Sacrifice is inevitable!

قربانی ناگزیر ہے!۔

Description

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 44)۔ </span><br> <p>دین حق کو جب کبھی قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی،کوئی نہ کوئی دین باطل قوت اور زور کے ساتھ قائم شدہ تو پہلے سے موجود ہوگا ہی۔طاقت بھی اس کے پاس ہوگی،رزق کے خزانے بھی اُسی کے قبضے میں ہوں گے،اور زندگی کے سارے میدان پر وہی مسلط ہوگا۔ایسے ایک قائم شدہ دین کی جگہ کسی دوسرے دین کو قائم کرنے کا معاملہ بہرحال پھولوں کی سیج تو نہیں ہوسکتا۔آرام اور سہولت کے ساتھ میٹھے میٹھے قدم چل کر یہ کام نہ کبھی ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے۔آپ چاہیں کہ جو کچھ فائدے دین باطل کے ماتحت زندگی بسر کرتے ہوئے حاصل ہوتے ہیں،یہ بھی ہاتھ سے نہ جائیں اور دین حق بھی قائم ہوجائے،تو یہ قطعاً محال ہے۔یہ کام تو جب بھی ہوگا اسی طرح ہوگا کہ آپ اُن تمام حقوق کو،اُن تمام فائدوں کو،اُن تمام آسائشوں کو لات مارنے کے لیے تیار ہوجائیں جو دین باطل کے ماتحت آپ کو حاصل ہوں،اور جو نقصان بھی اس مجاہدے میں پہنچ سکتا ہے اُس کو ہمت کے ساتھ انگیز کریں۔جن لوگوں میں یہ کھکھیڑ اُٹھانے کی ہمت ہو،جہاد فی سبیل اللہ انہی کا کام ہے،اور ایسے لوگ ہمیشہ کم ہی ہوا کرتے ہیں،رہے وہ لوگ جو دین حق کی پیروی کرنا تو چاہتے ہیں،مگر آرام کے ساتھ ،تو اُن کے لیے بڑھ بڑھ کر بولنا مناسب نہیں ،اُن کا کام تو یہی ہے کہ آرام سے بیٹھے اپنے نفس کی خدمت کرتے رہیں اور جب خدا کی راہ میں مصیبتیں اُٹھانے والے آخر کا راپنی قربانیوں سے دین حق کو قائم کردیں تو وہ آکر کہیں إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ یعنی ہم تو تمہاری ہی جماعت کے آدمی ہیں،لاؤ اب ہمارا حصہ دو۔ </P> <p style="text-align: center;"> سید مودودی ؒ ( خطبات )

Related Content

articleUrdu2 min

Messaq (May 2026)

میثاق (مئی 2026)

عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔

articleUrdu0 min

Nida-e-Khilafat (April 28 2026)

ندائے خلافت (28 اپریل 2026)

مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)