What kind of people are needed to revive Islam?

28775

Description

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 05)۔ </span><br> عوام کی کشتِ قلوب میں ایمان کی تخم ریزی اور آبیاری کا مؤ ثر ترین ذریعہ ایسے اصحاب علم و عمل کی صحبت ہے جن کے قلوب و اذہان معرفت ِ ربانی و نور ایمانی سے منور ‘سینے کبر ‘بغض اور ریا سے پاک اور زندگیاں حرص‘طمع‘لالچ اور حبّ ِ دنیا سے خالی نظر آئیں۔خلافت علی منہاج النبوۃ کے نظام کے درہم برہم ہوجانے کے بعد ایسے ہی نفوسِ قدسیہ کی تبلیغ و تعلیم ‘ تلقین و نصحیت اور تربیت و صحبت کے ذریعے ایمان کی روشنی پھیلتی جا رہی ہے اور اگرچہ جب سے مغرب کی الحاد و مادہ پرستی کے زہر سے مسموم ہواؤں کا زار ہوا‘ایمان و یقین کے یہ بازار بھی بہت حد تک سردپڑ گئے‘تاہم ابھی ایسی شخصیتیں بالکل نا پید نہیں ہوئیں جن کے ’’ دل روشن‘‘ نورِ یقین اور ’’ نفس گرم‘‘ حرارتِ ایمانی سے معمور ہیں اور اب ضرورت اس کی ہے کہ ایمان و یقین کی ایک عام روایسی چلے کہ قریہ قریہ اور بستی بستی ایسے صاحب عزیمت لوگ موجود ہوں جن کی زندگیوں کا مقصد ِ و حیدخدا کی رضا جوئی اور اس کی خوشنودی کا حصول ہو۔ <p style="text-align: center;"> ڈاکٹر اسرار احمدؒ (اسلام کی نشأۃ ثانیہ)

Related Content

articleUrdu2 min

Messaq (May 2026)

میثاق (مئی 2026)

عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔

articleUrdu0 min

Nida-e-Khilafat (April 28 2026)

ندائے خلافت (28 اپریل 2026)

مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)