Description
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 45)۔ </span><br> <p> ’’آج مسلمان ایک دانشمندانہ اور حقیقت پسندانہ دینی قیادت کے محتاج ہیں۔اگر آپ مسلمانوں کو سو فیصد ’’تہجد گزار‘‘بنادیں‘ سب کو متقی و پرہیز گار بنادیں‘ لیکن اُن کا ماحول سے کوئی تعلق نہ ہو‘ وہ یہ نہ جانتے ہوں کہ ملک ڈوب رہا ہے‘ اُس میں بد اخلاقی ‘ وبا اور طوفان کی طرح پھیل رہی ہے ‘سچے مسلمانوں سے نفرت عام کی جارہی ہے‘ تو تاریخ کی شہادت ہے کہ پھر تہجد تو تہجد‘ ’’پانچ وقتوں کی نمازوں‘‘ کا پڑھنا بھی مشکل ہوجائے گا۔اگر آپ نے دینداروں کے لیے اس ماحول میں سے کوئی جگہ نہ بنائی‘اور ان کو ملک کا بے لوث مخلص اور شائستہ شہری ثابت نہیں کیا‘ جو ملک کو بے راہ روی سے بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتا ہے‘ اور ایک بلند کردار پیش کرتا ہے‘ تو یاد رکھٔے کہ ’’عبادات و نوافل‘‘ اور دین کی علامتیں اور شعائر تو الگ رہے‘وہ وقت بھی آسکتا ہے کہ مسجدوں کا باقی رہنا بھی مشکل ہو جائے۔اگر آپ نے مسلمانوں کو اجنبی بنا کر اور ماحول سے کاٹ کر رکھا ‘ زندگی کے حقائق سے اُن کی آنکھیں بند رہیں اور ملک میں ہونے والے انقلابات‘ ’’نئے نئے قوانین‘‘ اور عوام کے دل و دماغ پر حکومت کرنے والے رجحانات سے وہ بے خبر رہے تو پھر قیادت تو الگ رہی جو خیر امۃ کا فرضِ منصبی ہے‘ اپنے وجود کی حفاظت بھی مشکل ہوجائے گی۔</p> یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اُن کا مذہبی صحیفہ قرآن اور ان کے پیغمبر ﷺ کی تعلیم (جو خدا کا شکر ہے اپنے اندر بے پناہ طاقت رکھتی ہے)اُن کو نہ صرف اس عام بگاڑ‘ اس سے پھیلی ہوئی آگ اور دولت کی آندھی پرستش کے اس بہتے ہوئے گندے پانی سے بچنے کی تلقین کرتی ہے‘ بلکہ اُن پر اس کو روکنے اور اس سے لوگوں کو بچانے کی ذِمّہ داری بھی عائد کرتی ہے۔ان کو ان کے پیغمبر ﷺ نے صاف طریقہ پر سمجھادیا ہے اگر کشتی کے کسی بھی سوار کو ایسی حرکت سے باز رکھنے کی کوشش نہ کی گئی‘ جس سے یہ کشتی خطرے میں پڑجاتی ہے تو پھر کشتی کے ڈوبنے کی صورت میں کوئی سوار بھی بچ نہ سکے گا‘ کیونکہ یہ کشتی نیک و بد‘ قصور وار اور بے قصور‘ سوتے جاگتے سب کے ساتھ ڈوب جائے گی اور پھر کوئی نیکی اور کوئی دانائی کام نہ آئے گی۔‘‘ <p style="text-align: center;"> سید ابو الحسن علی ندویؒ (کاروانِ زندگی (جلد دوم))
Related Content
Messaq (May 2026)
میثاق (مئی 2026)
عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔
Nida-e-Khilafat (April 28 2026)
ندائے خلافت (28 اپریل 2026)
مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔
Faith is a complete way of life.
29178
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)