The power of Faith and Belief.

ایمان و عقیدہ کی طاقت۔

Description

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 40)۔ </span><br> <p> جب ایمان کی حقیقت دل میں جا گزیں ہوجاتی ہے تو وہ اس عمل پر اُ کساتی ہے،تاکہ واقعاتی اور عملی زندگی میں اپنا فرض ادا کرے۔دنیا میں عقیدے کے عملی معجزات ماضی میں اور حال میں بہت سے ہوئے ہیں،اور مستقبل میں بھی ہوں گے۔ان معجزات نے دُنیا میں انقلاب برپاکئے ہیں۔دراصل عقیدہ انسان کی جان میں ایک عظیم قوت پیدا کردیتا ہے،اس قوت کے باعث نفسِ انسانی بڑے بڑے کارنامے انجام دینے کے قابل ہوجاتا ہے۔عقیدہ،فرد اور جماعت کو حیرت انگیز قربانیوں پر آمادہ کرتا ہے۔عقیدے کے زور سے دُنیا کی فانی زندگی آخرت کی باقی زندگی کی کامیابی میں بدل جاتی ہے۔عقیدہ انسان کی تمام قوتوں کی مجتمع کردیتا ہے،اس کو ہدف اور مقصد عطا کرتا ہے اور اس کے لیے قربانی کرنے کی اُمنگ پیدا کرتا ہے۔عقیدہ انسان کو حکومت،مال و دولت اور لوہے اور آگ کی قوتوں کے آگے کھڑا کردیتا ہے۔ایسا شخص باطل سے نہیں گھبراتا اور برائی کی قوتوں سے نہیں ڈرتا،خواہ وہ قوتیں کس قدر ہوں اور کتنی طاقت ور ہوں۔عقیدے کی طاقت ان تمام قوتوں کو شکست دے دیتی ہے اور اُن پر غالب آجاتی ہے۔یہ فتح ایک فانی فرد کی نہیں ہوتی بلکہ ایک باقی اور قائم و دائم عقیدے کی ہوتی ہے۔ <p style="text-align: center;"> فی ظلال القرآن (سید قطب شہیدؒ)

Related Content

articleUrdu2 min

Messaq (May 2026)

میثاق (مئی 2026)

عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔

articleUrdu0 min

Nida-e-Khilafat (April 28 2026)

ندائے خلافت (28 اپریل 2026)

مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)