Eternal Sunnah of Allah is the Support of the Believers.

28007

Description

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 26)۔ </span><br> بلاشبہ یہ اللہ کی دائمی اور ناقابلِ تغیّر سنت ہے کہ وہ اہل ایمان کی نصرت فرماتا اور کافروں کو ذلیل کردیتا ہے‘ جبکہ بظاہر حالات اس کے برعکس نظر آرہے ہوتے ہیں۔قرآن کریم بتلاتا ہے اللہ سبحانہ کی ہمیشہ جاری رہنے والی سنت کے نتائج ضرور ظاہر ہو کر رہتے ہیں‘مگر ان نتائج کے اظہار میں افراد انسانی کی عمریں مقیاس نہیں ہیں اور نہ تاریخ کا کوئی عارضی مرحلہ پیمانہ ہے۔کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی وقت باطل وقتی طور پر کامیاب و کامران ہو کر روئے زمین کی غالب و کار فرما قوت بن جائے‘ لیکن یہ مرحلہ دائمی نہیں ہوتا بلکہ یہ دراصل ہمہ پہلو سنت اللہ کے اجرا کا ایک حصہ ہوتا ہے۔<p> باطل کی کارفرمائی کا یہ مرحلہ یا تو اس لیے آجاتاہے کہ اس مرحلے میں لوگوں کی باطل کے خلاف مزاحمت کی قوتیں ٹھٹھری ہوئی ہوتی ہیں اور ان میں باطل کے خلاف جہاد کرکے اسے ختم کردینے کا بُوتا نہیں ہوتا۔</p> ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔‘‘(الرعد:11)<p> اور کبھی اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ لوگ باطل کے ظلم کو انگیز کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں‘بلکہ اسے خوشگوار محسوس کرنے لگتے ہیں۔فرمان نبوی ﷺ ہے :’’ جیسے تم خود ہوگے ویسے ہی تمہارے حکمران ہوں گے۔‘‘(رواہ الحاکم)</p> اور کبھی ظلم و باطل خود ظالموں کی آزمائش کے لیے ہوتا ہے۔’’تاکہ وہ قیامت کے روز اپنے پورے بوجھ اٹھائیں۔‘‘(النمل:25)اور کبھی یہ مرحلۂ باطل و ظلم اس لیے آتا ہے کہ اللہ چاہتا ہے کہ مومنین کی جماعت کو چھانٹ کر علیحدہ فرمالے تاکہ وہ سلامتی ،استعداد اور قوت کے ساتھ حق کی ذمہ داری کو سنبھال سکیں۔جیسے سورۂ آل عمران(آیات 139تا141)میں فرمایا:’’دل شکستہ نہ ہو‘غم نہ کرو‘تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو۔اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے۔یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہے ہیں۔تم پر یہ وقت اس لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی(راستی کے) گواہ ہوں کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں۔اور وہ اس آزمائش کے ذریعے سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کردینا چاہتا تھا۔‘‘ <p style="text-align: center;">سید محمد قطب شہیدؒ (اسلام کا نظام تربیت)

Related Content

articleUrdu2 min

Messaq (May 2026)

میثاق (مئی 2026)

عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔

articleUrdu0 min

Nida-e-Khilafat (April 28 2026)

ندائے خلافت (28 اپریل 2026)

مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)