The purpose of fasting and praying during Ramadan.

28779

Description

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 08)۔ </span><br> <p>صیام و قیام رمضان کی اصلی غایت و حکمتاور ان کا اصل ہدف و مقصود ایک جُملے میں اس طرح سمویا جاسکتا ہے کہ: ایک طرف روزہ انسان کے جسدِ حیوانی کے ضعف و اضمحلال کا سبب بنے تا کہ رُوحِ انسانی کے پاؤں میں پڑی ہوئی بیڑیاں کچھ ہلکی ہوں اور بہیمیت کے بھاری بوجھ تلے دبی ہوئی اور سسکتی اور کراہتی ہوئی رُوح کو سانس لینے کا موقع ملے۔اور دوسری طرف قیام اللیل میں کلام ِ ربّانی کا روح پر ور نزول اُس کے تغذیہ و تقویت کا سبب بنے۔تاکہ ایک جانب اس پر کلام الٰہی کی وعظمت کما حقہ منکشف ہو جائے اور وہ اچھی طرح محسوس کرے کہ یہی اُس کی بھوک کو سیری اور پیاس کو آسودگی عطا کرنے کا ذریعہ اور اُس کے دکھ کا علاج اور درد کا در ماں ہے!اور دوسری جانب رُوحِ انسانی از سرِ نو قوی اور توانا ہوکر ’’ اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز‘‘ہو‘ گویا اس میں تقرب اِلیٰ اللہ کا داعِیہ شدّت سے بیدار ہوجائے اور وہ مشغولِ دعاو مناجات ہو‘جو اصل رُوح ہے عبادت کی اورلُبِ لُباب ہے رُشدو ہدایت کا!</p> <p> دوسری بدنی اور مالی عبادتوں کا حاصل ہے تزکیہ و تطہیر نفس ‘وہاں صومِ رمضان کا حاصل ہے تغزیہ و تقویّتِ روح جو‘متعلّق ہے براہِ راست ذاتِ خدا وندی کے ساتھ۔لہذا روزہ ہوا خاض اللہ کے لیے،وہ خود ہی اس کی جزادے گا خدا تو منتظر رہتا ہے کہ جیسے ہی کوئی بندہ خلوص و اخلاص کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہو‘وہ بھی کمالِ شفقت و عنایت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوجائے۔یہاں تک کہ ایک حدیثِ قدسی کی رو سے اگر بندہ اُس کی جانب چل کر آتا ہے تو بندے کی جانب دوڑ کر آتا ہے‘اور اگر بندہ اُس کی طرف بالشت بھر بڑھتا ہے تو وہ بندے کی طرف ہاتھ بھربڑھتا ہے۔گویا بقول علامہ اقبالؔ مرحوم ؎</p> <p style="text-align: center;"> ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں! <p style="text-align: center;"> راہ کھلائیں کسے؟رہرومنزل ہی نہیں! <p style="text-align: center;">ڈاکٹر اسرار احمد ﷫(عظمت صوم)

Related Content

articleUrdu2 min

Messaq (May 2026)

میثاق (مئی 2026)

عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔

articleUrdu0 min

Nida-e-Khilafat (April 28 2026)

ندائے خلافت (28 اپریل 2026)

مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)