Description
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> آج کل شرک و کفر کی آندھی نے ہزاروں مسلمانوں کے ایمان و یقین کی جان نکال کر رکھ دی ہے۔مگر یہ خبریں اور یہ مشاہدے ہماری غیرتِ ملی اور ایمانی جذبات میں کوئی کپکپی پیدا نہیں کرتے ۔آج کیسے کیسے فتنے ہیں جو اسلام کا چراغ گل کرنے کے لیے باطل کی آندھیاں اُٹھارہے ہیں،کیسے کیسے خطرات ہیں جو حق کو نیچا دکھانے کے لیے ہر اُفق سے نمودار ہورہے ہیں۔کہیں امام الانبیاءﷺ کی مبارک سنت سے بغاوت ہورہی ہے،کہیں کتاب اللہ کے معنی و مفہوم میں تحریف کی مہم چلائی جارہی ہے،کہیں شرک کی وبا سے توحید کو دبانے کی کوشش ہورہی ہیں،بدعات و رسومات کے زور سے سنت کو مٹانے کی سعی جاری ہے،کہیں معصوم بچوں کے نا پختہ ذہنوں میں مغربی افکار گھسیڑنےکی چالیں چلی جارہی ہیں،کہیں مذہب کا قلع قمع کرنے کے لیے لامذہبیت اور الحاد و دہریت کا عفریت اپنے خون آشام جبڑے کھولے کھڑا ہے۔ہر طرف اور ہر سو کفر و شرک،بدعات رسومات،الحاد بے دینی،بے پردگی و نیم برہنگی،فحاشی وبے حیائی کی ہوائیں چل رہی ہیں۔سیکولرازم کے داعی صرف اسلام کے خلاف کمر کس چکے ہیں۔مگر اتنے پُر خطر حالات میں ہم رات بھر پاؤں پسار کر میٹھی نیند سوتے ہیں اور تمام دن دنیا ئے فانی کی بے اعتبار چند روزہ زندگی کو سنوار نے کے لیے اس طرح گم رہتے ہیں کہ الحب اللہ اور البغض اللہ کے جذبات کو ہمارے وجود میں سر اُٹھانے کا معمولی سا موقع بھی نہیں ملتا۔<p>وہی انسان جو دنیا کے نام پر محبت و نفرت کے پورے جذبات کے ساتھ زندگی گزارتا ہے،دین کا نام سنتے ہی اس طرح بے حس و حرکت ہو جاتا ہے جیسے جامدلاش ہو۔معلوم ہوتا ہے ہمارے اندر وہ دینی حس دھیرے دھیرے دم توڑ رہی ہے جس کا دوسرا حسین نام الحب اللہ اور البغض اللہ ہے۔</p> <p style="text-align: center;"> (مولانا عبداللہ)
Related Content
Messaq (May 2026)
میثاق (مئی 2026)
عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔
Nida-e-Khilafat (April 28 2026)
ندائے خلافت (28 اپریل 2026)
مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔
Faith is a complete way of life.
29178
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)