A favorite act on Eid day.
28782
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 11)۔ </span><br> <span class="Font_AlMushaf"> وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللہَ عَلٰی مَا ہَدٰىكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوۡنَ ﴿۱۸۵﴾(البقرہ)</span> <p> ’’اور تم بڑائی کرو اللہ کی اس پر جو ہدایت اُس نے تمہیں بخشی ہے اور تاکہ تم شکر کرسکو۔‘‘</p> قرآن حکیم میں ماۃِ رمضان کے روزوں کی فرضیت اور اُن سے متعلق احکام بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمیا کہ ’’ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تنگی نہیں چاہتا تاکہ پورا کرو گنتی کو اور تاکہ تکبیر(بڑائی)کرو اللہ کی اس پر کہ اُس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو‘‘۔گویا رمضان کے روزوں کی تکمیل پر اللہ تعالیٰ کی تکبیر اور اُس کے شکر ادا کرنے کی تلقین خود ربِ کائنات فرما رہے ہیں۔چناچہ یکم شوال یعنی عید کے دن مسلمان اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ <p> سیرت نبویﷺ سے بھی ہمیں یہی رہنمائی ملتی ہے کہ اس روز مسلمان نہا دھو کر،صاف ستھرےکپڑے پہن کر اور خوشبو لگا کر عید گاہ کی جانب روانہ ہوں تو بلند آواز بلند اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے جائیں اور واپسی پر بھی اس عمل کو دہرائیں کہ پوری بستی اللہ کی تکبیر سے گونج اُٹھے۔آنے اور جانے کے لیے مختلف راستوں کو اختیار کرنے کی تلقین بھی اسی لیے ہے کہ بستی کا کوئی کونہ تکبیر الٰہی کی گونج سے محروم نہ رہے۔نماز عید تو ہے ہی دو رکعت شکرانہ جو مسلمان اجتماعی طور پر صف بستہ ہوکر اپنے آقا و مالک کی جانب میں ادا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں عید کے معمولات کو اس کی اصل روح کے مطابق سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا ربُ العالمین!</P> <p style="text-align: center;">ڈاکٹر اسرار احمد (خطاب عید سے اقتباس)