Description
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br>مسلمانان پاکستان اللہ تعالٰی کی جانب سے بڑے سخت امتحان اور کڑی آزمائش سے دو چار ہیں اور ہر حساب و کتاب سے ماوراءاور بڑی سے بڑی توقعات سے بھی بڑھ کر جوا انسان عظیم ( نفاذِ اسلام کے وعدہ پر آزاد و خود مختارملک عطا کرنے کی صورت میں) قدرت نے کیا تھا اس کی ناقدری و ناشکری اور صریح وعد و خلافی پر سزا کا ایک بہت سخت کوڑا مشرقی پاکستان کےسقوط اور وہاں انتہائی ذلت آمیزشکست کی صورت میں ہماری پٹھ پر پڑ چکا ہے۔ تا ہم واقعہ یہ ہے کہ یہ بھی اللہ تعالی کے اس قانون کا مظہر ہے کہ (ترجمہ): ہم انہیں (آخری اور) بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب کا مزہ چکھائیں گے، شاید کہ یہ( اپنی روش سے )باز آجائیں۔ (السجدہ: 21) اللہ تعالی نے ابھی آخری سزانہیں دی اور طلافی مافات کی مہلت عطا کی ہوئی ہے۔ اس لئے کہ یہ بچا کچا پاکستان بھی ہر گز کوئی حقیر شے نہیں ہے بلکہ وسائل اور امکانات کے اعتبار سے اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے۔ اور بفضلہ تعالٰی ابھی مشرقی پاکستان بھی نام کی تبدیلی کے باوجود ایک آز اد و خود مختار ملک کی حیثیت سے ان ہی حدود کے ساتھ دنیا کے نقشے پر قائم ہے جن کے ساتھ 1947ء میں اس کا ظہور ہوا تھا۔ گو یا ابھی موقع ہے جگر کےاس شعر کے مطابق کہ ۔ <br> چمن کے مالی اگر بنالیں موافق اپنا شعار اب بھی<br> چمن میں آسکتی ہے پلٹ کر چمن سے روٹھی بہار اب بھی<br> ہم اپنی روش کو اس آسمانی منصوبے کے مطابق اور موافق بنا لیں جس کی ایک کڑی پاکستان کا قیام ہے تو کوئی عجب نہیں کہ برصغیر کے اس گوشے میں اسلام کا از سرنو تمکن و استحکام جہاں آج سے تیرا سو سال قبل صنم خانہ ہند کا اولین، دارا سلام قائم ہوا تھا، اس کے کسی نئے عروج کا پیش خیمہ ثابت ہو۔ “راز خدائی ہے یہ، کہہ نہیں سکتی زبان” بصورت دیگر ہمارا حشر اس شخص کا ساہو گا، جس کا ذکر سور ۃ الاعراف کی آیات 175,176 میں آیا ہے۔ “جسے ہم نے اپنی خاص نشانیاں عطا کی تھیں مگر وہ ان سے بھاگ نکلا، تو پیچھے لگ گیا اس کے شیطان اور شامل ہوکر رہا وہ سخت گمرا ہوں میں ،اور اگر ہم چاہتے تو اسے اپنی نشانیوں کے طفیل رفعتوں کا مکین بنادیتے مگر وہ بد بخت تو زمین ہی کی جانب جھکتا گیا ۔” گویا اس صورت میں نہ اندیشہ ہے کہ “ ہماری” داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں! <p style="text-align: center;"> <b>(مسلمانان پاکستان ! مہلت کہیں ختم نہ ہو جائے) </b> </p><p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Istahkaam-e-Pakistan/16/40111/40396/58664" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p></span>
Related Content
Faith is a complete way of life.
29178
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)
Absolute sovereignty belongs only to Allah!
29177
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 15)۔ </span><br> دین اسلام کی فطرت ایک بنیادی اور اصلی حقیقت پیشِ نظر رکھتی ہے۔وہ یہ کہ انسانی زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کا بھی اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ مطلقہ کے سامنے جھکناواجب ہے۔یہ حاکمیت مطلقہ اس کی شریعت میں متمثل ہوتی ہے۔زندگی کا جو جزو بھی اس سے باہر ہوگا، اس حد تک زندگی کو اللہ کے دین سے بغاوت و خروج سمجھا جائے گا۔اور اس سے یہ بات از خود لازم آجاتی ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی جزو بھی بشری حاکمیت کے تابع نہ رہے۔بشری حاکمیت سے پوری خلاصی حاصل کی جائے۔جس بشر کو جس حد تک تحلیل و تحریم کا اختیار سونپا جائے گا وہ اُسی حد تک سونپنے والوں کا ’’خدا‘‘ ہوگا۔وہ خود بھی۔۔۔اگر زندہ ہو اور برضاءورغبت،بالجبر و اکراہ ایسا کرے۔۔۔باغی ہے۔اور اُسے یہ اختیار دینے والے بھی اللہ کی حاکمیت کے باغی ہیں۔کائنات کا الٰہ فقط ایک اللہ واحد ہُ ہے۔ <p style="text-align: center;">سید قطب شہید ؒ (تفسیر فی ظلال القرآن)
Tower of Light
29176
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 14)۔ </span><br> <p> ایک ایسی شخصی زندگی جو ہر طائفہ انسانی اور ہر حالت انسانی کے مختلف مظاہر اور ہر قسم کے صحیح جذبات اور کامل اخلاق کا مجموعہ ہو،صرف محمد رسول ﷺ کی سیرت ہے۔اگر دولت مند ہو تو مکے کے تاجر اور بحرین کے خزینہ دار کی تقلید کرو،بادشاہ ہو تو سلطانِ عرب کا حال پڑھو،اگر فاتح ہو تو بدر و حنین کے سپہ سالار پر ایک نظر ڈالو،اگر استاد اور معلم ہو تو صفہ کی درسگاہ کے معلم قدس کو دیکھو،اگر واعظ اور ناصح ہو تو مسجد مدینہ کے منبر پر کھڑے ہونے والے کی باتیں سنو،اگر تنہائی و بے کسی کے عالم میں حق کی منادی کا فریضہ انجام دینا چاہتے ہو تو مکے کے الصادق و الامین نبی ﷺ کا اسوۂ حسنہ تمہارے سامنے ہے۔اگر تم حق کی نصرت کے بعد اپنے دشمنوں کو زیر اور مخالفوں کو کمزوربنا چکے ہو،تو فاتح مکہ کا نظارہ کرو۔اگر یتیم ہو تو عبد اللہ و آمنہ کے جگر گوشے کو نہ بھولو،اگر عدالت کے قاضی اور پنجایت کے ثالث ہو تو کعبے میں طلوعِ آفتاب سے پہلے داخل ہونے والے ثالث کو دیکھو جو حجر اسود کو کعبے کے ایک گوشے میں کھڑا کررہا ہے،مدینے کی کچی مسجد کے صحن میں بیٹھنے والے منصف کو دیکھو،جس کی نظرِ انصاف میں شاہ و گدااور امیر و غریب برابر تھے، اگر تم بیویوں کے شوہر ہو تو خدیجہ اور عائشہk کے مقدس شوہر کی حیاتِ پاک کا مطالعہ کرو،اگراولاد والے ہوتو فاطمہk کے والد اور حسن و حسین i کے نانا کا حال پوچھو۔غرض تم جو کوئی بھی ہو،کسی حال میں بھی ہو تمہاری زندگی کے لیے نمونہ،تمہاری سیرت کی درستی اور اصلاح کے لیے سامان ،تمہارے ظلمت خانے کے لیے ہدایت کا چراغ اور رہنمائی کا نور محمد رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے خزانے میں ہر وقت اور ہمہ دم مل سکتا ہے۔صلی اللہ علیہ والہ وصحبہ وبارک و سلم! </p> <p style="text-align: center;">سید سلیمان ندوی ؒ (خطباتِ سیرت)