Description
<span style="color: black;"><span style="font-size: 25px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 12)۔ </span><br> اسلام نے عید کے دن کو محض خوشی و مسرت کا دن نہیں قرار دیا ہے بلکہ اس نے خوشی و مسرت کے دن کے ساتھ ساتھ اسے تسبیح و تہلیل،ذکر و عبادت اور اپنے مسلمان بھائیوں میں جو محتاج اور مفلوک الحال ہیں، ان کی امداد و غم گساری کا دن بھی قرار دیا ہے۔خوشی و مسرت کے نام پر دوسری قوموں میں جو ہر طرح کی آزادی پائی جاتی ہے۔اس کے برعکس اسلام اپنے ماننے والوں کو اخلاقی اور شرعی حدود کا پابند بناتا ہے اور انہیں بے لگام نہیں چھوڑ دیتا ہے۔مسلم بندہ احکام شریعت اور اپنے پیغمبر علیہ السلام کی ہدایت کا پابند ہوتا ہےاورجو پابندی نہیں کرتا وہ سچا مسلمان ہر گز نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ کے بندوں کو ایک پُر مشقت عبادت کے بعد خوشی کا ایک دن میسر کیا گیا تاکہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں اور اللہ کی تعریف کریں۔ <span class="Font_AlMushaf"> {وَلِتُكْبَرُوا اللهَ عَلَى مَا هَذَلِكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴿﴾} </span>اللہ کی تعریف کہ اس نے ہم کو یہ مشقت والی عبادت کی توفیق دی اور اس بات پر شکر کہ اس نے اہل اسلام کو کھلے میدانوں میں جمع ہونے کا حکم دے کر ہمیں محبت و مودت کی خوبصورت لڑی میں پرودیا۔عید کی نماز میں جمع ہونے کا مقصد یہ ہے کہ ہم باہمی کدورتیں اور نفرتیں،قبائلی و علاقائی تعصّبات،مسلکی و سیاسی تفریقات اور افتراقات کو بھلاکر اکٹھے ہو کر اہل اسلام کی یگانگت کا عملی مظاہرہ کریں۔عید کا دن پیغام ہے ہر اس روزے دار کے لیے جس کے لیے یہ دن واقعی جہنم سے آزادی کا دن قرار پاگیا۔جس روزہ دار نے اپنے گناہ معاف کروالیے،جو اللہ کا ویسا بندہ بن گیا جیسا رمضان بنانا چاہتا تھا۔جس کو رمضان نے حلم و بردباری،عفو درگزر،تواضع و عاجزی اور عبادت و ریاضت کا پابند بنادیا۔جس روزہ دار کے دن اطاعت و فرمانبرداری سے اور راتیں قیام سے مزین ہوگئیں اور جو یہ سب نہ کماسکا وہ اپنا محاسبہ کرلے۔ابھی زندگی کی رونق باقی ہے،ابھی سانس چل رہے ہیں،ابھی تبدیلی کا امکان باقی ہے۔صرف نئے کپڑے پہن کر عید کی خوشیوں میں شریک ہونے والا مسلمان یاد رکھے کہ حقیقی خوشی تو اس کی ہے جس کا دل اللہ کی محبت سے بھر چکا ہے،جس کے دل میں گناہ سے نفرت کا مضبوط بیچ بویا جاچکا ہے۔ <p style="text-align: center;">پروفیسر زید حارث(کے کالم سے اقتباس)۔
Related Content
Messaq (May 2026)
میثاق (مئی 2026)
عرضِ احوال:اُمّتِ مسلمہ:اتحاد ہی میں بقا!،تذکرہ و تبصرہ:مسلم دنیا کی وحدت،ابوظبی سیریز:حقیقتِ ایمان،درس قرآن:سُورۃُ البقرۃ(۷)،رفتید ولے نہ ازدلِ ما:بیسویں صدی کا ایک عظیم داعیٔ قرآن،ظروف و احوال:حرفِ بدر ابر لب آوردن خطاست!،دعوت فکر:صیہونیت اور ہندوتوا:ایک ہی سکّے کے دو رُخ۔
Nida-e-Khilafat (April 28 2026)
ندائے خلافت (28 اپریل 2026)
مذاکرات میں تعطل کب تک؟،دعا کی فضیلت،ضرورت اور آداب،امریکہ ایران مذاکرات،آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش،محنت کشوں کا عالمی دن،امریکہ،اسرائیل،ایران جنگ اور علامہ اقبال۔
Faith is a complete way of life.
29178
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)