Commitment to the Jamaat and Inactive Members

27822

Description

<span style="color: black;"><span style="font-size: 25px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 01)۔ <p style="text-align: justify;"> ”یہ سرد مہری جس کا اظہار اس اجتماع کے موقع پر ہوا ہے،کوئی اتفاق چیز نہیں ہے جو اس وقت رونما ہوئی ہے۔ مجھے معلام ہوا ہے کہ متعدو مقامات پر ہماری جماعت کے بعض یا اکثر ارکان ہفتہ وار اجتماعات میں شریک نہیں ہوتے یا شریک ہوتے ہیں تو التزام کے ساتھ نہیں بلکہ’’ گنڈے دار طریقے ‘‘ سے جب دنیا کی کوئی چھوٹی بڑی مشغولیت انہیں نہ ہوئی اور تفریح کو بھی جی چاہا تو مقامی جماعت کے اجتماع میں آگئے۔بعض مقامات پر ہفتہ وار اجتماع کا قاعدہ ہی سرے سے منسوخ کردیا گیا اور بہت سے ارکان ایسے بھی ہیں جو جماعت میں داخل ہوئے اور جان بوجھ کر خدا سے عہد غلامی تازہ کرنے کے بعد ویسے ہی ٹھنڈے،بے روح اور جامد و ساکن ہیں جیسے اس سے پہلے تھے۔نہ ان کی زندگی میں کوئی تغیر ہوا،نہ جاہلیت کے ماحول سے ان کی ٹھنی،نہ دعوت الی اللہ کے لیے ان میں کوئی سرگرمی پیدا ہوئی اور نہ ہمسفر رفیقوں کے ساتھ وابستگی اُن میں پائی گئی۔<p>ہم نے ابتدا میں جماعت قائم کرتے وقت بھی کہہ دیا تھا اور اس کے بعد بھی بار بار کہتے رہے ہیں کہ ہمیں کثرت تعداد کی نمائش کرنے کے لیے فضول بھرتی نہیں کرنی ہے۔ہمیں وہ فربہی مطلوب نہیں ہے جو جسم کو طاقتور بنانے کی بجائے الٹا بوجھل بنادے۔ہمیں صرف ان لوگوں کی ضرورت ہے جنہیں فی الواقع کچھ کرنا ہو اور جو کسی خارجی دباؤ سے نہیں بلکہ ایمان کے اندرونی تقاضے سے خدا کے دین کو قائم کرنے کی سعی کرنا چاہتے ہیں۔لیکن افسوس ہے کہ ان پے درپے تصریحات کے باوجود اس قسم کے لوگ ہمارے اس نظام میں بھی داخل ہوگئے جو اس سے پہلے محض مسلمانوں کے گروہ سے وابستہ ہونے کو ہی نجات کے لیے کا فی سمجھ لینے کے عادی رہے ہیں۔ان سے میں عرض کروں گا کہ اگر آپ کو یہی کچھ کرنا تھا تو اس غریب جماعت کو خراب کرنا کیا ضروری تھا۔آپ کو اگر فی الواقع اس نصب العین سے ہمدردی تھی جس کی خدمت کے لیے ہماری جماعت بنی ہے اور اس ہمدردی نے آپ کو ہم سے تعلق پیدا کرنے پر آمادہ کیا تھا ، تو آپ کی ہمدردی کا کم سے کم تقاضایہ ہونا چاہیے تھا کہ آپ اس جماعت کو خراب کرنے سے پرہیز کرتے اور وہ بیماریاں اسے نہ لگاتے جن کی وجہ سے مسلمان مدت ہائے درازسے کوئی صحیح کام نہیں کر سکے ہیں‘‘۔</p> <p style="text-align: center;"> <b> روداد جماعت اسلامی(حصہ دوم،ص:107،106)</b>

Related Content

articleUrdu2 min

Messaq (May 2026)

میثاق (مئی 2026)

عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔

articleUrdu0 min

Nida-e-Khilafat (April 28 2026)

ندائے خلافت (28 اپریل 2026)

مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)