Is Jihad a Defensive war?

کیا جہاد دفاعی جنگ کا نام ہے؟

Description

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 12)۔ </span><br> <p> یہ انسانی حاکمیت کے خلاف ایک انقلابی نعرہ ہے۔زمین پر حکومتِ الٰہی کے قیام کا مقصد:اللہ کی ربویت کے معنی یہ ہیں:زمین کے ہر ایک گوشہ میں انسانی حاکمیت کو چیلنج کردینا جس صورت میں کہ یہ موجود ہو‘یا یوں کہئے کہ االلہ کی ربویت کے معنی ہیں کہ انسان کی خدائی کو چیلنج کیا جائے جس صورت میں کہ یہ موجود ہو‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ جس حکم کا سر چشمہ انسان کی اپنی رضا ہو اور جس حکم میں اقتدار اعلیٰ انسان ہی کو تسلیم کیا گیا ہو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس حکم میں انسان کو الٰہ بنالیا گیا ہے‘بعض نے بعض کو اللہ کے مقابلے میں رب ٹھرالیا۔</P> <p> تو اس صورت میں اللہ کی ربویت کے اعلان کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کے غصب کردہ اقتدار اعلیٰ کو ان کے ہاتھوں سے چھین کر اللہ تعالیٰ کے حوالہ کردینا اور ان غاصبوں کو اقتدار اعلیٰ کے اس منصب سے اتاردینا۔یہ غاصب جو لوگوں کو اپنے بنائے ہوئے قانون کا پابند بناتے ہیں خود ان کے سامنے رب بن کر بیٹھتے ہیں اور انہیں غلاموں کا درجہ دیتے ہیں۔</p> اس کا مطلب ہے ’’بشری حاکمیت کے مقابلہ میں حکومت الٰہیہ کا قیام‘‘۔قرآن مجید کے اپنے الفاظ میں اس کی تعبیر یہ ہے کہ <span class="Font_AlMushaf"> ( هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌؕ) </span> ’’اللہ کی حاکمیت جس طرح آسمانوں پر ہے اُسی طرح زمین پر بھی ہے۔‘‘ <p>زمین پر حکومتِ الٰہیہ کے قیام کی یہ صورت نہیں ہے کہ اقتدار اعلیٰ کے اونچے مقام پر کسی مذہبی طبقہ کو فائز کردیا جائے جس طرح کلیسا کے اقدار کے دور میں ہوا۔اسی طرح حکومتِ الٰہیہ کے قیام کی یہ شکل بھی نہیں ہے کہ تھیا کریسی کے نام سے مذہبی طبقہ کو الٰہ بنالیا جائے ۔اس کی تو ایک ہی صورت ہے کہ اللہ کی شریعت کا نفاذ عمل میں لایا جائے اور حاکمیت کے معاملہ کو اللہ کی طرف لوٹا دیا جائے اور اسی کے حکم کے مطابق فیصلے کئے جائیں جس طرح کہ اس نے اپنی نازل کردہ شریعت میں بیان فرمادیا ہے۔</P> <p style="text-align: center;">سید قطب شہید ؒ (تفسیر فی ظلال القرآن)

Related Content

articleUrdu2 min

Messaq (May 2026)

میثاق (مئی 2026)

عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔

articleUrdu0 min

Nida-e-Khilafat (April 28 2026)

ندائے خلافت (28 اپریل 2026)

مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)