The Ignorance of the Present Era.

عہدِ حاضر کی جاہلیت

Description

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 49)۔ </span><br> <p>موجودہ انسانی زندگی کی بنیادیں اور ضابطے جس اصل اور منبع سے ماخوذ ہیں، اس کی رو سے اگر دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ آج ساری دنیا ’’جاہلیت‘‘ میں ڈوبی ہوئی ہے اور ’’ جاہلیت ‘‘ بھی اس رنگ ڈھنگ کی ہے کہ یہ حیرت انگیز مادی سہولتیں اور آسائشیں اور بلند پایہ ایجادات بھی اس کی قباحتوں کو کم یا ہلکا نہیں کرسکتیں۔اس جاہلیت کا قصر جس بنیاد پر قائم ہے،وہ ہے اس زمین پر اللہ کے اقتدارِ اعلیٰ پر دست درازی،اور حاکمیت جو الوہیت کی مخصوص صفت ہے اس سے بغاوت۔چنانچہ اس جاہلیت نے حاکمیت کی باگ ڈور انسان کے ہاتھ میں دے رکھی ہے۔ اور بعض انسانوں کو بعض دوسرے انسانوں کے لیے ارباب ’ مّن دون اللہ ‘ کا مقام دے رکھا ہے۔اس سیدھی سادی اور ابتدائی صورت میں نہیں جس سے قدیم جاہلیت آشنا تھی بلکہ اس طنطنے اور دعوے کے ساتھ کہ انسانوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ خود افکار و اقدار کی تخلیق کریں،شرائع و قوانین وضع کریں اور زندگی کے مختلف پہلؤں کے لیے جو چاہیں نظام تجویز کریں۔اور اس سلسلے میں انہیں یہ معلوم کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی کے لیے کیا نظام اور لائحہ عمل تجویز کیا ہے،کیا ہدایت نازل کی ہے اور کس صورت میں نازل کی ہے۔اس باغیانہ انسانی اقتدار اور بے لگام تصورِ حاکمیت کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ خلق اللہ ظلم و جارحیت کی چکی میں پس رہی ہے۔چنانچہ اشترا کی نظاموں کے زیر سایہ انسانیت کی جو تذلیل ہوئی،یاسر مایہ دارانہ نظاموں کے دائرے میں سرمایہ پرستی پر رجوع الارضی کے عفریت نے افراد و اقوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں وہ دراصل اُسی بغاوت کا شاخسانہ ہے،جو زمین پر اللہ تعالیٰ کے اقتدار کے مقابلے میں دکھائی جارہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو تکریم اور شرف عطا کیا ہے،انسان اُسے خود اپنے ہاتھوں پامال کر کے نتائج بد سے دو چار ہے! </p> <p style="text-align: center;"> سید قطب شہیدؒ (جادہ منزل)

Related Content

articleUrdu2 min

Messaq (May 2026)

میثاق (مئی 2026)

عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔

articleUrdu0 min

Nida-e-Khilafat (April 28 2026)

ندائے خلافت (28 اپریل 2026)

مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)