Some Aspects of the example of the Prophet Muhammad (ﷺ) and Guidance for thought and action.

28091

Description

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 36)۔ </span><br> <p>اقامتِ دین،اعلائے کلمتہ اللہ اور قیام عدل کے لئے خلافتِ ارضی کی تعبیر عبادتِ رب ہی ہے،جو تمام جن و انس اور ہر حاکم و محکوم پر فرض ہے۔اگر قرآن و سنت سے عبادتِ رب کے معنی و مفہوم کو تعصب سے پاک ہو کر سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اس کے بعد جس کے دل کے اندر بھی خدائے علیم و خبیر سے کچھ بھی حیاء ہو،وہ بشرطِ سلامتی ہوش و حواس عبادتِ رب سے حکمرانوں کو مستثنیٰ کرنے اور اسے صرف عوام کے لئے خاص کرنے کی بات نہیں کرسکے گا۔اسلام کے جن اَحکام کا تعلق قُوّتِ نافذہ کے ساتھ ہے انہیں اگر حکمران طبقہ عبادتِ رب سمجھ کرادا کرنے سے گریز کرتے ہیں تو کیا اُن کی اِس ہٹ دھرمی پر انہیں خدا کی عبادت سے استثناء کے سرٹیفکیٹ جاری کئے جائیں؟</p> اقامتِ دین کی بحث دراصل سنت و سیرتِ رسول ﷺ کی بحث ہے،سیرتِ رسول ﷺاورمقام نبوّت سے وہ لوگ قطعاً نا واقف ہیں جو آپ ﷺ کی پوری مدنی زندگی کے شب و روز کی جدوجہد اور جہاد وقتال فی سبیل اللہ میں گزری مبارک حیاتِ طیبہ کو صرف مسجد نبوی کے درس و تعلیم تک محدود کرتے ہیں۔ </p> <p style="text-align: center;"> پروفیسر ڈاکٹر شمس الحق انیس (کی تحریر سے ایک اقتباس)

Related Content

articleUrdu2 min

Messaq (May 2026)

میثاق (مئی 2026)

عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔

articleUrdu0 min

Nida-e-Khilafat (April 28 2026)

ندائے خلافت (28 اپریل 2026)

مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)