیں تو وہ گویا تمام محبتوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی محبت و اطاعت اور اُس کے احکامات کو بجالانے پر قربان کردیتے ہیں۔یہ حج اور قربانی کا اصل فلسفہ اور پیغام ہے۔ہماری زندگی جس ڈگرپر گزرتی ہے،جن جن میدانوں میں جولانیاں دکھاتی،اور جس مورچے اور محاذ پر اپنے آپ کو منواتی ہے،یہ زندگی اللہ رب العالمین کی اطاعت اور اس کے حکم کی بجا آوری میں صرف ہونی چاہیے اور اس راہ میں کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔خواہشات،تمناؤں اور آرزؤوں،اور کل سے بہتر آج اور آج سے بہتر کل کے جذبے کی قربانی کے لیے ہر دم تیار رہنا چاہیے۔حج اور قربانی کا یہ فلسفہ ہر لمحے ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ زندگی اس ڈگر پر گزرے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے بتائی ہے۔یہ فلسفہ اگر جذب و انجذاب کے مراحل سے گزرے،دل و دماغ کے اندر سرایت کرے اور رگ و ریشے کے اندر خون کی طرح دوڑے تو پھر وہ انسان اور وہ اجتماعیت و جود میں آتی ہے جو معاشرے کے اندر بڑی شے کو مسخر کرنے کی صلاحیت کی حامل ہوتی ہے۔ <p style="text-align: center;"> سید منور حسن (سابق امیر جماعت اسلامی)

Open
articleUrdu0 min

Philosophy of Hajj

27956

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 20)۔ </span><br> اسلامی فلسفہ زندگی اور اسلامی قانون و احکام دنیا کے لیے نعمت غیر مترقبہ ہیں جنہیں اپنا کر دنیا کے تمام غموں سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے اور صرف آخرت ہی نہیں، اس زندگی کو بھی قابل رشک بنایا جا سکتا ہے۔ قرآن وسنت سے دوری سے صرف مسلمان ہی اس کی خیر و برکت سے محروم نہیں ہوئے بلکہ پوری انسانیت اس چشمہ حیات کے فیوض و برکات سے محروم ہوگئی۔ حج کی صورت میں مسلمانوں کا عظیم الشان اجتماع مقرر ہوا تا کہ دور دراز کے مسلمان ،عوام و خواص مختلف رنگوں، نسلوں ، زبانوں کے بولنے والے، مختلف الانواع تہذیب و ثقافت، تمدن کے حامل ، مگر ایک دین کے پیروکار اس عالمی اجتماع میں ایک دوسرے سے ملیں۔ باہمی تعارف ہو، ایک دوسرے کے مسائل و مشکلات سے آگاہ ہوں اور یہی ان کا بین الاقوامی مرکز قرار پائے۔ حج ایک ایسی عبادت ہے جس میں اتحاد، یقین اور نظم کے فوائد نہ صرف امت مسلمہ کے لیے بلکہ تمام دنیا کے لیے پنہاں ہیں ۔ اس سے یقین محکم ،عمل ِپیہم، محبت فاتح عالم کے انوار کی خیرات بٹتی ہے مگر ہم پر ایسے اندھےو بہرے حکمران اور شیطانی سائے مسلط ہیں، جن سے ہم ان انوار و برکات سے خود ہی محروم ہیں، دوسروں کو کیا دیں گے۔ آج امت کہاں کہاں کسں حال میں ہے۔ ہمارے حاکم ہمارے خادم ہیں یا خدام۔۔۔۔ ؟ دورو نزدیک سے عوام کی آواز باختیار لوگوں تک پہنچتی ہے یا راہوں میں ہی بھٹکتی ہے۔۔۔۔ ؟ مظلوم کی ہرسطح پر دادرسی ہو رہی ہے یا ظالم کو تحفظ اور مظلوم کو دھتکارا جاتا ہے ۔۔۔۔؟ آج مسلمانوں پر آمریت، ملوکیت اور جمہوری قباء میں شہنشاہیت کی بدترین قوتیں مسلط ہیں ۔ یہ ہمارا نظام ملوکیت ہے جو سامراج کے نسلی جدی پشتی غلاموں نے ہم پر مسلط کر رکھا ہے۔ یہ اُن کے لیے غلام جبکہ عوام کے لیے بادشاہ بنے بیٹھے ہیں ۔ دعا کیجئے کہ اسلام کا نظام عدل اجتماعی ہمارے جیتے جی قائم ہو جائے ، دنیا سے ظلم کا خاتمہ ہواور حج و دیگر احکام شرع کے نتائج و ثمرات سے عوام کی قسمت چمک اُٹھے اور رنجیدہ چہروں پر خوشی کے انوار ور وفق نمودار ہو۔ <p style="text-align: center;"> (مفتی عبدالقیوم خان)

Open
articleUrdu0 min

Honoring the Agreement

27949

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 19)۔ </span><br> <p>معاہدہ کرنے کے بعد اس کی خلاف ورزی کرنا غدر یعنی بد عہدی کہلاتا ہے۔ </p>اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:’’ یقینا بد ترین چو پائے اللہ کے نزدیک یہی لوگ ہیں جو کفر کرتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے ۔ وہ لوگ جن سے( اے نبیؐ)آپ نے معاہدہ کیا تھا، پھر وہ ہر مرتبہ عہد توڑدیتے ہیں اور وہ (اس بارے میں) ڈرتے نہیں ہیں‘‘۔ الانفال (56:55)</p>مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی ﷫ اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ’’یہ آیتیں بنی قُریظہ کے یہودیوں کےحق میں نازل ہو ئیں جن کا رسول کریم ﷺ سے عہد تھا کہ وہ آپﷺ سے نہ لڑیں گے، نہ آپ کے دشمنوں کی مددکریں گے۔ انہوں نے عہد توڑا اور مشرکین مکہ نے جب رسول کریم ﷺ سے جنگ کی تو انہوں نے ہتھیاروں سے ان کی مدد کی۔ پھر حضور ﷺ سے معذرت کی کہ ہم بھول گئے تھے اور ہم سے قصور ہوا۔ پھر دوبارہ عہد کیا اور اس کو بھی توڑا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سب جانوروں سے بدتر بتایا کیونکہ کُفّار سب جانوروں سے بدتر ہیں اور باوجودکُفر کے عہد شکن بھی ہوں تو اور بھی بدترین۔ اور ’’ڈرتے نہیں‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ سے نہ عہد شکنی کے برے انجام کا ڈر رہتا ہے اور نہ اس بات سے شرماتے ہیں کہ عہد شکنی ہر عاقل کے نزدیک شرمناک جرم ہے اور عہد شکنی کرنے والا سب کے نزدیک بے اعتبار ہو جاتا ہے۔ جب اس کی بے غیرتی اس درجہ کو پہنچ گئی تو یقینا ً و ہ جانوروں سے بدتر ہیں ۔ ‘‘<p>حضرت سیِّدنا عبداللہ بن عمرؓ سےروایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا :’’جو مسلمان عہد شکنی اور وعدہ خلافی کرے، اس پر اللہ عَزَّوَجَلّ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اس کا نہ کوئی فرض قبول ہوگانہ نفل‘‘۔(بخاری) </p>لہٰذا عہد کی پاسداری کرنا ہر مسلمان پر بھی لازم ہے اور غدر یعنی بد عہدی کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ <p style="text-align: center;"> (مرتب:فرید اللہ مروت)

Open
articleUrdu0 min

Turning your back on war is a grave sin.

27943

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 18)۔ </span><br> <p>’’ اور جو کوئی بھی ان سے اس دن اپنی پیٹھ پھیرے گا سوائے اس کے کہ وہ کوئی داؤ لگا رہا ہو جنگ کے لیے یا کسی (دوسری)جمعیت سے ملنا ہو تو وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔‘‘ (سورۃ الانفال:16)</p>حدیث مرفوع ہے نبی کریمﷺ نے صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’لوگو!دشمن کے ساتھ جنگ کی خواہش اور تمنا دل میں نہ رکھا کرو،بلکہ اللہ تعالیٰ سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو،البتہ جب دشمن سے مڈبھیڑہو ہی جائے تو پھر صبر و استقامت کا ثبوت دو،یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔اس کے بعد آپ ﷺ نے یوں دعا فرمائی:اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے،بادل بھیجنے والے،احزاب(دشمن کے دوستوں)کو شکست دینے والے،انہیں شکست دے اور ان کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔‘‘ (صحیح بخاری)</p>اللہ عزوجل نے مسلمانوں کو دشمن سے معرکہ والے دن میدانِ قتال سے فرار ہونے کو گناہِ کبیرہ اور حرام قرار دیا ہے۔یعنی جب تم کافر دشمنوں کے قریب ہوجاؤ تو پھر انہیں اپنی پشتیں نہ دکھاؤ اور نہ ہی اپنے مسلمان ساتھیوں کو چھوڑ کر ان سے فرار ہوجاؤ۔میدانِ قتال سے فرار کے باعث ایک طرف تو دوسرے سپاہیوں کے حوصلے پست ہوتے ہیں جبکہ دوسری طرف دشمن کے دلوں سے مسلمانوں کا رعب ختم ہوجاتا ہے۔نتیجاً جنگ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>

Open
articleUrdu0 min

The Position of laborers in Islam

27935

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 17)۔ </span><br> مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد کو عموماً شکاگو کے مزدوروں کے احتجاج سے جوڑا جاتا ہے۔حالانکہ اسلام نے بہت پہلے مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ رسولﷺ نے فرمایا:’’مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے پہلے اس کی مزدوری اور اُجرت ادا کردیا کرو۔‘‘(رواہ ابن ماجہ)اس حدیث مبارکہ میں مزدوروں کے حق اُجرت کے حوالے سے رہنمائی دی گئی ہےکہ مزدور جب اپنا کام مکمل کرچکے تو اس کا حق اسے فوری طور پر ادا کردیا جائے۔اس میں ٹال مٹول کرنا اس کی حق تلفی ہے۔<p>آج دنیا میں معاشرتی بے چینی کی گہری جڑیں دنیا پر مسلط اقتصادی نظام میں پائی جاتی ہیں۔جس کی بنیادہی مزدوروں،کاشت کاروں اور کمزور طبقات کے استحصال پر ہے۔اسلام نے فرد کے انفرادی مفادات کے مقابلے میں ہمیشہ اجتماعی اور پورے معاشرے کے حقوق کی بالادستی کو تسلیم کیا ہے۔طاقتور اور بالادست طبقات کے مقابلے میں اسلام نے ہمیشہ جاگیرداری،سرمایہ داری اور طبقاتی بالادستی کی حوصلہ شکنی کی ہے جو حضور اکرم ﷺ،جماعت صحابہؓ اور اسلاف کی زندگیوں سے نمایاں ہے۔قرآن حکیم نے مساکین،مستضعفین ،ضرورت مندوں اور محتاجوں کی کفالت پر مبنی نظام قائم کرنے کی جہاں دعوت دی ہے، وہاں اس نے دولت مندوں کو اپنی دولت میں مسکینوں اور غریبوں کو شامل کرنے کے تہدیدی احکامات بھی دیئے ہیں۔حضور ﷺ نے ان امور کے بارے نہ صرف و عظ ونصیحت کی بلکہ ایک ایسا عملی نظام بھی تشکیل دیا،جوتمام انسانوں کو بلاتفریق ان کے بنیادی حقوق فراہم کرے۔آپؐ کے ہی نقش قدم پر چل کر صحابہ کرامؓ نے ایسا بین الاقوامی نظام قائم کیا جو تمام انسانوں کے مسائل حل کرتا تھا۔آج بھی ہماری فلاح اسی میں ہے کہ ہم اسلام کے دیئے ہوئے نظام ِ حیات کو بطورِ نظام نافذ کرنے کی جدوجہد کریں تاکہ انسانوں کے بنیادی حقوق ادا کرتے ہوئے رضا ئے الٰہی حاصل کرسکیں۔</p> <p style="text-align: center;"> (محمد عباس شاد)

Open
articleUrdu0 min

Love is Allah and hate is Allah.

27929

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> آج کل شرک و کفر کی آندھی نے ہزاروں مسلمانوں کے ایمان و یقین کی جان نکال کر رکھ دی ہے۔مگر یہ خبریں اور یہ مشاہدے ہماری غیرتِ ملی اور ایمانی جذبات میں کوئی کپکپی پیدا نہیں کرتے ۔آج کیسے کیسے فتنے ہیں جو اسلام کا چراغ گل کرنے کے لیے باطل کی آندھیاں اُٹھارہے ہیں،کیسے کیسے خطرات ہیں جو حق کو نیچا دکھانے کے لیے ہر اُفق سے نمودار ہورہے ہیں۔کہیں امام الانبیاءﷺ کی مبارک سنت سے بغاوت ہورہی ہے،کہیں کتاب اللہ کے معنی و مفہوم میں تحریف کی مہم چلائی جارہی ہے،کہیں شرک کی وبا سے توحید کو دبانے کی کوشش ہورہی ہیں،بدعات و رسومات کے زور سے سنت کو مٹانے کی سعی جاری ہے،کہیں معصوم بچوں کے نا پختہ ذہنوں میں مغربی افکار گھسیڑنےکی چالیں چلی جارہی ہیں،کہیں مذہب کا قلع قمع کرنے کے لیے لامذہبیت اور الحاد و دہریت کا عفریت اپنے خون آشام جبڑے کھولے کھڑا ہے۔ہر طرف اور ہر سو کفر و شرک،بدعات رسومات،الحاد بے دینی،بے پردگی و نیم برہنگی،فحاشی وبے حیائی کی ہوائیں چل رہی ہیں۔سیکولرازم کے داعی صرف اسلام کے خلاف کمر کس چکے ہیں۔مگر اتنے پُر خطر حالات میں ہم رات بھر پاؤں پسار کر میٹھی نیند سوتے ہیں اور تمام دن دنیا ئے فانی کی بے اعتبار چند روزہ زندگی کو سنوار نے کے لیے اس طرح گم رہتے ہیں کہ الحب اللہ اور البغض اللہ کے جذبات کو ہمارے وجود میں سر اُٹھانے کا معمولی سا موقع بھی نہیں ملتا۔<p>وہی انسان جو دنیا کے نام پر محبت و نفرت کے پورے جذبات کے ساتھ زندگی گزارتا ہے،دین کا نام سنتے ہی اس طرح بے حس و حرکت ہو جاتا ہے جیسے جامدلاش ہو۔معلوم ہوتا ہے ہمارے اندر وہ دینی حس دھیرے دھیرے دم توڑ رہی ہے جس کا دوسرا حسین نام الحب اللہ اور البغض اللہ ہے۔</p> <p style="text-align: center;"> (مولانا عبداللہ)

Open
articleUrdu0 min

Theory: The Soul of Nations

27922

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 15)۔ </span><br> نظریہ (IDEOLOGY) ایک قوم کے لیے روح کی سی حیثیت رکھتا ہے،جس کے ہونے سےزندگی برقرار رہتی ہے اور جس کے فقد ان کی صورت میں انسانی معاشروں سے اس حرارت و حرکت کا خاتمہ ہوجاتا ہے جس کانام زندگی ہے۔قوم کی یہ زندگی بخش نظریاتی رُوح اگر زندہ و توانا ہو تو دوسری تمام قوتیں ہاتھ آجاتی ہیں اور تھوڑی قوتوں سے بہت زیادہ نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔نظریہ سے سرشار ہونے والی قوموں کا عشق اتنا جَسُور اور فَقر اتنا غیور ہوتا ہے کہ وہ کبھی خوار نہیں ہوتیں،لیکن نظریہ کی مرکزی قوت ختم ہو جائے یا کمزور پڑ جائے تو محض روپے پیسے،صنعت و تجارت،فوجوں اور اسلحہ،ادارات اور تنظیموں اور معاہدوں اور بلاکوں کے بل پر کسی انسانی گروہ کو نہ زندگی حاصل ہوسکتی ہے،نہ ترقی و کامیابی۔بدن میں اگر رُوح ختم ہورہی ہو اور شجاعت کا جوہرِ فعال کام نہ کررہا ہو تو بھینسے جیسا عظیم جثہ گوشت کے ایک ڈھیرسے زیادہ نہیں۔ <p>نظریہ سے محروم معاشرے یا تو قائم ہی نہیں رہ سکتے،یا پھر وہ دوسروں میں ضم ہو جاتے ہیں اور کسی نظریاتی تمدن کے تابع مہمل بن جاتے ہیں۔اقوام کا زوال ’’بے زری‘‘سے نہیں ہوتا،اور اُن کا عروج بھی تو نگری کا مرہون منت نہیں ہوتا۔اسی طرح اسلحہ کی کمی کے بھی معنی لازماً یہ نہیں ہوتے کہ ایک قوم کمزور ہے،بلکہ اگر اس کے جوانوں کی خودی فولاد کی سی قوت رکھتی ہے تو وہ بہت زیادہ محتاجِ شمشیر نہیں رہتی۔دوسری طرف اگر خودی ہی جواب دے جائے تو پھر جو کچھ رہ جاتا ہے وہ خالی زرنگار نیام ہوتے ہیں جن میں شمشیریں نہیں ہوتیں۔اسی لیے علامہ اقبال فرماتے ہیں ’’قوموں کی حیات اُن کے تخیل پہ ہے موقوف۔‘‘</p> <p style="text-align: center;"> (اقبال کا شعلہ نوا)نعیم صدیقی

Open
articleUrdu0 min

After Ramadan

27905

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 13)۔ </span><br> <p>رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ،رمضان،آخر کا گزر گیا ۔مگر اپنے پیچھے یہ سوال چھوڑ گیا کہ ہمیں اس کی رحمتوں و برکتوں سے کتنا فیض حاصل ہوا؟اس سوال کا حقیقی اور زندہ جواب رمضان کے بعد کے ایام میں سامنے آجاتا ہے۔</p>لوگوں کی غالب اکثریت عید کے چاند کی اطلاع کے ساتھ ہی رمضان کی برکات کو فراموش کردیتی ہے۔ان کے لیے عید کے ایام خوشی کے نہیں غفلت کے ایام بن جاتے ہیں۔نمازوں کی پابندی ختم،قرآن مجید کی تلاوت سے فراغت اور یاد الٰہی،ذکرو دعا سے صبح و شام خالی ہوجاتے ہیں۔<p>رمضان کے بعد نفلی عبادات میں کمی اتنا بڑا سانحہ نہیں مگر ان سے بالکل ہاتھ اٹھالینا،گناہوں پر دلیر ہوجانا اور فرائض کا ترک کردینا اس بات کی علامت ہے کہ رمضان میں نظر آنے والی نیکی ایک درجہ میں شاید موسمی بخار یا مذہبی فیشن کی ایک شکل تھی۔یہ کسی حقیقی معرفت،احساس اور ایمان کے نتیجے میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔حدیث کے مفہوم کے مطابق ایسے روزے ایمان و احتساب کے بغیر رکھے گئے اور ایسی شب بیداری ایمان و احتساب کے بغیر کی گئی۔چناچہ یہ روزے اور شب بیداری انسان میں حقیقی تبدیلی نہ لاسکے۔یہ موسمی بخار تھا جو اتر گیا۔مذہبی فیشن تھا جو وقت کے ساتھ رخصت ہوگیا۔اگر ایمان حقیقی ہوتا اور احتساب ہوتا تو کچھ نہ کچھ بہتری ضرور آتی ۔کچھ نئے اہداف طے ہوتے۔کچھ کمزوریاں رخصت ہوتیں۔زندگی میں بہتری ضرور آتی۔ سو اگر رمضان میں بھی ہم نے اپنا احتساب نہیں کیا تو رمضان کے بعد ہی سہی،ایمان کے تھر مامیٹر سے اپنا درجہ حرارت ضرور دیکھیے۔یہ موسمی بخار تھا تو اتر گیا ہوگا۔ورنہ ایمانی حرارت نے عمل میں ضرور بہتری پیدا کی ہوگی۔ان شاء اللہ!</p> <p style="text-align: center;"> (ابو یحٰیی)کے کالم سے اقتباس

Open
articleUrdu0 min

Eid message

27890

<span style="color: black;"><span style="font-size: 25px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 12)۔ </span><br> اسلام نے عید کے دن کو محض خوشی و مسرت کا دن نہیں قرار دیا ہے بلکہ اس نے خوشی و مسرت کے دن کے ساتھ ساتھ اسے تسبیح و تہلیل،ذکر و عبادت اور اپنے مسلمان بھائیوں میں جو محتاج اور مفلوک الحال ہیں، ان کی امداد و غم گساری کا دن بھی قرار دیا ہے۔خوشی و مسرت کے نام پر دوسری قوموں میں جو ہر طرح کی آزادی پائی جاتی ہے۔اس کے برعکس اسلام اپنے ماننے والوں کو اخلاقی اور شرعی حدود کا پابند بناتا ہے اور انہیں بے لگام نہیں چھوڑ دیتا ہے۔مسلم بندہ احکام شریعت اور اپنے پیغمبر علیہ السلام کی ہدایت کا پابند ہوتا ہےاورجو پابندی نہیں کرتا وہ سچا مسلمان ہر گز نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ کے بندوں کو ایک پُر مشقت عبادت کے بعد خوشی کا ایک دن میسر کیا گیا تاکہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں اور اللہ کی تعریف کریں۔ <span class="Font_AlMushaf"> {وَلِتُكْبَرُوا اللهَ عَلَى مَا هَذَلِكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴿﴾} </span>اللہ کی تعریف کہ اس نے ہم کو یہ مشقت والی عبادت کی توفیق دی اور اس بات پر شکر کہ اس نے اہل اسلام کو کھلے میدانوں میں جمع ہونے کا حکم دے کر ہمیں محبت و مودت کی خوبصورت لڑی میں پرودیا۔عید کی نماز میں جمع ہونے کا مقصد یہ ہے کہ ہم باہمی کدورتیں اور نفرتیں،قبائلی و علاقائی تعصّبات،مسلکی و سیاسی تفریقات اور افتراقات کو بھلاکر اکٹھے ہو کر اہل اسلام کی یگانگت کا عملی مظاہرہ کریں۔عید کا دن پیغام ہے ہر اس روزے دار کے لیے جس کے لیے یہ دن واقعی جہنم سے آزادی کا دن قرار پاگیا۔جس روزہ دار نے اپنے گناہ معاف کروالیے،جو اللہ کا ویسا بندہ بن گیا جیسا رمضان بنانا چاہتا تھا۔جس کو رمضان نے حلم و بردباری،عفو درگزر،تواضع و عاجزی اور عبادت و ریاضت کا پابند بنادیا۔جس روزہ دار کے دن اطاعت و فرمانبرداری سے اور راتیں قیام سے مزین ہوگئیں اور جو یہ سب نہ کماسکا وہ اپنا محاسبہ کرلے۔ابھی زندگی کی رونق باقی ہے،ابھی سانس چل رہے ہیں،ابھی تبدیلی کا امکان باقی ہے۔صرف نئے کپڑے پہن کر عید کی خوشیوں میں شریک ہونے والا مسلمان یاد رکھے کہ حقیقی خوشی تو اس کی ہے جس کا دل اللہ کی محبت سے بھر چکا ہے،جس کے دل میں گناہ سے نفرت کا مضبوط بیچ بویا جاچکا ہے۔ <p style="text-align: center;">پروفیسر زید حارث(کے کالم سے اقتباس)۔

Open
articleUrdu0 min

The Place of Fasting in Religion.

27888

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 11)۔ </span><br> <p>یہ ایک فطری سی بات ہے کہ جس اُمّت پر اللہ کے نظام کو دنیا میں قائم کرنے اور اس کے ذریعےنوعِ انسانی کی قیادت کرنے اور انسانوں کے سامنے حق کی گواہی دینے کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کرنے کو فرض کیا جائے اُس پر روزہ فرض ہو! روزے ہی سے انسان میں محکم ارادے اور عزم بالجزم کی نشونما ہوتی ہے۔روزہ ہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے انسان خدا کی رضا اور اجرِ آخرت کے لیے تمام جسمانی ضرورتوں پر قابو پاتا ہےاور تمام دشواریوں اور زحمتوں کو برداشت کرنے کی قوت حاصل کرتا ہے۔</p> اس فریضہ کا اولین مقصود تقویٰ،قلب کی صفائی ،احساس ِ ذمہ داری اور خشیتِ الٰہی کے لیے دِلوں کو تیار کرنا ہے۔تقویٰ دل میں زندہ و بیدار ہو تو مومن اس فریضہ کو اللہ کی فرمانبرداری کے جذبے کے تحت اُس کی رضا جوئی کے لیے ادا کرتا ہے۔ تقویٰ ہی دِلوں کا نگہبان ہے۔وہی معصیت سے روزے کو خراب کرنے سے انسان کو بچاتا ہے،خواہ یہ دل میں گزرنے والا خیال ہی کیوں نہ ہو۔قرآن کے اولین مخاطب جانتے تھے کہ اللہ کے یہاں تقویٰ کا کیا مقام ہے اور اُس کی میزان میں تقویٰ کا کیا وزن ہے۔روزہ اُس کے حصول کا ذریعہ اور اُس تک پہنچانے کا راستہ ہے۔ <p style="text-align: center;"> (سید قطب شہیدؒ )

Open
articleUrdu0 min

The Relationship between the servant and the Lord in Ramadan

27882

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 10)۔ </span><br> <p>’’اور (اے بنیﷺ!)جب میرے بندے آپؐ سے میرے بارے میں سوال کریں تو(ان کو بتا دیجیے کہ)میں قریب ہوں۔میں تو ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی(اور جہاں بھی)وہ مجھے پکارے،پس اُنہیں چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں،اور مجھ پر ایمان رکھیں،تاکہ وہ صحیح راہ پر رہیں۔‘‘ (البقرہ:186)</p> <p>رمضان و قرآن اور صیام و قیام کا جو مشترک نتیجہ نکلے گا وہ یہ ہے کہ روح بیدار ہوگی،تقویت پائے گی اور اللہ کی طرف متوجہ ہوگی۔اسی لیے مذکورہ آیت میں خوشخبری ہے کہ میں کہیں دور نہیں ہوں۔مجھے تلاش کرنے کے لیے کہیں بیابانوں میں جانے اور پہاڑوں کی غاروں میں تپسیائیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔میں تمہارے بالکل قریب ہی ہوں،گویا؂ </P> <p style="text-align: center;">دل کے آئینے میں ہے تصویر یار <p style="text-align: center;">جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی <p> تمام قدیم مذاہب میں اللہ کے ساتھ بندوں کے ربط و تعلق کا مسئلہ ہمیشہ ایک لا ینحل گتھی بنا رہا ہے۔اکثر مذہبوں نے تو اللہ کو اتنا دور اور اتنا بعید فرض کرلیا ہے کہ اس تک براہِ راست رسائی گویا ممکن ہی نہیں۔قرآن مجید نے اس وہم کو دور کرکے صاف صاف بتادیا ہے کہ تم جسے دور سمجھ رہے ہو ،وہ دور نہیں ہے،تمہارے بالکل قریب ہے۔اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب چاہو اور جہاں چاہو اُس سے ہم کلام ہوجاؤ۔</p> اللہ تعالیٰ تک رسائی کے لیے تمہاری دعا کسی پوپ،کسی پادری،کسی پروہت،کسی پجاری،کسی پنڈت یا کسی پیر کے واسطے کی محتاج نہیں ہے ۔اللہ کا ربط و تعلق بندے کے ساتھ براہِ راست ہے۔یہاں کسی واسطے کی ضرورت ہے ہی نہیں!ہاں البتہ اس تعلق کے مابین حجاب ہم خود ہیں۔ہماری حرام خوری،ہماری غفلتیں حجاب بنی ہوئی ہیں۔اپنی غفلتوں کا پردہ چاک کیجئے۔اللہ کی جناب میں توبہ کیجئے! وہ ہرآن ،ہر لحظہ آپ کی دعا کو سننے والا ہے۔وہ ہمیشہ ہی قریب رہتا ہے اور رمضان میں تو اس عموم میں خصوص پیدا ہوجاتا ہے۔ <p style="text-align: center;">عظمتِ صیام و قیام رمضان(ڈاکڑ اسرار احمد ﷫)

Open
articleUrdu0 min

Fasting: A source of refreshing sense of devotion

27874

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 09)۔ </span><br> روزے کا قانون یہ ہے کہ آخر شب طلوع سحر کی پہلی علامات ظاہر ہوتے ہی آدمی پر یکا یک کھانا پینا اور مباشرت کرناحرام ہو جاتا ہے اور غروب آفتاب تک پورے دن حرام رہتا ہے۔ اس دوران میں پانی کا ایک قطرہ اور خوراک کا ایک ریزہ تک قصدا حلق سے اُتارنے کی اجازت نہیں ہوتی اور زوجین کے لیے ایک دوسرے سے قضائے شہوت کرنا بھی حرام ہوتا ہے۔ پھر شام کو ایک خاص وقت آتے ہی اچانک حرمت کا بند ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ سب چیزیں جو ایک لمحہ پہلے تک حرام تھیں یکا یک حلال ہو جاتی ہیں اور رات بھر حلال رہتی ہیں، یہاں تک کہ دوسرے روز کی مقررہ ساعت آتے ہی پھر حرمت کا قفل لگ جاتا ہے۔ ماہ رمضان کی پہلی تاریخ سے یہ عمل شروع ہوتا ہے اور ایک مہینہ تک مسلسل اس کی تکرار جاری رہتی ہے۔ گویا پورے تیس دن آدمی ایک شدید ڈسپلن کے ماتحت رکھا جاتا ہے۔مقر روقت تک سحری کرے، مقرر وقت پر افطار کرے، جب تک اجازت ہے ، اپنی جائز خواہشات نفس پوری کرتار ہے اور جب اجازت سلب کر لی جائے تو ہر اُس چیز سے رُک جائے جس سے منع کیا گیا ہے۔ اس نظام تربیت پر غور کرنے سے جو بات سب سے پہلے نظر میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام اس طریقہ سے انسان کے شعور میں اللہ کی حاکمیت کے اقرار و اعتراف کو مستحکم کرنا چاہتا ہے، اور اس شعور کو اتنا طاقتور بنا دینا چاہتا ہے کہ انسان اپنی آزادی اور خود مختاری سے بالفعل دستبردار ہوجائے۔یہ اعتراف و تسلیم ہی اسلام کی جان ہے،اور اسی پر آدمی کے حقیقی مسلم ہونے یا نہ ہونے کا مدار ہے۔ <p style="text-align: center;">اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر(سید موُدودی ﷫)

Open
articleUrdu0 min

Two parallel programs of Ramadan: daytime fasting and night prayer.

27867

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 08)۔</span><br> <span class="Font_AlMushaf"> عَنْ أبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَاناً وَ احْتِسَاباً غُفِرَلَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ’’ وَمَنْ قامَ رَمَضَانَ إِيْمَاناً وَإحْتِسَاباً غُفِرَلَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قامَ لَيْلَةَ القَدْرِ إِيْمَاناً وَ إحْتِسَاباً غُفِرَلَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ)) </span>(متفق علیہ) <p>حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:</p> <p>"جس نے ایمان اور خود احتسابی کی کیفیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے،اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے گئے،اور جس نے رمضان (کی راتوں) میں قیام کیا(قرآن سننے اور سنانے کے لیے)ایمان اور خود احتسابی کی کیفیت کے ساتھ اُس کے بھی تمام سابقہ گناہ معاف کردیئے گئے،اور جو لیلتہ القدر میں کھڑا رہا (قرآن سننے اور سنانے کے لیے) ایمان اور خود احتسابی کی کیفیت کے ساتھ اس کی بھی سابقہ تمام خطائیں بخش دی گئیں!" </p>

Open
articleUrdu0 min

If you want to change people...

27857

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 07)۔ </span><br> اگر تم کہ انسان ہو،انسانوں کو بدلنا،اور ارواح و قلوب کے عوالم روحانیہ کو منقلب کردینا چاہتے ہو،تو یاد رکھو کہ جب تک تم انسان ہو،ایسا نہیں کرسکتے،کیونکہ انسانوں کو اس کی قدرت نہیں دی گئی۔البتہ اگر تم اپنے اندر قوت الٰہی پیدا کرلو،اگر اپنی جماعت کے اندر اس کار فرمائے حقیقی کا ایک گھر بنالو،تمہاری صداؤں کی جگہ تمہارے اندر سے اُس کی آواز نکلنے لگے،تمہاری آنکھوں کے حلقوں سے تمہاری نظروں کی جگہ اُس کی نگاہیں ہوجائیں،تو پھر تمہاری صدائے دعوت ایک سیلابِ انقلاب ہوگی،جس کو دنیا کی کوئی طاقت نہ روک سکے گی۔تمہاری زبانوں سے جو کچھ نکلے گا،وہ دلوں اور روحوں پر نقش ہو جائے گا اور پھر نہ زمین کا پانی اُسے دھوسکے گا،اور نہ آسمان کی بارش اُسے محوکر سکے گی۔تمہاری تعلیم،بیچ اور پھل دونوں اپنے ساتھ لائے گی اور تم گو چپ رہوگے،لیکن تمہاری خاموشی کی ایک ایک صدائے عمل پر کروڑوں ہستیاں اپنے دلوں کو ہتھیلیوں پر رکھ کر پیش کریں گی۔تمہاری آنکھوں سے جب شرارے نکلیں گے تو دنیا میں کس کی آنکھ ہوگی جو اس سے دوچار ہوسکے؟تمہاری زبانوں سے جب لسانِ الٰہی کی صدائے دعوت اُٹھے گی،تو اللہ کی آواز کو سن کر اُس کی کون سی مخلوق ہے جو لبیک نہ کہے گی؟ <p style="text-align: center;">(مولانا ابوالکلام آزاد)

Open
articleUrdu0 min

The power of faith and belief.

27850

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 06)۔ </span><br> جب ایمان کی حقیقت دل میں جاگزیں ہوجاتی ہے تو وہ اس کو عمل پر اُ کساتی ہے،تاکہ واقعاتی اور عملی زندگی میں اپنا فرض ادا کرے۔دنیا میں عقیدے کے عملی معجزات ماضی میں اور حال میں بہت سے ہوئے ہیں،اور مستقبل میں بھی ہوں گے۔ان معجزات نے دنیا میں انقلاب بر پا کئے ہیں۔دراصل عقیدہ انسان کی جان میں ایک عظیم قوت پیدا کردیتا ہے، اس قوت کے باعث نفسِ انسانی بڑے بڑے کارنامے انجام دینے کے قابل ہوجاتا ہے۔عقیدہ فرد اور جماعت کو حیرت انگیز قربانیوں پر آمادہ کرتا ہے۔عقیدے کے زور سے دنیا کی فانی زندگی آخرت کی باقی زندگی کی کامیابی میں بدل جاتی ہے۔عقیدہ انسان کی تمام قوتوں کو مجتمع کردیتا ہے،اس کو ہدف اور مقصد عطا کرتا ہے اور اس کے لیے قربانی کرنے کی اُمنگ پیدا کرتا ہے۔عقیدہ انسان کو حکومت،مال و دولت اور لوہے اور آگ کی قوتوں کے آگے کھڑا کردیتا ہے۔ایسا شخص باطل سے نہیں گھبراتا اور برائی کی قو توں سے نہیں ڈرتا خواہ وہ قوتیں کس قدر ہوں اور کتنی طاقتور ہوں۔عقیدے کی طاقت ان تمام قوتوں کو شکست دے دیتی ہے اور اُن پر غالب آجاتی ہے۔یہ فتح ایک فانی فرد کی نہیں ہوتی بلکہ ایک باقی اور قائم و دائم عقیدے کی ہوتی ہے۔ <p style="text-align: center;">(فی ظلال القرآن | سید قطب شہیدؒ )

Open
articleUrdu0 min

Occupied Kashmir: Freedom struggle and human rights violations

27844

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 05)۔ </span><br> تاریخِ عالم میں اہلِ کشمیر اُن چند پُر عزم،بلند حوصلہ،حق پرست،حریت پسند اور جذبۂ اِستقلال سے سرشار اقوام میں سے ہیں جنہوں نے نہ تو کبھی ظالم کے ظلم سے خوف کھایا اور نہ ہی قابض کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔گوکہ رائے عامہ کے مطابق مسئلہِ کشمیر1947ء میں تقسیم ہند سے شروع ہوا مگر در حقیقت مسلمانانِ کشمیر پر زندگی تقسیمِ ہند سے قبل ہی تنگ کردی گئی تھی۔بلاشبہ کشمیر کی موجودہ صورتحال ہندو بنیاد ڈوگرا راج کی مسلم کُش پالیسیز کا ہی تسلسل ہے۔گمنام اجتماعی قبریں،بے گناہ شہداء،معصوم یتیم،بیوہ وُ نصف بیوہ،عورتیں،نابینا بچے،معذور و بے سہارابوڑھے اور لہو لہان وادیٔ کشمیر،بھارتی مظالم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ <p style="text-align: center;">(سلطان محمد بہادر عزیز) <p style="text-align: center;">کوئی آواز اب اُٹھائے کہ کشمیر جل رہا ہے <p style="text-align: center;">کوئی انصاف اب دلائے کہ کشمیر جل رہا ہے <p style="text-align: center;">ہر فرد ہے پریشان،بے چین و دل شکستہ <p style="text-align: center;">کوئی مرہم انہیں لگائے کہ کشمیر جل رہا ہے

Open
articleUrdu0 min

When the Heavenly Religion Becomes a Religion

27837

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 04)۔ </span><br> جب کسی آسمانی دین پر وہ وقت آتا ہے کہ اس سے ’’شریعت‘‘اور ’’دستور‘‘ کا معنی نکال دیا جائے اور وہ محض ایک مذہب بن کر رہ جائے تو پھر اس دین کے علماء و فقہاء ’’زندگی اور معاشرے کے قائد‘‘ نہیں بلکہ مذہبی شخصیات بن کر رہ جاتے ہیں!یہاں پوپوں اور پادریوں کا رنگ آنے لگتا ہے۔لوگوں کو ’’راہ دکھانے‘‘ کی بجائےپار لگانے کے دھندے چل نکلتے ہیں اور یہ خدا اور بندوں کے بیچ واسطہ بننے لگتے ہیں۔یہ جہان اُن کے ہاتھ سے نکلتا ہے۔۔۔۔۔تو یہ اگلے جہان کے مالک بن بیٹھتے ہیں!ان کے گرد’’تقدسات‘‘ کا ایک ہالہ بُنتا چلا جاتا ہے۔لوگوں کے دلوں پر ان کے پہنچے ہوئے ہونے کی دھاک بٹھائی جاتی ہے۔اور تب ۔۔۔۔۔روئے زمین پر بد ترین قسم کا ’’روھانی طغیان‘‘ شروع ہوجاتا ہے۔ <p style="text-align: center;">(سید محمد قطب شہیدؒ)

Open
articleUrdu0 min

Avoid the call to account on the Day of Reckoning!

27830

<span style="color: black;"><span style="font-size: 25px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 03)۔ </span><br> <span class="Font_AlMushaf"> <p>ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿﴾} (17) (القمر) </p></span>"اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے بہت آسان کردیا ہے۔اب ہے کوئی نصیحت لینے والا"۔مطلب یہ ہے کہ ہم نے قرآن کوتذکر کے لیے،نصیحت حاصل کرنے کے لیے اور اسے عملی زندگی میں اپنانے کے لیے آسان بنایا ہے۔اب تم میں سے ہے کوئی جو اس نصیحت پر عمل کرے؟اس سے ثابت ہوا کہ قرآن مجیدسارے کا سارا اس نقطہ نظر سے پڑھنا کہ اس کو پڑھ کر نصیحت حاصل کرنا ہے،اور اس پر عمل کرنا ہے،یہ سب پر فرض ہے البتہ قرآن مجید سے فقہی مسائل کا استنباط اور اس کی تفسیر کے علوم کا حاصل کرنا سب مسلمانوں پر فرض نہیں ہے۔ہر مسلمان کو یہ دیکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نام کیا پیغام بھیجا ہے؟یہ ایک دستی خط آیا ہے۔اور یہ کسی عام آدمی کے ہاتھوں نہیں بلکہ سید الاوّلین والآ خرین محمد رسول اللہﷺ کے ہاتھوں ہم تک پہنچا ہے۔پیغام بھیجنے والے نے تاکید کے ساتھ متنبہ کیا ہے کہ وہ تم سب سے اس خط کا جواب بھی لے کر رہے گا۔اُس نے بار بار تاکید کردی ہے کہ اگر تم نے اس خط کو اچھی طرح سے پڑھ کر پورے خلوص کے ساتھ نہ سمجھا اور اس پر عمل نہ کیا تو یہی نبیﷺ جو خط لے کر تمہارے پاس آئے ہیں،یومِ حساب تمہارے خلاف دعویٰ دائر کریں گے۔رہ گئے پڑھے لکھے جاہل جنہوں نے ایم اے اور پی ایچ ڈی تو کرلیا لیکن قرآن و حدیث کو سمجھنے کی تکلیف گوارا نہیں کی تو اُن حضرات کو سمجھ لینا چاہیے کہ اُن کا معاملہ انتہائی خطرناک ہے۔ان پر یہ فرد جرم عائد ہوگی کہ یہ دنیا جہان کے اناپ شناب کو تیار تھے اور ایرے غیرے کے پیغام کو سینے سے لگاتے رہے مگر اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو در خوارِ اعتنانہ سمجھا ۔اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کے محبوبؐ کی سنت سے منہ موڑے رکھا۔کتاب و سنت کے علم سے بے پروائی وہ جرم ہے جس کے مرتکب مشرکین مکہ ہوئے تھے،اُنہوں نے بھی حضورﷺ کی دعوت اور اللہ کے پیغام سے اعراض کیا تھا۔<p style="text-align: center;">(ڈاکڑ ملک غلام مرتضیٰ)۔

Open
articleUrdu0 min

The Mood of the Revolutionary Group

27823

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 02)۔</span><br> کسی نظام کو بدلنے کے لئے اُٹھنے والے انقلابی گروہ کا ایک مخصوص مزاج ہوتا ہے،جسے ہم اُس کا تحریکی مزاج کہہ سکتے ہیں۔ایسے لوگ حد درجہ پُرعزیمت ہوتے ہیں اور کسی دشواری یامشکل سے گھبرا کر راستہ بدلنے پر تیار نہیں ہوتے۔یہ باطل سے شدید متنفر ہوتے ہیں،کیونکہ وہ اسی کو گرانے کی عملی جدوجہد کررہے ہوتے ہیں اور اسی کے ساتھ اُن کی موت و حیات کی جان گسیل کشمکش جاری ہوتی ہے۔حق کی سر بلندی کے لیے اُن میں جنون کی سی کیفیت ہو تی ہے۔حق کے دامن پر ایک دھبہ دیکھنا بھی اُنہیں گوارا نہیں ہوتا۔وہ باہم پیوست ہوتے ہیں۔وہ ایک دوسرے سے شدید محبت کرتے ہیں۔قرآن میں اُن کے تعلق کی باہمی کیفیت کو <span class="Font_AlMushaf"> رُحَمَاءُ بَیْنَھُمْ </span>سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اُن کا مزاج سخت درجہ کا انقلابی ہوتا ہے۔وہ باطل کے ساتھ کسی درجہ میں بھی مصالحت،موانست یا رعایت کا رویہ اختیار کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔مصلحت کے معاملہ میں بھی وہ زیادہ گنجائش دینے والے نہیں ہوتے۔اُن میں ناقابل تسخیر استقلال کا جو ہر موجود ہوتا ہے۔عزم وارادہ کی پختگی اُنہیں ایک لمحہ لے لیے بھی راہ حق میں چلتے ہوئے مادی نفع و نقصان کا حساب لگانے کی اجازت نہیں دیتی۔ان میں حد درجہ شوق جہاد ہوتا ہے۔وہ تبلیغ و تلقین کے تقاضے اتمام حجت کی حد تک ادا کرنے کے بعد باطل سے بالفعل ٹکرانے کا ایک زبردست داعیہ اپنے اندر رکھتے ہیں۔اُن کی جانیں ہتھیلیوں پر اور سرگردنوں پر صرف اللہ کی امانت ہوتے ہیں۔ایسی ہی بے تابی اُن مسلمانوں میں موجود تھی جب ہجرت کے بعد مدینہ میں اُنہیں حکم دیا گیا تھا: <p style="text-align: center;"> <span class="Font_AlMushaf">وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ﴿﴾ (البقرہ: 190) </span> <p>"اور تم اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا" </p> انہی صفات کا گروہ ہوتا ہے جو نظام حق کو بر پا کرنے کی جدوجہد کرسکتا ہے۔<p style="text-align: center;">(رسول اکرمﷺ کی حکمتِ انقلاب سید اسعد گیلانی۔)<b></b>

Open
articleUrdu0 min

Commitment to the Jamaat and Inactive Members

27822

<span style="color: black;"><span style="font-size: 25px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 01)۔ <p style="text-align: justify;"> ”یہ سرد مہری جس کا اظہار اس اجتماع کے موقع پر ہوا ہے،کوئی اتفاق چیز نہیں ہے جو اس وقت رونما ہوئی ہے۔ مجھے معلام ہوا ہے کہ متعدو مقامات پر ہماری جماعت کے بعض یا اکثر ارکان ہفتہ وار اجتماعات میں شریک نہیں ہوتے یا شریک ہوتے ہیں تو التزام کے ساتھ نہیں بلکہ’’ گنڈے دار طریقے ‘‘ سے جب دنیا کی کوئی چھوٹی بڑی مشغولیت انہیں نہ ہوئی اور تفریح کو بھی جی چاہا تو مقامی جماعت کے اجتماع میں آگئے۔بعض مقامات پر ہفتہ وار اجتماع کا قاعدہ ہی سرے سے منسوخ کردیا گیا اور بہت سے ارکان ایسے بھی ہیں جو جماعت میں داخل ہوئے اور جان بوجھ کر خدا سے عہد غلامی تازہ کرنے کے بعد ویسے ہی ٹھنڈے،بے روح اور جامد و ساکن ہیں جیسے اس سے پہلے تھے۔نہ ان کی زندگی میں کوئی تغیر ہوا،نہ جاہلیت کے ماحول سے ان کی ٹھنی،نہ دعوت الی اللہ کے لیے ان میں کوئی سرگرمی پیدا ہوئی اور نہ ہمسفر رفیقوں کے ساتھ وابستگی اُن میں پائی گئی۔<p>ہم نے ابتدا میں جماعت قائم کرتے وقت بھی کہہ دیا تھا اور اس کے بعد بھی بار بار کہتے رہے ہیں کہ ہمیں کثرت تعداد کی نمائش کرنے کے لیے فضول بھرتی نہیں کرنی ہے۔ہمیں وہ فربہی مطلوب نہیں ہے جو جسم کو طاقتور بنانے کی بجائے الٹا بوجھل بنادے۔ہمیں صرف ان لوگوں کی ضرورت ہے جنہیں فی الواقع کچھ کرنا ہو اور جو کسی خارجی دباؤ سے نہیں بلکہ ایمان کے اندرونی تقاضے سے خدا کے دین کو قائم کرنے کی سعی کرنا چاہتے ہیں۔لیکن افسوس ہے کہ ان پے درپے تصریحات کے باوجود اس قسم کے لوگ ہمارے اس نظام میں بھی داخل ہوگئے جو اس سے پہلے محض مسلمانوں کے گروہ سے وابستہ ہونے کو ہی نجات کے لیے کا فی سمجھ لینے کے عادی رہے ہیں۔ان سے میں عرض کروں گا کہ اگر آپ کو یہی کچھ کرنا تھا تو اس غریب جماعت کو خراب کرنا کیا ضروری تھا۔آپ کو اگر فی الواقع اس نصب العین سے ہمدردی تھی جس کی خدمت کے لیے ہماری جماعت بنی ہے اور اس ہمدردی نے آپ کو ہم سے تعلق پیدا کرنے پر آمادہ کیا تھا ، تو آپ کی ہمدردی کا کم سے کم تقاضایہ ہونا چاہیے تھا کہ آپ اس جماعت کو خراب کرنے سے پرہیز کرتے اور وہ بیماریاں اسے نہ لگاتے جن کی وجہ سے مسلمان مدت ہائے درازسے کوئی صحیح کام نہیں کر سکے ہیں‘‘۔</p> <p style="text-align: center;"> <b> روداد جماعت اسلامی(حصہ دوم،ص:107،106)</b>

Open
articleUrdu0 min

Tamam Esaaeeo'n ka Mushtarek Agenda

27335

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br> رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹس کا آپس میں خواہ کتنا ہی مذہبی اختلاف ہو ‘اور فرانس اور جرمنی کا سیاسی اور عسکری اعتبار سے امریکہ سے کتنا ہی اختلاف ہو ‘ایک چیز پر وہ متفق ہیں۔ ایک تو یہ کہ انہوں نے پورے فلسطین کو مسلمانوں سے آزاد کرانا ہے اور دوسرے یہ کہ ان کے نزدیک مسلمانوں کے دماغ میں جو یہ خناس پیدا ہو گیا ہے کہ ہمارا ایک نظام ہے جس کو ہم قائم کریں گے‘ اس خناس کو واش آؤٹ کرنا ہے۔ اس پس منظر میں اب آپ ایک بات سوچئے! بہت اہم بات ہے۔ امریکی مفکرین کہتے ہیں: <br><p style="text-align: center;">".We are not against Islam, we are not going to war against Islam, we want a war within Islam"<br> اس کا کیا مطلب ہے ؟ درحقیقت اسلام دو ہیں۔ اسلام کا ایک مذہبی تصور ہے کہ مسلمان ایک خدا کو مانتے ہیں‘ اُس کی نماز پڑھتے ہیں‘ اُس کے حکم پر روزے رکھتے ہیں‘ اُس کے حکم کے مطابق حج و عمرہ کرتے ہیں‘ جن کو اللہ توفیق دے وہ زکوٰۃ بھی دیتے ہیں۔ ان کے کچھ عقائد ہیں ‘ کچھ تقاریب ہیں‘ عیدیں ہیں‘ یعنی عید الاضحی اور عید الفطر ۔ پھر ان کے کچھ سماجی رسوم و رواج ہیں۔ بچہ پیدا ہوتا ہے تو عقیقہ کرتے ہیں‘ شادی کرنی ہو تو نکاح ہوتا ہے اور کسی کے مر جانے پر اسے جلاتے نہیں بلکہ دفن کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ شراب نہیں پیتے‘ سور نہیں کھاتے۔ یہ مذہب ہے۔ جبکہ ایک اسلام ہے بطورِدین۔ اس کا ایک سیاسی نظام ہے‘ ایک معاشی نظام ہے‘ ایک سماجی نظام ہے ۔تو وہ کہتے ہیں ہماری ساری جنگ اسلام بطورِ دین کے خلاف ہے‘ اسلام بطورِ مذہب (Religion) کے خلاف نہیں ہے۔ <span </p> <p style="text-align: center;"> <a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Islam_Aur_Pakistan_Ka_Mustaqbil/16/70/209/3383" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a> </p> </span> </body> </html>

Open
articleUrdu0 min

Saniha-e-Palestine: Naz Itna na karen Hum ko satane wale

27314

<!DOCTYPE html> <html lang="ur"> <head> <meta charset="UTF-8"> <meta name="viewport" content="width=device-width, initial-scale=1.0"> <title>Sample Page</title> <style> .Font_AlMushaf { /* Define the style for Font_AlMushaf class */ } </style> </head> <body style="text-align: right; font-family: 'Urdu Naskh Asiatype', 'Arial', sans-serif;"> <span style="color: black; font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br> <p>موجودہ صورتِ حال مستقل نہیں عارضی ہے ‘اور مستقبل میں بالکل برعکس ہو جائے گی۔ چنانچہ قرآن حکیم میں قوموں او راُمتوں کے عروج و زوال کے جو اصول اور عذابِ الٰہی کا جو فلسفہ بیان ہوا ہے اور اس پر مستزاد احادیث نبویہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں قربِ قیامت کے جو حالات و واقعات اور یہودو نصاریٰ اور مسلمانوں کے مابین آخری آویزش اور معرکہ آرائی کے ضمن میں جو پیشین گوئیاں وارد ہوئی ہیں‘ ان کے مطابق یہود پر بہت جلد ’’عذابِ استیصال‘‘ یعنی جڑ سے اکھیڑ پھینکنے والا عذاب نازل ہو گا اور وہ ’’عظیم تر اسرائیل‘‘ جس کے خواب وہ عرصے سے دیکھ رہے ہیں‘ اگرچہ ایک بار قائم تو ہو جائے گا لیکن بالآخر وہی ان کا عظیم تر اجتماعی قبرستان بنے گا۔ دوسری جانب پورے کرۂ ارضی پر بالآخر اُمت محمد علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی حکومت قائم ہو گی اور اللہ کے دین کا بول بالا ہو گا۔ گویا موجودہ نیو ورلڈ آرڈر‘ جو درحقیقت جیوورلڈ آرڈر (یعنی یہودیوں کی بالا دستی کا عالمی نظام) ہے‘ بالآخر اسلام کے ’’جسٹ ورلڈ آرڈر‘‘ (Just World Order) یعنی خلافت علیٰ منہاج النبوت کے عدل و قسط پر مبنی عالمی نظام میں تبدیل ہو کر رہے گا۔ چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:<span class="Font_AlMushaf">اِنَّ اللّٰہَ زَوٰی لِیَ الْاَرْضَ فَرَاَیْتُ مَشَارِقَھَا وَمَغَارِبَھَا‘ وَاِنَّ اُمَّتِیْ سَیَبْلُغُ مُلْکُھَا مَا زُوِیَ لِیْ مِنْھَا</span><p style="text-align: center;"> ‘ <span>“اللہ نے مجھے پوری زمین کو لپیٹ کر (یا سکیڑکر) دکھا دیا۔ چنانچہ میں نے اس کے سارے مشرق بھی دیکھ لیے اور تمام مغرب بھی۔ اور یقین رکھو کہ میری اُمت کی حکومت ان تمام علاقوں پر قائم ہو کر رہے گی جو مجھے لپیٹ کر (یا سکیڑ کر) دکھائے گئے۔‘‘ اسی طرح مسند احمدبن حنبل میں حضرت مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:<span class="Font_AlMushaf">لاَ یَبْقٰی عَلٰی ظَھْرِ الْاَرْضِ بَیْتُ مَدَرٍ وَّلاَ وَبَرٍ اِلاَّ اَدْخَلَہُ اللّٰہُ کَلِمَۃَ الْاِسْلَامِ بِعِزِّ عَزِیزٍ وَذُلِّ ذَلِیْلٍ‘ اِمَّا یُعِزُّھُمُ اللّٰہُ فَیَجْعَلُھُمْ مِّنْ اَھْلِھَا اَوْ یُذِلُّھُمْ فَیَدِیْنُوْنَ لَھَا. </span><p style="text-align: center;">“روئے زمین پر نہ کوئی اینٹ گارے کا بنا ہوا گھر باقی رہے گا نہ کمبلوں کا بنا ہوا خیمہ جس میں اللہ اسلام کو داخل نہیں کر دے گا‘خواہ عزت والے کے اعزاز کے ساتھ خواہ کسی مغلوب کی مغلوبیت کی صورت میں۔ (یعنی) یا لوگ اسلام قبول کر کے خودبھی عزت کے مستحق بن جائیں گے یا اسلام کی بالادستی تسلیم کر کے اس کی فرماں برداری قبول کرنے پرمجبور ہو جائیں گے۔‘‘<br> لہذا ہم الصادق والمصدوق ﷺ کے فرمودات پر یقین کی بنا پر ایک جانب موجودہ عالمی نظام کے سربراہوں‘ یعنی یہود اور نصاریٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ: ؎</span><p style="text-align: center;">اور بھی دَورِ فلک ہیں ابھی آنے والے’’ <br>!‘‘ ناز اتنا نہ کریں ہم کو ستانے والے</p> <p style="text-align: center;"> <a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Musalman_Umato_Ka_Mazi_Hal_or_Mustaqbil/16/36/131/1126" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a> </p> </body> </html>

Open
articleUrdu0 min

Saniha-e-Palestine: Zimedaar Koun? Musalman ya Yahood?

26298

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br> ۲۲ جنوری ۱۹۹۳ء کو نیو جرسی سٹیٹ کے صنعتی شہر ٹرینٹن میں خطابِ جمعہ کے لیے ذہن تانا بانا بننے میں مصروف تھا کہ اچانک بجلی کوندنے کے سے انداز میں یہ تلخ حقیقت سامنے آئی کہ ہم سورۃ البقرۃ کی آیت ۶۱ میں وارد شدہ الفاظ <span class="Font_AlMushaf">ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَ الۡمَسۡکَنَۃُ ٭ وَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ ؕ</span>’’اُن پر ذلت اور مسکنت تھوپ دی گئی‘ اور وہ اللہ کے غضب میں گھر گئے!‘‘ کو پڑھتے ہوئے اطمینان سے گزر جاتے ہیں‘ اس لیے کہ یہ الفاظ یہودیوں کے بارے میں وارد ہوئے ہیں‘ لیکن اگر موجودہ حالات کا معروضی مطالعہ کیا جائے تو اِس و قت اِن الفاظِ قرآنی کے مصداقِ کامل مسلمان ہیں نہ کہ یہود! (واضح رہے کہ ذرا سی تقدیم و تأخیر کے ساتھ یہ مضمون سورۂ آل عمران کی آیت ۱۱۲ میں بھی وارد ہوا ہے)۔ اسی طرح سورۃ الفاتحہ کی آخری آیت کی تفسیر کے ضمن میں اس امر پر مفسرین کا تقریباً اجماع ہے کہ <span class="Font_AlMushaf">’’مَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِم‘‘</span> کی عملی تفسیر یہود ہیں اور ’’<span class="Font_AlMushaf">ضَآلِّیۡن‘‘ </span> کے مصداق نصاریٰ ہیں‘ جب کہ واقعہ یہ ہے کہ اگرچہ مؤخر الذکر یعنی عیسائیوں کا گمراہ ہونا تو یقینا اب بھی صدفی صد درست ہے‘ لیکن ’’<span class="Font_AlMushaf">مَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْۡ </span>‘‘ کی عملی تفسیر تو اِس وقت یہود نہیں‘ مسلمان ہیں۔<p style="text-align: center;"> ذرا غور فرمایئے کہ یہودی اِس وقت پوری دنیا میں کل چودہ ملین یعنی لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ ہیں‘ جب کہ مسلمانوں کی تعداد کم از کم تیرہ سو ملین یعنی ایک ارب تیس کروڑ ہے۔ گویا مسلمان یہودیوں سے تعداد میں تقریباً سو گنا زیادہ ہیں۔ اس کے باوجود اِس وقت کرۂ ارضی کی سیاسی قسمت بالفعل یہود کے ہاتھ میں ہے‘ اس لیے کہ وہ علامہ اقبال کے مصداق وقت کی ’’واحد سپریم پاور‘‘ یعنی ریاست ہائے امریکہ کی سیاست’ معیشت اور ثقافت‘ سب پر پوری طرح قابض اور قابو یافتہ ہیں‘ اور امریکہ کا صدر ہو یا سینٹ‘ اور کانگریس ہو یا پینٹا گون‘ سب ان کے اثر و رسوخ اور بالخصوص ذرائع ابلاغ پر ان کے کنٹرول کے آگے بے بس ہیں۔ دوسری طرف سونے چاندی کی بجائے کاغذی کرنسی کے رواج اور بینک‘ انشورنس اور اسٹاک ایکسچینج کے شیطانی جال پر تسلط کے ذریعے اِس وقت دنیا کی دولت کے بڑے حصے پر یہود کا قبضہ ہے۔ چنانچہ ایک جانب ان میں سے بیسیوں افراد ایسے موجود ہیں جو کئی کئی بلین ڈالر کا ایک ایک چیک جاری کر سکتے ہیں تو دوسری جانب عالمی اقتصادیات کا لیور یا ہینڈل ان کے ہاتھ میں ہے کہ جب چاہیں اور جہاں چاہیں مالی بحران پید اکر کے دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کو ریزہ ریزہ کر دیں۔ (سوویت یونین کا یہ حشر تو سامنے کی بات ہے ہی‘جیسے ہی صیہونیوں نے محسوس کیا کہ امریکہ ان کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے‘ وہ آناً فاناً یہی معاملہ </span>ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ بھی کر سکتے ہیں‘ اور غالباً وہ وقت اب زیادہ دور بھی نہیں ہے۔ واللہ اعلم!)<span </p> <p style="text-align: center;"> <a href="https://www.tanzeemdigitallibrary.com/Book/Musalman_Umato_Ka_Mazi_Hal_or_Mustaqbil/16/36/131/1123" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a> </p> </span> </body> </html>

Open
articleUrdu0 min

Hayat-e-Ibrahimi A.S. : Imtahan-o-Azmaesh ki Misal-e-Kamil

26020

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br> اس امتحان کی جو کامل و مکمل مثال قرآن مجید پیش کرتا ہے وہ حضرت ابراہیم(علیٰ نبینا و علیہ السلام) کی زندگی ہے۔ چنانچہ سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۲۴ کا آغاز ان الفاظ میں ہوتا ہے تذکر ّبالقرآن اور دوسرا ہے تدبر ّبالقرآن۔: <span class="Font_AlMushaf">{وَ اِذِ ابۡتَلٰۤی اِبۡرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ ؕ} </span>’’اور یاد کرو کہ جب آزمایا ابراہیم کو اس کے رب نے بڑی بڑی باتو ں میں تو وہ ان سب میں پورا تر گیا‘‘ یہاں لفظ ابتلاء آگیا ۔ اس کے معنی ہیں کسی کو آزمانا ، امتحان و آزائش میں ڈالنا ----- یہاں لفظ <span class="Font_AlMushaf">’’بِکَلِمٰتٍ ‘‘</span> میں تنوین تنکیر کے لیے آئی ہے ، یعنی اس نے اس کو نکرہ بنا دیا ہے،اور تنکیر عربی زبان میں تفخیم کے لیے یعنی کسی چیز کی عظمت و شان کو بیان کرنے کے لیے آتی ہے۔ چنانچہ<span class="Font_AlMushaf">’’بِکَلِمٰتٍ ‘‘</span> میں بڑے بڑے اور کٹھن امتحا نات کا مفہوم شامل ہو گیا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے اس رب نے بڑے سخت اور مشکل امتحانات لیے ، لیکن اس اللہ کے بندے نے سب کو پورا کر دیکھایا۔ <span class="Font_AlMushaf">’’فَاَتَمَّہُنَّ ‘‘</span> اس کی قوّتِ ارادی میں کہیں ضعف و تا ٔمل پیدا نہیں ہوا ، اس کی عزیمت میں کمزوری اور تذبذب کے کہیں آثار ہو یدا نہیں ہوۓ۔<br>جب حضرت ابراہیم ؑ ان امتحانات کو پاس کر گئے تو ان کو یہ بشارت دی گئی <br><span class="Font_AlMushaf">قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ؕ </span>ؕ(اللہ تعالیٰ نے ) کہا (اے ابراہیمؑ)ےیقیناََ میں تجھے پورے نوعِ انسانی کا امام بنانے والا ہوں۔‘‘ حضرت ابراہیمؑ نے بر بناۓ طبعِ بشری فوراَ َ سوال کیا: <span class="Font_AlMushaf">قَالَ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ؕ </span> عرض کیا: اے اللہ! یہ وعدہ صرف مجھ سے ہی ہے یا میری نسل سے بھی ہے؟<span class="Font_AlMushaf">قَالَ لَا یَنَالُ عَہۡدِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۲۴﴾ </span>’’ فرمایا : میرا یہ عہد ظالموں ک ساتھ نہیں ہو گا‘‘۔ تمہاری نسل میں سے جو ظالم ہو گے وہ اس وعدے کے مستحق نہیں ہوں گے----- ’’ ظلم‘‘ کے متعلق ہمارے اکثر دروس میں ذکر ہو چکا ہے کہ قرآن کریم میں اکثر و بیشتر ’’ظلم‘‘ کے الفاظ سے شرک مراد ہوتا ہے----- تمہارا اصل کمال یہ ہے کہ تم نے توحید کی ترازو میں پورا اتر کر دکھا یا ۔ اس کی وجہ سے تم <span class="Font_AlMushaf">’’امام النّاس ‘‘ </span>کے مقام پر فائز کئے جا رہے ہو۔ اب تمہاری نسل میں سے جو لوگ مشرک ہو جائیں گے تو وہ میرے اس عہدکے حق دار کیسے ہو سکتے ہیں ؟ اس مفہوم کو بھی علامہ اقبال مرحوم نے بڑے سادہ الفاظ میں ادا کیا ہے ؎:<p style="text-align: center;"> باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو<br> پھر پسر لائق میراثِ پدر کیونکر ہو؟<br> <br> <b>عید الاضحٰی اور فلسفہ قربانی ( ڈاکٹر اسرار احمد ؒ) </b> </p><p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Eid_ul_Azhaa_aur_falsafa_e_qurbani/15/40112/40419/58860" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p></span>

Open
articleUrdu0 min

Ramazan ul Mubarak Me'n Iftaar ki Ahmiyat

25911

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br><span class="Font_AlMushaf">مَنْ فَطَّرَفِیْہِ صَائِمًا کَا نَ لَہٗ مَغْفِرَۃٌ لِذُنُوبِہٖ وَ عِتْقُ رَ قَبَتِہٖ مِنَ النَّارِ</span>’’جو کوئی اس مہینہ میں کسی روزہ دار کا روزہ (اللہ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لئے)افطار کرائے گا‘ اس کے لئے اس کے گناہوں کی مغفرت بھی ہوگی اور اس کی گردن کا آتشِ دوزخ سے چھٹکارا پالینابھی ہوگا۔‘‘آگے فرمایا : <span class="Font_AlMushaf">وَکَانَ لَہٗ مِثْلُ اَجْرِہٖ</span>’’اور اسے اس روزہ دار کے برابر اجرو ثواب بھی ملے گا‘‘<span class="Font_AlMushaf">مِنْ غَیْرِ اَنْ یُنْتَقَصَ مِنْ اَجْرِہٖ شَیْ ءٌ</span>’’بغیر اس کے کہ اس(افطار کرنے والے روزے دار )کے اجر میں سے کوئی بھی کمی کی جائے‘‘۔آپ حضرات کو معلوم ہوگا کہ حضرت سلمان فارسی ؓ ان فقراء صحابہ کرام ؓمیں سے تھے جن کے پاس اموال و اسبابِ دُ نیوی نہ ہونے کے برابر تھے اور جن پر عام دنوں میں بھی فاقے پڑتے تھے ۔ان اصحابؓ کو اتنی مقدرت کہاں حاصل تھی کہ وہ کسی روزہ دار کو افطار کراسکتے ۔ چنانچہ اسی حدیث شریف میں آگے آتا ہے کہ:<span class="Font_AlMushaf">قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ لَیْسَ کُلُّنَا یَجِدُ مَا یُفَطِّرُ بِہِ الصَّائِمَ</span>’’ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ !ہم میں سے ہر ایک کو تور وزہ دار کا روزہ افطار کرانے کی استطاعت نہیں ہے(تو کیاہم اس اجر و ثواب سے محروم رہیں گے)؟‘‘ حضرت سلمان فارسیؓ کی اس بات پر حضور ﷺ نے جو جواب ارشاد فرمایا اسے حضرت سلمان فارسیؓ آگے بیان کرتے ہیں کہ <span class="Font_AlMushaf">فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : یُعْطِی اللّٰہُ ھٰذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلیٰ مَذْقَۃِ لَبَنٍ اَوْ شُرْبَۃٍ مِنْ مَاء</span>’’تو رسول اللہﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا: ’’یہ ثواب اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی عطا فرمائے گا جو دودھ کی تھوڑی سی لسّی پر یا صرف پانی کے ایک گھونٹ ہی پر کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے گا‘‘۔<br>یہاں یہ بات سمجھ لیجئے کہ ہمارے یہاں اس دَور میں کھانے پینے کی اشیاء کی جوافراط ہے اُس وقت اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔اُس وقت اگر فقراء صحابہ کرام ؓ میں سے کسی کو افطارکے لئے کہیں سے کچھ دودھ مل جاتاتھا تو وہ اس میں پانی ملا کر لسّی بنالیا کرتے تھے ۔ اور کوئی رفیق ایسا بھی ہو جسے یہ بھی میسر نہیں تو اگر وہ اسے اس لسّی میں شریک کرلے تو اُس وقت کے حالات میں یہ بھی بہت بڑا ایثار تھا ۔ ہم کو آج کھانے پینے کی جو فراوانی ہے اس کے پیش نظر ہم حضورﷺ کے اس ارشاد ِمبارک کی حکمت کو صحیح طور پر سمجھ ہی نہیں سکتے ۔ یہ اُس دَور کی بات ہے جب کہ اُن فقراء صحابہ کرام ؓ پر کئی کئی دن کے فاقے پڑتے تھے ۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میرا یہ حال ہوتا تھا کہ کئی کئی دن کے فاقے سے مجھ پر غشی طاری ہو جاتی تھی ‘ لوگ یہ سمجھتےتھے شایدمجھ پر مرگی کا دورہ پڑا ہے او ر آکر اپنے پاؤں سے میری گردن دباتے تھے۔شاید اُس دَور میں یہ بھی مرگی کا علاج سمجھا جاتا ہو۔پھر یہ کہ وہاں پانی کے بھی لالے تھے ‘ پانی بھی بڑی قیمتی شے تھا۔ بڑی دُور سے اسے کنوؤں سے کھینچ کر لانا پڑتا تھا۔ ماحول کے اس تناظر میں سمجھئے کہ حضورﷺ کے ارشاد مبارک کا اصل منشاء و مدعا کس نوع کے ایثار و قربانی کے جذبے کو پیدا کرنے کی طرف تھا کہ لوگ اپنی ذات اور اپنی ضروریات کے مقابلے میں اپنے کمزور بھائیوں کی ذات اور ان کی ضروریات کا زیادہ خیال رکھیں۔ یہ بالکل سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ یہاں ایک ضمنی بات یہ سمجھ لیجئے کہ جدید دَور کی عربی میں لبن دہی کو اور حلیب دودھ کو کہا جاتاہے۔ آگے چلئے‘ حضورﷺ کے ارشاد کا سلسلہ جاری ہے۔ حضورﷺ فرماتے ہیں: <span class="Font_AlMushaf">وَمَنْ اَشْبَعَ صَائِمًا سَقَاہُ اللّٰہُ مِنْ حَوْضِی شُرْ بَۃً لَا یَظْمَأُ حَتّٰی یَدْ خُلَ الْجَنَّۃَ</span>’’اور جو کوئی کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے گا اسے اللہ تعالیٰ میرے حوض (یعنی حو ضِ کوثر)سے ایسا سیراب فرمائے گا کہ (میدانِ حشر کے مرحلہ سے لے کر بقیہ تمام مراحل میں) اس کو پیاس ہی نہیں لگے گی تا آنکہ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا‘‘۔<p style="text-align: center;"><b>عظمتِ صیام و قیام ۔۔رمضان المبارک</b></p><p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Azmat-e-Siyam_O_Qiyam-e-Ramazan-e-Mubarik/15/31/102/868" target="_blank"> تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p></span>

Open
articleUrdu0 min

Peer aur Mureed ... Rishta Kia?

25907

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br>لفظ ارادہ سے اسم فاعل ’’مرید‘‘ بنتا ہے۔ ہمارے یہاں تزکیۂ نفس کا جو نظام عرصۂ دراز سے چلا آرہا ہے اس کا نقطۂ آغاز ہی یہ لفظ ’’مرید‘‘ ہے۔ ’’مرید‘‘ سے مراد وہ فرد ہے جو اس بات کا ارادہ کرلے کہ وہ دین پر چلے گا۔ اس مقصد کے لیے وہ کسی ایسے شخص سے اپنا تعلق جوڑتا ہے جس پر اسے اعتماد ہو کہ یہ شخص مخلص ہے‘دکاندار نہیں ہے۔ مزید برآں یہ اطمینان بھی ہو کہ یہ دین کو جاننے والا اور بذاتِ خود پابند شریعت اور متقی شخص ہے‘ اور یہ کہ اس کی صحبت میں اس کو دین پر چلنے میں تقویت حاصل ہوگی۔ ارادہ تو اس کا اپنا ہوتا ہے‘لیکن اس کے لیے تقویت بھی ضروری ہوتی ہے۔چنانچہ اس مقصد کے لیے وہ کسی متقی و دین دار عالم کو اپنا مرشد تسلیم کرکے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیتا ہے‘یعنی بیعت کرکے یہ قول و قرار اور عہد کرتا ہے کہ وہ اپنے اس مرشد کی ہدایات پر عمل پیرا ہوگا اور دین پر چلے گا۔ اس تشریح سے معلوم ہوا کہ ’’مرید‘‘ وہ شخص ہے جو دین پر کاربند ہونے کے ارادے سے کسی صاحب حال سے تعلق استوار کرے۔اور جس سے تعلق قائم کیا جائے وہ مزکی و مربی اور مرشد کہلاتا ہے‘جس کے لیے فی الوقت ہمارے ہاں عام طور پر لفظ ’’پیر‘‘ مروّج ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ ہم نے اپنی بے عملیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے جہاں دین کی بہت سی باتوں اور بہت سے کاموں کو بدنام کررکھا ہے‘وہاں پیری مریدی کے سلسلے کو بھی سخت بدنام کیا ہے۔ پھر واقعتا یہ سلسلہ ہمارے معاشرے میں خالص دکانداری اور محض رسم بن کر رہ گیا ہے۔ اِلاّ ماشاء ﷲ !<p style="text-align: center;"> <b>دینی فرائض کا جامع تصور ( ڈاکٹر اسرار احمد ؒ) </b> </p><p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Deeni_Faraiz_Ka_Jamia_Tasawwur/12/18/84/366" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p></span>

Open
articleUrdu0 min

Iqamat-e-Deen Aise Nahi Hoga

25893

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br>اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کاروبار بھی چلتا رہے ، معیار زندگی بھی برقرار رہے، معمولات زندگی میں بھی خلل نہ پڑے ، جان و مال بھی محفوظ رہے، بچوں کے کیرئر بھی بن جائیں، اور ہمارے ہی ہاتھوں سے”اقامت دین کا کارنامہ “بھی انجام پاجائے تو یہ اس کی خوش فہمی ہے۔ایسے لوگ کسی جماعت کی اراکین کی فہرست میں نام لکھواکر سمجھتے ہیں کہ بس انہوں نے اپنا فرض ادا کردیاہے۔ اس کے بعد وہ انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں کہ اب اللہ تعالیٰ کی مدد آئے گی، دین غالب ہوجائے گااور اس کے لئے وہ اللہ کے ہاں اجر کے مستحق ٹھریں گے۔گویا اللہ تعالیٰ کو تو معلوم ہی نہیں کہ کس نے کتنی قربانی دی، کس نے کتنا وقت لگایا ہے، کس نے کس مرحلے پر کس مہم میں کتنا حصہ ڈالا ہے۔ نہیں! یہ کوئی اندھیر نگری نہیں! اللہ کے ہاں ہر چیز اور ہر انسان کے عمل کا حساب موجود ہے! <br><span class="Font_AlMushaf"> قَدْ جَعَلَ اللّـٰهُ لِكُلِّ شَىْءٍ قَدْرًا </span>(اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک پیمائش مقرر کر دی ہے۔)<p style="text-align: center;"> <b>بیان القرآن، سورۃ الطلاق آیت نمبر ۳ ( ڈاکٹر اسرار احمد ؒ)) </b>

Open
articleUrdu0 min

Panah ka Wahid Rasta

25858

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br>میری رائے میں پاکستان کی بقاء صرف اسلامی انقلاب میں ہے۔ البتہ جب تک کوئی انقلاب نہیں آتا، جمہوریت ہونی چاہیے، ورنہ چھوٹے صوبوں کے اندر احساس محرومی بڑھے گا۔ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ہو ، جمہوری حقوق حاصل ہوں، مطالبوں کے لیے جلسے کریں، جلوس نکالیں تو غبار اندر سےنکل جاتا ہے، بھڑاس نکل جاتی ہے، ورنہ لاوا اندر ہی اندر پک کر پھٹ پڑتا ہے۔ البتہ ہمارے لیے پناہ کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہم اسلام کی طرف پیش قدمی کریں ۔ کسی بلند تر مقصد کے لیے انسان چھوٹے مفادات کی قربانی دے دیتا ہے۔ جب کوئی مقصد سامنے نہ ہو تو پھر مفادات اور مصلحتیں ہی رہ جائیں گی اور ان میں ٹکراؤ تو ہونا ہی ہے۔ ہماری محرومی ہے کہ ہم اسلام کی طرف سوچنے کو تیار ہی نہیں۔ خدا را سوچنے!وہ مقصد کہاں ہے جس کے لیے پاکستان بنا یا تھا؟ نوجوان نسل سوال کرتی ہے کہ پاکستان کیوں بنا یا تھا ؟ جو ماحول بھارت میں ہے، وہی یہاں ہے۔ بینکنگ کا وہی نظام وہاں بھی ہے جو یہاں ہے۔ وہی ملٹی نیشنل تنظیمیں وہاں بھی ہیں یہاں بھی ہیں۔ مسجدیں وہاں بھی ہیں ، یہاں بھی ہیں۔ پھر آخر کیوں اتنی جانیں دے کر اور عصمتیں لٹا کر پاکستان بنوایا۔ میرے نزدیک ہمارے مسائل کا حل صرف تو بہ میں ہے ۔ انفرادی تو بہ یہ ہے کہ اپنے کردار سے خلاف شریعت کاموں کو نکال دیا جائے ۔ دوسری ہے اجتماعی توبہ۔ میں کہتا ہوں کہ اگر ہم ایسا کر لیں تو اللہ تعالی کی رحمت جوش میں آجائے گی اور قوم یونسؑ کی طرح اللہ تعالی ہماری توبہ قبول فرمالے گا ۔ قوم یونسؑ پر عذاب کے آثار شروع ہو گئے تھے لیکن انہوں نے توبہ کی اور اللہ نے ان پر سے عذاب ٹال دیا۔<p style="text-align: center;"> <b>(بصائر از ڈاکٹر اسرار احمد ؒ) </b> </p><p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Basaair/16/40117/40433/59213" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p></span>

Open
articleUrdu0 min

Istahkam-o-Baqa Pakistan ke Naguzeer Lawazim

25857

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br>ملک وملت ہی نہیں ، بقاء تک کے لیے حسب ذیل چیزیں ناگزیر و لازم ہیں:<br> <br>•&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp ایک ایسا طاقتور انسانی جزبہ جو جملہ حیوانی جبلتوں پر غالب آجائے اور قوم کے افراد میں کسی مقصد کے لیے تن من دھن لگا دینے حتی کہ جان تک قربان کر دینے کا مضبوط ارادہ او ر قوی داعیہ پیدا کردے۔ <br>•&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp ایک ایسا ہمہ گیر نظریہ جو افرادِ قوم کو ایک ایسے مضبوط ذہنی و فکری رشتے میں منسلک کر کے بنیانِ مرصوص بنا دے جو رنگ، نسل، زبان اورز مین کے تمام رشتوں پر حاوی ہو جائے اور اس طرح قومی یک جہتی میں اور ہم آہنگی ضامن بن جائے! <br>•&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp عام انسانی سطح پر اخلاق کی تعمیر نو جو صداقت ،امانت ، دیانت اورایفائے عہدکی اساسات که از سر نو مظبوط کردے اور قومی و ملی زندگی کو رشوت، خیانت ، ملاوٹ، جھوٹ،فریب، ناانصافی ، جانب داری ، ناجائز اقربا پروری اور وعدہ خلافی ایسی تباہ کن بیماریوں سےپاک کر دے۔ <br>•&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp ایک ایسا نظامِ عدلِ اجتماعی (System of Social Justice) جو مرد اور عورت فرد اور ریاست اور سرمایہ اور محنت کے مابین عدل و اعتدال اورقسط و انصاف اور فی الجملہ حقوق و فرائض کاصحیح حسین تو ازن پیدا کر دے۔ <br><br>تحریک پاکستان کے تاریخی اور واقعاتی پس منظر، اور پاکستان میں بسنے والوں کی عظیم اکثریت کی فکری و جزباتی ساخت ، دونوں کے اعتبار سے یہ بات بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہےکہ اس ملک میں تمام تقاضے صرف اور صرف دین و مذہب کے ذریعے اسلام کے حوالے اور ناتے سے پورے کیے جاسکتے ہیں۔ <p style="text-align: center;"> <b>(استحکام پاکستان از ڈاکٹر اسرار احمدؒ) </b> </p><p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Istahkaam-e-Pakistan/16/40111/40396/58679" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p></span>

Open
articleUrdu0 min

Roza Aur Taqwa

25847

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br>اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : “اے ایمان و الو !تم پر روزہ فرض کیا گیا جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تا کہ تم میں تقوی پیدا ہو جائے (سورۃ البقرہ 183) گویا روزے کی مصلحت اور مدعا تقوی ہے۔ تقوی کے معنی اور مفہوم جان لینے سے یہ مصلحت اور حکم بڑی آسانی سے سمجھ میں آجائے گا۔ تقوی کے معنی ہیں “بچنا” ۔ قرآن مجید نے اس میںاصطلاحی مفاہیم پیدا کیے، یعنی اللہ کے احکام کو تو ڑنے سے بچنا،حرام سے بچنا، معصیت سے بچنا یہ تقوی ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے نفس کے بہت سے تقاضے ہیں پیٹ کھانے کو مانگتا ہے۔ فرض کیجئے کہ کوئی حلال چیزکھانے کو نہیں ہے تو ایسے میں اگر کوئی مسلمان اس بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو جائے تو حرام میں منہ مار بیٹھے گا۔ لہذا اس میں یہ عادت ڈالی جائے تاکہ آخری حد تک بھوک پر قابو پانے میں کامیاب رہے۔ اسی طرح پیاس کو کنٹرول میں لائے، شہوت کوکنٹرول میں رکھے۔ ساتھ ہی اسےنفس کی ان خواہشات پر قابو پانے کی مشق حاصل ہو جو دین کے منافی ہوں۔ لہذا طلوع فجر سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور تعلق زن و شوسےکنارہ کش ہونے کی جومشق کرائی جاتی ہے اس کا مقصد ہے ضبط نفس تا کہ ایک بندہ مومن کو اپنے نفس کے منہ زور گھوڑے کے تقاضوں پر قابو پانے اور کنٹرول میں رکھنے کی مشق ہو جائے اور عادت پیدا ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔ اب سوچئے کہ اگر آپ پورے تیس دن ایک مقر رہ وقت سے لے کر دوسرے مقررہ وقت تک اللہ کی حلال کردہ چیزیں اس لیے استعمال نہیں کر رہے کہ اللہ نے اس کی اجازت نہیں دی تو اس سے آپ کے اندر ایک مضبوط قوت ارادی کے ساتھ استطاعت اور استعداد پیدا ہونی چاہیے کہ بقیہ گیارہ مہینوں میں اللہ کی حرام کردہ چیزوں اور منکرات سے بچ سکیں اور تقوی کی روش پر مستقیم رہیں۔ لہذا پورے رمضان کے روزے دراصل تقوی کی مشق ہے۔ سوم کی فرضیت کے ساتھ " <span class="Font_AlMushaf"> لعلکم تتقون</span>" ایک چھوٹا سا فقرہ ہے ،لیکن غور و تدبر کیا جائے تو یہ دو لفظی جملہ بڑا ہی پیارا نہایت عجیب اور بڑی جامعیت کا حامل ہے، اس کے اندر روزے کی ساری ظاہری و باطنی اور انفرادی و اجتماعی فضیلتیں آگئیں۔اور یہ بات روز روشن کی طرح مبر ہن ہو گئی کہ روزے کا مقصود حصول تقوی ہے۔<p style="text-align: center;"> <b>(عظمت صیام و قیام رمضان از ڈاکٹر اسرار احمد ؒ) </b> </p><p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Azmat-e-Siyam_O_Qiyam-e-Ramazan-e-Mubarik/15/31/102/875" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p></span>

Open
articleUrdu0 min

Musalmanan-e-Pakistan ! Mouhlat Kahen Khatm na Hojae

25846

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br>مسلمانان پاکستان اللہ تعالٰی کی جانب سے بڑے سخت امتحان اور کڑی آزمائش سے دو چار ہیں اور ہر حساب و کتاب سے ماوراءاور بڑی سے بڑی توقعات سے بھی بڑھ کر جوا انسان عظیم ( نفاذِ اسلام کے وعدہ پر آزاد و خود مختارملک عطا کرنے کی صورت میں) قدرت نے کیا تھا اس کی ناقدری و ناشکری اور صریح وعد و خلافی پر سزا کا ایک بہت سخت کوڑا مشرقی پاکستان کےسقوط اور وہاں انتہائی ذلت آمیزشکست کی صورت میں ہماری پٹھ پر پڑ چکا ہے۔ تا ہم واقعہ یہ ہے کہ یہ بھی اللہ تعالی کے اس قانون کا مظہر ہے کہ (ترجمہ): ہم انہیں (آخری اور) بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب کا مزہ چکھائیں گے، شاید کہ یہ( اپنی روش سے )باز آجائیں۔ (السجدہ: 21) اللہ تعالی نے ابھی آخری سزانہیں دی اور طلافی مافات کی مہلت عطا کی ہوئی ہے۔ اس لئے کہ یہ بچا کچا پاکستان بھی ہر گز کوئی حقیر شے نہیں ہے بلکہ وسائل اور امکانات کے اعتبار سے اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے۔ اور بفضلہ تعالٰی ابھی مشرقی پاکستان بھی نام کی تبدیلی کے باوجود ایک آز اد و خود مختار ملک کی حیثیت سے ان ہی حدود کے ساتھ دنیا کے نقشے پر قائم ہے جن کے ساتھ 1947ء میں اس کا ظہور ہوا تھا۔ گو یا ابھی موقع ہے جگر کےاس شعر کے مطابق کہ ۔ <br> چمن کے مالی اگر بنالیں موافق اپنا شعار اب بھی<br> چمن میں آسکتی ہے پلٹ کر چمن سے روٹھی بہار اب بھی<br> ہم اپنی روش کو اس آسمانی منصوبے کے مطابق اور موافق بنا لیں جس کی ایک کڑی پاکستان کا قیام ہے تو کوئی عجب نہیں کہ برصغیر کے اس گوشے میں اسلام کا از سرنو تمکن و استحکام جہاں آج سے تیرا سو سال قبل صنم خانہ ہند کا اولین، دارا سلام قائم ہوا تھا، اس کے کسی نئے عروج کا پیش خیمہ ثابت ہو۔ “راز خدائی ہے یہ، کہہ نہیں سکتی زبان” بصورت دیگر ہمارا حشر اس شخص کا ساہو گا، جس کا ذکر سور ۃ الاعراف کی آیات 175,176 میں آیا ہے۔ “جسے ہم نے اپنی خاص نشانیاں عطا کی تھیں مگر وہ ان سے بھاگ نکلا، تو پیچھے لگ گیا اس کے شیطان اور شامل ہوکر رہا وہ سخت گمرا ہوں میں ،اور اگر ہم چاہتے تو اسے اپنی نشانیوں کے طفیل رفعتوں کا مکین بنادیتے مگر وہ بد بخت تو زمین ہی کی جانب جھکتا گیا ۔” گویا اس صورت میں نہ اندیشہ ہے کہ “ ہماری” داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں! <p style="text-align: center;"> <b>(مسلمانان پاکستان ! مہلت کہیں ختم نہ ہو جائے) </b> </p><p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Istahkaam-e-Pakistan/16/40111/40396/58664" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p></span>

Open
articleUrdu0 min

Insani Shaksiyat ke 2 Rukh hain

25845

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br>ایک علم‘ دوسرے عمل۔اسلام میں علم صحیح کا مظہراَتم ’’ایمان‘‘ ہے جبکہ عمل صحیح کی اساس ’’ تصور فرائض‘‘ پر قائم ہے۔ایمان انسان کو علم حقیقت ہی عطا نہیں فرماتا ‘صحیح محرک عمل بھی دیتا ہے۔ اس اعتبار سے اوّلین اہمیت اسی کی ہے۔ چنانچہ ایمان کی ماہیت‘ اس کی تفاصیل‘ اس کے درجات‘ اس کے حصول کے ذرائع اور اس کے لوازم و ثمرات اہم ترین موضوعات ہیں <p style="text-align: center;"> <b>(تعارف تنظیم اسلامی) </b> </p><p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Taaruf_e_Tanzeem_e_Islami/18/58/189/35667" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p></span>

Open
articleUrdu0 min

Fahm-e-Quran ke 2 Darje hain

25844

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br> ایک ہے تذکر ّبالقرآن اور دوسرا ہے تدبر ّبالقرآن۔ تذکر بالقرآن یہ ہے کہ قرآن مجید کی کسی آیت یا سورۃ سے اس کا اصل سبق اخذ کر لیا جائے۔ اس پہلو سے قرآن مجید ایک بہت آسان اور کھلی کتاب ہے۔ قرآن مجید خود دعویٰ کرتا ہے : امت<span class="Font_AlMushaf">{وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿﴾} (القمر) </span>’’ہم نے قرآن کو تذکّر (نصیحت اور یاد دہانی)کے لیے آسان کر دیا ہے تو ہے کوئی جو اِس سے نصیحت اخذ کرنا چاہے؟‘‘ تدبّر کے معنی غور و فکر کے ہیں۔ یعنی قرآن حکیم کے ایک ایک لفظ میں غوطہ زنی کرنا اور لغت و بیان کے ہر ہر پہلو کو مدّ نظر رکھتے ہوئے غور و فکر کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنا۔ اس اعتبار سے حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کی گہرائیاں اتھاہ ہیں۔ اس پر غور و فکر کا حق ادا کرنا کسی انسان کے بس میں نہیں۔ پوری پوری زندگیاں کھپانے کے باوجود کوئی انسان کبھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے اس قرآن کی گہرائیوں کو ناپ لیا ہے۔<p style="text-align: center;"> <b>(نجات کی راہ) </b> </p><p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Nijaat_ki_Raah_Dars1/19/80/298/25599" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p></span>

Open
articleUrdu0 min

Qurbani ki Asal Rooh

Qurbani ki Asal Rooh

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br> ہر چیز کا ایک ظاہر ہوتا ہے اور ایک باطن مثلا نماز کا ایک ظاہر ہے یعنی قیام ہے، رکوع ہے، سجود ہے، قعدہ ہے۔ یہ ایک خول اور ڈھانچہ ہے۔ اس کا ایک باطن ہے یعنی تو جہ اور رجوع الی اللہ خشوع و خضوع، بارگاہِ رب میں حضوری کا شعور و ادراک، انابت، محبت الہٰی……. نماز کی اصل روح اور جان تو یہی چیزیں ہیں۔ اس طرح جانور کو ذبح کرنا اور قربانی دینا ایک ظاہری عمل ہے۔ یہ ایک قول ہے۔ اس کا ایک باطن بھی ہے اور وہ " تقوی" ہے۔ چنانچہ قرآن حکیم کی سورۃ الحج میں قربانی کے حکم کے ساتھ ( آیت : 37 میں) متنبہ کر دیا گیا کہ: ’’اللہ تک نہیں پہنچتا ان قربانیوں کا گوشت اور ان کا خون ،ہاں اس تک رسائی ہے تمہارے تقوی کی۔‘‘ <br>اگر تقوی اور روح تقوی موجود نہیں، اگر یہ ارادہ اور عزم نہیں کہ ہم اللہ کی رضا کے لیے مالی و جانی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں تو اللہ کے ہاں کچھ بھی نہیں پہنچے گا۔ یعنی ہمارے نامہ اعمال میں کسی اجر و ثواب کا اندراج نہیں ہو گا۔ گوشت ہم کھا لیں گئے کچھ دوست احباب کو بھیج دیں گے، کچھ غرباءکھانے کو لے جائیں گے، کھالیں بھی کوئی جماعت یا دار العلوم والے لے جائیں گے۔ لیکن اللہ تک کچھ نہیں پہنچے گا ،اگر وہ روح موجود نہیں ہے…….. روح کیا ہے ؟ وہ تو امتحان آزمائش اور ابتلا ء ہے اور اس میں کامیابی کاوہ تسلسل ہے جس سے سیدنا حضرت ابراہیمؑ کی پوری زندگی عبارت ہے۔<br> ہمارے لیے لمحہ فکر یہ ہے کہ ہم سوچیں غور کریں اور اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ کیا واقعتا ہم اللہ کی راہ میں اپنے جذبات و احساسات کی قربانی دے سکتے ہیں؟ کیا واقعتا ہم اللہ کے دین کی خاطر اپنے وقت کا ایثار کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے ذاتی مفادات کو اللہ اور اس کے دین کے لیے قربان کر سکتے ہیں؟ اپنے علائق دنیوی اپنے رشتے اور اپنی محبتیں اللہ کے دین کی خاطر قربان کر سکتے ہیں؟ اگر ہم یہ سب کر سکتے ہیں تو عیدالاضحی کے موقع پر یہ قربانی بھی نورعلی نور ہے ……..اور اگر ہم اللہ کے دین کے لیے کوئی ایثار کرنے کے لیے تیار نہیں تو جانوروں کی یہ قربانی ایک خول اور ڈھانچہ ہے جس میں کوئی روح نہیں ۔ بقول علامہ اقبال مرحوم<br><p style="text-align: center;">رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی<br> فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی!<br></p></span>

Open
articleUrdu0 min

Khususi Mansab, Khususi Taqazay

Khususi Mansab, Khususi Taqazay

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br>اقامت دین کا کام در حقیقت ایک انقلابی جدو جہد (Revolutionary Struggle) کا متقاضی ہے۔ ایک قائم شدہ نظام کو بیخ و بُن سے اکھاڑ کر اس کی جگہ ایک صالح نظام کو قائم کرنے کے تقاضے بالکل مختلف ہوتے ہیں ۔ یہ انقلاب صرف دعوت وتبلیغ اور وعظ ونصیحت سے نہیں آتا ۔ اگر چہ اس میں بھی آغاز دعوت وتبلیغ اور وعظ ونصیحت ہی سے ہوگا اور اس میں تذکیربھی ہوگی، تبشیربھی اور انذاربھی ہوگا، لیکن اس کا ہدف یہ ہوگا کہ ان تمام کاموں کے نتیجہ میں ایک انقلابی جمعیت فراہم کی جاۓ ، اسے منظم کیا جاۓ ، اس کی تربیت کی جاۓ اور اس میں وہ تمام ضروری اوصاف پیدا کئے جائیں جوکسی انقلابی جماعت کے لیے لازم اور ناگزیر ہیں۔۔۔۔ اور جب اس جمعیت میں مطلوبہ نظم اور ڈسپلن پیدا ہو جائے تو پھر اسے نظام باطل سے ٹکرادیا جائے ۔ بقول علامہ اقبال ؒ<br><p style="text-align: center;">بانشۂ درویشی در ساز دمادم زن<br>!چوں پختہ شوی خود را بر سلطنت جم زن!<br><br> <b> (منہج انقلاب نبویﷺ) </b> </p></span><br><p style="text-align: center;"> <a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Manhaj_e_Inqilaab_e_Nabwi_s.a.w/14/73/229/3852" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p>

Open
articleUrdu0 min

Sab Say Bari Kamyabi

Sab Say Bari Kamyabi

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br>“حقیقت یہ ہے کہ اللہ نےخر یدلی ہیں مسلمانوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے۔ وہ لڑ تے ہیں اللہ کی راہ میں، پر قتل کرتے بھی ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں ۔ یہ وعدہ ہو چکا اللہ کے ذمہ سچا تو رات، انجیل اور قرآن میں اور کون ہے جو اپنے وعدے کا پورا کرنے والا ہواللہ سے بڑھ کر؟ پس خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے اس سے کیا ہے ،اور یہی ہے بڑی کامیابی ۔” (التوبہ :111)<br> یہ آیت قرآن مجید کی اہم ترین آیات میں سے ایک ہے ،بدقسمتی سے آج ہماری زندگیوں میں اس آیت کی وہ اہمیت نہیں رہی جو صحابہ کرام ؓجن کی زندگیوں میں اس کو حاصل تھی ۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ مومن اور اللہ تعالی کے درمیان ایک خرید وفروخت کا معاملہ ہوتا ہے۔ ایمان لانے کا مطلب ہی یہ ہے کہ ایک شخص اپنے آپ کو، اپنی صلاحیتوں اور اوقات کو، اپنے وسائل اور اموال کو اللہ تعالی کے راستے میں کھپا دینے کے لیے آمادہ ہے ،اور ان تمام قربانیوں کے عوض اس سے موت کے بعد کی زندگی میں جنت کا وعدہ کیا جا تا ہے ۔ یہ وہ سوداہے جو مومن اور اللہ تعالی کے مابین انجام پاتا ہے۔ اس سودے کے نتیجے میں اہل ایمان اللہ کے راستے میں جنگ کرتے ہیں تا کہ اللہ کے دین کا بول بالا ہو۔ اس جنگ میں وہ اللہ کے دشمنوں کو بھی قتل کرتے ہیں اور خود بھی قتل ہوتے ہیں۔ <br>یہ وعد ہ اللہ نے کیا ہے اور وہ لازماً اسے پورا کرے گا۔ اس نے یہ وعدہ تین مرتبہ کیا ہے، تو رات میں انجیل میں اور پھر قرآن مجید میں ۔ اور اللہ سے زیادہ اپنے قول کا سچا اور وعدے کا پورا کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے؟ لہذا اس سودے پر جوتم نے اللہ تعالی کے ساتھ کیا ہے خوشیاں مناؤ۔ تم سے جو کچھ قربان کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے وہ نہایت حقیر شے ہے اور جس کا وعدہ کیا جا رہا ہےوہ ابدی راحت ہے۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے جو کسی انسان کو حاصل ہو سکتی ہے۔<br><p style="text-align: center;"><b>(ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کی تحریر ’’اسلامی نظم جماعت میں بیعت کی اہمیت سے اقتباس‘‘)۔ </span><br></p></b> <br> <p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Islami_Nazm-e-Jamat_Mein_Bait_Ki_Ahmiat/12/40/152/1427" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p>

Open
articleUrdu0 min

Nafs kay Khilaf Jihad

25808

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br>ہمارا دل ہمارے جسم کے اندر ہے اور اس جسم کے کچھ حیوانی تقاضے (Animal Instincts)ہیں، نفس امارہ بھی ہمارے ساتھ لگا ہوا ہے۔ خواہشات بھی ہیں، شہوات بھی ہیں۔ اب جو نہی ایمان دل میں داخل ہوا تو کشائش شروع ہو گئی۔ ایمان کا تقاضا اور مطالبہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺکی بات مانو۔ دوسری طرف نفس کہہ رہا ہے کہ نہیں بلکہ میری مانو۔ میری خواہشات و شہوات پوری کرو۔ چنا نچہ اب یہ کشائش اور رسہ کشی شروع ہو گئی۔<br><p style="text-align: center;">ایماں مجھے روکے ہےتو کھنچے ہے مجھے کفر<br>کعبہ میرے پیچھے ہے، کلیسا میرے آگے!<br></p>یہی سب سے اہم ، مرکزی اور بنیادی جہاد ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ اندر ایمان تو داخل ہو لیکن اس طرح کی جنگ اور کشاکش شروع نہ ہو۔ یا پھر وہ ایمان ،حقیقی ایمان نہیں بلکہ مجرود دعوائے ایمان ہے، بالفاظ دیگر ایمان کا خلا ہے۔ کیونکہ جو نہی دل میں حقیقی ایمان آئے گا نفس امارہ خواہشات اور شہوات کے خلاف جنگ شروع ہو جائے گی، ان کے ساتھ تصادم ہوگا۔ نتیجتاً یا ایمان کامیاب ہوگا یا پھرحیوانی داعیات (Animal Instincts) کامیاب ہوں گے۔ یہ جہاد کی اولین منزل ہے۔ اسی لیے اس کو اصل جہاد کہا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:<p style="text-align: center;"><span class="Font_AlMushaf">والمجاھد من جاھد نفسہ فی طاعۃ اللہ. (مشکوہ)</span><br>اور سچا مجاہد وہ ہے جس نے اللہ کی رضا کی خاطر اپنے نفس کے خلاف جہاد کیا۔<br><b>(حقیقتِ ایمان)</b> <br><br><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Haqeeqat-e-Iman/15/50121/50463/69935" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a> </span>

Open
articleUrdu0 min

Waqt ki Eham Tareen Zarorat

Waqt ki Eham Tareen Zarorat

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br>آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ طریق انقلاب واضح ہو جائے۔ آج مسلمانوں میں ـجذبے کی کمی نہیں ہے۔ ہزاروں لوگ جانیں دے رہے ہیں۔ اپنے جسموں سے بم باندھ کر اپنے جسموں کو اڑا رہے ہیں ۔ کشمیر کے اندر جو جذبہ ابھرا اسے پوری دنیا نے دیکھ لیا۔ کشمیریوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ تو لڑنے والی قوم ہے ہی نہیں ‘اب اس کے اندر جان پیدا ہو چکی ہے۔ پاکستان سے جا کر کتنے لوگوں نے وہاں پر جامِ شہادت نوش کر لیا۔ لیکن اسلامی انقلاب کا طریق کار یہ نہیں ہے۔ اس سے کہیں کامیابی نہیں ہو گی۔ اس طریقے سے آپ صرف اپنا غصہ نکال سکتے ہیں ۔ آپ نے جا کر افریقہ میں امریکہ کے دو سفارت خانوں کو بم سے اڑا دیا ‘اس سے امریکی تو دس پندرہ مرے‘ جبکہ ۲۰۰ وہاں کے لوکل افریقی مر گئے۔ فائدہ کیا ہوا؟ بس یہی کہ آپ نے اپنا غصہ نکال لیا۔ تو ان طریقوں سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ الیکشن سے بھی کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ اس طرح اسلامی انقلاب کا خواب کبھی شرمندئہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ آپ کا خلوص اپنی جگہ‘ لیکن یہ طریقہ غلط ہے ۔ اسلامی انقلاب کے لئے طریقہ محمدیؐ اختیار کرنا ہو گا۔ کیا حضورﷺ عرب میں الیکشن کے ذریعے سے کامیاب ہو سکتے تھے؟ قرآن تو کہتا ہے <span class="Font_AlMushaf">(وَ اِنۡ تُطِعۡ اَکۡثَرَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ یُضِلُّوۡکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ) </span> الانعام:116’’اگر تم زمین میں رہنے والوں کی اکثریت کی پیروی کرو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے گمراہ کر کے چھوڑیں گے‘‘۔ الیکشن میں تو صرف اکثریت اقلیت کا مسئلہ ہے۔ میں اس سے بھی بڑھ کر کہتا ہوں‘ کیا آیت اللہ خمینی الیکشن کے ذریعے ایران میں برسرِاقتدارآ سکتے تھے؟ قطعاًناممکن!خد اکے لئے اپنے آپ کو دھوکہ دینا چھوڑ دو۔ آج پوری امت عذابِ الٰہی سے صرف اس صورت میں نکل سکتی ہے کہ کم از کم کسی ایک ملک میں اللہ کے دین کو قائم کر کے پوری دنیا کو دعوت دے سکے کہ آؤ دیکھو ‘ یہ ہے اسلام! اس کی برکتیں دیکھو اس کی سعادتیں دیکھو یہاں کی مساوات اور یہاں کا بھائی چارہ دیکھو یہاں کی آزادی دیکھو یہاں کا امن و امان دیکھو!! اگر ہم یہ نہ کر سکے تو پھر اللہ کا عذاب سخت سے سخت تر ہو گا۔<p style="text-align: center;"> <b>(رسول انقلاب کا طریق انقلاب) </b> </p><p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Dr._Israr_Ahemd_and_Tanzeem_Islami/18/60126/60530/81920" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p></span>

Open
articleUrdu0 min

Takzeeb-e-Hali

Takzeem-e-Hali

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br><p style="text-align: center;"><span class="Font_AlMushaf">بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ؕ سورۃ الجمعہ 5</span><br>’’بری ہے مثال اُس قوم کی جنہوں نے آیاتِ الٰہی کو جھٹلایا‘‘</p>یہاں لفظ ’’تکذیب‘‘بڑی اہمیت کا حامل ہے. تکذیب قول سے بھی ہو سکتی ہے اور عمل سے بھی. یعنی تکذیب باللسان بھی ہو سکتی ہے اور بالحال بھی. یہ بھی تکذیب ہی کی ایک صورت ہوتی اگر بنی اسرائیل زبان سے صاف کہہ دیتے کہ تورات اللہ کی کتاب نہیں ہے‘ لیکن تاریخ کی گواہی یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے اس معنی میں تورات کی تکذیب کبھی نہیں کی. ہاں تکذیب عملی کے وہ ضرور مرتکب ہوئے. وہ تکذیب عملی کہ جس کا نقشہ بدقسمتی سے آج اُمت مسلمہ پیش کر رہی ہے کہ بجائے قرآن کو اپنا پیشوا‘ رہنما اور مشعل راہ بنانے کے اُمت کی عظیم اکثریت نے اسے طاقِ نسیاں پر رکھ چھوڑا ہے. قرآن نے اس طرزِ عمل کو تکذیب کے لفظ سے موسوم کیا ہے : <span class="Font_AlMushaf">بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ؕ </span>یہ اللہ کی آیات کی تکذیب نہیں تو اور کیا ہے! زبان سے چاہے قرآن مجید پر کتنا ہی ایمان کا دعویٰ کیا جائے‘اگر قرآن مجید کو ہم نے اپنا امام نہیں بنایا‘ قرآن مجید کی رہنمائی کو عملاً اختیار نہیں کیا‘ قرآن مجید کے عطا کردہ ضابطے اور قانون کو نافذ نہیں کیا‘ اس کی تعلیمات کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو استوار نہیں کیا تو گویا کہ اپنے عمل سے ہم قرآن کی تکذیب کر رہے ہیں. یہ تکذیب حالی ہے.<br><p style="text-align: center;"> <b>(انقلاب نبوی ﷺ کا اساسی منہاج)<b> </span>

Open
articleUrdu0 min

Response to Saleem Safi Article

روزنامہ جنگ کے کالم نگارسلیم صافی کے کالم “ایک تجویز“ کا جواب

روزنامہ جنگ کے کالم نگارسلیم صافی کے کالم “ایک تجویز“ کا جواب

Open