Wilayat-e-Anbiya aur Wilayat-e-Auliya
The Jurisdiction and Authority,Guardianship of the Messenger's of Allah and Guardianship of the Saints of Allah.
The Jurisdiction and Authority,Guardianship of the Messenger's of Allah and Guardianship of the Saints of Allah.
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 42)۔ </span><br> <p> سید احمد شہیدؒ نے ولایتِ انبیاء اور ولایتِ اولیاء کی تشریح پوچھی تو شاہ اسمٰعیل شہیدؒ نے فرما یا کہ جس شخص کو ولایتِ اولیا ء عطا ہوتی ہے،وہ دن رات ریاضت و مجاہدات،صوم و صلوٰۃ اور کثرتِ نوافل میں مشغول رہتا ہے،لوگوں کی صحبت پسند نہیں کرتا۔چاہتا ہے کہ گوشئہ تنہائی میں خدا کی یاد سے لذت اندوز ہوتا رہے۔اُسے فاسقوں اور فاجروں کو نصحیت سے کوئی سرو کار نہیں ہوتا ،صوفیاء کی اصطلاح میں اسے ’’قرب بالنوافل‘‘کہتے ہیں۔</p> <p>ولایتِ انبیاء کا درجہ جس خوش نصیب کو مرحمت ہو،اُس کے دل میں محبتِ الٰہی اِس طرح سما جاتی ہے کہ اس کے سوا کسی چیز کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔وہ ہر وقت بندگانِ خدا کو نیکی کی راہ پر لگانے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔مرضیات باری تعالیٰ کے کسی کام میں دنیا داروں کے طعن کی پروا نہیں کرتا۔وہ توحید کی اشاعت میں بے خوف اور سننِ رسول پاک ﷺ کے احیاء میں بے باک ہوتا ہے۔ضرورت پیش آئے تو مخالفوں کے ساتھ مجاہدات میں مال و جان قربان کرنے میں متامل نہیں ہوتا۔وہ للہ فی اللہ تمام محفلوں اورمجلسوں میں جاتا ہے،سب کو وعظ و نصیحت سناتا ہے۔اس کارِ خیر میں جو تکلیفیں اور اذیتیں پیش آئیں اُن پر صبر کرتا ہے۔اس اصطلاح میں ’’قرب بالفرائض‘‘ کہتے ہیں۔</P> <p style="text-align: center;"> تحریکِ شہیدین جلد اوّل ( مولانا غلام رسول مہر ؒ )
میثاق (مئی 2026)
عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔
ندائے خلافت (28 اپریل 2026)
مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔
29178
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)