The Relationship between the servant and the Lord in Ramadan

27882

Description

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 10)۔ </span><br> <p>’’اور (اے بنیﷺ!)جب میرے بندے آپؐ سے میرے بارے میں سوال کریں تو(ان کو بتا دیجیے کہ)میں قریب ہوں۔میں تو ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی(اور جہاں بھی)وہ مجھے پکارے،پس اُنہیں چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں،اور مجھ پر ایمان رکھیں،تاکہ وہ صحیح راہ پر رہیں۔‘‘ (البقرہ:186)</p> <p>رمضان و قرآن اور صیام و قیام کا جو مشترک نتیجہ نکلے گا وہ یہ ہے کہ روح بیدار ہوگی،تقویت پائے گی اور اللہ کی طرف متوجہ ہوگی۔اسی لیے مذکورہ آیت میں خوشخبری ہے کہ میں کہیں دور نہیں ہوں۔مجھے تلاش کرنے کے لیے کہیں بیابانوں میں جانے اور پہاڑوں کی غاروں میں تپسیائیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔میں تمہارے بالکل قریب ہی ہوں،گویا؂ </P> <p style="text-align: center;">دل کے آئینے میں ہے تصویر یار <p style="text-align: center;">جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی <p> تمام قدیم مذاہب میں اللہ کے ساتھ بندوں کے ربط و تعلق کا مسئلہ ہمیشہ ایک لا ینحل گتھی بنا رہا ہے۔اکثر مذہبوں نے تو اللہ کو اتنا دور اور اتنا بعید فرض کرلیا ہے کہ اس تک براہِ راست رسائی گویا ممکن ہی نہیں۔قرآن مجید نے اس وہم کو دور کرکے صاف صاف بتادیا ہے کہ تم جسے دور سمجھ رہے ہو ،وہ دور نہیں ہے،تمہارے بالکل قریب ہے۔اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب چاہو اور جہاں چاہو اُس سے ہم کلام ہوجاؤ۔</p> اللہ تعالیٰ تک رسائی کے لیے تمہاری دعا کسی پوپ،کسی پادری،کسی پروہت،کسی پجاری،کسی پنڈت یا کسی پیر کے واسطے کی محتاج نہیں ہے ۔اللہ کا ربط و تعلق بندے کے ساتھ براہِ راست ہے۔یہاں کسی واسطے کی ضرورت ہے ہی نہیں!ہاں البتہ اس تعلق کے مابین حجاب ہم خود ہیں۔ہماری حرام خوری،ہماری غفلتیں حجاب بنی ہوئی ہیں۔اپنی غفلتوں کا پردہ چاک کیجئے۔اللہ کی جناب میں توبہ کیجئے! وہ ہرآن ،ہر لحظہ آپ کی دعا کو سننے والا ہے۔وہ ہمیشہ ہی قریب رہتا ہے اور رمضان میں تو اس عموم میں خصوص پیدا ہوجاتا ہے۔ <p style="text-align: center;">عظمتِ صیام و قیام رمضان(ڈاکڑ اسرار احمد ﷫)

Related Content

articleUrdu2 min

Messaq (May 2026)

میثاق (مئی 2026)

عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔

articleUrdu0 min

Nida-e-Khilafat (April 28 2026)

ندائے خلافت (28 اپریل 2026)

مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)