Description
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 30)۔ </span><br> <p style="text-align: center;"> فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں <p style="text-align: center;"> موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں <p> اتحاد میں بڑی طاقت ہے۔ کسی ملک کی بقاء اور سالمیت کا انحصار قومی یکجہتی اور اتفاق پر ہے۔ کوئی جماعت ، کوئی ملک ، کوئی قوم ، اقوام عالم کی نگاہ میں عزت و آبرو اور وقار و احترام کا مقام نہیں پا سکتے جب تک کہ اس کے افراد میں یکجہتی اور ہم آہنگی نہ ہو۔ قومی اتحاد کے بغیر ترقی اور خوشحالی کا تصور بھی ایک خام خیال ہے۔</p> <p style="text-align: center;"> ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ <p style="text-align: center;"> پیوستہ رہ شجر سے،امید بہار رکھ <p style="text-align: center;"> اقبال مسلمانوں کو آپس میں متحد اور ہم آہنگ زندگی بسر کرنے کی پُر زور اپیل کرتے ہیں: <p style="text-align: center;"> منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک <p style="text-align: center;"> ایک ہی سب کا نبیؐ،دین بھی،ایمان بھی ایک <p style="text-align: center;"> حرم پاک بھی،اللہ بھی،قرآن بھی ایک <p style="text-align: center;"> کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک <p style="text-align: left;"> ابو عبد اللہ (سوشل میڈیا سے اقتباس)
Related Content
Messaq (May 2026)
میثاق (مئی 2026)
عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔
Nida-e-Khilafat (April 28 2026)
ندائے خلافت (28 اپریل 2026)
مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔
Faith is a complete way of life.
29178
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)