The Stability and survival of Pakistan are Indispensable

استحکام و بقاء پاکستان کے ناگزیر لوازم

Description

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 41)۔ </span><br> <p> ملک و ملت کے استحکام ہی نہیں،بقا تک کے لیے حسبِ ذیل چیزیں نا گزیر اور لازمی ہیں : </p> <p> • ایک ایسا طاقتور انسانی جذبہ جو جملہ حیوانی جبلّتوں پر غالب آجائے اور قوم کے افراد میں کسی مقصد کے لیے تن من دھن لگا دینے حتیٰ کہ جان تک قربان کردینے کا مضبوط ارادہ اور قومی داعیہ پیدا کردے۔</p> <p> • ایک ایسا ہمہ گیر نظریہ جو افرادِ قوم کو ایک ایسے مضبوط ذہنی و فکری رشتے میں منسلک کرکے بنیان مرصوص بنادے جو رنگ ،نسل ، زبان اور زمین کے تمام رشتوں پر حاوی ہوجائے اور اس طرح قومی یک جہتی اور ہم آہنگی کا ضامن بن جائے!</p> <p> • عام انسانی سطح پر اخلاق کی تعمیرِ نو جو صداقت ،امانت،دیانت اور ایفاءِ عہد کی اساسات کو از سرِ نو مضبوط کردے اور قومی و ملی زندگی کورشت،خیانت،ملاوٹ،جھوٹ،فریب،نا انصافی ، جانبداری،ناجائز اقرباپروری اور وعدہ خلافی ایسی تباہ کن بیماریوں سے پاک کردے۔</p> <p> • ایک ایسا نظامِ عدلِ اجتماعی (System of Social Justice)جو مرد اور عورت،فرد اور ریاست،اور سرمایہ اور محنت کے مابین عدل و اعتدال اور قسط و انصاف اور فی الجملہ حقوق و فرائض کا صحیح و حسین توازن پیدا کردے! تحریک پاکستان کے تاریخی اور واقعاتی پس منظر،اور پاکستان میں بسنے والوں کی عظیم اکثریت کی فکری و جذباتی ساخت،دونوں کے اعتبار سے یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ اس ملک میں یہ تمام تقاضے صرف اور صرف دین و مذہب کے ذریعے اسلام کے حوالےاور ناتے سے پورے کیے جاسکتے ہیں۔</p> <p style="text-align: center;"> استحکام پاکستان ( ڈاکٹر اسرار احمد ؒ )

Related Content

articleUrdu2 min

Messaq (May 2026)

میثاق (مئی 2026)

عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔

articleUrdu0 min

Nida-e-Khilafat (April 28 2026)

ندائے خلافت (28 اپریل 2026)

مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)