Deviation of Muslim Governments from Sharia

مسلمان حکومتوں کا شریعت سے انحراف

Description

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 38)۔ </span><br> مسلمان حکومتیں آج عدالت،سیاست اور انتظام میں ہر لحاظ سے اسلامی شریعت سے منحرف ہوچکی ہیں۔اسلام کے بنیادی اصولوں کو انہوں نے اس طرح فراموش کردیا ہے کہ اسلام کے عطا کردہ آزادیٔ فکر،مساوات اور انصاف آج کہیں ڈھونڈےسے بھی نہیں ملتے۔اسلام کے واجبات کو اُنہوں نے نظر انداز کر رکھا ہے۔ملتِ مسلمہ میں اتحاد،خیر خواہی اور باہمی تعاون کے جذبات کا خطرناک حد تک فقدان ہے۔یہ حکومتیں ظلم،وحشت اور درندگی،بہیمیت پر دلیر ہوگئی ہیں۔معاشرے کی عمارت کو فساد، تحزیب کاری، گناہ اور نافرمانی،بغاوت اور سرکشی کی بنیادوں پر استوار کر رہی ہیں۔ان لوگوں نے اسلام کے دشمنوں کو اپنا دوست بنالیا ہے،حالانکہ اسلام ایسی دوستیوں اور اتحادوں کا سختی سے مخالف ہے۔یہ لوگ مسلمانوں کے معاملات میں اپنے ان کافر دوستوں کی آراء سے فیصلے کرتے ہیں۔حالانکہ یہ اطاعت اُن کے لیے قطعاً جائز نہیں۔اس لیے مسلمان حکمران اسلام کی موجودہ حالت کے لیے دوسرے تمام لوگوں سے بڑھ کر جوابدہ ہیں۔ہوسکتا ہے وضعی قوانین انہیں جوابدہی سے مستثنیٰ کردیں،لیکن اللہ کے ہاں اُنہیں ہر چھوٹےسے چھوٹے اور بڑے سے بڑے عمل کے لیے جوابدہی کرنی ہوگی۔ </p> <p style="text-align: center;"> عبد القادر عودہ شہید ؒ (کتاب’’راہِ وفا‘‘)

Related Content

articleUrdu2 min

Messaq (May 2026)

میثاق (مئی 2026)

عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔

articleUrdu0 min

Nida-e-Khilafat (April 28 2026)

ندائے خلافت (28 اپریل 2026)

مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)