Description
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 04)۔ </span><br> سورۃ الشعراء کی آیت 20 میں ارشاد الٰہی ہے : ’’تم سے جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے‘ اُس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں‘اور دنیا کی کھیتی جو چاہتا ہے ‘ اُسے ہم دنیا ہی میں دے دیتے ہیں ‘ مگر آخرت میں اُس کا کوئی حصّہ نہیں ہے‘‘۔<p> یہ بڑا پیارا اور اٹل قانون ہے جو اختصار کے ساتھ یہاں بیان ہوا ہے۔آپ فیصلہ کیجئے کہ آپ آخرت کے طالب ہیں یا دنیا کے؟آپ کا مقصود و مطلوب آخرت ہے یا دنیا؟عقبی چاہئےیا دنیا چاہئے؟فیصلہ کیجئے! شعوری طور پر فیصلہ ہو‘پھر اُس پر ڈٹ جایئے۔یہ نہ ہو کہ دنیا ذرا ہاتھ سے جاتی دکھائی دی تو دل پژمردہ ہوگیا اور طبیعت مضمحل ہوگئی۔اگر تم فیصلہ کرچکے ہو کہ تمہاری مراد آخرت ہے تو اگر دنیا میں کمی آرہی ہے تو کہیں کو ئی پریشانی اور پشیمانی نہیں ہونی چاہئے۔’’جو کوئی آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہے تو اس کی کھیتی میں ہم برکت دیتے رہتے ہیں۔‘‘اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔اس دنیا کی زندگی میں جو نیک اعمال انسان آگے بھیجتا ہے،اللہ تعالیٰ انہیں پروان چڑھاتا ہے‘پالتا ہے‘پوستا ہے‘ترقی دیتا ہے‘۔’’اور جو کوئی طالب بن جاتا ہے،دنیا کی کھیتی کا۔‘‘ جس کا مقصود و مطلوب دنیا بن گئی تو ہم اُسے دے دیتے ہیں اس میں سے۔ہم یہ نہیں کرتے کہ جو بہرحال دنیا کا طالب بن گیا ہے‘جس کی مراد دنیا ہی ہوگئی ہے‘ اُسے ہم دنیا سے بھی محروم کردیں۔لہذا دنیا میں اُسے ہم کچھ دے دلایتے ہیں۔</p> <p> پھر ایسے شخض کے لیے آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہے۔’’تم یہ چاہو کہ یہ بھی ملے اور وہ بھی ملے‘دو دو اور وہ بھی چپڑی‘یہ مشکل ہے۔طے کرو کہ کیا اصل مطلوب و مقصود اور مراد ہے!آخرت کے طلب گار ہو تو آخرت کی کھیتی میں برکتیں ہی برکتیں ہیں‘بڑھو تری ہی بڑھوتری ہے‘لیکن اگر تم طالب دنیا بن گئے ہو تو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں سے تمہیں کچھ نہ کچھ ضرور دے دے گا لیکن آخرت میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے۔ <p style="text-align: center;"> ڈاکٹر اسرار احمدؒ (توحید عملی)
Related Content
Messaq (May 2026)
میثاق (مئی 2026)
عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔
Nida-e-Khilafat (April 28 2026)
ندائے خلافت (28 اپریل 2026)
مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔
Faith is a complete way of life.
29178
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)