Hayat-e-Ibrahimi A.S. : Imtahan-o-Azmaesh ki Misal-e-Kamil
26020
26020
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br> اس امتحان کی جو کامل و مکمل مثال قرآن مجید پیش کرتا ہے وہ حضرت ابراہیم(علیٰ نبینا و علیہ السلام) کی زندگی ہے۔ چنانچہ سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۲۴ کا آغاز ان الفاظ میں ہوتا ہے تذکر ّبالقرآن اور دوسرا ہے تدبر ّبالقرآن۔: <span class="Font_AlMushaf">{وَ اِذِ ابۡتَلٰۤی اِبۡرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ ؕ} </span>’’اور یاد کرو کہ جب آزمایا ابراہیم کو اس کے رب نے بڑی بڑی باتو ں میں تو وہ ان سب میں پورا تر گیا‘‘ یہاں لفظ ابتلاء آگیا ۔ اس کے معنی ہیں کسی کو آزمانا ، امتحان و آزائش میں ڈالنا ----- یہاں لفظ <span class="Font_AlMushaf">’’بِکَلِمٰتٍ ‘‘</span> میں تنوین تنکیر کے لیے آئی ہے ، یعنی اس نے اس کو نکرہ بنا دیا ہے،اور تنکیر عربی زبان میں تفخیم کے لیے یعنی کسی چیز کی عظمت و شان کو بیان کرنے کے لیے آتی ہے۔ چنانچہ<span class="Font_AlMushaf">’’بِکَلِمٰتٍ ‘‘</span> میں بڑے بڑے اور کٹھن امتحا نات کا مفہوم شامل ہو گیا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے اس رب نے بڑے سخت اور مشکل امتحانات لیے ، لیکن اس اللہ کے بندے نے سب کو پورا کر دیکھایا۔ <span class="Font_AlMushaf">’’فَاَتَمَّہُنَّ ‘‘</span> اس کی قوّتِ ارادی میں کہیں ضعف و تا ٔمل پیدا نہیں ہوا ، اس کی عزیمت میں کمزوری اور تذبذب کے کہیں آثار ہو یدا نہیں ہوۓ۔<br>جب حضرت ابراہیم ؑ ان امتحانات کو پاس کر گئے تو ان کو یہ بشارت دی گئی <br><span class="Font_AlMushaf">قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ؕ </span>ؕ(اللہ تعالیٰ نے ) کہا (اے ابراہیمؑ)ےیقیناََ میں تجھے پورے نوعِ انسانی کا امام بنانے والا ہوں۔‘‘ حضرت ابراہیمؑ نے بر بناۓ طبعِ بشری فوراَ َ سوال کیا: <span class="Font_AlMushaf">قَالَ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ؕ </span> عرض کیا: اے اللہ! یہ وعدہ صرف مجھ سے ہی ہے یا میری نسل سے بھی ہے؟<span class="Font_AlMushaf">قَالَ لَا یَنَالُ عَہۡدِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۲۴﴾ </span>’’ فرمایا : میرا یہ عہد ظالموں ک ساتھ نہیں ہو گا‘‘۔ تمہاری نسل میں سے جو ظالم ہو گے وہ اس وعدے کے مستحق نہیں ہوں گے----- ’’ ظلم‘‘ کے متعلق ہمارے اکثر دروس میں ذکر ہو چکا ہے کہ قرآن کریم میں اکثر و بیشتر ’’ظلم‘‘ کے الفاظ سے شرک مراد ہوتا ہے----- تمہارا اصل کمال یہ ہے کہ تم نے توحید کی ترازو میں پورا اتر کر دکھا یا ۔ اس کی وجہ سے تم <span class="Font_AlMushaf">’’امام النّاس ‘‘ </span>کے مقام پر فائز کئے جا رہے ہو۔ اب تمہاری نسل میں سے جو لوگ مشرک ہو جائیں گے تو وہ میرے اس عہدکے حق دار کیسے ہو سکتے ہیں ؟ اس مفہوم کو بھی علامہ اقبال مرحوم نے بڑے سادہ الفاظ میں ادا کیا ہے ؎:<p style="text-align: center;"> باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو<br> پھر پسر لائق میراثِ پدر کیونکر ہو؟<br> <br> <b>عید الاضحٰی اور فلسفہ قربانی ( ڈاکٹر اسرار احمد ؒ) </b> </p><p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Eid_ul_Azhaa_aur_falsafa_e_qurbani/15/40112/40419/58860" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p></span>
29178
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)
29177
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 15)۔ </span><br> دین اسلام کی فطرت ایک بنیادی اور اصلی حقیقت پیشِ نظر رکھتی ہے۔وہ یہ کہ انسانی زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کا بھی اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ مطلقہ کے سامنے جھکناواجب ہے۔یہ حاکمیت مطلقہ اس کی شریعت میں متمثل ہوتی ہے۔زندگی کا جو جزو بھی اس سے باہر ہوگا، اس حد تک زندگی کو اللہ کے دین سے بغاوت و خروج سمجھا جائے گا۔اور اس سے یہ بات از خود لازم آجاتی ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی جزو بھی بشری حاکمیت کے تابع نہ رہے۔بشری حاکمیت سے پوری خلاصی حاصل کی جائے۔جس بشر کو جس حد تک تحلیل و تحریم کا اختیار سونپا جائے گا وہ اُسی حد تک سونپنے والوں کا ’’خدا‘‘ ہوگا۔وہ خود بھی۔۔۔اگر زندہ ہو اور برضاءورغبت،بالجبر و اکراہ ایسا کرے۔۔۔باغی ہے۔اور اُسے یہ اختیار دینے والے بھی اللہ کی حاکمیت کے باغی ہیں۔کائنات کا الٰہ فقط ایک اللہ واحد ہُ ہے۔ <p style="text-align: center;">سید قطب شہید ؒ (تفسیر فی ظلال القرآن)
29176
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 14)۔ </span><br> <p> ایک ایسی شخصی زندگی جو ہر طائفہ انسانی اور ہر حالت انسانی کے مختلف مظاہر اور ہر قسم کے صحیح جذبات اور کامل اخلاق کا مجموعہ ہو،صرف محمد رسول ﷺ کی سیرت ہے۔اگر دولت مند ہو تو مکے کے تاجر اور بحرین کے خزینہ دار کی تقلید کرو،بادشاہ ہو تو سلطانِ عرب کا حال پڑھو،اگر فاتح ہو تو بدر و حنین کے سپہ سالار پر ایک نظر ڈالو،اگر استاد اور معلم ہو تو صفہ کی درسگاہ کے معلم قدس کو دیکھو،اگر واعظ اور ناصح ہو تو مسجد مدینہ کے منبر پر کھڑے ہونے والے کی باتیں سنو،اگر تنہائی و بے کسی کے عالم میں حق کی منادی کا فریضہ انجام دینا چاہتے ہو تو مکے کے الصادق و الامین نبی ﷺ کا اسوۂ حسنہ تمہارے سامنے ہے۔اگر تم حق کی نصرت کے بعد اپنے دشمنوں کو زیر اور مخالفوں کو کمزوربنا چکے ہو،تو فاتح مکہ کا نظارہ کرو۔اگر یتیم ہو تو عبد اللہ و آمنہ کے جگر گوشے کو نہ بھولو،اگر عدالت کے قاضی اور پنجایت کے ثالث ہو تو کعبے میں طلوعِ آفتاب سے پہلے داخل ہونے والے ثالث کو دیکھو جو حجر اسود کو کعبے کے ایک گوشے میں کھڑا کررہا ہے،مدینے کی کچی مسجد کے صحن میں بیٹھنے والے منصف کو دیکھو،جس کی نظرِ انصاف میں شاہ و گدااور امیر و غریب برابر تھے، اگر تم بیویوں کے شوہر ہو تو خدیجہ اور عائشہk کے مقدس شوہر کی حیاتِ پاک کا مطالعہ کرو،اگراولاد والے ہوتو فاطمہk کے والد اور حسن و حسین i کے نانا کا حال پوچھو۔غرض تم جو کوئی بھی ہو،کسی حال میں بھی ہو تمہاری زندگی کے لیے نمونہ،تمہاری سیرت کی درستی اور اصلاح کے لیے سامان ،تمہارے ظلمت خانے کے لیے ہدایت کا چراغ اور رہنمائی کا نور محمد رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے خزانے میں ہر وقت اور ہمہ دم مل سکتا ہے۔صلی اللہ علیہ والہ وصحبہ وبارک و سلم! </p> <p style="text-align: center;">سید سلیمان ندوی ؒ (خطباتِ سیرت)