The complaint of Shafi'i (peace be upon him) about Muslims' rejection of the Holy Quran.
شافع محشرؐ کی مسلمانوں کے قرآن مجید سے اعراض کی شکایت۔
شافع محشرؐ کی مسلمانوں کے قرآن مجید سے اعراض کی شکایت۔
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 48)۔ </span><br> <p> <span class="Font_AlMushaf"> ﴿ وَ قَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوۡا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہۡجُوۡرًا ﴿۳۰﴾ ﴾ </span> (الفرقان ) </p> <p>’’ اور پیغمبر (ﷺ) کہیں گے کہ اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔‘‘ </p> آیت سے ظاہر یہ ہے کہ قرآن کو مہجور اور متروک کردینے سے مراد قرآن کا انکار ہے جو کفار ہی کا کام ہے۔مگر بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ جو مسلمان قرآن پر ایمان تو رکھتے ہیں مگر نہ اس کی تلاوت کی پابندی کرتے ہیں،نہ اس پر عمل کرنے کی۔وہ بھی اس حکم میں داخل ہیں۔حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ جس شخص نے قرآن پڑھا مگر پھر اس کو بند کر کے گھر میں معلق کردیا کہ نہ اس کی تلاوت کی پابندی کی، نہ اس کے احکام میں غور کیا۔قیامت کے روز قرآن اس کے گلے میں پڑا ہوا آئے گا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کرے گا کہ آپ کے اس بندے نے مجھے چھوڑ دیا۔اب اس کے اور میرے معاملہ کا فیصلہ فرمائیں۔‘‘ (قرطبی) تو غور کا مقام ہے کہ حشر کے میدان میں جب شافع محشر دربار خداوندی میں شکایت فرمائیں گے کہ اے میرے پروردگار! میری قوم نے اس قرآن کو بالکل نظر انداز کر رکھا تھا اور قرآن کریم فریاد کرے گا کہ مجھے چھوڑ دیا گیا تھا تو اس وقت کیا تدارک اور کیا تدبیر ہوسکے گی۔رسول اللہ ﷺ کے ان الفاظ اور قرآن کریم کی اس شکایت سے بچنے کی اور کیا صورت ہوگی خدا وند قدوس کی گرفت سے بچنے کی۔اللہ تبارک و تعالیٰ اس قرآن کریم کی طرف سے ہماری آنکھیں اس دنیا میں کھول دے اور اس کے حقوق کو پہچاننے اور ان کے ادا کرنے کی توفیق اور سمجھ عطا فرمادے اور قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے شرمندگی اور ندامت سے بچالے۔ <p style="text-align: center;"> تفسیر معارف القرآن( مفتی محمد شفیع )
میثاق (مئی 2026)
عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔
ندائے خلافت (28 اپریل 2026)
مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔
29178
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)