Ending Oppression and Establishment of Justice

28054

Description

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 32)۔ </span><br> <p> ظلم کسی بھی حالت میں قابلِ قبول نہیں ہے۔ظالم فرد ہو یا جماعت،عوام ہوں یا حکومت،ظالم کا ساتھ کسی صورت میں بھی نہیں دیا جاسکتا۔ظالم کے ساتھ تعاون کرنے والا بھی اللہ اور اُس کے رسولﷺ کے نزدیک ظلم میں برابر کا شریک ہے۔حضورﷺ نے فرمایا: ’’ جس کسی نے حق کو دبانے کے لیے باطل کا ساتھ دیا، اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے اُس سے برأت و بے زاری کا عام اعلان ہے۔‘‘(سنن نسائی)</P> <p> صحابئ رسول ﷺ حضرت عمر بن سعد ؓ نے اسلام کی کتنی خوشنما تعریف کی ہے! فرماتے ہیں </p> <p> ’’اسلام ایک ناقابلِ شکست فصیل ہے اور مضبوط دروازہ! اسلام کی فصیل اس کا عدل و انصاف ہے اور اس کا دروازہ حق و صداقت! اگر یہ فصیل گرجائےاور یہ دروازہ ٹوٹ جائے تو اسلام مغلوب ہوجائے گا۔جب تک سلطان مضبوط ہوگا،اسلام غالب رہے گا اور سلطان کی مضبوطی تلوار اور کوڑے کی بدولت نہیں ہوتی بلکہ اس کی مضبوطی کا راز حق و انصاف اور عدل و مساوات میں پنہاں ہے۔‘‘</P> سچی بات یہ ہے کہ جس قوم میں ظلم و ستم عام ہوجائے،وہ ہر لحاظ سے پستی میں مبتلا ہوجاتی ہے اور جس قوم میں عدل و انصاف کا بول بالا ہو وہ ہر میدان میں سرخرو ہوتی ہے۔ <p style="text-align: center;"> سید عمر تلمسانیؒ (شہید المحراب عمرؓ بن خطاب)

Related Content

articleUrdu2 min

Messaq (May 2026)

میثاق (مئی 2026)

عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔

articleUrdu0 min

Nida-e-Khilafat (April 28 2026)

ندائے خلافت (28 اپریل 2026)

مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)