Topic 0 2

1992 Quran Academy items about Topic 0 2.

articleUrdu0 min

Faith is a complete way of life.

29178

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 16)۔ </span><br> <p>ایمان جرأت و شجاعت پیدا کرنے والا، حیرت انگیز انقلاب برپا کرنے والا،بنددروازوں کو کھولنے والا اور ہر چہار جانب رہنمائی کرنے والا روشن مینار ہے۔</p> ہمارا مطلوبہ ایمان محض ایک شعار اور دعوت ہی نہیں بلکہ وہ ایک مکمل اسلوبِ حیات ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔نہایت تیز روشنی ہے،جو فرد کی دنیائے فکر وارادہ کو منور کرتی ہے اور جب اس کی شعا عیں معاشرہ پر پڑتی ہیں تو اس کی رگوں میں خونِ زندگی دوڑنے لگتا ہے۔اُس کے رگ و پے میں امن و عافیت سرایت کرتی چلی جاتی ہے۔وہ مریض ہوتا ہے اور دوائے ایمان اُسے شفایاب کردیتی ہے بلکہ وہ مرچکا ہوتا ہے اور اکثر ایمان اُسے حیاتِ نو بخش دیتی ہے۔سچ ہے کہ ایمان رموزِ الٰہی کا رازدان ہوتاہے۔ <p>حقیقی ایمان پوری زندگی پر اپنے نقوش و اثرات مرتب کرتا ہے اور اُسے صبغتہ اللہ میں رنگ دیتا ہے۔انسان کے افکار و نظریات،اُس کے جذبات و اطوار سب اطاعت ِ الٰہی اور بندگیٔ رب کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہوتا جس پر یہ رنگ گہرا نہ ہو ۔صبغة الله و من احسن الله صبغة۔۔۔۔۔۔ (البقرة) وہ قوم جو ایمان سے منور زندگی بسر کرنا چاتی ہے،اُسے اپنے جملہ اصول و مناہج ایمان کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہوں گے اور ہر اس چیز سے دستکش ہونا پڑے گا جو نورِ ایمان کا راستہ روکنے والی ہو۔اگر کوئی قوم یہ قربانی نہیں دیتی مگر اسلام و ایمان کا دعویٰ کرتی چلی جاتی ہے تو اُس کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں۔یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اے اللہ! اُمّتِ مسلمہ کی صراطِ ایمان کی طرف رہنمائی فرما۔(آمین!)</P> <p style="text-align: center;"> (علامہ یوسف القرضاوی)

articleUrdu0 min

Absolute sovereignty belongs only to Allah!

29177

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 15)۔ </span><br> دین اسلام کی فطرت ایک بنیادی اور اصلی حقیقت پیشِ نظر رکھتی ہے۔وہ یہ کہ انسانی زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کا بھی اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ مطلقہ کے سامنے جھکناواجب ہے۔یہ حاکمیت مطلقہ اس کی شریعت میں متمثل ہوتی ہے۔زندگی کا جو جزو بھی اس سے باہر ہوگا، اس حد تک زندگی کو اللہ کے دین سے بغاوت و خروج سمجھا جائے گا۔اور اس سے یہ بات از خود لازم آجاتی ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی جزو بھی بشری حاکمیت کے تابع نہ رہے۔بشری حاکمیت سے پوری خلاصی حاصل کی جائے۔جس بشر کو جس حد تک تحلیل و تحریم کا اختیار سونپا جائے گا وہ اُسی حد تک سونپنے والوں کا ’’خدا‘‘ ہوگا۔وہ خود بھی۔۔۔اگر زندہ ہو اور برضاءورغبت،بالجبر و اکراہ ایسا کرے۔۔۔باغی ہے۔اور اُسے یہ اختیار دینے والے بھی اللہ کی حاکمیت کے باغی ہیں۔کائنات کا الٰہ فقط ایک اللہ واحد ہُ ہے۔ <p style="text-align: center;">سید قطب شہید ؒ (تفسیر فی ظلال القرآن)

articleUrdu0 min

Tower of Light

29176

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 14)۔ </span><br> <p> ایک ایسی شخصی زندگی جو ہر طائفہ انسانی اور ہر حالت انسانی کے مختلف مظاہر اور ہر قسم کے صحیح جذبات اور کامل اخلاق کا مجموعہ ہو،صرف محمد رسول ﷺ کی سیرت ہے۔اگر دولت مند ہو تو مکے کے تاجر اور بحرین کے خزینہ دار کی تقلید کرو،بادشاہ ہو تو سلطانِ عرب کا حال پڑھو،اگر فاتح ہو تو بدر و حنین کے سپہ سالار پر ایک نظر ڈالو،اگر استاد اور معلم ہو تو صفہ کی درسگاہ کے معلم قدس کو دیکھو،اگر واعظ اور ناصح ہو تو مسجد مدینہ کے منبر پر کھڑے ہونے والے کی باتیں سنو،اگر تنہائی و بے کسی کے عالم میں حق کی منادی کا فریضہ انجام دینا چاہتے ہو تو مکے کے الصادق و الامین نبی ﷺ کا اسوۂ حسنہ تمہارے سامنے ہے۔اگر تم حق کی نصرت کے بعد اپنے دشمنوں کو زیر اور مخالفوں کو کمزوربنا چکے ہو،تو فاتح مکہ کا نظارہ کرو۔اگر یتیم ہو تو عبد اللہ و آمنہ کے جگر گوشے کو نہ بھولو،اگر عدالت کے قاضی اور پنجایت کے ثالث ہو تو کعبے میں طلوعِ آفتاب سے پہلے داخل ہونے والے ثالث کو دیکھو جو حجر اسود کو کعبے کے ایک گوشے میں کھڑا کررہا ہے،مدینے کی کچی مسجد کے صحن میں بیٹھنے والے منصف کو دیکھو،جس کی نظرِ انصاف میں شاہ و گدااور امیر و غریب برابر تھے، اگر تم بیویوں کے شوہر ہو تو خدیجہ اور عائشہk کے مقدس شوہر کی حیاتِ پاک کا مطالعہ کرو،اگراولاد والے ہوتو فاطمہk کے والد اور حسن و حسین i کے نانا کا حال پوچھو۔غرض تم جو کوئی بھی ہو،کسی حال میں بھی ہو تمہاری زندگی کے لیے نمونہ،تمہاری سیرت کی درستی اور اصلاح کے لیے سامان ،تمہارے ظلمت خانے کے لیے ہدایت کا چراغ اور رہنمائی کا نور محمد رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے خزانے میں ہر وقت اور ہمہ دم مل سکتا ہے۔صلی اللہ علیہ والہ وصحبہ وبارک و سلم! </p> <p style="text-align: center;">سید سلیمان ندوی ؒ (خطباتِ سیرت)

audioUrdu0 min

Calling People into Allah

دعوت الی اللہ۔

Friday Sermon by Mohattram Amir Khan at Masjid Al-Furqan, Karachi University Society, Gulzar-e-Hijri, Karachi, Pakistan

articleUrdu0 min

Faith Demands: Accountability.

ایمان کا تقاضا: احتساب۔

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 13)۔ </span><br> <p>’’خسران سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی باقاعدگی سے اپنا احتساب کرتا رہے۔ہر نماز کے بعد اور ہر دن کو ختم کرنے پر وہ یہ دیکھے کہ کسی ادنیٰ رفتار سے بھی عقائد میں،عبادات میں، اخلاق میں، تحریکی جدوجہد میں، فریضۂ سمع وطاعت میں، دعوتِ حق کے پھیلانے میں پسپائی تو نہیں ہورہی؟فخر وریا اور شہرت طلبی اور مفاد پسندی کی منحوس پرچھائیاں تو ذہن پر نہیں پڑ رہیں؟‘‘</P> <p> خرابی جب آتی ہے تو چوروں کی طرح دم سادھے ہمارے حریم ذات میں داخل ہوتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ غیر محسوس طور پر اپنا زہر پھیلاتی ہے۔آدمی نفس اور ماحول کے دباؤ سے بعض اُمور میں ہلکی ہلکی تاویلیں کرتا ہے اور انحرافی طرزِ عمل اختیار کرنے کے لیے خاصے دلائل جمع کرتا ہے،تاکہ اپنے ضمیر اور بیرونی نا قدین و معترضین کا مقابلہ کرسکے۔تاویلوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اُصول و حد و د اور مقاصد و غایات اور اخلاقی شعائر کی جو لکیریں کتاب و سنت کی روشنی میں بہت سوچ سمجھ کر لگائی گئی تھیں اور جن کی سال ہا سال تک پاسداری کی جاتی رہی ہے،اُنہیں ذرا آگے پیچھے کیا جا سکے۔بس ایک دفعہ اگر کسی گوشے میں یہ عمل کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر دوسرے گوشوں میں بھی ایسا ہونے لگتا ہے۔پہلے اگر پسپائی یا انحراف کا عمل انچ کے دسویں حصے تک محدود تھا تو کسی دوسرے مرحلے میں پورے انچ کا فرق پڑجاتا ہے اور بعد ازاں کسی اور موقع پر فٹ بھر کا اور آگے چل کر میل بھر کا!تاریخ میں انسانی کردار کے لیے سنت اللہ یہی ہے کہ جو تھوڑا سا آگے بڑھنے کے لیے زور لگاتا ہے،اُسے زیادہ پیش قدمی کے لیے حالات مہیا کیے جاتے ہیں۔اسی طرح جو قدم کو پیچھے ہٹاتا ہے اس کو مزید پیچھے ہٹانے والے حالات پیش آتے ہیں۔<span class="Font_AlMushaf">نُوَلِّھ مَا تَوَلّٰی</span> اس خطرے سے تحفظ صرف احتساب میں ہے۔احتساب کرتے ہوئے ہمیشہ اپنے اوّلین طے کردہ حدود وقیود کا مطالعہ کرنا چاہیئے۔پھر دیکھنا چاہیئے کہ ان خطوط و حدود میں کیاتبدیلی کی گئی۔یوں بھی سوچا جاسکتا ہے کہ کل تک کسی معاملے میں التزام اور کسی غلط چیز سے اجتناب اور کسی خاص رویے کی پسندو ناپسند کے بارے میں ایک شخص(یا سارا گروہ) کہاں قدم جمائے ہوئے تھا اور آج کہاں ہے! <p style="text-align: center;">نعیم صدیقی ؒ (تحریکی شعور)

articleUrdu0 min

Is Jihad a Defensive war?

کیا جہاد دفاعی جنگ کا نام ہے؟

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 12)۔ </span><br> <p> یہ انسانی حاکمیت کے خلاف ایک انقلابی نعرہ ہے۔زمین پر حکومتِ الٰہی کے قیام کا مقصد:اللہ کی ربویت کے معنی یہ ہیں:زمین کے ہر ایک گوشہ میں انسانی حاکمیت کو چیلنج کردینا جس صورت میں کہ یہ موجود ہو‘یا یوں کہئے کہ االلہ کی ربویت کے معنی ہیں کہ انسان کی خدائی کو چیلنج کیا جائے جس صورت میں کہ یہ موجود ہو‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ جس حکم کا سر چشمہ انسان کی اپنی رضا ہو اور جس حکم میں اقتدار اعلیٰ انسان ہی کو تسلیم کیا گیا ہو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس حکم میں انسان کو الٰہ بنالیا گیا ہے‘بعض نے بعض کو اللہ کے مقابلے میں رب ٹھرالیا۔</P> <p> تو اس صورت میں اللہ کی ربویت کے اعلان کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کے غصب کردہ اقتدار اعلیٰ کو ان کے ہاتھوں سے چھین کر اللہ تعالیٰ کے حوالہ کردینا اور ان غاصبوں کو اقتدار اعلیٰ کے اس منصب سے اتاردینا۔یہ غاصب جو لوگوں کو اپنے بنائے ہوئے قانون کا پابند بناتے ہیں خود ان کے سامنے رب بن کر بیٹھتے ہیں اور انہیں غلاموں کا درجہ دیتے ہیں۔</p> اس کا مطلب ہے ’’بشری حاکمیت کے مقابلہ میں حکومت الٰہیہ کا قیام‘‘۔قرآن مجید کے اپنے الفاظ میں اس کی تعبیر یہ ہے کہ <span class="Font_AlMushaf"> ( هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌؕ) </span> ’’اللہ کی حاکمیت جس طرح آسمانوں پر ہے اُسی طرح زمین پر بھی ہے۔‘‘ <p>زمین پر حکومتِ الٰہیہ کے قیام کی یہ صورت نہیں ہے کہ اقتدار اعلیٰ کے اونچے مقام پر کسی مذہبی طبقہ کو فائز کردیا جائے جس طرح کلیسا کے اقدار کے دور میں ہوا۔اسی طرح حکومتِ الٰہیہ کے قیام کی یہ شکل بھی نہیں ہے کہ تھیا کریسی کے نام سے مذہبی طبقہ کو الٰہ بنالیا جائے ۔اس کی تو ایک ہی صورت ہے کہ اللہ کی شریعت کا نفاذ عمل میں لایا جائے اور حاکمیت کے معاملہ کو اللہ کی طرف لوٹا دیا جائے اور اسی کے حکم کے مطابق فیصلے کئے جائیں جس طرح کہ اس نے اپنی نازل کردہ شریعت میں بیان فرمادیا ہے۔</P> <p style="text-align: center;">سید قطب شہید ؒ (تفسیر فی ظلال القرآن)