Articles

Read Quran Academy articles and Unicode content.

Clear

142 results with 1 filter

Page 2 of 6

articleUrdu0 min

The Stability and survival of Pakistan are Indispensable

استحکام و بقاء پاکستان کے ناگزیر لوازم

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 41)۔ </span><br> <p> ملک و ملت کے استحکام ہی نہیں،بقا تک کے لیے حسبِ ذیل چیزیں نا گزیر اور لازمی ہیں : </p> <p> • ایک ایسا طاقتور انسانی جذبہ جو جملہ حیوانی جبلّتوں پر غالب آجائے اور قوم کے افراد میں کسی مقصد کے لیے تن من دھن لگا دینے حتیٰ کہ جان تک قربان کردینے کا مضبوط ارادہ اور قومی داعیہ پیدا کردے۔</p> <p> • ایک ایسا ہمہ گیر نظریہ جو افرادِ قوم کو ایک ایسے مضبوط ذہنی و فکری رشتے میں منسلک کرکے بنیان مرصوص بنادے جو رنگ ،نسل ، زبان اور زمین کے تمام رشتوں پر حاوی ہوجائے اور اس طرح قومی یک جہتی اور ہم آہنگی کا ضامن بن جائے!</p> <p> • عام انسانی سطح پر اخلاق کی تعمیرِ نو جو صداقت ،امانت،دیانت اور ایفاءِ عہد کی اساسات کو از سرِ نو مضبوط کردے اور قومی و ملی زندگی کورشت،خیانت،ملاوٹ،جھوٹ،فریب،نا انصافی ، جانبداری،ناجائز اقرباپروری اور وعدہ خلافی ایسی تباہ کن بیماریوں سے پاک کردے۔</p> <p> • ایک ایسا نظامِ عدلِ اجتماعی (System of Social Justice)جو مرد اور عورت،فرد اور ریاست،اور سرمایہ اور محنت کے مابین عدل و اعتدال اور قسط و انصاف اور فی الجملہ حقوق و فرائض کا صحیح و حسین توازن پیدا کردے! تحریک پاکستان کے تاریخی اور واقعاتی پس منظر،اور پاکستان میں بسنے والوں کی عظیم اکثریت کی فکری و جذباتی ساخت،دونوں کے اعتبار سے یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ اس ملک میں یہ تمام تقاضے صرف اور صرف دین و مذہب کے ذریعے اسلام کے حوالےاور ناتے سے پورے کیے جاسکتے ہیں۔</p> <p style="text-align: center;"> استحکام پاکستان ( ڈاکٹر اسرار احمد ؒ )

articleUrdu0 min

The power of Faith and Belief.

ایمان و عقیدہ کی طاقت۔

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 40)۔ </span><br> <p> جب ایمان کی حقیقت دل میں جا گزیں ہوجاتی ہے تو وہ اس عمل پر اُ کساتی ہے،تاکہ واقعاتی اور عملی زندگی میں اپنا فرض ادا کرے۔دنیا میں عقیدے کے عملی معجزات ماضی میں اور حال میں بہت سے ہوئے ہیں،اور مستقبل میں بھی ہوں گے۔ان معجزات نے دُنیا میں انقلاب برپاکئے ہیں۔دراصل عقیدہ انسان کی جان میں ایک عظیم قوت پیدا کردیتا ہے،اس قوت کے باعث نفسِ انسانی بڑے بڑے کارنامے انجام دینے کے قابل ہوجاتا ہے۔عقیدہ،فرد اور جماعت کو حیرت انگیز قربانیوں پر آمادہ کرتا ہے۔عقیدے کے زور سے دُنیا کی فانی زندگی آخرت کی باقی زندگی کی کامیابی میں بدل جاتی ہے۔عقیدہ انسان کی تمام قوتوں کی مجتمع کردیتا ہے،اس کو ہدف اور مقصد عطا کرتا ہے اور اس کے لیے قربانی کرنے کی اُمنگ پیدا کرتا ہے۔عقیدہ انسان کو حکومت،مال و دولت اور لوہے اور آگ کی قوتوں کے آگے کھڑا کردیتا ہے۔ایسا شخص باطل سے نہیں گھبراتا اور برائی کی قوتوں سے نہیں ڈرتا،خواہ وہ قوتیں کس قدر ہوں اور کتنی طاقت ور ہوں۔عقیدے کی طاقت ان تمام قوتوں کو شکست دے دیتی ہے اور اُن پر غالب آجاتی ہے۔یہ فتح ایک فانی فرد کی نہیں ہوتی بلکہ ایک باقی اور قائم و دائم عقیدے کی ہوتی ہے۔ <p style="text-align: center;"> فی ظلال القرآن (سید قطب شہیدؒ)

articleUrdu0 min

The Sharia law was not revealed for the slaves of the world!

28170

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 39)۔ </span><br> <p>یہ شریعت بزدلوں اور نامردوں کے لیے نہیں اُتری ہے،نفس کے بندوں اور دنیا کے غلاموں کے لیے نہیں اُتری ہے،ہوا کے رُخ پر اُڑنے والے خس وخاشاک،اور پانی کے بہاؤ پر بہنے والے حشرات الارض اور ہر رنگ میں رنگ جانے والے بے رنگوں کے لیے نہیں اُتری ہے۔یہ اُن بہادر شیروں کے لیے اُتری ہے جو ہوا کا رُخ بدل دینے کا عزم رکھتے ہوں،جو دریا کی روانی سے لڑنے اور اُس کے بہاؤکو پھیردینے کی ہمت رکھتے ہوں،جو’’صبغۃ اللہ‘‘کو دنیا کے ہر رنگ سے زیادہ محبوب رکھتےہوں اور اُسی رنگ میں تمام دنیا کو رنگ دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔مسلمان جس کانام ہے وہ دریا کے بہاؤ پر بہنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ہے۔اس کی آفرینش کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ زندگی کے دریا کو اُس راستہ پر رواں کردے جو اس کے ایمان و اعتقاد میں راہ راست ہے،صراطِ مستقیم ہے۔اگر دریا نے اپنا رُخ اس راستہ سے پھیردیا ہے تو اسلام کے دعوے میں وہ شخص چھوٹا ہے جو اس بدلے ہوئے رُخ پر بہنے کے لیے راضی ہوجائے۔حقیقت میں تو سچا مسلمان ہے،وہ اس غلط رو دریا کی رفتار سے لڑے گا،اس کا رُخ پھیر نے کی کوشش میں اپنی پوری قوت صرف کردے گا،کامیابی اور ناکامی کی اس کو قطعاً پروانہ ہوگی،وہ ہر اُس نقصان کو گوارا کرے گا جو اس لڑائی میں پہنچے یا پہنچ سکتا ہو حتیٰ کہ اگر دریاکی روانی سے لڑتے لڑتے اُس کے بازو ٹوٹ جائیں،اُس کے جوڑ بند ڈھیلے ہوجائیں،اور پانی کی موجیں اُس کو نیم جاں کرکے کسی کنارے پر پھینک دیں،تب بھی اُس کی روح ہر گز شکست نہ کھائے گی۔</p> <p style="text-align: center;"> مولانا سید مودودی (ماخذ’’اشارات‘‘)

articleUrdu0 min

Deviation of Muslim Governments from Sharia

مسلمان حکومتوں کا شریعت سے انحراف

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 38)۔ </span><br> مسلمان حکومتیں آج عدالت،سیاست اور انتظام میں ہر لحاظ سے اسلامی شریعت سے منحرف ہوچکی ہیں۔اسلام کے بنیادی اصولوں کو انہوں نے اس طرح فراموش کردیا ہے کہ اسلام کے عطا کردہ آزادیٔ فکر،مساوات اور انصاف آج کہیں ڈھونڈےسے بھی نہیں ملتے۔اسلام کے واجبات کو اُنہوں نے نظر انداز کر رکھا ہے۔ملتِ مسلمہ میں اتحاد،خیر خواہی اور باہمی تعاون کے جذبات کا خطرناک حد تک فقدان ہے۔یہ حکومتیں ظلم،وحشت اور درندگی،بہیمیت پر دلیر ہوگئی ہیں۔معاشرے کی عمارت کو فساد، تحزیب کاری، گناہ اور نافرمانی،بغاوت اور سرکشی کی بنیادوں پر استوار کر رہی ہیں۔ان لوگوں نے اسلام کے دشمنوں کو اپنا دوست بنالیا ہے،حالانکہ اسلام ایسی دوستیوں اور اتحادوں کا سختی سے مخالف ہے۔یہ لوگ مسلمانوں کے معاملات میں اپنے ان کافر دوستوں کی آراء سے فیصلے کرتے ہیں۔حالانکہ یہ اطاعت اُن کے لیے قطعاً جائز نہیں۔اس لیے مسلمان حکمران اسلام کی موجودہ حالت کے لیے دوسرے تمام لوگوں سے بڑھ کر جوابدہ ہیں۔ہوسکتا ہے وضعی قوانین انہیں جوابدہی سے مستثنیٰ کردیں،لیکن اللہ کے ہاں اُنہیں ہر چھوٹےسے چھوٹے اور بڑے سے بڑے عمل کے لیے جوابدہی کرنی ہوگی۔ </p> <p style="text-align: center;"> عبد القادر عودہ شہید ؒ (کتاب’’راہِ وفا‘‘)

articleUrdu0 min

Some Aspects of the example of the Prophet Muhammad (ﷺ) and Guidance for thought and action.

28091

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 36)۔ </span><br> <p>اقامتِ دین،اعلائے کلمتہ اللہ اور قیام عدل کے لئے خلافتِ ارضی کی تعبیر عبادتِ رب ہی ہے،جو تمام جن و انس اور ہر حاکم و محکوم پر فرض ہے۔اگر قرآن و سنت سے عبادتِ رب کے معنی و مفہوم کو تعصب سے پاک ہو کر سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اس کے بعد جس کے دل کے اندر بھی خدائے علیم و خبیر سے کچھ بھی حیاء ہو،وہ بشرطِ سلامتی ہوش و حواس عبادتِ رب سے حکمرانوں کو مستثنیٰ کرنے اور اسے صرف عوام کے لئے خاص کرنے کی بات نہیں کرسکے گا۔اسلام کے جن اَحکام کا تعلق قُوّتِ نافذہ کے ساتھ ہے انہیں اگر حکمران طبقہ عبادتِ رب سمجھ کرادا کرنے سے گریز کرتے ہیں تو کیا اُن کی اِس ہٹ دھرمی پر انہیں خدا کی عبادت سے استثناء کے سرٹیفکیٹ جاری کئے جائیں؟</p> اقامتِ دین کی بحث دراصل سنت و سیرتِ رسول ﷺ کی بحث ہے،سیرتِ رسول ﷺاورمقام نبوّت سے وہ لوگ قطعاً نا واقف ہیں جو آپ ﷺ کی پوری مدنی زندگی کے شب و روز کی جدوجہد اور جہاد وقتال فی سبیل اللہ میں گزری مبارک حیاتِ طیبہ کو صرف مسجد نبوی کے درس و تعلیم تک محدود کرتے ہیں۔ </p> <p style="text-align: center;"> پروفیسر ڈاکٹر شمس الحق انیس (کی تحریر سے ایک اقتباس)

articleUrdu0 min

The Prophet's ﷺ invitation was for all mankind.

28083

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 35)۔ </span><br> <p>رسول اللہ ﷺجو دعوت لے کر آئے تھے،وہ کسی مخصوص قوم کے لیے نہیں بلکہ تمام انسانوں کے لیے تھی۔آپ ﷺ کا پیغام پوری انسانیت کے لیے عام تھا۔وہ کسی نسلی،قومی یا گروہی مزاج کا حامل نہ تھا۔اسی لیے حضور ﷺ نے اپنی دعوت کو روئے زمین کے تمام حکمرانوں اور شہنشاہوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔مسلمانوں پر لازم ہے کہ پہلے اپنے درمیان دعوت کا فریضہ انجام دیں اور اپنی اصلاح کریں۔یہاں تک کہ جب اس راہ میں بڑا فاصلہ طے کرلیں اور اسلامی نظام کو اپنی زندگی اور اپنے معاملات میں نافذ کر چکیں، تب اس دوسرے فریضہ کو انجام دیں یعنی دوسروں کو اسلام کی دعوت دیں۔مسلمانوں کی ذاتی اصلاح دوسروں کو اسلام کی دعوت دینے کا ایک اہم جزو ہے۔لوگ اخلاق و کردار میں صالح نمونہ کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ اس کے نقش قدم پر چلیں اور اس کی اتباع کریں۔اگر آج مسلمان اپنے اسلام پر فخر کریں اور اس کے حصول و مبادی اور احکام کو اپنے معاشروں میں نافذ کریں تو اس کی ضوفشانی سے افریقہ کے بیابان اور یورپ کے دور دراز علاقے منور ہوجائیں گے۔</p> <p style="text-align: center;"> سیرت نبویہ ﷺ (ڈاکٹر محمد سعید رمضان البوطی)

articleUrdu0 min

Biography of the Prophet Muhammad ﷺ and us

28078

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 34)۔ </span><br> <p>کون شمار کر سکتا ہے کہ ہر سال کتنی مجالس میلاد اور جلسہ ہائے سیرت ہمارے ملک میں منعقدد ہوتے ہوں گے؟ ایک ربیع الاوّل ہی کے مہینے میں کتنے وعظ اور کتنی تقریریں ہوا میں لہریں اُٹھادیتی ہوں گی؟ کتنے مقالے اور کتابیں لکھی جاتی ہوں گی؟ کتنے جرائد کے خاص نمبر اس موضوع پر شائع ہوتے ہوں گے؟شعراءکتنی نعتیں لکھتے ہوں گے۔لیکن دوسری طرف یہ بھی ذرا سوچئے کہ ایک اچھے مقصد پر قوتوں اور روپے کے اس صرف کا واقعی نتیجہ کیا نکلتا ہے؟کتنےافراد ہوں گے جو ان نیک مساعی کی بدولت سیرت نبویؐ کے سانچے میں اپنی زندگیاں ڈھالنے کی مہم میں ہر سال لگ جاتے ہوں گے؟اور اگر عملاٌ حاصل نہیں ہورہا جو مطلوب ہے،بلکہ اس سے بڑھ کر ماتم اس کا ہے کہ ہمارے پلّے وہ کچھ پڑ رہا ہے جو محسن انسانیتؐ کے پیغام اور کارنامے سے کھلم کھلا ٹکراتا ہے۔</p> ہمارے اندر آج ایسے عناصر پروان چڑھ رہے ہیں جو حضورﷺ کے مشن کو زمانۂ حال کے لیے ناکارہ اور حضور ﷺ کے عطا کردہ نظامِ زندگی کو ناقابلِ عمل قرار دیتے ہیں، ایسے عناصر جو حضورﷺ کی تعلیمات کا مذاق اڑاتے ہیں،ایسے عناصر جو سیرت اور حدیث کا سارا ریکارڈ دریابرد کر دینا چاہتے ہیں،ایسے عناصر جو قرآن کو،قرآن پیش کرنے والی ہستی ؐ کی 23 سالہ جدوجہد اور لازوال تحریکی کارنامے سے بے تعلق کردینا چاہتے ہیں اور حضور ﷺ کی ہستی کو بطور عملی نمونۂ انسانیت کے ہماری نگاہوں سے گم کردینے کے لیے کوشاں ہیں۔پھر ستم بالائے ستم یہ کہ تعبیر و تاویل کے نام پر ہمارے ہاں یہ کوشش ہورہی ہے،کہ حضور ﷺ کی شخصیت،پیغام اور کارنامے کو موجودہ فاسد تہذیب کے فکری سانچے میں ڈھال دیا جائے اور محسن انسانیتؐ کی بالکل نئی تصویر عالمی طاقتوں کے ذوق کے مطابق تیار کردی جائے۔ <p style="text-align: center;"> محسنؐ انسانیت (نعیم صدیقی)

articleUrdu0 min

Prophet Muhammad ﷺ: The Revolutionary Preacher

28062

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 33)۔ </span><br> اس میں ہر گز کوئی شک نہیں کہ ’’داعیٔ انقلاب ‘‘ کا اطلاق اگر نسلِ آدم کے کسی فرد پر بتمام و کمال ہو سکتا ہے تو وہ صرف مُحَمَّدُرَّسُولُ اللهﷺہیں! اس لیے کہ تاریخِ انسانی کے دوران اور جتنے بھی انقلاب آئے وہ بشمول انقلاب فرانس و انقلابِ روس سب کے سب جُزوی تھے اور اُن سے حیاتِ انسانی کے صرف کسی ایک گوشے ہی میں تبدیلی رُونما ہوئی۔ جیسے انقلاب فرانس سے نظامِ سیاسی اور ہیٔتِ حکومت میں اور انقلابِ روس سے نظامِ معیشت کے تفصیلی ڈھانچے میں جب کہ نبی اکرمﷺ نے جو انقلاب ِعظیم دنیا میں برپا کیا اُس سے پوری انسانی زندگی میں تبدیلی رونما ہوئی اور عقائد ونظریات ، علوم وفنون ، قانون و اخلاق، تہذیب و تمدُن ، معاشرت و معیشت اور سیاست و حکومت الغرض حیاتِ انسانی کا کوئی گوشہ بھی بدلے بغیر نہ رہا۔<p> رہی آپؐ کی انقلابی جدوجہدتو واقعہ یہ ہےکہ اس اعتبارسے بھی نسلِ انسانی کی پوری تاریخ میں کوئی دوسری مثال موجود نہیں ہے کہ کسی ایک ہی شخص نے انقلابی فکر بھی پیش کیا ہو، پھر دعوت کا آغاز بھی خودہی کیا ہو، پھر تنظیمی مراحل بھی آپ ہی نے طے کیے ہوں اور پھر اس انقلابی جدوجہد کو کشمکش اور تصادم کے جَملہ مراحل اور ہجرت و جہاد و قتال کی تمام منازل سے گزار کر کامیابی سے ہمکنار بھی کر دیا ہو۔ اور یہ نہایت محیرُ العقول کارنامہ اور حد درجہ عظیم معجزہ ہے نبی اکرمﷺ کا کہ آپؐ نے ایک فردِ واحد سے دعوتِ حق کا آغاز فرما کر کل 23 برس ( اور وہ بھی قمری) کی مختصر سی مدت میں اعلاءِ کلمۃِ اللہ کا حق ادا فرمادیا اور سرزمینِ عرب پر دین حق کو بالفعل غالب و نافذ فرما دیا۔</p> <p style="text-align: center;"> نبی اکرمﷺ کا مقصد بعثت (ڈاکٹر اسرار احمد ﷫)

articleUrdu0 min

Ending Oppression and Establishment of Justice

28054

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 32)۔ </span><br> <p> ظلم کسی بھی حالت میں قابلِ قبول نہیں ہے۔ظالم فرد ہو یا جماعت،عوام ہوں یا حکومت،ظالم کا ساتھ کسی صورت میں بھی نہیں دیا جاسکتا۔ظالم کے ساتھ تعاون کرنے والا بھی اللہ اور اُس کے رسولﷺ کے نزدیک ظلم میں برابر کا شریک ہے۔حضورﷺ نے فرمایا: ’’ جس کسی نے حق کو دبانے کے لیے باطل کا ساتھ دیا، اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے اُس سے برأت و بے زاری کا عام اعلان ہے۔‘‘(سنن نسائی)</P> <p> صحابئ رسول ﷺ حضرت عمر بن سعد ؓ نے اسلام کی کتنی خوشنما تعریف کی ہے! فرماتے ہیں </p> <p> ’’اسلام ایک ناقابلِ شکست فصیل ہے اور مضبوط دروازہ! اسلام کی فصیل اس کا عدل و انصاف ہے اور اس کا دروازہ حق و صداقت! اگر یہ فصیل گرجائےاور یہ دروازہ ٹوٹ جائے تو اسلام مغلوب ہوجائے گا۔جب تک سلطان مضبوط ہوگا،اسلام غالب رہے گا اور سلطان کی مضبوطی تلوار اور کوڑے کی بدولت نہیں ہوتی بلکہ اس کی مضبوطی کا راز حق و انصاف اور عدل و مساوات میں پنہاں ہے۔‘‘</P> سچی بات یہ ہے کہ جس قوم میں ظلم و ستم عام ہوجائے،وہ ہر لحاظ سے پستی میں مبتلا ہوجاتی ہے اور جس قوم میں عدل و انصاف کا بول بالا ہو وہ ہر میدان میں سرخرو ہوتی ہے۔ <p style="text-align: center;"> سید عمر تلمسانیؒ (شہید المحراب عمرؓ بن خطاب)

articleUrdu0 min

The Greatness of the Quran

28051

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 31)۔ </span><br> <p> نبی کریم ﷺنے فرمایا: ’’تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔‘‘(صحیح بخاری)</p> دوسری حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ اسی کتاب کے ذریعے سے کچھ قوموں کو بامِ عروج تک پہنچائے گا اور اسی کو ترک کرنےکے باعث کچھ کو ذلیل و خوار کردے گا۔‘‘(رواہ المسلم) اس حدیث کو جس قدر اہمیت علامہ اقبال نے دی ہے میرے علم کی حد تک کسی اور نے نہیں دی۔ <p style="text-align: center;"> وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر <p style="text-align: center;"> اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر <p> کہ وہ ایک ہاتھ میں قرآن اور ایک ہاتھ میں تلوار لے کر نکلے تھے اور دنیا پر چھاگئے تھے اور تم اسی قرآن کو چھوڑ کر ذلیل و رسوا ہوگئے ہو! اور اسی مضمون کو علامہ نے فارسی میں کس قدر خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے ؎</p> <p style="text-align: center;">خوار از مہجوریٔ قرآں شدی شکوہ سنجِ گردشِ دوراں شدی! <p>’’اے اُمت مسلمہ! تو قرآن کو ترک کرنے کے باعث ذلیل و خوار ہوئی ہے ،لیکن تو گردشِ دوراں کا شکوہ کررہی ہے اور اپنے زوال کا سبب ’’فلک کج رفتار‘‘ کو قرار دے رہی ہے حالانکہ فلک تو کسی قوم کی قسمت نہیں بدلتا۔اپنی ذلت و رسوائی کے ذمہ دار تم خود ہو۔‘‘</p> <p style="text-align: center;">اےچوشبنم بر زمیں افتندۂ در بغل داری کتابِ زندۂ <p>’’اے وہ اُمت جو شبنم کی طرح زمین پر پامال پڑی ہوئی ہے اور لوگ تجھے اپنے پاؤں تلے روند رہے ہیں،اگر اب بھی تم بلندی چاہتے ہو تو جان لو کہ تمہاری بغل میں ایک زندہ کتاب(قرآن مجید) موجود ہے۔‘‘</p> <p style="text-align: center;"> پروفیسر محمد عارف (کے کالم سے اقتباس)

articleUrdu0 min

Unity of Nation

28039

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 30)۔ </span><br> <p style="text-align: center;"> فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں <p style="text-align: center;"> موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں <p> اتحاد میں بڑی طاقت ہے۔ کسی ملک کی بقاء اور سالمیت کا انحصار قومی یکجہتی اور اتفاق پر ہے۔ کوئی جماعت ، کوئی ملک ، کوئی قوم ، اقوام عالم کی نگاہ میں عزت و آبرو اور وقار و احترام کا مقام نہیں پا سکتے جب تک کہ اس کے افراد میں یکجہتی اور ہم آہنگی نہ ہو۔ قومی اتحاد کے بغیر ترقی اور خوشحالی کا تصور بھی ایک خام خیال ہے۔</p> <p style="text-align: center;"> ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ <p style="text-align: center;"> پیوستہ رہ شجر سے،امید بہار رکھ <p style="text-align: center;"> اقبال مسلمانوں کو آپس میں متحد اور ہم آہنگ زندگی بسر کرنے کی پُر زور اپیل کرتے ہیں: <p style="text-align: center;"> منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک <p style="text-align: center;"> ایک ہی سب کا نبیؐ،دین بھی،ایمان بھی ایک <p style="text-align: center;"> حرم پاک بھی،اللہ بھی،قرآن بھی ایک <p style="text-align: center;"> کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک <p style="text-align: left;"> ابو عبد اللہ (سوشل میڈیا سے اقتباس)

articleUrdu0 min

Eternal Sunnah of Allah is the Support of the Believers.

28007

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 26)۔ </span><br> بلاشبہ یہ اللہ کی دائمی اور ناقابلِ تغیّر سنت ہے کہ وہ اہل ایمان کی نصرت فرماتا اور کافروں کو ذلیل کردیتا ہے‘ جبکہ بظاہر حالات اس کے برعکس نظر آرہے ہوتے ہیں۔قرآن کریم بتلاتا ہے اللہ سبحانہ کی ہمیشہ جاری رہنے والی سنت کے نتائج ضرور ظاہر ہو کر رہتے ہیں‘مگر ان نتائج کے اظہار میں افراد انسانی کی عمریں مقیاس نہیں ہیں اور نہ تاریخ کا کوئی عارضی مرحلہ پیمانہ ہے۔کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی وقت باطل وقتی طور پر کامیاب و کامران ہو کر روئے زمین کی غالب و کار فرما قوت بن جائے‘ لیکن یہ مرحلہ دائمی نہیں ہوتا بلکہ یہ دراصل ہمہ پہلو سنت اللہ کے اجرا کا ایک حصہ ہوتا ہے۔<p> باطل کی کارفرمائی کا یہ مرحلہ یا تو اس لیے آجاتاہے کہ اس مرحلے میں لوگوں کی باطل کے خلاف مزاحمت کی قوتیں ٹھٹھری ہوئی ہوتی ہیں اور ان میں باطل کے خلاف جہاد کرکے اسے ختم کردینے کا بُوتا نہیں ہوتا۔</p> ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔‘‘(الرعد:11)<p> اور کبھی اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ لوگ باطل کے ظلم کو انگیز کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں‘بلکہ اسے خوشگوار محسوس کرنے لگتے ہیں۔فرمان نبوی ﷺ ہے :’’ جیسے تم خود ہوگے ویسے ہی تمہارے حکمران ہوں گے۔‘‘(رواہ الحاکم)</p> اور کبھی ظلم و باطل خود ظالموں کی آزمائش کے لیے ہوتا ہے۔’’تاکہ وہ قیامت کے روز اپنے پورے بوجھ اٹھائیں۔‘‘(النمل:25)اور کبھی یہ مرحلۂ باطل و ظلم اس لیے آتا ہے کہ اللہ چاہتا ہے کہ مومنین کی جماعت کو چھانٹ کر علیحدہ فرمالے تاکہ وہ سلامتی ،استعداد اور قوت کے ساتھ حق کی ذمہ داری کو سنبھال سکیں۔جیسے سورۂ آل عمران(آیات 139تا141)میں فرمایا:’’دل شکستہ نہ ہو‘غم نہ کرو‘تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو۔اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے۔یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہے ہیں۔تم پر یہ وقت اس لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی(راستی کے) گواہ ہوں کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں۔اور وہ اس آزمائش کے ذریعے سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کردینا چاہتا تھا۔‘‘ <p style="text-align: center;">سید محمد قطب شہیدؒ (اسلام کا نظام تربیت)

articleUrdu0 min

Lessons from Tragedy of Karbala

28000

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 25)۔ </span><br> واقعہ کربلا تاریخ اسلامی کا وہ اندوہناک سانحہ ہے جو 10 محرم الحرام 61 ہجری کو عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔سانحہ کربلا میں سیدنا حسین نے اپنے اہل بیتؓ اور رفقاء کے ساتھ دین اسلام کی سر بلندی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔سانحٔہ کربلا منزل کی طرف جانے کا ایک راستہ ہے۔وہ منزل جو عظمتِ انسانی کا درس دیتی ہے اور جس کی وجہ سے حق و باطل کے درمیان اس فرق کی نشاندہی ہوتی ہے،جو کائنات میں ازل سے ابد تک انسانیت کے لیے رکھ دیا گیا ہے۔حضرت حسین کی ذاتِ اقدس در حقیقت وہ استعارہ ہے جو رہتی دنیا تک باطل کے سامنے ڈٹ جانے کی مثال پیش کرتا رہے گا۔حضرت حسین نے ظلم و جابر حکمران کے ہاتھوں جان بلب اسلام کو ایک دفعہ پھر زندگی عطا کی اور اسلامی معاشرے کو اپنے خطوط پر استوار کیا جن خطوط پر رسول اللہﷺ نے استوار فرمایا تھا ۔اسلامی تہذیب سے رُخ پھیر کر جاہلیت کی طرف پلٹنے والی قوم کو پھر سے قرآن و سنت کے سائے میں بندگی کا درس اور تر بیت دے کر پھر سے ایک مہذب قوم میں بدل دیا۔تاریخ میں ایسے بہت کم واقعات ملتے ہیں جہاں انسان کے پاس جان بچانے کا راستہ بھی موجود ہو مگر وہ اپنے اصول ، نظرئیے اور سچ کی خاطر وہ راستہ اختیار نہ کرے بلکہ اپنے خاندان سمیت جان دے کر حق و سچائی کے راستے میں ایک ایسی لازوال شمع جلادے، جو تا ابدانسانوں کے لیے مشعل راہ بن جائے۔کربلا ایک ایسا آفتاب ہےجس کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑے گی۔جس کے اُجالے ہمیشہ عالم انسانی کو یہ احساس دلاتے رہیں گے کہ چند روزہ زندگی یا کسی معمولی سے مفاد کے لیے باطل کی اطاعت قبول کرلینا ایک ایسا سانحہ ہے جو انسان کی انفرادی اور معاشرے کی اجتماعی زندگی کو ذلت و زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں اتار دینا ہے۔دنیا آج بھی وقت کے یزیدوں سے بھری پڑی ہے۔ظلم آج بھی ہورہا ہے،کہیں فلسطین و غزہ میں اور کہیں کشمیر میں اور کہیں برما میں، کہیں بھی باطل غالب نہیں آسکا، ہر جگہ ایک مزاحمت جاری ہے،یہ کربلا کا سبق ہے کہ کسی بھی یزید کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہونا۔<p> حق اور سچ کے لیے ڈٹ جانا ہے،چاہے اس میں جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔</p> <p style="text-align: center;">نسیم شاہد(کے کالم سے انتخاب)

articleUrdu0 min

Message of Muharram

27990

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 24)۔ </span><br> اللہ تعالیٰ نے ماہ محرم کو عزت و احترام اور فضیلت کا مہینہ قرار دیا ہے۔محرم الحرام ایثار ،قربانی،اتحادِ اُمت ،باہمی رواداری اور پُر امن بقائے باہمی کا درس دیتا ہے۔مدینہ طیبہ سے میدان کربلا تک اسلام کے لیے عظیم قربانیوں کی تاریخ اسی ماہِ مبارک سے وابستہ ہے۔<p>جس طرح قبل از اسلام تاریخ کے ایسے عظیم واقعات اس ماہ مبارک میں پیش آئے جنہوں نے انسانیت کو اپنی طرف متوجہ کیا۔اسی طرح دورِ نبوت و رسالتؐ اور اسلام کے صدر اوّل میں ایسے واقعات پیش آئےکہ اُمت مسلمہ انہیں فراموش نہیں کرسکتی ۔خاص طور پر یکم محرم الحرام کو خلیفہ دوم،مراد رسولﷺ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور دس محرم الحرام کو نواسۂ رسولؐ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی اپنے قافلے اور خاندان نبوتؐ کے افراد کے ساتھ شہادت جیسے واقعات سے نا صرف مسلمان بلکہ انسانیت اور تاریخ انسانیت متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ان اہم واقعات کی وجہ سے اُمت نے اسلام کی سربلندی کی جدوجہد کے سفر کو مدینہ اور کربلا سے وابستہ کر لیا ہےکہ خون شہادت سے اسلامی تاریخ سرخ رُو ہے اور مسلمانوں کا ایمانی جذبہ اس سے جدوجہد کا درس دیتا ہے اور زندگی کی حرارت محسوس کرتا ہے۔</p> ان قربانیوں کا سب سے بڑا درس یہ ہے کہ ذاتی جذبات و خواہشات اور مفادات کو کسی بھی عظیم مقصد کے حصول کے لیے قربان کردیا جائے۔آج کے حالات میں جب امت مسلمہ بیرونی دباؤ کا شکار اور چاروں طرف سے دشمن طاقتوں کے گھیرے میں ہے۔ان حالات میں ہمارا فرض ہے کہ داخلی طور پر رواداری اور پُر امن بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل کیا جائے اور امت میں انتشار کی ہر کوشش کو ناکام بنادیا جائے۔یہی وقت کی ضرورت اور محرم الحرام کا پیغام ہے اور امت کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کی سب سے بڑی تدبیر بھی۔ <p style="text-align: center;">مولانا عبد الرؤف فاروقی(ایک کالم سے اقتباس)

articleUrdu0 min

False Systems of Life and Moral Corruption

27982

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 23)۔ </span><br> یہ ایک عملی حقیقت ہے کہ ہمیشہ اس کرۂ ارض پر ایسی قوتیں رہی ہیں جن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی اس دنیا میں قدم نہ جماسکے۔اس لیے کہ دنیا کے جس قدر غیر اسلامی نظام ہیں اُن کے کچھ مفادات و امتیازات ہوتے ہیں۔یہ نظام بعض کھوٹی اور جھوٹی قدروں پر قائم ہوتے ہیں۔جب بھی دنیا میں اسلامی نظام قائم ہوتا ہے،ایسی قوتوں کے مفادات ختم ہوجاتے ہیں۔چناچہ یہ باطل نظام ہائے زندگی انسانی نفوس کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور انسانوں کو انسانی سطح سے نیچے گرا کر اُن کے اندر اخلاقی بگاڑ پیدا کر کے ،اور ان کو حقیقت سے نا آشنا رکھ کر اسلامی نظام کی مخالفت میں لاکھڑاکر دیتے ہیں۔یوں عوام الناس اپنی جہالت کی وجہ سے اسلام کی راہ روکنے لگتے ہیں۔چناچہ شر کا زور ہوتا ہےاور باطل پھولا ہوا دکھائی دیتا ہے۔اور شیطان کی چالیں بہت گہری ہوتی ہیں۔اندریں حالات قرآن حاملین ایمان اور اسلامی منہاج حیات کے علمبرداروں کے لیے اعلیٰ اخلاقی معیار تجویز کرتا ہے تاکہ وہ شر اور شیطان کے ایجنٹوں سے اچھی طرح مقابلہ کرسکیں۔ان کی اخلاقی حالت مضبوط ہو،وہ دشمنوں کے خلاف لڑ سکیں اور ہر وقت ایسی جنگ کے لیے تیار ہوں جو اُن پر اسلام کے دشمن مسلط کردیں۔یہی ایک ضمانت ہے جس کی وجہ سے اسلام کی دعوت کی راہ نہیں رکتی،اور اسلامی نظام قائم ہوتا ہے۔ <p style="text-align: center;">فی ظلال القرآن(سید قطب شہیدؒ)

articleUrdu0 min

Is Someone Setting the Stage for Another Trial?

27975

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 22)۔ </span><br> ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’یہ چاہتے ہیں کہ اللہ (کے چراغ)کی روشنی (اسلام) کو منہ سے(پھونک مارکر)بجھادیں۔حالانکہ اللہ اپنی روشنی کو پُوراکر کے رہے گا ،خواہ کا فر نا خوش ہی ہوں۔‘‘(الصّف:8) <p>اس آیت میں یہود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ وہ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ یہودی کے بارے میں یہ بات کیوں کہی گئی کہ وہ اللہ کے نور کو گل کرنا چاہتے ہیں؟اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے جزیرہ نمائے عرب میں اس وقت مسلمانوں کے جو دشمن موجود تھے،ان پر ایک نگاہ ڈالنی ہوگی۔ان میں سے ایک تو مشرکین تھے جن کے سرخیل قریش مکہ تھے مگر یہ بہت بہادر اور جری لوگ تھے ،سامنے سے حملہ کرتے تھے، جبکہ دوسرے دشمن یہود تھے۔یہ انتہائی بزدل تھے۔ان کے بارے میں سورۂ حشر میں آیا ہے کہ یہ کبھی کھلے میدان میں مقابلہ نہیں کریں گے،ہاں چھپ کر قلعوں کے اندر سے پتھراؤ کریں گے۔ابو جہل نے تو اپنے باطل ’’دین‘‘ کے لیے بھی بہر حال گردن کٹوائی مگر ان میں اس کی ہمت نہیں۔یہ تو صرف پھونکوں سے کام چلانا چاہتے ہیں کیونکہ پروپیگنڈے اور سازشوں کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں۔مگر ان کی سازشوں اور پروپیگنڈےکے جواب میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اللہ تعالیٰ اپنے نور کا اتمام کرکے رہے گا چاہے یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو‘‘۔</p> آج کے حالات میں بھی اسی صورتحال کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔گویا <p> <p style="text-align: center;">آگ ہے،اولادِ ابراہیم ہے،نمرود ہے<center> کیا کسی کو پھر کؔسی کاامتحاں مقصود ہے؟</p> بعینہ یہی کیفیت یہود کی آج بھی ہے۔اس وقت صہونیت جس طرح اسلام کے اس نور کو بجھانے کی فکر میں ہے اور جس تیزی سے یہود اپنے منصوبے رو بہ عمل لارہے ہیں،اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ دنیا کی سب سے بڑی حکومت کے سر پر بھی وہی سوار ہیں۔انہوں نے اسلام کا راستہ روکنے کے لیے پوری دنیا میں اسلامی بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کو ہوا بنا کر کھڑا کر دیا ہے۔ <p style="text-align: center;">(ڈاکڑ اسرار احمدؒ)

articleUrdu0 min

The true philosophy and message of sacrifice

27964

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 21)۔ </span><br> فلسفہ قربانی میں بات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے کی قربانی سے شروع ہوتی ہے۔وہ بیٹا جو انھیں پیرانہ سالی میں ملا تھا،عمر کے اُس حصہ میں جب انسان اولاد کا تصور نہیں کرتا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑی خواہش کے بعد بیٹے کی نعمت سے سرفراز ہوتے ہیں لیکن حکم ہوتا ہے تو اسی بیٹے کی قربانی کے لیے نکل کھٹرے ہوتے ہیں،اور جب اُس کی گردن پر چھری رکھتے ہیں تو وہ گویا تمام محبتوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی محبت و اطاعت اور اُس کے احکامات کو بجالانے پر قربان کردیتے ہیں۔یہ حج اور قربانی کا اصل فلسفہ اور پیغام ہے۔ہماری زندگی جس ڈگرپر گزرتی ہے،جن جن میدانوں میں جولانیاں دکھاتی،اور جس مورچے اور محاذ پر اپنے آپ کو منواتی ہے،یہ زندگی اللہ رب العالمین کی اطاعت اور اس کے حکم کی بجا آوری میں صرف ہونی چاہیے اور اس راہ میں کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔خواہشات،تمناؤں اور آرزؤوں،اور کل سے بہتر آج اور آج سے بہتر کل کے جذبے کی قربانی کے لیے ہر دم تیار رہنا چاہیے۔حج اور قربانی کا یہ فلسفہ ہر لمحے ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ زندگی اس ڈگر پر گزرے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے بتائی ہے۔یہ فلسفہ اگر جذب و انجذاب کے مراحل سے گزرے،دل و دماغ کے اندر سرایت کرے اور رگ و ریشے کے اندر خون کی طرح دوڑے تو پھر وہ انسان اور وہ اجتماعیت و جود میں آتی ہے جو معاشرے کے اندر بڑی شے کو مسخر کرنے کی صلاحیت کی حامل ہوتی ہے۔ <p style="text-align: center;"> سید منور حسن (سابق امیر جماعت اسلامی)

articleUrdu0 min

Philosophy of Hajj

27956

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 20)۔ </span><br> اسلامی فلسفہ زندگی اور اسلامی قانون و احکام دنیا کے لیے نعمت غیر مترقبہ ہیں جنہیں اپنا کر دنیا کے تمام غموں سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے اور صرف آخرت ہی نہیں، اس زندگی کو بھی قابل رشک بنایا جا سکتا ہے۔ قرآن وسنت سے دوری سے صرف مسلمان ہی اس کی خیر و برکت سے محروم نہیں ہوئے بلکہ پوری انسانیت اس چشمہ حیات کے فیوض و برکات سے محروم ہوگئی۔ حج کی صورت میں مسلمانوں کا عظیم الشان اجتماع مقرر ہوا تا کہ دور دراز کے مسلمان ،عوام و خواص مختلف رنگوں، نسلوں ، زبانوں کے بولنے والے، مختلف الانواع تہذیب و ثقافت، تمدن کے حامل ، مگر ایک دین کے پیروکار اس عالمی اجتماع میں ایک دوسرے سے ملیں۔ باہمی تعارف ہو، ایک دوسرے کے مسائل و مشکلات سے آگاہ ہوں اور یہی ان کا بین الاقوامی مرکز قرار پائے۔ حج ایک ایسی عبادت ہے جس میں اتحاد، یقین اور نظم کے فوائد نہ صرف امت مسلمہ کے لیے بلکہ تمام دنیا کے لیے پنہاں ہیں ۔ اس سے یقین محکم ،عمل ِپیہم، محبت فاتح عالم کے انوار کی خیرات بٹتی ہے مگر ہم پر ایسے اندھےو بہرے حکمران اور شیطانی سائے مسلط ہیں، جن سے ہم ان انوار و برکات سے خود ہی محروم ہیں، دوسروں کو کیا دیں گے۔ آج امت کہاں کہاں کسں حال میں ہے۔ ہمارے حاکم ہمارے خادم ہیں یا خدام۔۔۔۔ ؟ دورو نزدیک سے عوام کی آواز باختیار لوگوں تک پہنچتی ہے یا راہوں میں ہی بھٹکتی ہے۔۔۔۔ ؟ مظلوم کی ہرسطح پر دادرسی ہو رہی ہے یا ظالم کو تحفظ اور مظلوم کو دھتکارا جاتا ہے ۔۔۔۔؟ آج مسلمانوں پر آمریت، ملوکیت اور جمہوری قباء میں شہنشاہیت کی بدترین قوتیں مسلط ہیں ۔ یہ ہمارا نظام ملوکیت ہے جو سامراج کے نسلی جدی پشتی غلاموں نے ہم پر مسلط کر رکھا ہے۔ یہ اُن کے لیے غلام جبکہ عوام کے لیے بادشاہ بنے بیٹھے ہیں ۔ دعا کیجئے کہ اسلام کا نظام عدل اجتماعی ہمارے جیتے جی قائم ہو جائے ، دنیا سے ظلم کا خاتمہ ہواور حج و دیگر احکام شرع کے نتائج و ثمرات سے عوام کی قسمت چمک اُٹھے اور رنجیدہ چہروں پر خوشی کے انوار ور وفق نمودار ہو۔ <p style="text-align: center;"> (مفتی عبدالقیوم خان)

articleUrdu0 min

Honoring the Agreement

27949

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 19)۔ </span><br> <p>معاہدہ کرنے کے بعد اس کی خلاف ورزی کرنا غدر یعنی بد عہدی کہلاتا ہے۔ </p>اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:’’ یقینا بد ترین چو پائے اللہ کے نزدیک یہی لوگ ہیں جو کفر کرتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے ۔ وہ لوگ جن سے( اے نبیؐ)آپ نے معاہدہ کیا تھا، پھر وہ ہر مرتبہ عہد توڑدیتے ہیں اور وہ (اس بارے میں) ڈرتے نہیں ہیں‘‘۔ الانفال (56:55)</p>مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی ﷫ اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ’’یہ آیتیں بنی قُریظہ کے یہودیوں کےحق میں نازل ہو ئیں جن کا رسول کریم ﷺ سے عہد تھا کہ وہ آپﷺ سے نہ لڑیں گے، نہ آپ کے دشمنوں کی مددکریں گے۔ انہوں نے عہد توڑا اور مشرکین مکہ نے جب رسول کریم ﷺ سے جنگ کی تو انہوں نے ہتھیاروں سے ان کی مدد کی۔ پھر حضور ﷺ سے معذرت کی کہ ہم بھول گئے تھے اور ہم سے قصور ہوا۔ پھر دوبارہ عہد کیا اور اس کو بھی توڑا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سب جانوروں سے بدتر بتایا کیونکہ کُفّار سب جانوروں سے بدتر ہیں اور باوجودکُفر کے عہد شکن بھی ہوں تو اور بھی بدترین۔ اور ’’ڈرتے نہیں‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ سے نہ عہد شکنی کے برے انجام کا ڈر رہتا ہے اور نہ اس بات سے شرماتے ہیں کہ عہد شکنی ہر عاقل کے نزدیک شرمناک جرم ہے اور عہد شکنی کرنے والا سب کے نزدیک بے اعتبار ہو جاتا ہے۔ جب اس کی بے غیرتی اس درجہ کو پہنچ گئی تو یقینا ً و ہ جانوروں سے بدتر ہیں ۔ ‘‘<p>حضرت سیِّدنا عبداللہ بن عمرؓ سےروایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا :’’جو مسلمان عہد شکنی اور وعدہ خلافی کرے، اس پر اللہ عَزَّوَجَلّ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اس کا نہ کوئی فرض قبول ہوگانہ نفل‘‘۔(بخاری) </p>لہٰذا عہد کی پاسداری کرنا ہر مسلمان پر بھی لازم ہے اور غدر یعنی بد عہدی کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ <p style="text-align: center;"> (مرتب:فرید اللہ مروت)

articleUrdu0 min

Turning your back on war is a grave sin.

27943

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 18)۔ </span><br> <p>’’ اور جو کوئی بھی ان سے اس دن اپنی پیٹھ پھیرے گا سوائے اس کے کہ وہ کوئی داؤ لگا رہا ہو جنگ کے لیے یا کسی (دوسری)جمعیت سے ملنا ہو تو وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔‘‘ (سورۃ الانفال:16)</p>حدیث مرفوع ہے نبی کریمﷺ نے صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:’’لوگو!دشمن کے ساتھ جنگ کی خواہش اور تمنا دل میں نہ رکھا کرو،بلکہ اللہ تعالیٰ سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو،البتہ جب دشمن سے مڈبھیڑہو ہی جائے تو پھر صبر و استقامت کا ثبوت دو،یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔اس کے بعد آپ ﷺ نے یوں دعا فرمائی:اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے،بادل بھیجنے والے،احزاب(دشمن کے دوستوں)کو شکست دینے والے،انہیں شکست دے اور ان کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔‘‘ (صحیح بخاری)</p>اللہ عزوجل نے مسلمانوں کو دشمن سے معرکہ والے دن میدانِ قتال سے فرار ہونے کو گناہِ کبیرہ اور حرام قرار دیا ہے۔یعنی جب تم کافر دشمنوں کے قریب ہوجاؤ تو پھر انہیں اپنی پشتیں نہ دکھاؤ اور نہ ہی اپنے مسلمان ساتھیوں کو چھوڑ کر ان سے فرار ہوجاؤ۔میدانِ قتال سے فرار کے باعث ایک طرف تو دوسرے سپاہیوں کے حوصلے پست ہوتے ہیں جبکہ دوسری طرف دشمن کے دلوں سے مسلمانوں کا رعب ختم ہوجاتا ہے۔نتیجاً جنگ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>

articleUrdu0 min

The Position of laborers in Islam

27935

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 17)۔ </span><br> مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد کو عموماً شکاگو کے مزدوروں کے احتجاج سے جوڑا جاتا ہے۔حالانکہ اسلام نے بہت پہلے مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ رسولﷺ نے فرمایا:’’مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے پہلے اس کی مزدوری اور اُجرت ادا کردیا کرو۔‘‘(رواہ ابن ماجہ)اس حدیث مبارکہ میں مزدوروں کے حق اُجرت کے حوالے سے رہنمائی دی گئی ہےکہ مزدور جب اپنا کام مکمل کرچکے تو اس کا حق اسے فوری طور پر ادا کردیا جائے۔اس میں ٹال مٹول کرنا اس کی حق تلفی ہے۔<p>آج دنیا میں معاشرتی بے چینی کی گہری جڑیں دنیا پر مسلط اقتصادی نظام میں پائی جاتی ہیں۔جس کی بنیادہی مزدوروں،کاشت کاروں اور کمزور طبقات کے استحصال پر ہے۔اسلام نے فرد کے انفرادی مفادات کے مقابلے میں ہمیشہ اجتماعی اور پورے معاشرے کے حقوق کی بالادستی کو تسلیم کیا ہے۔طاقتور اور بالادست طبقات کے مقابلے میں اسلام نے ہمیشہ جاگیرداری،سرمایہ داری اور طبقاتی بالادستی کی حوصلہ شکنی کی ہے جو حضور اکرم ﷺ،جماعت صحابہؓ اور اسلاف کی زندگیوں سے نمایاں ہے۔قرآن حکیم نے مساکین،مستضعفین ،ضرورت مندوں اور محتاجوں کی کفالت پر مبنی نظام قائم کرنے کی جہاں دعوت دی ہے، وہاں اس نے دولت مندوں کو اپنی دولت میں مسکینوں اور غریبوں کو شامل کرنے کے تہدیدی احکامات بھی دیئے ہیں۔حضور ﷺ نے ان امور کے بارے نہ صرف و عظ ونصیحت کی بلکہ ایک ایسا عملی نظام بھی تشکیل دیا،جوتمام انسانوں کو بلاتفریق ان کے بنیادی حقوق فراہم کرے۔آپؐ کے ہی نقش قدم پر چل کر صحابہ کرامؓ نے ایسا بین الاقوامی نظام قائم کیا جو تمام انسانوں کے مسائل حل کرتا تھا۔آج بھی ہماری فلاح اسی میں ہے کہ ہم اسلام کے دیئے ہوئے نظام ِ حیات کو بطورِ نظام نافذ کرنے کی جدوجہد کریں تاکہ انسانوں کے بنیادی حقوق ادا کرتے ہوئے رضا ئے الٰہی حاصل کرسکیں۔</p> <p style="text-align: center;"> (محمد عباس شاد)

articleUrdu0 min

Love is Allah and hate is Allah.

27929

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> آج کل شرک و کفر کی آندھی نے ہزاروں مسلمانوں کے ایمان و یقین کی جان نکال کر رکھ دی ہے۔مگر یہ خبریں اور یہ مشاہدے ہماری غیرتِ ملی اور ایمانی جذبات میں کوئی کپکپی پیدا نہیں کرتے ۔آج کیسے کیسے فتنے ہیں جو اسلام کا چراغ گل کرنے کے لیے باطل کی آندھیاں اُٹھارہے ہیں،کیسے کیسے خطرات ہیں جو حق کو نیچا دکھانے کے لیے ہر اُفق سے نمودار ہورہے ہیں۔کہیں امام الانبیاءﷺ کی مبارک سنت سے بغاوت ہورہی ہے،کہیں کتاب اللہ کے معنی و مفہوم میں تحریف کی مہم چلائی جارہی ہے،کہیں شرک کی وبا سے توحید کو دبانے کی کوشش ہورہی ہیں،بدعات و رسومات کے زور سے سنت کو مٹانے کی سعی جاری ہے،کہیں معصوم بچوں کے نا پختہ ذہنوں میں مغربی افکار گھسیڑنےکی چالیں چلی جارہی ہیں،کہیں مذہب کا قلع قمع کرنے کے لیے لامذہبیت اور الحاد و دہریت کا عفریت اپنے خون آشام جبڑے کھولے کھڑا ہے۔ہر طرف اور ہر سو کفر و شرک،بدعات رسومات،الحاد بے دینی،بے پردگی و نیم برہنگی،فحاشی وبے حیائی کی ہوائیں چل رہی ہیں۔سیکولرازم کے داعی صرف اسلام کے خلاف کمر کس چکے ہیں۔مگر اتنے پُر خطر حالات میں ہم رات بھر پاؤں پسار کر میٹھی نیند سوتے ہیں اور تمام دن دنیا ئے فانی کی بے اعتبار چند روزہ زندگی کو سنوار نے کے لیے اس طرح گم رہتے ہیں کہ الحب اللہ اور البغض اللہ کے جذبات کو ہمارے وجود میں سر اُٹھانے کا معمولی سا موقع بھی نہیں ملتا۔<p>وہی انسان جو دنیا کے نام پر محبت و نفرت کے پورے جذبات کے ساتھ زندگی گزارتا ہے،دین کا نام سنتے ہی اس طرح بے حس و حرکت ہو جاتا ہے جیسے جامدلاش ہو۔معلوم ہوتا ہے ہمارے اندر وہ دینی حس دھیرے دھیرے دم توڑ رہی ہے جس کا دوسرا حسین نام الحب اللہ اور البغض اللہ ہے۔</p> <p style="text-align: center;"> (مولانا عبداللہ)

articleUrdu0 min

Theory: The Soul of Nations

27922

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 15)۔ </span><br> نظریہ (IDEOLOGY) ایک قوم کے لیے روح کی سی حیثیت رکھتا ہے،جس کے ہونے سےزندگی برقرار رہتی ہے اور جس کے فقد ان کی صورت میں انسانی معاشروں سے اس حرارت و حرکت کا خاتمہ ہوجاتا ہے جس کانام زندگی ہے۔قوم کی یہ زندگی بخش نظریاتی رُوح اگر زندہ و توانا ہو تو دوسری تمام قوتیں ہاتھ آجاتی ہیں اور تھوڑی قوتوں سے بہت زیادہ نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔نظریہ سے سرشار ہونے والی قوموں کا عشق اتنا جَسُور اور فَقر اتنا غیور ہوتا ہے کہ وہ کبھی خوار نہیں ہوتیں،لیکن نظریہ کی مرکزی قوت ختم ہو جائے یا کمزور پڑ جائے تو محض روپے پیسے،صنعت و تجارت،فوجوں اور اسلحہ،ادارات اور تنظیموں اور معاہدوں اور بلاکوں کے بل پر کسی انسانی گروہ کو نہ زندگی حاصل ہوسکتی ہے،نہ ترقی و کامیابی۔بدن میں اگر رُوح ختم ہورہی ہو اور شجاعت کا جوہرِ فعال کام نہ کررہا ہو تو بھینسے جیسا عظیم جثہ گوشت کے ایک ڈھیرسے زیادہ نہیں۔ <p>نظریہ سے محروم معاشرے یا تو قائم ہی نہیں رہ سکتے،یا پھر وہ دوسروں میں ضم ہو جاتے ہیں اور کسی نظریاتی تمدن کے تابع مہمل بن جاتے ہیں۔اقوام کا زوال ’’بے زری‘‘سے نہیں ہوتا،اور اُن کا عروج بھی تو نگری کا مرہون منت نہیں ہوتا۔اسی طرح اسلحہ کی کمی کے بھی معنی لازماً یہ نہیں ہوتے کہ ایک قوم کمزور ہے،بلکہ اگر اس کے جوانوں کی خودی فولاد کی سی قوت رکھتی ہے تو وہ بہت زیادہ محتاجِ شمشیر نہیں رہتی۔دوسری طرف اگر خودی ہی جواب دے جائے تو پھر جو کچھ رہ جاتا ہے وہ خالی زرنگار نیام ہوتے ہیں جن میں شمشیریں نہیں ہوتیں۔اسی لیے علامہ اقبال فرماتے ہیں ’’قوموں کی حیات اُن کے تخیل پہ ہے موقوف۔‘‘</p> <p style="text-align: center;"> (اقبال کا شعلہ نوا)نعیم صدیقی