The Reality Of Good And Bad Situations In The World.

Topic page pattern with intro copy, featured content, related topics, and top speakers.

articleUrdu0 min

The Reality of Good and Bad Situations in the world.

دنیا میں اچھے بُرے حالات کی حقیقت۔

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 50)۔ </span><br> <p> ’’جب کوئی شخص یا قوم ایک طرف تو حق سے منحرف اور فسق و فجور اور ظلم و طغیان میں مبتلا ہو،اور دوسری طرف اُس پر نعمتوں کی بارش ہورہی ہو،تو عقل اور قرآن دونوں کی رو سے یہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ خدا نے اُس کو شدید تر آزمائش میں ڈال دیا ہے اور اس پر خدا کی رحمت نہیں بلکہ اُس کا غضب مسلط ہوگیا ہے۔اُسے غلطی پر چوٹ لگتی تو اس کے معنی یہ ہوتے کہ خدا ابھی اُس پر مہربان ہے،اُسے تنبیہہ کر رہا ہے اور سنبھلنے کا موقع دے رہا ہے۔لیکن غلطی پر ’’انعام‘‘ یہ معنی رکھتا ہے کہ اُسے سخت سزا دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اُس کی کشتی اس لیے تَیر رہی ہے کہ خوب بھر کر ڈوبے۔اس کے برعکس جہاں ایک طرف سچی خدا پرستی ہو،اخلاق کی پاکیزگی ہو،معاملات میں راست بازی ہو،خلقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک اور رحمت و شفقت ہو،اور دوسری طرف مصائب اور شدائد اُس پر موسلادھار برس رہے ہوں اور چوٹوں پر چوٹیں اُسے لگ رہی ہوں،تو یہ خدا کے غضب کی نہیں،اُس کی رحمت ہی کی علامت ہے۔’سنار‘ اس سونے کو تپا رہا ہے،تاکہ خوب نکھر جائے اور دنیا پر اُس کا کامل المعیار ہونا ثابت ہوجائے۔دنیا کے بازار میں اس کی قیمت نہ بھی اُٹھے تو پروا نہیں، ’سنار‘ خود اس کی قیمت دے گا، بلکہ اپنے فضل سے مزید عطا کرئے گا۔اُس کے مصائب اگر غضب کا پہلو رکھتے ہیں تو خود اُس کے لیے نہیں بلکہ اُس کے دشمنوں ہی کے لیے رکھتے ہیں، یا پھر اس سوسائٹی کے لیے جس میں صالحین ستائے جائیں اور فساق نوازے جائیں۔‘‘ <p style="text-align: center;"> سیّد مودودی ؒ (تفہیم القرآن) (سورۂ مومنون آیت 56)