Enjoining Good And Forbidding Evil.

Topic page pattern with intro copy, featured content, related topics, and top speakers.

articleUrdu0 min

Enjoining good and forbidding evil.

28771

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 01)۔ </span><br> <p>اُمتِ مسلمہ صرف کلمہ گو جماعت نہیں بلکہ داعی الی الخیر بھی ہے۔یہ اُس ک دینی فرائض میں داخل ہے کہ بنی نوع انسان کی دنیا کی سرفرازی اور آخرت کی سر خروئی کے لیے جو بھی بھلے کام نظر آئیں،بنی آدم کو اُس کا درس دیں اور اُس کی مخالف سمت چلنے سے اُن کو روکیں۔اس فریضہ سے کوئی مسلمان بھی مستثنیٰ نہیں۔مسلم معاشرے کے ہر فرد کا فرض ہے کہ کلنہ حق کہے،نیکی اور بھلائی کی حمایت کرئے۔الاقرب فالاقرب کے اصول کو مدِ نظر رکھتے ہوئے گھر،معاشرے اور مملکت میں جہاں بھی غلط کام ہوتے نظر آئیں اُن کو روکنے کی مقدو ربھر کوشش کرے۔ایمان بااللہ کے بعد دینی ذمہ داریوں میں سب سے بڑی ذمّہ داری امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا ہے۔امر بالمعروف کا مطلب ہے نیکی کا حکم دینا اور نہی عن المنکر کا مطلب ہے برائی سے روکنا۔یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیک لوگوں کو پسند اور ربرائی اور برے لوگوں کو ناپسند فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ نیک لوگوں اور نیکی کا غلبہ رہے اور برے لوگ اور برائی مغلوب رہے۔اللہ تعالیٰ نے اہل ِ ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی سے بچنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا حکم دیا ہے۔اسی عظیم مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے انبیاء ﷩ کو مبعوث فرمایا اور انبیاءکرام﷩ کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد اُمّتِ محمدیﷺکے حکمرانوں،علماء و فضلاء کو خوصوصاً اور اُمّت کے دیگر افراد کو عموماً اس کا مکلف ٹھرایا ہے۔قرآن و حدیث میں اس فریضہ کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں پر اپنے اپنے دائرہ کار اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرنا واجب قرار دیا گیا ہے۔</P> <p style="text-align: center;"> فرید اللہ مروت (رکن مجلسِ ادارات)