The Sharia law was not revealed for the slaves of the world!
28170
28170
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 39)۔ </span><br> <p>یہ شریعت بزدلوں اور نامردوں کے لیے نہیں اُتری ہے،نفس کے بندوں اور دنیا کے غلاموں کے لیے نہیں اُتری ہے،ہوا کے رُخ پر اُڑنے والے خس وخاشاک،اور پانی کے بہاؤ پر بہنے والے حشرات الارض اور ہر رنگ میں رنگ جانے والے بے رنگوں کے لیے نہیں اُتری ہے۔یہ اُن بہادر شیروں کے لیے اُتری ہے جو ہوا کا رُخ بدل دینے کا عزم رکھتے ہوں،جو دریا کی روانی سے لڑنے اور اُس کے بہاؤکو پھیردینے کی ہمت رکھتے ہوں،جو’’صبغۃ اللہ‘‘کو دنیا کے ہر رنگ سے زیادہ محبوب رکھتےہوں اور اُسی رنگ میں تمام دنیا کو رنگ دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔مسلمان جس کانام ہے وہ دریا کے بہاؤ پر بہنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ہے۔اس کی آفرینش کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ زندگی کے دریا کو اُس راستہ پر رواں کردے جو اس کے ایمان و اعتقاد میں راہ راست ہے،صراطِ مستقیم ہے۔اگر دریا نے اپنا رُخ اس راستہ سے پھیردیا ہے تو اسلام کے دعوے میں وہ شخص چھوٹا ہے جو اس بدلے ہوئے رُخ پر بہنے کے لیے راضی ہوجائے۔حقیقت میں تو سچا مسلمان ہے،وہ اس غلط رو دریا کی رفتار سے لڑے گا،اس کا رُخ پھیر نے کی کوشش میں اپنی پوری قوت صرف کردے گا،کامیابی اور ناکامی کی اس کو قطعاً پروانہ ہوگی،وہ ہر اُس نقصان کو گوارا کرے گا جو اس لڑائی میں پہنچے یا پہنچ سکتا ہو حتیٰ کہ اگر دریاکی روانی سے لڑتے لڑتے اُس کے بازو ٹوٹ جائیں،اُس کے جوڑ بند ڈھیلے ہوجائیں،اور پانی کی موجیں اُس کو نیم جاں کرکے کسی کنارے پر پھینک دیں،تب بھی اُس کی روح ہر گز شکست نہ کھائے گی۔</p> <p style="text-align: center;"> مولانا سید مودودی (ماخذ’’اشارات‘‘)
میثاق (مئی 2026)
عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔
ندائے خلافت (28 اپریل 2026)
مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔
29178
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)