Articles

Read Quran Academy articles and Unicode content.

Clear

142 results with 1 filter

Page 1 of 6

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)

articleUrdu0 min

Absolute sovereignty belongs only to Allah!

29177

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 15)۔ </span><br> دین اسلام کی فطرت ایک بنیادی اور اصلی حقیقت پیشِ نظر رکھتی ہے۔وہ یہ کہ انسانی زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کا بھی اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ مطلقہ کے سامنے جھکناواجب ہے۔یہ حاکمیت مطلقہ اس کی شریعت میں متمثل ہوتی ہے۔زندگی کا جو جزو بھی اس سے باہر ہوگا، اس حد تک زندگی کو اللہ کے دین سے بغاوت و خروج سمجھا جائے گا۔اور اس سے یہ بات از خود لازم آجاتی ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی جزو بھی بشری حاکمیت کے تابع نہ رہے۔بشری حاکمیت سے پوری خلاصی حاصل کی جائے۔جس بشر کو جس حد تک تحلیل و تحریم کا اختیار سونپا جائے گا وہ اُسی حد تک سونپنے والوں کا ’’خدا‘‘ ہوگا۔وہ خود بھی۔۔۔اگر زندہ ہو اور برضاءورغبت،بالجبر و اکراہ ایسا کرے۔۔۔باغی ہے۔اور اُسے یہ اختیار دینے والے بھی اللہ کی حاکمیت کے باغی ہیں۔کائنات کا الٰہ فقط ایک اللہ واحد ہُ ہے۔ <p style="text-align: center;">سید قطب شہید ؒ (تفسیر فی ظلال القرآن)

articleUrdu0 min

Tower of Light

29176

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 14)۔ </span><br> <p> ایک ایسی شخصی زندگی جو ہر طائفہ انسانی اور ہر حالت انسانی کے مختلف مظاہر اور ہر قسم کے صحیح جذبات اور کامل اخلاق کا مجموعہ ہو،صرف محمد رسول ﷺ کی سیرت ہے۔اگر دولت مند ہو تو مکے کے تاجر اور بحرین کے خزینہ دار کی تقلید کرو،بادشاہ ہو تو سلطانِ عرب کا حال پڑھو،اگر فاتح ہو تو بدر و حنین کے سپہ سالار پر ایک نظر ڈالو،اگر استاد اور معلم ہو تو صفہ کی درسگاہ کے معلم قدس کو دیکھو،اگر واعظ اور ناصح ہو تو مسجد مدینہ کے منبر پر کھڑے ہونے والے کی باتیں سنو،اگر تنہائی و بے کسی کے عالم میں حق کی منادی کا فریضہ انجام دینا چاہتے ہو تو مکے کے الصادق و الامین نبی ﷺ کا اسوۂ حسنہ تمہارے سامنے ہے۔اگر تم حق کی نصرت کے بعد اپنے دشمنوں کو زیر اور مخالفوں کو کمزوربنا چکے ہو،تو فاتح مکہ کا نظارہ کرو۔اگر یتیم ہو تو عبد اللہ و آمنہ کے جگر گوشے کو نہ بھولو،اگر عدالت کے قاضی اور پنجایت کے ثالث ہو تو کعبے میں طلوعِ آفتاب سے پہلے داخل ہونے والے ثالث کو دیکھو جو حجر اسود کو کعبے کے ایک گوشے میں کھڑا کررہا ہے،مدینے کی کچی مسجد کے صحن میں بیٹھنے والے منصف کو دیکھو،جس کی نظرِ انصاف میں شاہ و گدااور امیر و غریب برابر تھے، اگر تم بیویوں کے شوہر ہو تو خدیجہ اور عائشہk کے مقدس شوہر کی حیاتِ پاک کا مطالعہ کرو،اگراولاد والے ہوتو فاطمہk کے والد اور حسن و حسین i کے نانا کا حال پوچھو۔غرض تم جو کوئی بھی ہو،کسی حال میں بھی ہو تمہاری زندگی کے لیے نمونہ،تمہاری سیرت کی درستی اور اصلاح کے لیے سامان ،تمہارے ظلمت خانے کے لیے ہدایت کا چراغ اور رہنمائی کا نور محمد رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے خزانے میں ہر وقت اور ہمہ دم مل سکتا ہے۔صلی اللہ علیہ والہ وصحبہ وبارک و سلم! </p> <p style="text-align: center;">سید سلیمان ندوی ؒ (خطباتِ سیرت)

articleUrdu0 min

Faith Demands: Accountability.

ایمان کا تقاضا: احتساب۔

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 13)۔ </span><br> <p>’’خسران سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی باقاعدگی سے اپنا احتساب کرتا رہے۔ہر نماز کے بعد اور ہر دن کو ختم کرنے پر وہ یہ دیکھے کہ کسی ادنیٰ رفتار سے بھی عقائد میں،عبادات میں، اخلاق میں، تحریکی جدوجہد میں، فریضۂ سمع وطاعت میں، دعوتِ حق کے پھیلانے میں پسپائی تو نہیں ہورہی؟فخر وریا اور شہرت طلبی اور مفاد پسندی کی منحوس پرچھائیاں تو ذہن پر نہیں پڑ رہیں؟‘‘</P> <p> خرابی جب آتی ہے تو چوروں کی طرح دم سادھے ہمارے حریم ذات میں داخل ہوتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ غیر محسوس طور پر اپنا زہر پھیلاتی ہے۔آدمی نفس اور ماحول کے دباؤ سے بعض اُمور میں ہلکی ہلکی تاویلیں کرتا ہے اور انحرافی طرزِ عمل اختیار کرنے کے لیے خاصے دلائل جمع کرتا ہے،تاکہ اپنے ضمیر اور بیرونی نا قدین و معترضین کا مقابلہ کرسکے۔تاویلوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اُصول و حد و د اور مقاصد و غایات اور اخلاقی شعائر کی جو لکیریں کتاب و سنت کی روشنی میں بہت سوچ سمجھ کر لگائی گئی تھیں اور جن کی سال ہا سال تک پاسداری کی جاتی رہی ہے،اُنہیں ذرا آگے پیچھے کیا جا سکے۔بس ایک دفعہ اگر کسی گوشے میں یہ عمل کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر دوسرے گوشوں میں بھی ایسا ہونے لگتا ہے۔پہلے اگر پسپائی یا انحراف کا عمل انچ کے دسویں حصے تک محدود تھا تو کسی دوسرے مرحلے میں پورے انچ کا فرق پڑجاتا ہے اور بعد ازاں کسی اور موقع پر فٹ بھر کا اور آگے چل کر میل بھر کا!تاریخ میں انسانی کردار کے لیے سنت اللہ یہی ہے کہ جو تھوڑا سا آگے بڑھنے کے لیے زور لگاتا ہے،اُسے زیادہ پیش قدمی کے لیے حالات مہیا کیے جاتے ہیں۔اسی طرح جو قدم کو پیچھے ہٹاتا ہے اس کو مزید پیچھے ہٹانے والے حالات پیش آتے ہیں۔<span class="Font_AlMushaf">نُوَلِّھ مَا تَوَلّٰی</span> اس خطرے سے تحفظ صرف احتساب میں ہے۔احتساب کرتے ہوئے ہمیشہ اپنے اوّلین طے کردہ حدود وقیود کا مطالعہ کرنا چاہیئے۔پھر دیکھنا چاہیئے کہ ان خطوط و حدود میں کیاتبدیلی کی گئی۔یوں بھی سوچا جاسکتا ہے کہ کل تک کسی معاملے میں التزام اور کسی غلط چیز سے اجتناب اور کسی خاص رویے کی پسندو ناپسند کے بارے میں ایک شخص(یا سارا گروہ) کہاں قدم جمائے ہوئے تھا اور آج کہاں ہے! <p style="text-align: center;">نعیم صدیقی ؒ (تحریکی شعور)

articleUrdu0 min

Is Jihad a Defensive war?

کیا جہاد دفاعی جنگ کا نام ہے؟

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 12)۔ </span><br> <p> یہ انسانی حاکمیت کے خلاف ایک انقلابی نعرہ ہے۔زمین پر حکومتِ الٰہی کے قیام کا مقصد:اللہ کی ربویت کے معنی یہ ہیں:زمین کے ہر ایک گوشہ میں انسانی حاکمیت کو چیلنج کردینا جس صورت میں کہ یہ موجود ہو‘یا یوں کہئے کہ االلہ کی ربویت کے معنی ہیں کہ انسان کی خدائی کو چیلنج کیا جائے جس صورت میں کہ یہ موجود ہو‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ جس حکم کا سر چشمہ انسان کی اپنی رضا ہو اور جس حکم میں اقتدار اعلیٰ انسان ہی کو تسلیم کیا گیا ہو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس حکم میں انسان کو الٰہ بنالیا گیا ہے‘بعض نے بعض کو اللہ کے مقابلے میں رب ٹھرالیا۔</P> <p> تو اس صورت میں اللہ کی ربویت کے اعلان کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کے غصب کردہ اقتدار اعلیٰ کو ان کے ہاتھوں سے چھین کر اللہ تعالیٰ کے حوالہ کردینا اور ان غاصبوں کو اقتدار اعلیٰ کے اس منصب سے اتاردینا۔یہ غاصب جو لوگوں کو اپنے بنائے ہوئے قانون کا پابند بناتے ہیں خود ان کے سامنے رب بن کر بیٹھتے ہیں اور انہیں غلاموں کا درجہ دیتے ہیں۔</p> اس کا مطلب ہے ’’بشری حاکمیت کے مقابلہ میں حکومت الٰہیہ کا قیام‘‘۔قرآن مجید کے اپنے الفاظ میں اس کی تعبیر یہ ہے کہ <span class="Font_AlMushaf"> ( هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌؕ) </span> ’’اللہ کی حاکمیت جس طرح آسمانوں پر ہے اُسی طرح زمین پر بھی ہے۔‘‘ <p>زمین پر حکومتِ الٰہیہ کے قیام کی یہ صورت نہیں ہے کہ اقتدار اعلیٰ کے اونچے مقام پر کسی مذہبی طبقہ کو فائز کردیا جائے جس طرح کلیسا کے اقدار کے دور میں ہوا۔اسی طرح حکومتِ الٰہیہ کے قیام کی یہ شکل بھی نہیں ہے کہ تھیا کریسی کے نام سے مذہبی طبقہ کو الٰہ بنالیا جائے ۔اس کی تو ایک ہی صورت ہے کہ اللہ کی شریعت کا نفاذ عمل میں لایا جائے اور حاکمیت کے معاملہ کو اللہ کی طرف لوٹا دیا جائے اور اسی کے حکم کے مطابق فیصلے کئے جائیں جس طرح کہ اس نے اپنی نازل کردہ شریعت میں بیان فرمادیا ہے۔</P> <p style="text-align: center;">سید قطب شہید ؒ (تفسیر فی ظلال القرآن)

articleUrdu0 min

A favorite act on Eid day.

28782

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 11)۔ </span><br> <span class="Font_AlMushaf"> وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللہَ عَلٰی مَا ہَدٰىكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوۡنَ ﴿۱۸۵﴾(البقرہ)</span> <p> ’’اور تم بڑائی کرو اللہ کی اس پر جو ہدایت اُس نے تمہیں بخشی ہے اور تاکہ تم شکر کرسکو۔‘‘</p> قرآن حکیم میں ماۃِ رمضان کے روزوں کی فرضیت اور اُن سے متعلق احکام بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمیا کہ ’’ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تنگی نہیں چاہتا تاکہ پورا کرو گنتی کو اور تاکہ تکبیر(بڑائی)کرو اللہ کی اس پر کہ اُس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو‘‘۔گویا رمضان کے روزوں کی تکمیل پر اللہ تعالیٰ کی تکبیر اور اُس کے شکر ادا کرنے کی تلقین خود ربِ کائنات فرما رہے ہیں۔چناچہ یکم شوال یعنی عید کے دن مسلمان اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ <p> سیرت نبویﷺ سے بھی ہمیں یہی رہنمائی ملتی ہے کہ اس روز مسلمان نہا دھو کر،صاف ستھرےکپڑے پہن کر اور خوشبو لگا کر عید گاہ کی جانب روانہ ہوں تو بلند آواز بلند اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے جائیں اور واپسی پر بھی اس عمل کو دہرائیں کہ پوری بستی اللہ کی تکبیر سے گونج اُٹھے۔آنے اور جانے کے لیے مختلف راستوں کو اختیار کرنے کی تلقین بھی اسی لیے ہے کہ بستی کا کوئی کونہ تکبیر الٰہی کی گونج سے محروم نہ رہے۔نماز عید تو ہے ہی دو رکعت شکرانہ جو مسلمان اجتماعی طور پر صف بستہ ہوکر اپنے آقا و مالک کی جانب میں ادا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں عید کے معمولات کو اس کی اصل روح کے مطابق سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا ربُ العالمین!</P> <p style="text-align: center;">ڈاکٹر اسرار احمد ﷫(خطاب عید سے اقتباس)

articleUrdu0 min

Unity and Trust in Allah.

28781

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 10)۔ </span><br> <p> جب تک ہمارے دل آپس میں جڑے نہ ہوں،جب تک مقاصدایک نہ ہوں،جب تک کوئی مشرک نظریہ نہ ہو کوئی ملک جاندار نہیں ہوسکتا۔ہماری قومیت کی واحد بنیاد اسلام ہے۔قائداعظم نے کہا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ ’’ پاکستان میں عہد حاضر میں اسلام کے اصول ِ حریت و اخوت و مساوات کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔‘‘ظاہر بات ہے کہ ہم نے ایسا نہ کرکے اللہ کے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے۔</P> <p> اب یہ اس کی سزا ہے جو ہم بھگت رہے ہیں۔’’علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی۔‘‘</p> ہم نے اگر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرلیا تو اللہ کی رحمت کے سزاوار ہوں گے اور اس کی رحمت سے ہمارے وہ تمام مسائل حل ہوجائیں گے جو آج ہمارے سروں پر مسلط ہیں اور جنہیں میں بھنور سے تشبیہہ دیتا ہوں۔بس ان کاموں کے لیے ہمت مردانہ چاہیے۔اللہ پر توکل چاہیے،آخرت کا یقین چاہیے،اللہ تعالیٰ کے ساتھ خلوص اور اخلاص چاہیے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم میں سے ہر فرد اپنی جگہ پر شریعت کا علمبردار بن کر کھڑا ہو،اپنے گھر میں شریعت نافذ کرے اور اس ملک میں جو ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا،دین حق کے قیام اور شریعت کے نفاذ کے لیے کمربستہ ہوجائے۔اگر ہم نے یہ کرلیا تو اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مزید مہلت دے دے گا اور ہم اسلام کے عادلانہ نظام کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرسکیں گے۔ <p style="text-align: center;">ڈاکٹر اسرار احمد ﷫(حقیقت ایمان)

articleUrdu0 min

The place of Fasting in Religion.

28780

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 09)۔ </span><br> <p>یہ ایک فطری سی بات ہے کہ جس امت پر اللہ کے نظام کو دنیا میں قائم کرنے اور اس کے ذریعہ نوع انسانی کی قیادت کرنے اور انسانوں کے سامنے حق کی گواہی دینے کے لیے جہاد فی سبیل اللہ فرض کیا جائے،اس پر روزہ فرض ہو!روزہ ہی سے انسان میں محکم ارادے اور عزم بالحزم کی نشونما ہوتی ہے ۔روزہ ہی وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنے رب سے اطاعت و انقیاد کے ساتھ مربوط ہوتا ہے۔پھر روزہ ہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے انسان خدا کی رضا اور اجر آخرت کے لیے تمام جسمانی ضرورتوں پر قابو پاتا اور تمام دشوارویوں اور زحمتوں کو برداشت کرنے کی قوت حاصل کرتا ہے۔</p> اس فریضہ کا اولین مقصود تقویٰ ،صفائے قلب،احساسِ ذمہ داری اور خشیتِ الٰہی کے لیے دلوں کو تیار کرنا ہے۔تقویٰ دل میں زندہ بیدار ہو تو مومن اس فریضہ کو اللہ کی فرمانبرداری کے جذبے کے تحت اس کی رضا جوئی کے لیے ادا کرتا ہے۔تقویٰ ہی دلوں کا نگہبان ہے۔وہی معصیت سے روزے کو خراب کرنے سے انسان کو بچاتا ہے،خواہ یہ دل میں گزرنے والا خیال ہی کیوں نہ ہو۔قرآن کے اولین مخاطب جانتے تھے کہ اللہ کے یہاں تقویٰ کا کیا مقام ہے اور اس کی میزان میں تقویٰ کا کیا قزن ہے۔یہ ان کی منزل مقصود تھی، جس کی طرف ان کی روحیں لپکتی تھیں۔روزہ اُس کے حصول کا ذریعہ اور اس تک پہنچانے کا راستہ ہے۔قرآن اس تقویٰ کو منزل مقصود کی حیثیت سے ان کے سامنے رکھتا ہے،تاکہ روزے کے راستے سے وہ اس منزل کا رُخ کرسکیں۔ <p style="text-align: center;"> سید قطب شہیدؒ

articleUrdu0 min

The purpose of fasting and praying during Ramadan.

28779

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 08)۔ </span><br> <p>صیام و قیام رمضان کی اصلی غایت و حکمتاور ان کا اصل ہدف و مقصود ایک جُملے میں اس طرح سمویا جاسکتا ہے کہ: ایک طرف روزہ انسان کے جسدِ حیوانی کے ضعف و اضمحلال کا سبب بنے تا کہ رُوحِ انسانی کے پاؤں میں پڑی ہوئی بیڑیاں کچھ ہلکی ہوں اور بہیمیت کے بھاری بوجھ تلے دبی ہوئی اور سسکتی اور کراہتی ہوئی رُوح کو سانس لینے کا موقع ملے۔اور دوسری طرف قیام اللیل میں کلام ِ ربّانی کا روح پر ور نزول اُس کے تغذیہ و تقویت کا سبب بنے۔تاکہ ایک جانب اس پر کلام الٰہی کی وعظمت کما حقہ منکشف ہو جائے اور وہ اچھی طرح محسوس کرے کہ یہی اُس کی بھوک کو سیری اور پیاس کو آسودگی عطا کرنے کا ذریعہ اور اُس کے دکھ کا علاج اور درد کا در ماں ہے!اور دوسری جانب رُوحِ انسانی از سرِ نو قوی اور توانا ہوکر ’’ اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز‘‘ہو‘ گویا اس میں تقرب اِلیٰ اللہ کا داعِیہ شدّت سے بیدار ہوجائے اور وہ مشغولِ دعاو مناجات ہو‘جو اصل رُوح ہے عبادت کی اورلُبِ لُباب ہے رُشدو ہدایت کا!</p> <p> دوسری بدنی اور مالی عبادتوں کا حاصل ہے تزکیہ و تطہیر نفس ‘وہاں صومِ رمضان کا حاصل ہے تغزیہ و تقویّتِ روح جو‘متعلّق ہے براہِ راست ذاتِ خدا وندی کے ساتھ۔لہذا روزہ ہوا خاض اللہ کے لیے،وہ خود ہی اس کی جزادے گا خدا تو منتظر رہتا ہے کہ جیسے ہی کوئی بندہ خلوص و اخلاص کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہو‘وہ بھی کمالِ شفقت و عنایت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوجائے۔یہاں تک کہ ایک حدیثِ قدسی کی رو سے اگر بندہ اُس کی جانب چل کر آتا ہے تو بندے کی جانب دوڑ کر آتا ہے‘اور اگر بندہ اُس کی طرف بالشت بھر بڑھتا ہے تو وہ بندے کی طرف ہاتھ بھربڑھتا ہے۔گویا بقول علامہ اقبالؔ مرحوم ؎</p> <p style="text-align: center;"> ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں! <p style="text-align: center;"> راہ کھلائیں کسے؟رہرومنزل ہی نہیں! <p style="text-align: center;">ڈاکٹر اسرار احمد ﷫(عظمت صوم)

articleUrdu0 min

Ramadan- The Annual Celebration of the Revelation of the Quran.

28778

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 07)۔ </span><br> <p>اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ رمضان المبارک کے پروگرام کی دو شقیں ہیں: ایک دن کا روزہ اور دوسرےرات کا قیام اور اس میں قراءت و استماع قرآن!اور اگرچہ ان میں سے پہلی شق فرض کے درجے میں ہے اور دوسری بظاہر نفل کے،تاہم قرآن ِ مجید اور احدیث ِ نبویہ علیٰ صاحبیا الصلوٰۃ و السلام دونوں نے اشارۃُ اور کنایۃُ واضح فرمادیا کہ یہ ہے رمضان المبارک کے پروگرام کا جزوِلاینفک!۔۔۔۔۔۔چناچہ قرآن نے وضاحت فرمادی کہ روزوں کے لیے ماۃِ رمضان معین ہی اس لیے کیا گیا ہے کہ اس میں قرآن مجید نازل ہوا: تھا ’’ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوا۔‘‘ گویا یہ ہے ہی نزولِ قرآن کا سالانہ جشن!</p> اور احادیث نے تو بالکل ہی واضح کردیا کہ رمضان المبارک میں ’صیام ‘ اور ’قیام‘ لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں: چناچہ:۔ <p>1-امام بیہقی﷫ نے رمضان المبارک کی فضیلت کے ضمن میں جو خطبہ آنحضورﷺ کا ’شعبُ الایمان ‘میں نقل کیا ہے،اُس کے الفاظ ہیں:’’اللہ نے قرار دیا اس میں روزہ رکھنا فرض اور اُس کا قیام اپنی مرضی پر۔‘‘ گویا قیام اللیل اگرچہ ’’تطوُّعاً‘‘ ہے تا ہم اللہ کی جانب سے ’مجعول‘ بہرحال ہے!</p> 2- امام بیہقی﷫ نے شعب الایمان میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت کیا کہ آنحضورﷺ نے فرمایا:’’روزہ اور قرآن بندۂ مومن کے حق میں سفارش کریں گے۔روزہ کہے گا،اے رب! میں نے اسے روکے رکھا دن میں کھانے اور خواہشات سے،پس اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔اور قرآن کہے گا میں نے روکے رکھا اسے رات کو نیند سے ،پس اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔تو دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘ <p style="text-align: center;">ڈاکٹر اسرار احمد ﷫(عظمت صوم)

articleUrdu0 min

The place of fasting in Religion.

28776

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 06)۔ </span><br> <p>یہ ایک فطری سی بات ہے کہ جس امت پر اللہ کے نظام کو دنیا میں قائم کرنے اور اس کے ذریعہ نوع انسانی کی قیادت کرنے اور انسانوں کے سامنے حق کی گواہی دینے کے لیے جہاد فی سبیل اللہ فرض کیا جائے،اس پر روزہ فرض ہو!روزہ ہی سے انسان میں محکم ارادے اور عزم بالحزم کی نشونما ہوتی ہے ۔روزہ ہی وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنے رب سے اطاعت و انقیاد کے ساتھ مربوط ہوتا ہے۔پھر روزہ ہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے انسان خدا کی رضا اور اجر آخرت کے لیے تمام جسمانی ضرورتوں پر قابو پاتا اور تمام دشوارویوں اور زحمتوں کو برداشت کرنے کی قوت حاصل کرتا ہے۔</p> اس فریضہ کا اولین مقصود تقویٰ ،صفائے قلب،احساسِ ذمہ داری اور خشیتِ الٰہی کے لیے دلوں کو تیار کرنا ہے۔تقویٰ دل میں زندہ بیدار ہو تو مومن اس فریضہ کو اللہ کی فرمانبرداری کے جذبے کے تحت اس کی رضا جوئی کے لیے ادا کرتا ہے۔تقویٰ ہی دلوں کا نگہبان ہے۔وہی معصیت سے روزے کو خراب کرنے سے انسان کو بچاتا ہے،خواہ یہ دل میں گزرنے والا خیال ہی کیوں نہ ہو۔قرآن کے اولین مخاطب جانتے تھے کہ اللہ کے یہاں تقویٰ کا کیا مقام ہے اور اس کی میزان میں تقویٰ کا کیا قزن ہے۔یہ ان کی منزل مقصود تھی، جس کی طرف ان کی روحیں لپکتی تھیں۔روزہ اُس کے حصول کا ذریعہ اور اس تک پہنچانے کا راستہ ہے۔قرآن اس تقویٰ کو منزل مقصود کی حیثیت سے ان کے سامنے رکھتا ہے،تاکہ روزے کے راستے سے وہ اس منزل کا رُخ کرسکیں۔ <p style="text-align: center;"> سید قطب شہیدؒ

articleUrdu0 min

What kind of people are needed to revive Islam?

28775

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 05)۔ </span><br> عوام کی کشتِ قلوب میں ایمان کی تخم ریزی اور آبیاری کا مؤ ثر ترین ذریعہ ایسے اصحاب علم و عمل کی صحبت ہے جن کے قلوب و اذہان معرفت ِ ربانی و نور ایمانی سے منور ‘سینے کبر ‘بغض اور ریا سے پاک اور زندگیاں حرص‘طمع‘لالچ اور حبّ ِ دنیا سے خالی نظر آئیں۔خلافت علی منہاج النبوۃ کے نظام کے درہم برہم ہوجانے کے بعد ایسے ہی نفوسِ قدسیہ کی تبلیغ و تعلیم ‘ تلقین و نصحیت اور تربیت و صحبت کے ذریعے ایمان کی روشنی پھیلتی جا رہی ہے اور اگرچہ جب سے مغرب کی الحاد و مادہ پرستی کے زہر سے مسموم ہواؤں کا زار ہوا‘ایمان و یقین کے یہ بازار بھی بہت حد تک سردپڑ گئے‘تاہم ابھی ایسی شخصیتیں بالکل نا پید نہیں ہوئیں جن کے ’’ دل روشن‘‘ نورِ یقین اور ’’ نفس گرم‘‘ حرارتِ ایمانی سے معمور ہیں اور اب ضرورت اس کی ہے کہ ایمان و یقین کی ایک عام روایسی چلے کہ قریہ قریہ اور بستی بستی ایسے صاحب عزیمت لوگ موجود ہوں جن کی زندگیوں کا مقصد ِ و حیدخدا کی رضا جوئی اور اس کی خوشنودی کا حصول ہو۔ <p style="text-align: center;"> ڈاکٹر اسرار احمدؒ (اسلام کی نشأۃ ثانیہ)

articleUrdu0 min

Is our destination the hereafter or this world?

28774

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 04)۔ </span><br> سورۃ الشعراء کی آیت 20 میں ارشاد الٰہی ہے : ’’تم سے جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے‘ اُس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں‘اور دنیا کی کھیتی جو چاہتا ہے ‘ اُسے ہم دنیا ہی میں دے دیتے ہیں ‘ مگر آخرت میں اُس کا کوئی حصّہ نہیں ہے‘‘۔<p> یہ بڑا پیارا اور اٹل قانون ہے جو اختصار کے ساتھ یہاں بیان ہوا ہے۔آپ فیصلہ کیجئے کہ آپ آخرت کے طالب ہیں یا دنیا کے؟آپ کا مقصود و مطلوب آخرت ہے یا دنیا؟عقبی چاہئےیا دنیا چاہئے؟فیصلہ کیجئے! شعوری طور پر فیصلہ ہو‘پھر اُس پر ڈٹ جایئے۔یہ نہ ہو کہ دنیا ذرا ہاتھ سے جاتی دکھائی دی تو دل پژمردہ ہوگیا اور طبیعت مضمحل ہوگئی۔اگر تم فیصلہ کرچکے ہو کہ تمہاری مراد آخرت ہے تو اگر دنیا میں کمی آرہی ہے تو کہیں کو ئی پریشانی اور پشیمانی نہیں ہونی چاہئے۔’’جو کوئی آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہے تو اس کی کھیتی میں ہم برکت دیتے رہتے ہیں۔‘‘اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔اس دنیا کی زندگی میں جو نیک اعمال انسان آگے بھیجتا ہے،اللہ تعالیٰ انہیں پروان چڑھاتا ہے‘پالتا ہے‘پوستا ہے‘ترقی دیتا ہے‘۔’’اور جو کوئی طالب بن جاتا ہے،دنیا کی کھیتی کا۔‘‘ جس کا مقصود و مطلوب دنیا بن گئی تو ہم اُسے دے دیتے ہیں اس میں سے۔ہم یہ نہیں کرتے کہ جو بہرحال دنیا کا طالب بن گیا ہے‘جس کی مراد دنیا ہی ہوگئی ہے‘ اُسے ہم دنیا سے بھی محروم کردیں۔لہذا دنیا میں اُسے ہم کچھ دے دلایتے ہیں۔</p> <p> پھر ایسے شخض کے لیے آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہے۔’’تم یہ چاہو کہ یہ بھی ملے اور وہ بھی ملے‘دو دو اور وہ بھی چپڑی‘یہ مشکل ہے۔طے کرو کہ کیا اصل مطلوب و مقصود اور مراد ہے!آخرت کے طلب گار ہو تو آخرت کی کھیتی میں برکتیں ہی برکتیں ہیں‘بڑھو تری ہی بڑھوتری ہے‘لیکن اگر تم طالب دنیا بن گئے ہو تو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں سے تمہیں کچھ نہ کچھ ضرور دے دے گا لیکن آخرت میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے۔ <p style="text-align: center;"> ڈاکٹر اسرار احمدؒ (توحید عملی)

articleUrdu0 min

Big Job.

28773

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 03)۔ </span><br> <p>احیا ئے اسلام کی جدوجہد اتنا برا کام ہے کہ میری اور آپ کی اور ہم جیسے سینکڑوں آدمیوں کی پوری پوری زندگیاں بھی اس کے لیے کافی نہیں ہیں۔اگر ہم یہ اُمید کریں کہ ہماری زندگی میں اس کے پورے نتائج سامنے آجائیں گے تو یہ غلط اُمید ہوگی۔یہ کھجور کا درخت لگانا ہے‘جو اس کو بوتا ہے وہ اس کے پھل نہیں توڑسکتا ۔ہم اس درخت کو لگائیں گے اور اپنے خونِ جگر سے اس کو سینج کر چلے جائیں گے۔ہمارے بعد دوسری نسل آئے گی اور شاید وہ بھی اس کے پھلوں سے پوری طرح لذت آشنانہ ہو سکے گی۔کم از کم دو تین پُشتیں یا اُس سے بھی زائد اس کے پورے نتائج ظاہر کرنے کے لیے درکار ہیں۔لہذا ہمیں نتائج کے لیے بے صبر نہ ہونا چاہیے۔ہمارا کا م یہ ہے کہ عمارت کا نقشہ ٹھیک ٹھیک ‘جیسا کہ ہم بنا سکتے ہیں‘بنادیں اور اس کی بنیادیں اُٹھا کر نئی آنے والی نسل کو تعمیری کام جاری رکھنے کے لیے تیار کردیں ۔اس سے زیادہ غالباً ہم کچھ نہ کرسکیں گے۔ </P> <p style="text-align: center;"> مولانا سید موددیؒ (دینایت)

articleUrdu0 min

Live in the Quranic Atmosphere.

28772

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 02)۔ </span><br> <p>قرآن کی اپنی ایک فضا ہے،جس میں اس کے قاری،اس کے مطالعہ کرنے والے،اس کے مضامین پر غور کرنے والے اور اُس کے ساتھ ساتھ قدم بقدم چلنے والے زندہ رہتے ہیں۔یہ فضا محض اس کا درس و تدریس اور قراءت و مطالعہ نہیں ہے،قرآنی فضا میں زندہ رہنے سے ہماری مراد یہ ہے کہ انسان اس قسم کے احوال و ظروف میں زندگی گزارے جس میں قرآن نازل ہوا تھا۔وہی تحریکہو،وہی جدوجہد ہو،مخالفت کے طوفانوں سے وہی مقابلہ ہو،معاندین کے ساتھ وہی کشتی ہو،وہی انتظام و اہتمام ہو جو اُمّت ِ مسلمہ نے کیا تھا۔قرآنی فضا میں زندگی گزارنے والے کے دل و جان اور حرکت و سکون نیں یہی ولولہ ہو کہ اسے اپنے نفس میں اور تمام انسانوں کے ولب و روح میں اسلام کی روح کو پھونکنا ہے،جس طرح پہلی بار جاہلیت سے مقابلہ ہوا تھا،اب ایک بار پھر وہی مقابلہ کرنا ہے،جاہلیت کے ہر تصور ،ہر عقیدے،ہر رسم و رواج اور ہر تنظیم کو مٹا کر اس کی جگہ پر زندگی کے ہر انفرادی و اجتماعی شعبے میں اسلام کو نافذ کرنا ہے۔قرآن کا نزول اس فضا میں ہوا تھا،اور اس کا عمل دخل انہی حالات میں قائم ہوا تھا۔جو لوگ اس قرآنی فضا میں زندگی نہیں گزارتے،وہ قرآن کے درس و تدریساور قراءت اور علوم کے خواہ کتنے ہی ماہر ہوں،اور ہر وقت اسی میں غرق رہیں،مگر وہ قرآن سے الگ تھلگ ہیں۔ </P> <p style="text-align: center;"> سید قطب شہیدؒ (تفسیر فی ظلال القرآن)

articleUrdu0 min

Enjoining good and forbidding evil.

28771

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 01)۔ </span><br> <p>اُمتِ مسلمہ صرف کلمہ گو جماعت نہیں بلکہ داعی الی الخیر بھی ہے۔یہ اُس ک دینی فرائض میں داخل ہے کہ بنی نوع انسان کی دنیا کی سرفرازی اور آخرت کی سر خروئی کے لیے جو بھی بھلے کام نظر آئیں،بنی آدم کو اُس کا درس دیں اور اُس کی مخالف سمت چلنے سے اُن کو روکیں۔اس فریضہ سے کوئی مسلمان بھی مستثنیٰ نہیں۔مسلم معاشرے کے ہر فرد کا فرض ہے کہ کلنہ حق کہے،نیکی اور بھلائی کی حمایت کرئے۔الاقرب فالاقرب کے اصول کو مدِ نظر رکھتے ہوئے گھر،معاشرے اور مملکت میں جہاں بھی غلط کام ہوتے نظر آئیں اُن کو روکنے کی مقدو ربھر کوشش کرے۔ایمان بااللہ کے بعد دینی ذمہ داریوں میں سب سے بڑی ذمّہ داری امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا ہے۔امر بالمعروف کا مطلب ہے نیکی کا حکم دینا اور نہی عن المنکر کا مطلب ہے برائی سے روکنا۔یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیک لوگوں کو پسند اور ربرائی اور برے لوگوں کو ناپسند فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ نیک لوگوں اور نیکی کا غلبہ رہے اور برے لوگ اور برائی مغلوب رہے۔اللہ تعالیٰ نے اہل ِ ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی سے بچنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا حکم دیا ہے۔اسی عظیم مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے انبیاء ﷩ کو مبعوث فرمایا اور انبیاءکرام﷩ کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد اُمّتِ محمدیﷺکے حکمرانوں،علماء و فضلاء کو خوصوصاً اور اُمّت کے دیگر افراد کو عموماً اس کا مکلف ٹھرایا ہے۔قرآن و حدیث میں اس فریضہ کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں پر اپنے اپنے دائرہ کار اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرنا واجب قرار دیا گیا ہے۔</P> <p style="text-align: center;"> فرید اللہ مروت (رکن مجلسِ ادارات)

articleUrdu0 min

The Reality of Good and Bad Situations in the world.

دنیا میں اچھے بُرے حالات کی حقیقت۔

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 50)۔ </span><br> <p> ’’جب کوئی شخص یا قوم ایک طرف تو حق سے منحرف اور فسق و فجور اور ظلم و طغیان میں مبتلا ہو،اور دوسری طرف اُس پر نعمتوں کی بارش ہورہی ہو،تو عقل اور قرآن دونوں کی رو سے یہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ خدا نے اُس کو شدید تر آزمائش میں ڈال دیا ہے اور اس پر خدا کی رحمت نہیں بلکہ اُس کا غضب مسلط ہوگیا ہے۔اُسے غلطی پر چوٹ لگتی تو اس کے معنی یہ ہوتے کہ خدا ابھی اُس پر مہربان ہے،اُسے تنبیہہ کر رہا ہے اور سنبھلنے کا موقع دے رہا ہے۔لیکن غلطی پر ’’انعام‘‘ یہ معنی رکھتا ہے کہ اُسے سخت سزا دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اُس کی کشتی اس لیے تَیر رہی ہے کہ خوب بھر کر ڈوبے۔اس کے برعکس جہاں ایک طرف سچی خدا پرستی ہو،اخلاق کی پاکیزگی ہو،معاملات میں راست بازی ہو،خلقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک اور رحمت و شفقت ہو،اور دوسری طرف مصائب اور شدائد اُس پر موسلادھار برس رہے ہوں اور چوٹوں پر چوٹیں اُسے لگ رہی ہوں،تو یہ خدا کے غضب کی نہیں،اُس کی رحمت ہی کی علامت ہے۔’سنار‘ اس سونے کو تپا رہا ہے،تاکہ خوب نکھر جائے اور دنیا پر اُس کا کامل المعیار ہونا ثابت ہوجائے۔دنیا کے بازار میں اس کی قیمت نہ بھی اُٹھے تو پروا نہیں، ’سنار‘ خود اس کی قیمت دے گا، بلکہ اپنے فضل سے مزید عطا کرئے گا۔اُس کے مصائب اگر غضب کا پہلو رکھتے ہیں تو خود اُس کے لیے نہیں بلکہ اُس کے دشمنوں ہی کے لیے رکھتے ہیں، یا پھر اس سوسائٹی کے لیے جس میں صالحین ستائے جائیں اور فساق نوازے جائیں۔‘‘ <p style="text-align: center;"> سیّد مودودی ؒ (تفہیم القرآن) (سورۂ مومنون آیت 56)

articleUrdu0 min

The Ignorance of the Present Era.

عہدِ حاضر کی جاہلیت

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 49)۔ </span><br> <p>موجودہ انسانی زندگی کی بنیادیں اور ضابطے جس اصل اور منبع سے ماخوذ ہیں، اس کی رو سے اگر دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ آج ساری دنیا ’’جاہلیت‘‘ میں ڈوبی ہوئی ہے اور ’’ جاہلیت ‘‘ بھی اس رنگ ڈھنگ کی ہے کہ یہ حیرت انگیز مادی سہولتیں اور آسائشیں اور بلند پایہ ایجادات بھی اس کی قباحتوں کو کم یا ہلکا نہیں کرسکتیں۔اس جاہلیت کا قصر جس بنیاد پر قائم ہے،وہ ہے اس زمین پر اللہ کے اقتدارِ اعلیٰ پر دست درازی،اور حاکمیت جو الوہیت کی مخصوص صفت ہے اس سے بغاوت۔چنانچہ اس جاہلیت نے حاکمیت کی باگ ڈور انسان کے ہاتھ میں دے رکھی ہے۔ اور بعض انسانوں کو بعض دوسرے انسانوں کے لیے ارباب ’ مّن دون اللہ ‘ کا مقام دے رکھا ہے۔اس سیدھی سادی اور ابتدائی صورت میں نہیں جس سے قدیم جاہلیت آشنا تھی بلکہ اس طنطنے اور دعوے کے ساتھ کہ انسانوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ خود افکار و اقدار کی تخلیق کریں،شرائع و قوانین وضع کریں اور زندگی کے مختلف پہلؤں کے لیے جو چاہیں نظام تجویز کریں۔اور اس سلسلے میں انہیں یہ معلوم کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی کے لیے کیا نظام اور لائحہ عمل تجویز کیا ہے،کیا ہدایت نازل کی ہے اور کس صورت میں نازل کی ہے۔اس باغیانہ انسانی اقتدار اور بے لگام تصورِ حاکمیت کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ خلق اللہ ظلم و جارحیت کی چکی میں پس رہی ہے۔چنانچہ اشترا کی نظاموں کے زیر سایہ انسانیت کی جو تذلیل ہوئی،یاسر مایہ دارانہ نظاموں کے دائرے میں سرمایہ پرستی پر رجوع الارضی کے عفریت نے افراد و اقوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں وہ دراصل اُسی بغاوت کا شاخسانہ ہے،جو زمین پر اللہ تعالیٰ کے اقتدار کے مقابلے میں دکھائی جارہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو تکریم اور شرف عطا کیا ہے،انسان اُسے خود اپنے ہاتھوں پامال کر کے نتائج بد سے دو چار ہے! </p> <p style="text-align: center;"> سید قطب شہیدؒ (جادہ منزل)

articleUrdu0 min

The complaint of Shafi'i (peace be upon him) about Muslims' rejection of the Holy Quran.

شافع محشرؐ کی مسلمانوں کے قرآن مجید سے اعراض کی شکایت۔

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 48)۔ </span><br> <p> <span class="Font_AlMushaf"> ﴿ وَ قَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوۡا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہۡجُوۡرًا ﴿۳۰﴾ ﴾ </span> (الفرقان ) </p> <p>’’ اور پیغمبر (ﷺ) کہیں گے کہ اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔‘‘ </p> آیت سے ظاہر یہ ہے کہ قرآن کو مہجور اور متروک کردینے سے مراد قرآن کا انکار ہے جو کفار ہی کا کام ہے۔مگر بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ جو مسلمان قرآن پر ایمان تو رکھتے ہیں مگر نہ اس کی تلاوت کی پابندی کرتے ہیں،نہ اس پر عمل کرنے کی۔وہ بھی اس حکم میں داخل ہیں۔حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ جس شخص نے قرآن پڑھا مگر پھر اس کو بند کر کے گھر میں معلق کردیا کہ نہ اس کی تلاوت کی پابندی کی، نہ اس کے احکام میں غور کیا۔قیامت کے روز قرآن اس کے گلے میں پڑا ہوا آئے گا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کرے گا کہ آپ کے اس بندے نے مجھے چھوڑ دیا۔اب اس کے اور میرے معاملہ کا فیصلہ فرمائیں۔‘‘ (قرطبی) تو غور کا مقام ہے کہ حشر کے میدان میں جب شافع محشر دربار خداوندی میں شکایت فرمائیں گے کہ اے میرے پروردگار! میری قوم نے اس قرآن کو بالکل نظر انداز کر رکھا تھا اور قرآن کریم فریاد کرے گا کہ مجھے چھوڑ دیا گیا تھا تو اس وقت کیا تدارک اور کیا تدبیر ہوسکے گی۔رسول اللہ ﷺ کے ان الفاظ اور قرآن کریم کی اس شکایت سے بچنے کی اور کیا صورت ہوگی خدا وند قدوس کی گرفت سے بچنے کی۔اللہ تبارک و تعالیٰ اس قرآن کریم کی طرف سے ہماری آنکھیں اس دنیا میں کھول دے اور اس کے حقوق کو پہچاننے اور ان کے ادا کرنے کی توفیق اور سمجھ عطا فرمادے اور قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے شرمندگی اور ندامت سے بچالے۔ <p style="text-align: center;"> تفسیر معارف القرآن( مفتی محمد شفیع ﷫ )

articleUrdu0 min

Slavery of the self

28253

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 47)۔ </span><br> <p> ارشاد باری تعالیٰ ہے :</p> <p> <span class="Font_AlMushaf"> ﴿ وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ بِغَیۡرِ ہُدًی مِّنَ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ لَا یَہۡدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿٪۵۰﴾﴾ </span> (القصص:50 ) </p> <p>یعنی’’ اُس سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جس نے اللہ کی ہدایت کے بجائے اپنے نفس کی خواہش کی پیروی کی۔ایسے ظالم لوگوں کو اللہ ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ </p> مطلب یہ ہے کہ سب سے بڑھ کر انسان کو گمراہ کرنے والی چیز انسان کے اپنے نفس کی خواہشات ہیں۔جو شخص خواہشات کا بندہ بن گیا،اُس کے لیے خدا کا بندہ بننا ممکن ہی نہیں۔وہ ہر وقت یہ دیکھے گا کہ مجھے روپیہ کس کام میں ملتا ہے،میری عزت اور شہرت کس کام میں ہوتی ہے،مجھے لذت اور لطف کس کام میں حاصل ہوتا ہے،مجھے آرام اور آسائش کس کام میں ملتی ہے۔بس یہ چیزیں جس کام میں ہوں گی،اُسی کو وہ اختیار کرے گا،چاہے خدا اس سے منع کرے اور یہ چیزیں جس کام میں نہ ہوں،اُس کو ہرگز نہ کرے گا،چاہے خدا اس کا حکم دے۔تو ایسے شخص کا خدا اللہ تبارک و تعالیٰ نہ ہوا،اس کا اپنا نفس ہی اس کا خدا ہوگیا۔اس کو ہدایت کیسے مل سکتی ہے؟۔۔۔۔۔نفس کے بندے کا جانوروں سے بد تر ہونا ایسی بات ہے جس میں کسی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے۔کوئی جانور آپ کو ایسا نہ ملے گا جو خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے بڑھتا ہو۔ہر جانور وہی چیز کھاتا ہے جو خدا نے اُس کے لیے مقرر کی ہے۔اُسی قدر کھاتا ہے جس قدر اس کے لیے مقرر کی ہے۔اور جتنے کام جس جانور کے لیے مقرر ہیں بس اتنے ہی کرتا ہے۔مگر یہ انسان ایسا ’ جانور‘ ہے کہ جب یہ اپنی خواہش کا بندہ بنتا ہے تو وہ وہ حرکتیں کر گزرتا ہے،جس سے شیطان بھی پناہ مانگے۔ <p style="text-align: center;"> خطبات( سید مودودیؒ )

articleUrdu0 min

love of the world.

28238

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 46)۔ </span><br> <p> آخرت اور قیامت کے انکار کا ایک بڑا سبب دُنیا کی حد سے بڑھی ہوئی محبت ہے۔چنانچہ ارشاد ہوا :</p> <p><span class="Font_AlMushaf"> ﴿کَلَّا بَلْ تُحِبُّوۡنَ الْعَاجِلَۃَ ﴿۲۰﴾ وَ تَذَرُوۡنَ الْاٰخِرَۃَ ﴿۲۱﴾﴾(القیامہ) </p></span> <p>’’ہر گز نہیں! بلکہ تم لوگ دنیا سے محبت رکھتے ہوا اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو!‘‘ </P> یعنی تمہاری گمراہی کا اصل سبب یہ ہے کہ تم عاجلہ کی محبت میں گرفتار ہو،اور اس کے پرستار بن گئے ہو۔لفظ ’’عاجلہ‘‘ عجلت سے بنا ہے،اس سے مراد ’’دنیا‘‘ ہے۔اس لیے کہ اس کا نفع بھی فوری اور نعقد ہے اور نقصان بھی فوری اور نعقد۔اس کی لذتیں بھی بالفعل محسوس ہوتی ہیں اور اس کی کلفتیں بھی فوری اثر کرنے والی ہوتی ہیں۔تم اس عاجلہ سے دل لگائے ہوئے ہو اور آخرت کی زندگی کو نظر انداز اور فراموش کئے ہوئے ہو ۔یہاں عاجلہ کا لفظ استعمال کرکے اس حقیقت کی جانب توجہ مبذول کرادی گئی کہ اس دُنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ فوری لذتوں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور فوری آسائشوں کو قربان نہیں کرسکتے،وہ آگے نہیں بڑھ سکتے۔اس کے برعکس جنہیں آگے بڑھنا ہوتا ہے اور جو دُور بین ہوتے ہیں،وہ فوری راحت و آرام کو تج دیتے ہیں اور سخت محنت کرتے ہیں یہاں تک کہ راتوں کو جاگتے ہیں تاکہ اپنے دُنیوی کیریئر کو روشن بناسکیں۔بالکل اسی طرح جو لوگ دُنیا کی فوری لذت اور عیش و راحت کو قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے،جو اس عاجلہ (دنیا) کی محبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور اس عروسِ ہزار داماد کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوکر رہ جاتے ہیں،جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ آخرت سے غافل رہتے ہیں اور اللہ کی جانب میں محاسبہ کے لیے کھڑے ہونے کو فراموش کردیتے ہیں،وہ اُخروی زندگی میں لامحالہ ناکام اور خائب و خاسر ہوکر رہیں گے۔لیکن افسوس کہ انسان مختصرسی حیاتِ دُنیوی میں تو مستقبل سے غافل نہیں ہوتا،لیکن آخرت کی ابدی زندگی سے غافل رہتا ہے۔ <p style="text-align: center;"> ڈاکٹر اسرار احمد ؒ ( قرآن کریم کا منتخب نصاب )

articleUrdu0 min

If You Still Don't Wakeup......

28225

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 45)۔ </span><br> <p> ’’آج مسلمان ایک دانشمندانہ اور حقیقت پسندانہ دینی قیادت کے محتاج ہیں۔اگر آپ مسلمانوں کو سو فیصد ’’تہجد گزار‘‘بنادیں‘ سب کو متقی و پرہیز گار بنادیں‘ لیکن اُن کا ماحول سے کوئی تعلق نہ ہو‘ وہ یہ نہ جانتے ہوں کہ ملک ڈوب رہا ہے‘ اُس میں بد اخلاقی ‘ وبا اور طوفان کی طرح پھیل رہی ہے ‘سچے مسلمانوں سے نفرت عام کی جارہی ہے‘ تو تاریخ کی شہادت ہے کہ پھر تہجد تو تہجد‘ ’’پانچ وقتوں کی نمازوں‘‘ کا پڑھنا بھی مشکل ہوجائے گا۔اگر آپ نے دینداروں کے لیے اس ماحول میں سے کوئی جگہ نہ بنائی‘اور ان کو ملک کا بے لوث مخلص اور شائستہ شہری ثابت نہیں کیا‘ جو ملک کو بے راہ روی سے بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتا ہے‘ اور ایک بلند کردار پیش کرتا ہے‘ تو یاد رکھٔے کہ ’’عبادات و نوافل‘‘ اور دین کی علامتیں اور شعائر تو الگ رہے‘وہ وقت بھی آسکتا ہے کہ مسجدوں کا باقی رہنا بھی مشکل ہو جائے۔اگر آپ نے مسلمانوں کو اجنبی بنا کر اور ماحول سے کاٹ کر رکھا ‘ زندگی کے حقائق سے اُن کی آنکھیں بند رہیں اور ملک میں ہونے والے انقلابات‘ ’’نئے نئے قوانین‘‘ اور عوام کے دل و دماغ پر حکومت کرنے والے رجحانات سے وہ بے خبر رہے تو پھر قیادت تو الگ رہی جو خیر امۃ کا فرضِ منصبی ہے‘ اپنے وجود کی حفاظت بھی مشکل ہوجائے گی۔</p> یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اُن کا مذہبی صحیفہ قرآن اور ان کے پیغمبر ﷺ کی تعلیم (جو خدا کا شکر ہے اپنے اندر بے پناہ طاقت رکھتی ہے)اُن کو نہ صرف اس عام بگاڑ‘ اس سے پھیلی ہوئی آگ اور دولت کی آندھی پرستش کے اس بہتے ہوئے گندے پانی سے بچنے کی تلقین کرتی ہے‘ بلکہ اُن پر اس کو روکنے اور اس سے لوگوں کو بچانے کی ذِمّہ داری بھی عائد کرتی ہے۔ان کو ان کے پیغمبر ﷺ نے صاف طریقہ پر سمجھادیا ہے اگر کشتی کے کسی بھی سوار کو ایسی حرکت سے باز رکھنے کی کوشش نہ کی گئی‘ جس سے یہ کشتی خطرے میں پڑجاتی ہے تو پھر کشتی کے ڈوبنے کی صورت میں کوئی سوار بھی بچ نہ سکے گا‘ کیونکہ یہ کشتی نیک و بد‘ قصور وار اور بے قصور‘ سوتے جاگتے سب کے ساتھ ڈوب جائے گی اور پھر کوئی نیکی اور کوئی دانائی کام نہ آئے گی۔‘‘ <p style="text-align: center;"> سید ابو الحسن علی ندویؒ (کاروانِ زندگی (جلد دوم))

articleUrdu0 min

Sacrifice is inevitable!

قربانی ناگزیر ہے!۔

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 44)۔ </span><br> <p>دین حق کو جب کبھی قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی،کوئی نہ کوئی دین باطل قوت اور زور کے ساتھ قائم شدہ تو پہلے سے موجود ہوگا ہی۔طاقت بھی اس کے پاس ہوگی،رزق کے خزانے بھی اُسی کے قبضے میں ہوں گے،اور زندگی کے سارے میدان پر وہی مسلط ہوگا۔ایسے ایک قائم شدہ دین کی جگہ کسی دوسرے دین کو قائم کرنے کا معاملہ بہرحال پھولوں کی سیج تو نہیں ہوسکتا۔آرام اور سہولت کے ساتھ میٹھے میٹھے قدم چل کر یہ کام نہ کبھی ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے۔آپ چاہیں کہ جو کچھ فائدے دین باطل کے ماتحت زندگی بسر کرتے ہوئے حاصل ہوتے ہیں،یہ بھی ہاتھ سے نہ جائیں اور دین حق بھی قائم ہوجائے،تو یہ قطعاً محال ہے۔یہ کام تو جب بھی ہوگا اسی طرح ہوگا کہ آپ اُن تمام حقوق کو،اُن تمام فائدوں کو،اُن تمام آسائشوں کو لات مارنے کے لیے تیار ہوجائیں جو دین باطل کے ماتحت آپ کو حاصل ہوں،اور جو نقصان بھی اس مجاہدے میں پہنچ سکتا ہے اُس کو ہمت کے ساتھ انگیز کریں۔جن لوگوں میں یہ کھکھیڑ اُٹھانے کی ہمت ہو،جہاد فی سبیل اللہ انہی کا کام ہے،اور ایسے لوگ ہمیشہ کم ہی ہوا کرتے ہیں،رہے وہ لوگ جو دین حق کی پیروی کرنا تو چاہتے ہیں،مگر آرام کے ساتھ ،تو اُن کے لیے بڑھ بڑھ کر بولنا مناسب نہیں ،اُن کا کام تو یہی ہے کہ آرام سے بیٹھے اپنے نفس کی خدمت کرتے رہیں اور جب خدا کی راہ میں مصیبتیں اُٹھانے والے آخر کا راپنی قربانیوں سے دین حق کو قائم کردیں تو وہ آکر کہیں إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ یعنی ہم تو تمہاری ہی جماعت کے آدمی ہیں،لاؤ اب ہمارا حصہ دو۔ </P> <p style="text-align: center;"> سید مودودی ؒ ( خطبات )

articleUrdu0 min

Take Time for Religous Observance

28207

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 43)۔ </span><br> <p> ہم میں سے اکثر کے دلوں میں آرزو پیدا ہوتی ہے کہ دین کے لیے کچھ کریں،لیکن اکثر و بیشتر کا حال کیا ہے کہ ذرا یہ کام کرلوں،ذرا اِن ذمہ داریوں سے عہدہ بر آہولوں۔بچے ابھی چھوٹے ہیں،ذرا بڑے ہوجائیں۔بڑے ہیں تو ذرا ان کی شادی بیاہ سے فراغت ہوجائے۔بچیوں کے ہاتھ پیلے ہو جائیں۔فلاں کام ہوجائے۔بس پھر اپنے آپ کو ہمہ تن،ہمہ وقت لگادوں گا اللہ تعالیٰ کے لیے اور وہ وقت کبھی نہیں آتا۔کارِ دنیا کسے تُمام نکّرد(دنیا کا کام کسی نے ختم نہ کیا)بیٹے،بیٹیوں سے فارغ ہوئے،تو پوتے پوتیاں موجود ہیں۔ہوس کبھی ختم نہیں ہوتی،جن کے پاس دس دس پشتوں کے کھانے کے لیے سامان موجود ہے وہ بھی صبح سے شام تک ہیرا پھیری اور حلال و حرام کی تمیز کیے بغیر لگے ہوئے ہیں۔</P> سورۃ التکاثر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:<p>’’ یہ تکاثر اور بہتات میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ جو لگی ہوئی ہے وہ تمہیں غافل کیے رکھتی ہے یہاں تک کہ قبروں تک جا پہنچے ہو‘‘۔(آیات:2،1) <p>ایسے لوگ نظر آجائیں گے کہ ٹانگیں اُن کی قبر میں اُتری ہوئی ہیں ،لیکن مجال نہیں کہ حرص میں کوئی کمی ہو۔</p> انسان بوڑھا ہوتا ہے،حرص جو ان ہوتی ہے۔فرمایا: <p><span class="Font_AlMushaf"> أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ ﻻ </p></span> ’’کیا وقت نہیں آیا ہے،اہل ایمان کے لیے(کس چیز کے منتظر ہیں)جھک جائیں ان کے دل اللہ کی یاد میں اور جو کچھ نازل ہوا ہے حق میں سے اُس کے ساتھ۔‘‘ <p style="text-align: center;"> ڈاکٹر اسرار احمد ؒ ( سوشل میڈیا سے انتخاب )