Description
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 11)۔ </span><br> <span class="Font_AlMushaf"> وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللہَ عَلٰی مَا ہَدٰىكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوۡنَ ﴿۱۸۵﴾(البقرہ)</span> <p> ’’اور تم بڑائی کرو اللہ کی اس پر جو ہدایت اُس نے تمہیں بخشی ہے اور تاکہ تم شکر کرسکو۔‘‘</p> قرآن حکیم میں ماۃِ رمضان کے روزوں کی فرضیت اور اُن سے متعلق احکام بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمیا کہ ’’ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تنگی نہیں چاہتا تاکہ پورا کرو گنتی کو اور تاکہ تکبیر(بڑائی)کرو اللہ کی اس پر کہ اُس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو‘‘۔گویا رمضان کے روزوں کی تکمیل پر اللہ تعالیٰ کی تکبیر اور اُس کے شکر ادا کرنے کی تلقین خود ربِ کائنات فرما رہے ہیں۔چناچہ یکم شوال یعنی عید کے دن مسلمان اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ <p> سیرت نبویﷺ سے بھی ہمیں یہی رہنمائی ملتی ہے کہ اس روز مسلمان نہا دھو کر،صاف ستھرےکپڑے پہن کر اور خوشبو لگا کر عید گاہ کی جانب روانہ ہوں تو بلند آواز بلند اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے جائیں اور واپسی پر بھی اس عمل کو دہرائیں کہ پوری بستی اللہ کی تکبیر سے گونج اُٹھے۔آنے اور جانے کے لیے مختلف راستوں کو اختیار کرنے کی تلقین بھی اسی لیے ہے کہ بستی کا کوئی کونہ تکبیر الٰہی کی گونج سے محروم نہ رہے۔نماز عید تو ہے ہی دو رکعت شکرانہ جو مسلمان اجتماعی طور پر صف بستہ ہوکر اپنے آقا و مالک کی جانب میں ادا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں عید کے معمولات کو اس کی اصل روح کے مطابق سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا ربُ العالمین!</P> <p style="text-align: center;">ڈاکٹر اسرار احمد (خطاب عید سے اقتباس)
Related Content
Messaq (May 2026)
میثاق (مئی 2026)
عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔
Nida-e-Khilafat (April 28 2026)
ندائے خلافت (28 اپریل 2026)
مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔
Faith is a complete way of life.
29178
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)