Turning your back on war is a grave sin.

27943

Description

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 18)۔ </span><br> <p>’’ اور جو کوئی بھی ان سے اس دن اپنی پیٹھ پھیرے گا سوائے اس کے کہ وہ کوئی داؤ لگا رہا ہو جنگ کے لیے یا کسی (دوسری)جمعیت سے ملنا ہو تو وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔‘‘ (سورۃ الانفال:16)</p>حدیث مرفوع ہے نبی کریمﷺ نے صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’لوگو!دشمن کے ساتھ جنگ کی خواہش اور تمنا دل میں نہ رکھا کرو،بلکہ اللہ تعالیٰ سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو،البتہ جب دشمن سے مڈبھیڑہو ہی جائے تو پھر صبر و استقامت کا ثبوت دو،یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔اس کے بعد آپ ﷺ نے یوں دعا فرمائی:اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے،بادل بھیجنے والے،احزاب(دشمن کے دوستوں)کو شکست دینے والے،انہیں شکست دے اور ان کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔‘‘ (صحیح بخاری)</p>اللہ عزوجل نے مسلمانوں کو دشمن سے معرکہ والے دن میدانِ قتال سے فرار ہونے کو گناہِ کبیرہ اور حرام قرار دیا ہے۔یعنی جب تم کافر دشمنوں کے قریب ہوجاؤ تو پھر انہیں اپنی پشتیں نہ دکھاؤ اور نہ ہی اپنے مسلمان ساتھیوں کو چھوڑ کر ان سے فرار ہوجاؤ۔میدانِ قتال سے فرار کے باعث ایک طرف تو دوسرے سپاہیوں کے حوصلے پست ہوتے ہیں جبکہ دوسری طرف دشمن کے دلوں سے مسلمانوں کا رعب ختم ہوجاتا ہے۔نتیجاً جنگ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>

Related Content

articleUrdu2 min

Messaq (May 2026)

میثاق (مئی 2026)

عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔

articleUrdu0 min

Nida-e-Khilafat (April 28 2026)

ندائے خلافت (28 اپریل 2026)

مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)