Lessons from Tragedy of Karbala
28000
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 25)۔ </span><br> واقعہ کربلا تاریخ اسلامی کا وہ اندوہناک سانحہ ہے جو 10 محرم الحرام 61 ہجری کو عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔سانحہ کربلا میں سیدنا حسین نے اپنے اہل بیتؓ اور رفقاء کے ساتھ دین اسلام کی سر بلندی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔سانحٔہ کربلا منزل کی طرف جانے کا ایک راستہ ہے۔وہ منزل جو عظمتِ انسانی کا درس دیتی ہے اور جس کی وجہ سے حق و باطل کے درمیان اس فرق کی نشاندہی ہوتی ہے،جو کائنات میں ازل سے ابد تک انسانیت کے لیے رکھ دیا گیا ہے۔حضرت حسین کی ذاتِ اقدس در حقیقت وہ استعارہ ہے جو رہتی دنیا تک باطل کے سامنے ڈٹ جانے کی مثال پیش کرتا رہے گا۔حضرت حسین نے ظلم و جابر حکمران کے ہاتھوں جان بلب اسلام کو ایک دفعہ پھر زندگی عطا کی اور اسلامی معاشرے کو اپنے خطوط پر استوار کیا جن خطوط پر رسول اللہﷺ نے استوار فرمایا تھا ۔اسلامی تہذیب سے رُخ پھیر کر جاہلیت کی طرف پلٹنے والی قوم کو پھر سے قرآن و سنت کے سائے میں بندگی کا درس اور تر بیت دے کر پھر سے ایک مہذب قوم میں بدل دیا۔تاریخ میں ایسے بہت کم واقعات ملتے ہیں جہاں انسان کے پاس جان بچانے کا راستہ بھی موجود ہو مگر وہ اپنے اصول ، نظرئیے اور سچ کی خاطر وہ راستہ اختیار نہ کرے بلکہ اپنے خاندان سمیت جان دے کر حق و سچائی کے راستے میں ایک ایسی لازوال شمع جلادے، جو تا ابدانسانوں کے لیے مشعل راہ بن جائے۔کربلا ایک ایسا آفتاب ہےجس کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑے گی۔جس کے اُجالے ہمیشہ عالم انسانی کو یہ احساس دلاتے رہیں گے کہ چند روزہ زندگی یا کسی معمولی سے مفاد کے لیے باطل کی اطاعت قبول کرلینا ایک ایسا سانحہ ہے جو انسان کی انفرادی اور معاشرے کی اجتماعی زندگی کو ذلت و زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں اتار دینا ہے۔دنیا آج بھی وقت کے یزیدوں سے بھری پڑی ہے۔ظلم آج بھی ہورہا ہے،کہیں فلسطین و غزہ میں اور کہیں کشمیر میں اور کہیں برما میں، کہیں بھی باطل غالب نہیں آسکا، ہر جگہ ایک مزاحمت جاری ہے،یہ کربلا کا سبق ہے کہ کسی بھی یزید کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہونا۔<p> حق اور سچ کے لیے ڈٹ جانا ہے،چاہے اس میں جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔</p> <p style="text-align: center;">نسیم شاہد(کے کالم سے انتخاب)