Theory: The Soul of Nations

27922

Description

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 15)۔ </span><br> نظریہ (IDEOLOGY) ایک قوم کے لیے روح کی سی حیثیت رکھتا ہے،جس کے ہونے سےزندگی برقرار رہتی ہے اور جس کے فقد ان کی صورت میں انسانی معاشروں سے اس حرارت و حرکت کا خاتمہ ہوجاتا ہے جس کانام زندگی ہے۔قوم کی یہ زندگی بخش نظریاتی رُوح اگر زندہ و توانا ہو تو دوسری تمام قوتیں ہاتھ آجاتی ہیں اور تھوڑی قوتوں سے بہت زیادہ نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔نظریہ سے سرشار ہونے والی قوموں کا عشق اتنا جَسُور اور فَقر اتنا غیور ہوتا ہے کہ وہ کبھی خوار نہیں ہوتیں،لیکن نظریہ کی مرکزی قوت ختم ہو جائے یا کمزور پڑ جائے تو محض روپے پیسے،صنعت و تجارت،فوجوں اور اسلحہ،ادارات اور تنظیموں اور معاہدوں اور بلاکوں کے بل پر کسی انسانی گروہ کو نہ زندگی حاصل ہوسکتی ہے،نہ ترقی و کامیابی۔بدن میں اگر رُوح ختم ہورہی ہو اور شجاعت کا جوہرِ فعال کام نہ کررہا ہو تو بھینسے جیسا عظیم جثہ گوشت کے ایک ڈھیرسے زیادہ نہیں۔ <p>نظریہ سے محروم معاشرے یا تو قائم ہی نہیں رہ سکتے،یا پھر وہ دوسروں میں ضم ہو جاتے ہیں اور کسی نظریاتی تمدن کے تابع مہمل بن جاتے ہیں۔اقوام کا زوال ’’بے زری‘‘سے نہیں ہوتا،اور اُن کا عروج بھی تو نگری کا مرہون منت نہیں ہوتا۔اسی طرح اسلحہ کی کمی کے بھی معنی لازماً یہ نہیں ہوتے کہ ایک قوم کمزور ہے،بلکہ اگر اس کے جوانوں کی خودی فولاد کی سی قوت رکھتی ہے تو وہ بہت زیادہ محتاجِ شمشیر نہیں رہتی۔دوسری طرف اگر خودی ہی جواب دے جائے تو پھر جو کچھ رہ جاتا ہے وہ خالی زرنگار نیام ہوتے ہیں جن میں شمشیریں نہیں ہوتیں۔اسی لیے علامہ اقبال فرماتے ہیں ’’قوموں کی حیات اُن کے تخیل پہ ہے موقوف۔‘‘</p> <p style="text-align: center;"> (اقبال کا شعلہ نوا)نعیم صدیقی

Related Content

articleUrdu2 min

Messaq (May 2026)

میثاق (مئی 2026)

عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔

articleUrdu0 min

Nida-e-Khilafat (April 28 2026)

ندائے خلافت (28 اپریل 2026)

مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)