Description
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 34)۔ </span><br> <p>کون شمار کر سکتا ہے کہ ہر سال کتنی مجالس میلاد اور جلسہ ہائے سیرت ہمارے ملک میں منعقدد ہوتے ہوں گے؟ ایک ربیع الاوّل ہی کے مہینے میں کتنے وعظ اور کتنی تقریریں ہوا میں لہریں اُٹھادیتی ہوں گی؟ کتنے مقالے اور کتابیں لکھی جاتی ہوں گی؟ کتنے جرائد کے خاص نمبر اس موضوع پر شائع ہوتے ہوں گے؟شعراءکتنی نعتیں لکھتے ہوں گے۔لیکن دوسری طرف یہ بھی ذرا سوچئے کہ ایک اچھے مقصد پر قوتوں اور روپے کے اس صرف کا واقعی نتیجہ کیا نکلتا ہے؟کتنےافراد ہوں گے جو ان نیک مساعی کی بدولت سیرت نبویؐ کے سانچے میں اپنی زندگیاں ڈھالنے کی مہم میں ہر سال لگ جاتے ہوں گے؟اور اگر عملاٌ حاصل نہیں ہورہا جو مطلوب ہے،بلکہ اس سے بڑھ کر ماتم اس کا ہے کہ ہمارے پلّے وہ کچھ پڑ رہا ہے جو محسن انسانیتؐ کے پیغام اور کارنامے سے کھلم کھلا ٹکراتا ہے۔</p> ہمارے اندر آج ایسے عناصر پروان چڑھ رہے ہیں جو حضورﷺ کے مشن کو زمانۂ حال کے لیے ناکارہ اور حضور ﷺ کے عطا کردہ نظامِ زندگی کو ناقابلِ عمل قرار دیتے ہیں، ایسے عناصر جو حضورﷺ کی تعلیمات کا مذاق اڑاتے ہیں،ایسے عناصر جو سیرت اور حدیث کا سارا ریکارڈ دریابرد کر دینا چاہتے ہیں،ایسے عناصر جو قرآن کو،قرآن پیش کرنے والی ہستی ؐ کی 23 سالہ جدوجہد اور لازوال تحریکی کارنامے سے بے تعلق کردینا چاہتے ہیں اور حضور ﷺ کی ہستی کو بطور عملی نمونۂ انسانیت کے ہماری نگاہوں سے گم کردینے کے لیے کوشاں ہیں۔پھر ستم بالائے ستم یہ کہ تعبیر و تاویل کے نام پر ہمارے ہاں یہ کوشش ہورہی ہے،کہ حضور ﷺ کی شخصیت،پیغام اور کارنامے کو موجودہ فاسد تہذیب کے فکری سانچے میں ڈھال دیا جائے اور محسن انسانیتؐ کی بالکل نئی تصویر عالمی طاقتوں کے ذوق کے مطابق تیار کردی جائے۔ <p style="text-align: center;"> محسنؐ انسانیت (نعیم صدیقی)
Related Content
Messaq (May 2026)
میثاق (مئی 2026)
عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔
Nida-e-Khilafat (April 28 2026)
ندائے خلافت (28 اپریل 2026)
مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔
Faith is a complete way of life.
29178
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)