love of the world.

28238

Description

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 46)۔ </span><br> <p> آخرت اور قیامت کے انکار کا ایک بڑا سبب دُنیا کی حد سے بڑھی ہوئی محبت ہے۔چنانچہ ارشاد ہوا :</p> <p><span class="Font_AlMushaf"> ﴿کَلَّا بَلْ تُحِبُّوۡنَ الْعَاجِلَۃَ ﴿۲۰﴾ وَ تَذَرُوۡنَ الْاٰخِرَۃَ ﴿۲۱﴾﴾(القیامہ) </p></span> <p>’’ہر گز نہیں! بلکہ تم لوگ دنیا سے محبت رکھتے ہوا اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو!‘‘ </P> یعنی تمہاری گمراہی کا اصل سبب یہ ہے کہ تم عاجلہ کی محبت میں گرفتار ہو،اور اس کے پرستار بن گئے ہو۔لفظ ’’عاجلہ‘‘ عجلت سے بنا ہے،اس سے مراد ’’دنیا‘‘ ہے۔اس لیے کہ اس کا نفع بھی فوری اور نعقد ہے اور نقصان بھی فوری اور نعقد۔اس کی لذتیں بھی بالفعل محسوس ہوتی ہیں اور اس کی کلفتیں بھی فوری اثر کرنے والی ہوتی ہیں۔تم اس عاجلہ سے دل لگائے ہوئے ہو اور آخرت کی زندگی کو نظر انداز اور فراموش کئے ہوئے ہو ۔یہاں عاجلہ کا لفظ استعمال کرکے اس حقیقت کی جانب توجہ مبذول کرادی گئی کہ اس دُنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ فوری لذتوں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور فوری آسائشوں کو قربان نہیں کرسکتے،وہ آگے نہیں بڑھ سکتے۔اس کے برعکس جنہیں آگے بڑھنا ہوتا ہے اور جو دُور بین ہوتے ہیں،وہ فوری راحت و آرام کو تج دیتے ہیں اور سخت محنت کرتے ہیں یہاں تک کہ راتوں کو جاگتے ہیں تاکہ اپنے دُنیوی کیریئر کو روشن بناسکیں۔بالکل اسی طرح جو لوگ دُنیا کی فوری لذت اور عیش و راحت کو قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے،جو اس عاجلہ (دنیا) کی محبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور اس عروسِ ہزار داماد کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوکر رہ جاتے ہیں،جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ آخرت سے غافل رہتے ہیں اور اللہ کی جانب میں محاسبہ کے لیے کھڑے ہونے کو فراموش کردیتے ہیں،وہ اُخروی زندگی میں لامحالہ ناکام اور خائب و خاسر ہوکر رہیں گے۔لیکن افسوس کہ انسان مختصرسی حیاتِ دُنیوی میں تو مستقبل سے غافل نہیں ہوتا،لیکن آخرت کی ابدی زندگی سے غافل رہتا ہے۔ <p style="text-align: center;"> ڈاکٹر اسرار احمد ؒ ( قرآن کریم کا منتخب نصاب )

Related Content

articleUrdu2 min

Messaq (May 2026)

میثاق (مئی 2026)

عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔

articleUrdu0 min

Nida-e-Khilafat (April 28 2026)

ندائے خلافت (28 اپریل 2026)

مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)