Avoid the call to account on the Day of Reckoning!
27830
27830
<span style="color: black;"><span style="font-size: 25px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 03)۔ </span><br> <span class="Font_AlMushaf"> <p>ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿﴾} (17) (القمر) </p></span>"اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے بہت آسان کردیا ہے۔اب ہے کوئی نصیحت لینے والا"۔مطلب یہ ہے کہ ہم نے قرآن کوتذکر کے لیے،نصیحت حاصل کرنے کے لیے اور اسے عملی زندگی میں اپنانے کے لیے آسان بنایا ہے۔اب تم میں سے ہے کوئی جو اس نصیحت پر عمل کرے؟اس سے ثابت ہوا کہ قرآن مجیدسارے کا سارا اس نقطہ نظر سے پڑھنا کہ اس کو پڑھ کر نصیحت حاصل کرنا ہے،اور اس پر عمل کرنا ہے،یہ سب پر فرض ہے البتہ قرآن مجید سے فقہی مسائل کا استنباط اور اس کی تفسیر کے علوم کا حاصل کرنا سب مسلمانوں پر فرض نہیں ہے۔ہر مسلمان کو یہ دیکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نام کیا پیغام بھیجا ہے؟یہ ایک دستی خط آیا ہے۔اور یہ کسی عام آدمی کے ہاتھوں نہیں بلکہ سید الاوّلین والآ خرین محمد رسول اللہﷺ کے ہاتھوں ہم تک پہنچا ہے۔پیغام بھیجنے والے نے تاکید کے ساتھ متنبہ کیا ہے کہ وہ تم سب سے اس خط کا جواب بھی لے کر رہے گا۔اُس نے بار بار تاکید کردی ہے کہ اگر تم نے اس خط کو اچھی طرح سے پڑھ کر پورے خلوص کے ساتھ نہ سمجھا اور اس پر عمل نہ کیا تو یہی نبیﷺ جو خط لے کر تمہارے پاس آئے ہیں،یومِ حساب تمہارے خلاف دعویٰ دائر کریں گے۔رہ گئے پڑھے لکھے جاہل جنہوں نے ایم اے اور پی ایچ ڈی تو کرلیا لیکن قرآن و حدیث کو سمجھنے کی تکلیف گوارا نہیں کی تو اُن حضرات کو سمجھ لینا چاہیے کہ اُن کا معاملہ انتہائی خطرناک ہے۔ان پر یہ فرد جرم عائد ہوگی کہ یہ دنیا جہان کے اناپ شناب کو تیار تھے اور ایرے غیرے کے پیغام کو سینے سے لگاتے رہے مگر اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو در خوارِ اعتنانہ سمجھا ۔اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کے محبوبؐ کی سنت سے منہ موڑے رکھا۔کتاب و سنت کے علم سے بے پروائی وہ جرم ہے جس کے مرتکب مشرکین مکہ ہوئے تھے،اُنہوں نے بھی حضورﷺ کی دعوت اور اللہ کے پیغام سے اعراض کیا تھا۔<p style="text-align: center;">(ڈاکڑ ملک غلام مرتضیٰ)۔
میثاق (مئی 2026)
عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔
ندائے خلافت (28 اپریل 2026)
مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔
29178
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)