The place of Fasting in Religion.
28780
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 09)۔ </span><br> <p>یہ ایک فطری سی بات ہے کہ جس امت پر اللہ کے نظام کو دنیا میں قائم کرنے اور اس کے ذریعہ نوع انسانی کی قیادت کرنے اور انسانوں کے سامنے حق کی گواہی دینے کے لیے جہاد فی سبیل اللہ فرض کیا جائے،اس پر روزہ فرض ہو!روزہ ہی سے انسان میں محکم ارادے اور عزم بالحزم کی نشونما ہوتی ہے ۔روزہ ہی وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنے رب سے اطاعت و انقیاد کے ساتھ مربوط ہوتا ہے۔پھر روزہ ہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے انسان خدا کی رضا اور اجر آخرت کے لیے تمام جسمانی ضرورتوں پر قابو پاتا اور تمام دشوارویوں اور زحمتوں کو برداشت کرنے کی قوت حاصل کرتا ہے۔</p> اس فریضہ کا اولین مقصود تقویٰ ،صفائے قلب،احساسِ ذمہ داری اور خشیتِ الٰہی کے لیے دلوں کو تیار کرنا ہے۔تقویٰ دل میں زندہ بیدار ہو تو مومن اس فریضہ کو اللہ کی فرمانبرداری کے جذبے کے تحت اس کی رضا جوئی کے لیے ادا کرتا ہے۔تقویٰ ہی دلوں کا نگہبان ہے۔وہی معصیت سے روزے کو خراب کرنے سے انسان کو بچاتا ہے،خواہ یہ دل میں گزرنے والا خیال ہی کیوں نہ ہو۔قرآن کے اولین مخاطب جانتے تھے کہ اللہ کے یہاں تقویٰ کا کیا مقام ہے اور اس کی میزان میں تقویٰ کا کیا قزن ہے۔یہ ان کی منزل مقصود تھی، جس کی طرف ان کی روحیں لپکتی تھیں۔روزہ اُس کے حصول کا ذریعہ اور اس تک پہنچانے کا راستہ ہے۔قرآن اس تقویٰ کو منزل مقصود کی حیثیت سے ان کے سامنے رکھتا ہے،تاکہ روزے کے راستے سے وہ اس منزل کا رُخ کرسکیں۔ <p style="text-align: center;"> سید قطب شہیدؒ