Slavery of the self
28253
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 47)۔ </span><br> <p> ارشاد باری تعالیٰ ہے :</p> <p> <span class="Font_AlMushaf"> ﴿ وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ بِغَیۡرِ ہُدًی مِّنَ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ لَا یَہۡدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿٪۵۰﴾﴾ </span> (القصص:50 ) </p> <p>یعنی’’ اُس سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جس نے اللہ کی ہدایت کے بجائے اپنے نفس کی خواہش کی پیروی کی۔ایسے ظالم لوگوں کو اللہ ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ </p> مطلب یہ ہے کہ سب سے بڑھ کر انسان کو گمراہ کرنے والی چیز انسان کے اپنے نفس کی خواہشات ہیں۔جو شخص خواہشات کا بندہ بن گیا،اُس کے لیے خدا کا بندہ بننا ممکن ہی نہیں۔وہ ہر وقت یہ دیکھے گا کہ مجھے روپیہ کس کام میں ملتا ہے،میری عزت اور شہرت کس کام میں ہوتی ہے،مجھے لذت اور لطف کس کام میں حاصل ہوتا ہے،مجھے آرام اور آسائش کس کام میں ملتی ہے۔بس یہ چیزیں جس کام میں ہوں گی،اُسی کو وہ اختیار کرے گا،چاہے خدا اس سے منع کرے اور یہ چیزیں جس کام میں نہ ہوں،اُس کو ہرگز نہ کرے گا،چاہے خدا اس کا حکم دے۔تو ایسے شخص کا خدا اللہ تبارک و تعالیٰ نہ ہوا،اس کا اپنا نفس ہی اس کا خدا ہوگیا۔اس کو ہدایت کیسے مل سکتی ہے؟۔۔۔۔۔نفس کے بندے کا جانوروں سے بد تر ہونا ایسی بات ہے جس میں کسی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے۔کوئی جانور آپ کو ایسا نہ ملے گا جو خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے بڑھتا ہو۔ہر جانور وہی چیز کھاتا ہے جو خدا نے اُس کے لیے مقرر کی ہے۔اُسی قدر کھاتا ہے جس قدر اس کے لیے مقرر کی ہے۔اور جتنے کام جس جانور کے لیے مقرر ہیں بس اتنے ہی کرتا ہے۔مگر یہ انسان ایسا ’ جانور‘ ہے کہ جب یہ اپنی خواہش کا بندہ بنتا ہے تو وہ وہ حرکتیں کر گزرتا ہے،جس سے شیطان بھی پناہ مانگے۔ <p style="text-align: center;"> خطبات( سید مودودیؒ )