Articles

Read Quran Academy articles and Unicode content.

Clear

142 results with 1 filter

Page 3 of 6

articleUrdu0 min

After Ramadan

27905

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 13)۔ </span><br> <p>رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ،رمضان،آخر کا گزر گیا ۔مگر اپنے پیچھے یہ سوال چھوڑ گیا کہ ہمیں اس کی رحمتوں و برکتوں سے کتنا فیض حاصل ہوا؟اس سوال کا حقیقی اور زندہ جواب رمضان کے بعد کے ایام میں سامنے آجاتا ہے۔</p>لوگوں کی غالب اکثریت عید کے چاند کی اطلاع کے ساتھ ہی رمضان کی برکات کو فراموش کردیتی ہے۔ان کے لیے عید کے ایام خوشی کے نہیں غفلت کے ایام بن جاتے ہیں۔نمازوں کی پابندی ختم،قرآن مجید کی تلاوت سے فراغت اور یاد الٰہی،ذکرو دعا سے صبح و شام خالی ہوجاتے ہیں۔<p>رمضان کے بعد نفلی عبادات میں کمی اتنا بڑا سانحہ نہیں مگر ان سے بالکل ہاتھ اٹھالینا،گناہوں پر دلیر ہوجانا اور فرائض کا ترک کردینا اس بات کی علامت ہے کہ رمضان میں نظر آنے والی نیکی ایک درجہ میں شاید موسمی بخار یا مذہبی فیشن کی ایک شکل تھی۔یہ کسی حقیقی معرفت،احساس اور ایمان کے نتیجے میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔حدیث کے مفہوم کے مطابق ایسے روزے ایمان و احتساب کے بغیر رکھے گئے اور ایسی شب بیداری ایمان و احتساب کے بغیر کی گئی۔چناچہ یہ روزے اور شب بیداری انسان میں حقیقی تبدیلی نہ لاسکے۔یہ موسمی بخار تھا جو اتر گیا۔مذہبی فیشن تھا جو وقت کے ساتھ رخصت ہوگیا۔اگر ایمان حقیقی ہوتا اور احتساب ہوتا تو کچھ نہ کچھ بہتری ضرور آتی ۔کچھ نئے اہداف طے ہوتے۔کچھ کمزوریاں رخصت ہوتیں۔زندگی میں بہتری ضرور آتی۔ سو اگر رمضان میں بھی ہم نے اپنا احتساب نہیں کیا تو رمضان کے بعد ہی سہی،ایمان کے تھر مامیٹر سے اپنا درجہ حرارت ضرور دیکھیے۔یہ موسمی بخار تھا تو اتر گیا ہوگا۔ورنہ ایمانی حرارت نے عمل میں ضرور بہتری پیدا کی ہوگی۔ان شاء اللہ!</p> <p style="text-align: center;"> (ابو یحٰیی)کے کالم سے اقتباس

articleUrdu0 min

Eid message

27890

<span style="color: black;"><span style="font-size: 25px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 12)۔ </span><br> اسلام نے عید کے دن کو محض خوشی و مسرت کا دن نہیں قرار دیا ہے بلکہ اس نے خوشی و مسرت کے دن کے ساتھ ساتھ اسے تسبیح و تہلیل،ذکر و عبادت اور اپنے مسلمان بھائیوں میں جو محتاج اور مفلوک الحال ہیں، ان کی امداد و غم گساری کا دن بھی قرار دیا ہے۔خوشی و مسرت کے نام پر دوسری قوموں میں جو ہر طرح کی آزادی پائی جاتی ہے۔اس کے برعکس اسلام اپنے ماننے والوں کو اخلاقی اور شرعی حدود کا پابند بناتا ہے اور انہیں بے لگام نہیں چھوڑ دیتا ہے۔مسلم بندہ احکام شریعت اور اپنے پیغمبر علیہ السلام کی ہدایت کا پابند ہوتا ہےاورجو پابندی نہیں کرتا وہ سچا مسلمان ہر گز نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ کے بندوں کو ایک پُر مشقت عبادت کے بعد خوشی کا ایک دن میسر کیا گیا تاکہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں اور اللہ کی تعریف کریں۔ <span class="Font_AlMushaf"> {وَلِتُكْبَرُوا اللهَ عَلَى مَا هَذَلِكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴿﴾} </span>اللہ کی تعریف کہ اس نے ہم کو یہ مشقت والی عبادت کی توفیق دی اور اس بات پر شکر کہ اس نے اہل اسلام کو کھلے میدانوں میں جمع ہونے کا حکم دے کر ہمیں محبت و مودت کی خوبصورت لڑی میں پرودیا۔عید کی نماز میں جمع ہونے کا مقصد یہ ہے کہ ہم باہمی کدورتیں اور نفرتیں،قبائلی و علاقائی تعصّبات،مسلکی و سیاسی تفریقات اور افتراقات کو بھلاکر اکٹھے ہو کر اہل اسلام کی یگانگت کا عملی مظاہرہ کریں۔عید کا دن پیغام ہے ہر اس روزے دار کے لیے جس کے لیے یہ دن واقعی جہنم سے آزادی کا دن قرار پاگیا۔جس روزہ دار نے اپنے گناہ معاف کروالیے،جو اللہ کا ویسا بندہ بن گیا جیسا رمضان بنانا چاہتا تھا۔جس کو رمضان نے حلم و بردباری،عفو درگزر،تواضع و عاجزی اور عبادت و ریاضت کا پابند بنادیا۔جس روزہ دار کے دن اطاعت و فرمانبرداری سے اور راتیں قیام سے مزین ہوگئیں اور جو یہ سب نہ کماسکا وہ اپنا محاسبہ کرلے۔ابھی زندگی کی رونق باقی ہے،ابھی سانس چل رہے ہیں،ابھی تبدیلی کا امکان باقی ہے۔صرف نئے کپڑے پہن کر عید کی خوشیوں میں شریک ہونے والا مسلمان یاد رکھے کہ حقیقی خوشی تو اس کی ہے جس کا دل اللہ کی محبت سے بھر چکا ہے،جس کے دل میں گناہ سے نفرت کا مضبوط بیچ بویا جاچکا ہے۔ <p style="text-align: center;">پروفیسر زید حارث(کے کالم سے اقتباس)۔

articleUrdu0 min

The Place of Fasting in Religion.

27888

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 11)۔ </span><br> <p>یہ ایک فطری سی بات ہے کہ جس اُمّت پر اللہ کے نظام کو دنیا میں قائم کرنے اور اس کے ذریعےنوعِ انسانی کی قیادت کرنے اور انسانوں کے سامنے حق کی گواہی دینے کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کرنے کو فرض کیا جائے اُس پر روزہ فرض ہو! روزے ہی سے انسان میں محکم ارادے اور عزم بالجزم کی نشونما ہوتی ہے۔روزہ ہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے انسان خدا کی رضا اور اجرِ آخرت کے لیے تمام جسمانی ضرورتوں پر قابو پاتا ہےاور تمام دشواریوں اور زحمتوں کو برداشت کرنے کی قوت حاصل کرتا ہے۔</p> اس فریضہ کا اولین مقصود تقویٰ،قلب کی صفائی ،احساس ِ ذمہ داری اور خشیتِ الٰہی کے لیے دِلوں کو تیار کرنا ہے۔تقویٰ دل میں زندہ و بیدار ہو تو مومن اس فریضہ کو اللہ کی فرمانبرداری کے جذبے کے تحت اُس کی رضا جوئی کے لیے ادا کرتا ہے۔ تقویٰ ہی دِلوں کا نگہبان ہے۔وہی معصیت سے روزے کو خراب کرنے سے انسان کو بچاتا ہے،خواہ یہ دل میں گزرنے والا خیال ہی کیوں نہ ہو۔قرآن کے اولین مخاطب جانتے تھے کہ اللہ کے یہاں تقویٰ کا کیا مقام ہے اور اُس کی میزان میں تقویٰ کا کیا وزن ہے۔روزہ اُس کے حصول کا ذریعہ اور اُس تک پہنچانے کا راستہ ہے۔ <p style="text-align: center;"> (سید قطب شہیدؒ )

articleUrdu0 min

The Relationship between the servant and the Lord in Ramadan

27882

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 10)۔ </span><br> <p>’’اور (اے بنیﷺ!)جب میرے بندے آپؐ سے میرے بارے میں سوال کریں تو(ان کو بتا دیجیے کہ)میں قریب ہوں۔میں تو ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی(اور جہاں بھی)وہ مجھے پکارے،پس اُنہیں چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں،اور مجھ پر ایمان رکھیں،تاکہ وہ صحیح راہ پر رہیں۔‘‘ (البقرہ:186)</p> <p>رمضان و قرآن اور صیام و قیام کا جو مشترک نتیجہ نکلے گا وہ یہ ہے کہ روح بیدار ہوگی،تقویت پائے گی اور اللہ کی طرف متوجہ ہوگی۔اسی لیے مذکورہ آیت میں خوشخبری ہے کہ میں کہیں دور نہیں ہوں۔مجھے تلاش کرنے کے لیے کہیں بیابانوں میں جانے اور پہاڑوں کی غاروں میں تپسیائیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔میں تمہارے بالکل قریب ہی ہوں،گویا؂ </P> <p style="text-align: center;">دل کے آئینے میں ہے تصویر یار <p style="text-align: center;">جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی <p> تمام قدیم مذاہب میں اللہ کے ساتھ بندوں کے ربط و تعلق کا مسئلہ ہمیشہ ایک لا ینحل گتھی بنا رہا ہے۔اکثر مذہبوں نے تو اللہ کو اتنا دور اور اتنا بعید فرض کرلیا ہے کہ اس تک براہِ راست رسائی گویا ممکن ہی نہیں۔قرآن مجید نے اس وہم کو دور کرکے صاف صاف بتادیا ہے کہ تم جسے دور سمجھ رہے ہو ،وہ دور نہیں ہے،تمہارے بالکل قریب ہے۔اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب چاہو اور جہاں چاہو اُس سے ہم کلام ہوجاؤ۔</p> اللہ تعالیٰ تک رسائی کے لیے تمہاری دعا کسی پوپ،کسی پادری،کسی پروہت،کسی پجاری،کسی پنڈت یا کسی پیر کے واسطے کی محتاج نہیں ہے ۔اللہ کا ربط و تعلق بندے کے ساتھ براہِ راست ہے۔یہاں کسی واسطے کی ضرورت ہے ہی نہیں!ہاں البتہ اس تعلق کے مابین حجاب ہم خود ہیں۔ہماری حرام خوری،ہماری غفلتیں حجاب بنی ہوئی ہیں۔اپنی غفلتوں کا پردہ چاک کیجئے۔اللہ کی جناب میں توبہ کیجئے! وہ ہرآن ،ہر لحظہ آپ کی دعا کو سننے والا ہے۔وہ ہمیشہ ہی قریب رہتا ہے اور رمضان میں تو اس عموم میں خصوص پیدا ہوجاتا ہے۔ <p style="text-align: center;">عظمتِ صیام و قیام رمضان(ڈاکڑ اسرار احمد ﷫)

articleUrdu0 min

Fasting: A source of refreshing sense of devotion

27874

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 09)۔ </span><br> روزے کا قانون یہ ہے کہ آخر شب طلوع سحر کی پہلی علامات ظاہر ہوتے ہی آدمی پر یکا یک کھانا پینا اور مباشرت کرناحرام ہو جاتا ہے اور غروب آفتاب تک پورے دن حرام رہتا ہے۔ اس دوران میں پانی کا ایک قطرہ اور خوراک کا ایک ریزہ تک قصدا حلق سے اُتارنے کی اجازت نہیں ہوتی اور زوجین کے لیے ایک دوسرے سے قضائے شہوت کرنا بھی حرام ہوتا ہے۔ پھر شام کو ایک خاص وقت آتے ہی اچانک حرمت کا بند ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ سب چیزیں جو ایک لمحہ پہلے تک حرام تھیں یکا یک حلال ہو جاتی ہیں اور رات بھر حلال رہتی ہیں، یہاں تک کہ دوسرے روز کی مقررہ ساعت آتے ہی پھر حرمت کا قفل لگ جاتا ہے۔ ماہ رمضان کی پہلی تاریخ سے یہ عمل شروع ہوتا ہے اور ایک مہینہ تک مسلسل اس کی تکرار جاری رہتی ہے۔ گویا پورے تیس دن آدمی ایک شدید ڈسپلن کے ماتحت رکھا جاتا ہے۔مقر روقت تک سحری کرے، مقرر وقت پر افطار کرے، جب تک اجازت ہے ، اپنی جائز خواہشات نفس پوری کرتار ہے اور جب اجازت سلب کر لی جائے تو ہر اُس چیز سے رُک جائے جس سے منع کیا گیا ہے۔ اس نظام تربیت پر غور کرنے سے جو بات سب سے پہلے نظر میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام اس طریقہ سے انسان کے شعور میں اللہ کی حاکمیت کے اقرار و اعتراف کو مستحکم کرنا چاہتا ہے، اور اس شعور کو اتنا طاقتور بنا دینا چاہتا ہے کہ انسان اپنی آزادی اور خود مختاری سے بالفعل دستبردار ہوجائے۔یہ اعتراف و تسلیم ہی اسلام کی جان ہے،اور اسی پر آدمی کے حقیقی مسلم ہونے یا نہ ہونے کا مدار ہے۔ <p style="text-align: center;">اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر(سید موُدودی ﷫)

articleUrdu0 min

Two parallel programs of Ramadan: daytime fasting and night prayer.

27867

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 08)۔</span><br> <span class="Font_AlMushaf"> عَنْ أبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : ((مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَاناً وَ احْتِسَاباً غُفِرَلَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ’’ وَمَنْ قامَ رَمَضَانَ إِيْمَاناً وَإحْتِسَاباً غُفِرَلَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قامَ لَيْلَةَ القَدْرِ إِيْمَاناً وَ إحْتِسَاباً غُفِرَلَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ)) </span>(متفق علیہ) <p>حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:</p> <p>"جس نے ایمان اور خود احتسابی کی کیفیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے،اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے گئے،اور جس نے رمضان (کی راتوں) میں قیام کیا(قرآن سننے اور سنانے کے لیے)ایمان اور خود احتسابی کی کیفیت کے ساتھ اُس کے بھی تمام سابقہ گناہ معاف کردیئے گئے،اور جو لیلتہ القدر میں کھڑا رہا (قرآن سننے اور سنانے کے لیے) ایمان اور خود احتسابی کی کیفیت کے ساتھ اس کی بھی سابقہ تمام خطائیں بخش دی گئیں!" </p>

articleUrdu0 min

If you want to change people...

27857

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 07)۔ </span><br> اگر تم کہ انسان ہو،انسانوں کو بدلنا،اور ارواح و قلوب کے عوالم روحانیہ کو منقلب کردینا چاہتے ہو،تو یاد رکھو کہ جب تک تم انسان ہو،ایسا نہیں کرسکتے،کیونکہ انسانوں کو اس کی قدرت نہیں دی گئی۔البتہ اگر تم اپنے اندر قوت الٰہی پیدا کرلو،اگر اپنی جماعت کے اندر اس کار فرمائے حقیقی کا ایک گھر بنالو،تمہاری صداؤں کی جگہ تمہارے اندر سے اُس کی آواز نکلنے لگے،تمہاری آنکھوں کے حلقوں سے تمہاری نظروں کی جگہ اُس کی نگاہیں ہوجائیں،تو پھر تمہاری صدائے دعوت ایک سیلابِ انقلاب ہوگی،جس کو دنیا کی کوئی طاقت نہ روک سکے گی۔تمہاری زبانوں سے جو کچھ نکلے گا،وہ دلوں اور روحوں پر نقش ہو جائے گا اور پھر نہ زمین کا پانی اُسے دھوسکے گا،اور نہ آسمان کی بارش اُسے محوکر سکے گی۔تمہاری تعلیم،بیچ اور پھل دونوں اپنے ساتھ لائے گی اور تم گو چپ رہوگے،لیکن تمہاری خاموشی کی ایک ایک صدائے عمل پر کروڑوں ہستیاں اپنے دلوں کو ہتھیلیوں پر رکھ کر پیش کریں گی۔تمہاری آنکھوں سے جب شرارے نکلیں گے تو دنیا میں کس کی آنکھ ہوگی جو اس سے دوچار ہوسکے؟تمہاری زبانوں سے جب لسانِ الٰہی کی صدائے دعوت اُٹھے گی،تو اللہ کی آواز کو سن کر اُس کی کون سی مخلوق ہے جو لبیک نہ کہے گی؟ <p style="text-align: center;">(مولانا ابوالکلام آزاد)

articleUrdu0 min

The power of faith and belief.

27850

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 06)۔ </span><br> جب ایمان کی حقیقت دل میں جاگزیں ہوجاتی ہے تو وہ اس کو عمل پر اُ کساتی ہے،تاکہ واقعاتی اور عملی زندگی میں اپنا فرض ادا کرے۔دنیا میں عقیدے کے عملی معجزات ماضی میں اور حال میں بہت سے ہوئے ہیں،اور مستقبل میں بھی ہوں گے۔ان معجزات نے دنیا میں انقلاب بر پا کئے ہیں۔دراصل عقیدہ انسان کی جان میں ایک عظیم قوت پیدا کردیتا ہے، اس قوت کے باعث نفسِ انسانی بڑے بڑے کارنامے انجام دینے کے قابل ہوجاتا ہے۔عقیدہ فرد اور جماعت کو حیرت انگیز قربانیوں پر آمادہ کرتا ہے۔عقیدے کے زور سے دنیا کی فانی زندگی آخرت کی باقی زندگی کی کامیابی میں بدل جاتی ہے۔عقیدہ انسان کی تمام قوتوں کو مجتمع کردیتا ہے،اس کو ہدف اور مقصد عطا کرتا ہے اور اس کے لیے قربانی کرنے کی اُمنگ پیدا کرتا ہے۔عقیدہ انسان کو حکومت،مال و دولت اور لوہے اور آگ کی قوتوں کے آگے کھڑا کردیتا ہے۔ایسا شخص باطل سے نہیں گھبراتا اور برائی کی قو توں سے نہیں ڈرتا خواہ وہ قوتیں کس قدر ہوں اور کتنی طاقتور ہوں۔عقیدے کی طاقت ان تمام قوتوں کو شکست دے دیتی ہے اور اُن پر غالب آجاتی ہے۔یہ فتح ایک فانی فرد کی نہیں ہوتی بلکہ ایک باقی اور قائم و دائم عقیدے کی ہوتی ہے۔ <p style="text-align: center;">(فی ظلال القرآن | سید قطب شہیدؒ )

articleUrdu0 min

Occupied Kashmir: Freedom struggle and human rights violations

27844

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 05)۔ </span><br> تاریخِ عالم میں اہلِ کشمیر اُن چند پُر عزم،بلند حوصلہ،حق پرست،حریت پسند اور جذبۂ اِستقلال سے سرشار اقوام میں سے ہیں جنہوں نے نہ تو کبھی ظالم کے ظلم سے خوف کھایا اور نہ ہی قابض کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔گوکہ رائے عامہ کے مطابق مسئلہِ کشمیر1947ء میں تقسیم ہند سے شروع ہوا مگر در حقیقت مسلمانانِ کشمیر پر زندگی تقسیمِ ہند سے قبل ہی تنگ کردی گئی تھی۔بلاشبہ کشمیر کی موجودہ صورتحال ہندو بنیاد ڈوگرا راج کی مسلم کُش پالیسیز کا ہی تسلسل ہے۔گمنام اجتماعی قبریں،بے گناہ شہداء،معصوم یتیم،بیوہ وُ نصف بیوہ،عورتیں،نابینا بچے،معذور و بے سہارابوڑھے اور لہو لہان وادیٔ کشمیر،بھارتی مظالم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ <p style="text-align: center;">(سلطان محمد بہادر عزیز) <p style="text-align: center;">کوئی آواز اب اُٹھائے کہ کشمیر جل رہا ہے <p style="text-align: center;">کوئی انصاف اب دلائے کہ کشمیر جل رہا ہے <p style="text-align: center;">ہر فرد ہے پریشان،بے چین و دل شکستہ <p style="text-align: center;">کوئی مرہم انہیں لگائے کہ کشمیر جل رہا ہے

articleUrdu0 min

When the Heavenly Religion Becomes a Religion

27837

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 04)۔ </span><br> جب کسی آسمانی دین پر وہ وقت آتا ہے کہ اس سے ’’شریعت‘‘اور ’’دستور‘‘ کا معنی نکال دیا جائے اور وہ محض ایک مذہب بن کر رہ جائے تو پھر اس دین کے علماء و فقہاء ’’زندگی اور معاشرے کے قائد‘‘ نہیں بلکہ مذہبی شخصیات بن کر رہ جاتے ہیں!یہاں پوپوں اور پادریوں کا رنگ آنے لگتا ہے۔لوگوں کو ’’راہ دکھانے‘‘ کی بجائےپار لگانے کے دھندے چل نکلتے ہیں اور یہ خدا اور بندوں کے بیچ واسطہ بننے لگتے ہیں۔یہ جہان اُن کے ہاتھ سے نکلتا ہے۔۔۔۔۔تو یہ اگلے جہان کے مالک بن بیٹھتے ہیں!ان کے گرد’’تقدسات‘‘ کا ایک ہالہ بُنتا چلا جاتا ہے۔لوگوں کے دلوں پر ان کے پہنچے ہوئے ہونے کی دھاک بٹھائی جاتی ہے۔اور تب ۔۔۔۔۔روئے زمین پر بد ترین قسم کا ’’روھانی طغیان‘‘ شروع ہوجاتا ہے۔ <p style="text-align: center;">(سید محمد قطب شہیدؒ)

articleUrdu0 min

Avoid the call to account on the Day of Reckoning!

27830

<span style="color: black;"><span style="font-size: 25px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 03)۔ </span><br> <span class="Font_AlMushaf"> <p>ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿﴾} (17) (القمر) </p></span>"اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے بہت آسان کردیا ہے۔اب ہے کوئی نصیحت لینے والا"۔مطلب یہ ہے کہ ہم نے قرآن کوتذکر کے لیے،نصیحت حاصل کرنے کے لیے اور اسے عملی زندگی میں اپنانے کے لیے آسان بنایا ہے۔اب تم میں سے ہے کوئی جو اس نصیحت پر عمل کرے؟اس سے ثابت ہوا کہ قرآن مجیدسارے کا سارا اس نقطہ نظر سے پڑھنا کہ اس کو پڑھ کر نصیحت حاصل کرنا ہے،اور اس پر عمل کرنا ہے،یہ سب پر فرض ہے البتہ قرآن مجید سے فقہی مسائل کا استنباط اور اس کی تفسیر کے علوم کا حاصل کرنا سب مسلمانوں پر فرض نہیں ہے۔ہر مسلمان کو یہ دیکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نام کیا پیغام بھیجا ہے؟یہ ایک دستی خط آیا ہے۔اور یہ کسی عام آدمی کے ہاتھوں نہیں بلکہ سید الاوّلین والآ خرین محمد رسول اللہﷺ کے ہاتھوں ہم تک پہنچا ہے۔پیغام بھیجنے والے نے تاکید کے ساتھ متنبہ کیا ہے کہ وہ تم سب سے اس خط کا جواب بھی لے کر رہے گا۔اُس نے بار بار تاکید کردی ہے کہ اگر تم نے اس خط کو اچھی طرح سے پڑھ کر پورے خلوص کے ساتھ نہ سمجھا اور اس پر عمل نہ کیا تو یہی نبیﷺ جو خط لے کر تمہارے پاس آئے ہیں،یومِ حساب تمہارے خلاف دعویٰ دائر کریں گے۔رہ گئے پڑھے لکھے جاہل جنہوں نے ایم اے اور پی ایچ ڈی تو کرلیا لیکن قرآن و حدیث کو سمجھنے کی تکلیف گوارا نہیں کی تو اُن حضرات کو سمجھ لینا چاہیے کہ اُن کا معاملہ انتہائی خطرناک ہے۔ان پر یہ فرد جرم عائد ہوگی کہ یہ دنیا جہان کے اناپ شناب کو تیار تھے اور ایرے غیرے کے پیغام کو سینے سے لگاتے رہے مگر اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو در خوارِ اعتنانہ سمجھا ۔اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کے محبوبؐ کی سنت سے منہ موڑے رکھا۔کتاب و سنت کے علم سے بے پروائی وہ جرم ہے جس کے مرتکب مشرکین مکہ ہوئے تھے،اُنہوں نے بھی حضورﷺ کی دعوت اور اللہ کے پیغام سے اعراض کیا تھا۔<p style="text-align: center;">(ڈاکڑ ملک غلام مرتضیٰ)۔

articleUrdu0 min

The Mood of the Revolutionary Group

27823

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 02)۔</span><br> کسی نظام کو بدلنے کے لئے اُٹھنے والے انقلابی گروہ کا ایک مخصوص مزاج ہوتا ہے،جسے ہم اُس کا تحریکی مزاج کہہ سکتے ہیں۔ایسے لوگ حد درجہ پُرعزیمت ہوتے ہیں اور کسی دشواری یامشکل سے گھبرا کر راستہ بدلنے پر تیار نہیں ہوتے۔یہ باطل سے شدید متنفر ہوتے ہیں،کیونکہ وہ اسی کو گرانے کی عملی جدوجہد کررہے ہوتے ہیں اور اسی کے ساتھ اُن کی موت و حیات کی جان گسیل کشمکش جاری ہوتی ہے۔حق کی سر بلندی کے لیے اُن میں جنون کی سی کیفیت ہو تی ہے۔حق کے دامن پر ایک دھبہ دیکھنا بھی اُنہیں گوارا نہیں ہوتا۔وہ باہم پیوست ہوتے ہیں۔وہ ایک دوسرے سے شدید محبت کرتے ہیں۔قرآن میں اُن کے تعلق کی باہمی کیفیت کو <span class="Font_AlMushaf"> رُحَمَاءُ بَیْنَھُمْ </span>سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اُن کا مزاج سخت درجہ کا انقلابی ہوتا ہے۔وہ باطل کے ساتھ کسی درجہ میں بھی مصالحت،موانست یا رعایت کا رویہ اختیار کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔مصلحت کے معاملہ میں بھی وہ زیادہ گنجائش دینے والے نہیں ہوتے۔اُن میں ناقابل تسخیر استقلال کا جو ہر موجود ہوتا ہے۔عزم وارادہ کی پختگی اُنہیں ایک لمحہ لے لیے بھی راہ حق میں چلتے ہوئے مادی نفع و نقصان کا حساب لگانے کی اجازت نہیں دیتی۔ان میں حد درجہ شوق جہاد ہوتا ہے۔وہ تبلیغ و تلقین کے تقاضے اتمام حجت کی حد تک ادا کرنے کے بعد باطل سے بالفعل ٹکرانے کا ایک زبردست داعیہ اپنے اندر رکھتے ہیں۔اُن کی جانیں ہتھیلیوں پر اور سرگردنوں پر صرف اللہ کی امانت ہوتے ہیں۔ایسی ہی بے تابی اُن مسلمانوں میں موجود تھی جب ہجرت کے بعد مدینہ میں اُنہیں حکم دیا گیا تھا: <p style="text-align: center;"> <span class="Font_AlMushaf">وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ﴿﴾ (البقرہ: 190) </span> <p>"اور تم اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا" </p> انہی صفات کا گروہ ہوتا ہے جو نظام حق کو بر پا کرنے کی جدوجہد کرسکتا ہے۔<p style="text-align: center;">(رسول اکرمﷺ کی حکمتِ انقلاب سید اسعد گیلانی۔)<b></b>

articleUrdu0 min

Commitment to the Jamaat and Inactive Members

27822

<span style="color: black;"><span style="font-size: 25px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 01)۔ <p style="text-align: justify;"> ”یہ سرد مہری جس کا اظہار اس اجتماع کے موقع پر ہوا ہے،کوئی اتفاق چیز نہیں ہے جو اس وقت رونما ہوئی ہے۔ مجھے معلام ہوا ہے کہ متعدو مقامات پر ہماری جماعت کے بعض یا اکثر ارکان ہفتہ وار اجتماعات میں شریک نہیں ہوتے یا شریک ہوتے ہیں تو التزام کے ساتھ نہیں بلکہ’’ گنڈے دار طریقے ‘‘ سے جب دنیا کی کوئی چھوٹی بڑی مشغولیت انہیں نہ ہوئی اور تفریح کو بھی جی چاہا تو مقامی جماعت کے اجتماع میں آگئے۔بعض مقامات پر ہفتہ وار اجتماع کا قاعدہ ہی سرے سے منسوخ کردیا گیا اور بہت سے ارکان ایسے بھی ہیں جو جماعت میں داخل ہوئے اور جان بوجھ کر خدا سے عہد غلامی تازہ کرنے کے بعد ویسے ہی ٹھنڈے،بے روح اور جامد و ساکن ہیں جیسے اس سے پہلے تھے۔نہ ان کی زندگی میں کوئی تغیر ہوا،نہ جاہلیت کے ماحول سے ان کی ٹھنی،نہ دعوت الی اللہ کے لیے ان میں کوئی سرگرمی پیدا ہوئی اور نہ ہمسفر رفیقوں کے ساتھ وابستگی اُن میں پائی گئی۔<p>ہم نے ابتدا میں جماعت قائم کرتے وقت بھی کہہ دیا تھا اور اس کے بعد بھی بار بار کہتے رہے ہیں کہ ہمیں کثرت تعداد کی نمائش کرنے کے لیے فضول بھرتی نہیں کرنی ہے۔ہمیں وہ فربہی مطلوب نہیں ہے جو جسم کو طاقتور بنانے کی بجائے الٹا بوجھل بنادے۔ہمیں صرف ان لوگوں کی ضرورت ہے جنہیں فی الواقع کچھ کرنا ہو اور جو کسی خارجی دباؤ سے نہیں بلکہ ایمان کے اندرونی تقاضے سے خدا کے دین کو قائم کرنے کی سعی کرنا چاہتے ہیں۔لیکن افسوس ہے کہ ان پے درپے تصریحات کے باوجود اس قسم کے لوگ ہمارے اس نظام میں بھی داخل ہوگئے جو اس سے پہلے محض مسلمانوں کے گروہ سے وابستہ ہونے کو ہی نجات کے لیے کا فی سمجھ لینے کے عادی رہے ہیں۔ان سے میں عرض کروں گا کہ اگر آپ کو یہی کچھ کرنا تھا تو اس غریب جماعت کو خراب کرنا کیا ضروری تھا۔آپ کو اگر فی الواقع اس نصب العین سے ہمدردی تھی جس کی خدمت کے لیے ہماری جماعت بنی ہے اور اس ہمدردی نے آپ کو ہم سے تعلق پیدا کرنے پر آمادہ کیا تھا ، تو آپ کی ہمدردی کا کم سے کم تقاضایہ ہونا چاہیے تھا کہ آپ اس جماعت کو خراب کرنے سے پرہیز کرتے اور وہ بیماریاں اسے نہ لگاتے جن کی وجہ سے مسلمان مدت ہائے درازسے کوئی صحیح کام نہیں کر سکے ہیں‘‘۔</p> <p style="text-align: center;"> <b> روداد جماعت اسلامی(حصہ دوم،ص:107،106)</b>