Philosophy of Hajj

27956

Description

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 20)۔ </span><br> اسلامی فلسفہ زندگی اور اسلامی قانون و احکام دنیا کے لیے نعمت غیر مترقبہ ہیں جنہیں اپنا کر دنیا کے تمام غموں سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے اور صرف آخرت ہی نہیں، اس زندگی کو بھی قابل رشک بنایا جا سکتا ہے۔ قرآن وسنت سے دوری سے صرف مسلمان ہی اس کی خیر و برکت سے محروم نہیں ہوئے بلکہ پوری انسانیت اس چشمہ حیات کے فیوض و برکات سے محروم ہوگئی۔ حج کی صورت میں مسلمانوں کا عظیم الشان اجتماع مقرر ہوا تا کہ دور دراز کے مسلمان ،عوام و خواص مختلف رنگوں، نسلوں ، زبانوں کے بولنے والے، مختلف الانواع تہذیب و ثقافت، تمدن کے حامل ، مگر ایک دین کے پیروکار اس عالمی اجتماع میں ایک دوسرے سے ملیں۔ باہمی تعارف ہو، ایک دوسرے کے مسائل و مشکلات سے آگاہ ہوں اور یہی ان کا بین الاقوامی مرکز قرار پائے۔ حج ایک ایسی عبادت ہے جس میں اتحاد، یقین اور نظم کے فوائد نہ صرف امت مسلمہ کے لیے بلکہ تمام دنیا کے لیے پنہاں ہیں ۔ اس سے یقین محکم ،عمل ِپیہم، محبت فاتح عالم کے انوار کی خیرات بٹتی ہے مگر ہم پر ایسے اندھےو بہرے حکمران اور شیطانی سائے مسلط ہیں، جن سے ہم ان انوار و برکات سے خود ہی محروم ہیں، دوسروں کو کیا دیں گے۔ آج امت کہاں کہاں کسں حال میں ہے۔ ہمارے حاکم ہمارے خادم ہیں یا خدام۔۔۔۔ ؟ دورو نزدیک سے عوام کی آواز باختیار لوگوں تک پہنچتی ہے یا راہوں میں ہی بھٹکتی ہے۔۔۔۔ ؟ مظلوم کی ہرسطح پر دادرسی ہو رہی ہے یا ظالم کو تحفظ اور مظلوم کو دھتکارا جاتا ہے ۔۔۔۔؟ آج مسلمانوں پر آمریت، ملوکیت اور جمہوری قباء میں شہنشاہیت کی بدترین قوتیں مسلط ہیں ۔ یہ ہمارا نظام ملوکیت ہے جو سامراج کے نسلی جدی پشتی غلاموں نے ہم پر مسلط کر رکھا ہے۔ یہ اُن کے لیے غلام جبکہ عوام کے لیے بادشاہ بنے بیٹھے ہیں ۔ دعا کیجئے کہ اسلام کا نظام عدل اجتماعی ہمارے جیتے جی قائم ہو جائے ، دنیا سے ظلم کا خاتمہ ہواور حج و دیگر احکام شرع کے نتائج و ثمرات سے عوام کی قسمت چمک اُٹھے اور رنجیدہ چہروں پر خوشی کے انوار ور وفق نمودار ہو۔ <p style="text-align: center;"> (مفتی عبدالقیوم خان)

Related Content

articleUrdu2 min

Messaq (May 2026)

میثاق (مئی 2026)

عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔

articleUrdu0 min

Nida-e-Khilafat (April 28 2026)

ندائے خلافت (28 اپریل 2026)

مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)