Articles

Read Quran Academy articles and Unicode content.

Clear

142 results with 1 filter

Page 5 of 6

articleUrdu0 min

Panah ka Wahid Rasta

25858

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br>میری رائے میں پاکستان کی بقاء صرف اسلامی انقلاب میں ہے۔ البتہ جب تک کوئی انقلاب نہیں آتا، جمہوریت ہونی چاہیے، ورنہ چھوٹے صوبوں کے اندر احساس محرومی بڑھے گا۔ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ہو ، جمہوری حقوق حاصل ہوں، مطالبوں کے لیے جلسے کریں، جلوس نکالیں تو غبار اندر سےنکل جاتا ہے، بھڑاس نکل جاتی ہے، ورنہ لاوا اندر ہی اندر پک کر پھٹ پڑتا ہے۔ البتہ ہمارے لیے پناہ کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہم اسلام کی طرف پیش قدمی کریں ۔ کسی بلند تر مقصد کے لیے انسان چھوٹے مفادات کی قربانی دے دیتا ہے۔ جب کوئی مقصد سامنے نہ ہو تو پھر مفادات اور مصلحتیں ہی رہ جائیں گی اور ان میں ٹکراؤ تو ہونا ہی ہے۔ ہماری محرومی ہے کہ ہم اسلام کی طرف سوچنے کو تیار ہی نہیں۔ خدا را سوچنے!وہ مقصد کہاں ہے جس کے لیے پاکستان بنا یا تھا؟ نوجوان نسل سوال کرتی ہے کہ پاکستان کیوں بنا یا تھا ؟ جو ماحول بھارت میں ہے، وہی یہاں ہے۔ بینکنگ کا وہی نظام وہاں بھی ہے جو یہاں ہے۔ وہی ملٹی نیشنل تنظیمیں وہاں بھی ہیں یہاں بھی ہیں۔ مسجدیں وہاں بھی ہیں ، یہاں بھی ہیں۔ پھر آخر کیوں اتنی جانیں دے کر اور عصمتیں لٹا کر پاکستان بنوایا۔ میرے نزدیک ہمارے مسائل کا حل صرف تو بہ میں ہے ۔ انفرادی تو بہ یہ ہے کہ اپنے کردار سے خلاف شریعت کاموں کو نکال دیا جائے ۔ دوسری ہے اجتماعی توبہ۔ میں کہتا ہوں کہ اگر ہم ایسا کر لیں تو اللہ تعالی کی رحمت جوش میں آجائے گی اور قوم یونسؑ کی طرح اللہ تعالی ہماری توبہ قبول فرمالے گا ۔ قوم یونسؑ پر عذاب کے آثار شروع ہو گئے تھے لیکن انہوں نے توبہ کی اور اللہ نے ان پر سے عذاب ٹال دیا۔<p style="text-align: center;"> <b>(بصائر از ڈاکٹر اسرار احمد ؒ) </b> </p><p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Basaair/16/40117/40433/59213" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p></span>

articleUrdu0 min

Istahkam-o-Baqa Pakistan ke Naguzeer Lawazim

25857

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br>ملک وملت ہی نہیں ، بقاء تک کے لیے حسب ذیل چیزیں ناگزیر و لازم ہیں:<br> <br>•&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp ایک ایسا طاقتور انسانی جزبہ جو جملہ حیوانی جبلتوں پر غالب آجائے اور قوم کے افراد میں کسی مقصد کے لیے تن من دھن لگا دینے حتی کہ جان تک قربان کر دینے کا مضبوط ارادہ او ر قوی داعیہ پیدا کردے۔ <br>•&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp ایک ایسا ہمہ گیر نظریہ جو افرادِ قوم کو ایک ایسے مضبوط ذہنی و فکری رشتے میں منسلک کر کے بنیانِ مرصوص بنا دے جو رنگ، نسل، زبان اورز مین کے تمام رشتوں پر حاوی ہو جائے اور اس طرح قومی یک جہتی میں اور ہم آہنگی ضامن بن جائے! <br>•&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp عام انسانی سطح پر اخلاق کی تعمیر نو جو صداقت ،امانت ، دیانت اورایفائے عہدکی اساسات که از سر نو مظبوط کردے اور قومی و ملی زندگی کو رشوت، خیانت ، ملاوٹ، جھوٹ،فریب، ناانصافی ، جانب داری ، ناجائز اقربا پروری اور وعدہ خلافی ایسی تباہ کن بیماریوں سےپاک کر دے۔ <br>•&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp&nbsp ایک ایسا نظامِ عدلِ اجتماعی (System of Social Justice) جو مرد اور عورت فرد اور ریاست اور سرمایہ اور محنت کے مابین عدل و اعتدال اورقسط و انصاف اور فی الجملہ حقوق و فرائض کاصحیح حسین تو ازن پیدا کر دے۔ <br><br>تحریک پاکستان کے تاریخی اور واقعاتی پس منظر، اور پاکستان میں بسنے والوں کی عظیم اکثریت کی فکری و جزباتی ساخت ، دونوں کے اعتبار سے یہ بات بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہےکہ اس ملک میں تمام تقاضے صرف اور صرف دین و مذہب کے ذریعے اسلام کے حوالے اور ناتے سے پورے کیے جاسکتے ہیں۔ <p style="text-align: center;"> <b>(استحکام پاکستان از ڈاکٹر اسرار احمدؒ) </b> </p><p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Istahkaam-e-Pakistan/16/40111/40396/58679" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p></span>

articleUrdu0 min

Roza Aur Taqwa

25847

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br>اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : “اے ایمان و الو !تم پر روزہ فرض کیا گیا جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تا کہ تم میں تقوی پیدا ہو جائے (سورۃ البقرہ 183) گویا روزے کی مصلحت اور مدعا تقوی ہے۔ تقوی کے معنی اور مفہوم جان لینے سے یہ مصلحت اور حکم بڑی آسانی سے سمجھ میں آجائے گا۔ تقوی کے معنی ہیں “بچنا” ۔ قرآن مجید نے اس میںاصطلاحی مفاہیم پیدا کیے، یعنی اللہ کے احکام کو تو ڑنے سے بچنا،حرام سے بچنا، معصیت سے بچنا یہ تقوی ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے نفس کے بہت سے تقاضے ہیں پیٹ کھانے کو مانگتا ہے۔ فرض کیجئے کہ کوئی حلال چیزکھانے کو نہیں ہے تو ایسے میں اگر کوئی مسلمان اس بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو جائے تو حرام میں منہ مار بیٹھے گا۔ لہذا اس میں یہ عادت ڈالی جائے تاکہ آخری حد تک بھوک پر قابو پانے میں کامیاب رہے۔ اسی طرح پیاس کو کنٹرول میں لائے، شہوت کوکنٹرول میں رکھے۔ ساتھ ہی اسےنفس کی ان خواہشات پر قابو پانے کی مشق حاصل ہو جو دین کے منافی ہوں۔ لہذا طلوع فجر سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور تعلق زن و شوسےکنارہ کش ہونے کی جومشق کرائی جاتی ہے اس کا مقصد ہے ضبط نفس تا کہ ایک بندہ مومن کو اپنے نفس کے منہ زور گھوڑے کے تقاضوں پر قابو پانے اور کنٹرول میں رکھنے کی مشق ہو جائے اور عادت پیدا ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔ اب سوچئے کہ اگر آپ پورے تیس دن ایک مقر رہ وقت سے لے کر دوسرے مقررہ وقت تک اللہ کی حلال کردہ چیزیں اس لیے استعمال نہیں کر رہے کہ اللہ نے اس کی اجازت نہیں دی تو اس سے آپ کے اندر ایک مضبوط قوت ارادی کے ساتھ استطاعت اور استعداد پیدا ہونی چاہیے کہ بقیہ گیارہ مہینوں میں اللہ کی حرام کردہ چیزوں اور منکرات سے بچ سکیں اور تقوی کی روش پر مستقیم رہیں۔ لہذا پورے رمضان کے روزے دراصل تقوی کی مشق ہے۔ سوم کی فرضیت کے ساتھ " <span class="Font_AlMushaf"> لعلکم تتقون</span>" ایک چھوٹا سا فقرہ ہے ،لیکن غور و تدبر کیا جائے تو یہ دو لفظی جملہ بڑا ہی پیارا نہایت عجیب اور بڑی جامعیت کا حامل ہے، اس کے اندر روزے کی ساری ظاہری و باطنی اور انفرادی و اجتماعی فضیلتیں آگئیں۔اور یہ بات روز روشن کی طرح مبر ہن ہو گئی کہ روزے کا مقصود حصول تقوی ہے۔<p style="text-align: center;"> <b>(عظمت صیام و قیام رمضان از ڈاکٹر اسرار احمد ؒ) </b> </p><p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Azmat-e-Siyam_O_Qiyam-e-Ramazan-e-Mubarik/15/31/102/875" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p></span>

articleUrdu0 min

Insani Shaksiyat ke 2 Rukh hain

25845

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br>ایک علم‘ دوسرے عمل۔اسلام میں علم صحیح کا مظہراَتم ’’ایمان‘‘ ہے جبکہ عمل صحیح کی اساس ’’ تصور فرائض‘‘ پر قائم ہے۔ایمان انسان کو علم حقیقت ہی عطا نہیں فرماتا ‘صحیح محرک عمل بھی دیتا ہے۔ اس اعتبار سے اوّلین اہمیت اسی کی ہے۔ چنانچہ ایمان کی ماہیت‘ اس کی تفاصیل‘ اس کے درجات‘ اس کے حصول کے ذرائع اور اس کے لوازم و ثمرات اہم ترین موضوعات ہیں <p style="text-align: center;"> <b>(تعارف تنظیم اسلامی) </b> </p><p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Taaruf_e_Tanzeem_e_Islami/18/58/189/35667" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p></span>

articleUrdu0 min

Qurbani ki Asal Rooh

Qurbani ki Asal Rooh

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br> ہر چیز کا ایک ظاہر ہوتا ہے اور ایک باطن مثلا نماز کا ایک ظاہر ہے یعنی قیام ہے، رکوع ہے، سجود ہے، قعدہ ہے۔ یہ ایک خول اور ڈھانچہ ہے۔ اس کا ایک باطن ہے یعنی تو جہ اور رجوع الی اللہ خشوع و خضوع، بارگاہِ رب میں حضوری کا شعور و ادراک، انابت، محبت الہٰی……. نماز کی اصل روح اور جان تو یہی چیزیں ہیں۔ اس طرح جانور کو ذبح کرنا اور قربانی دینا ایک ظاہری عمل ہے۔ یہ ایک قول ہے۔ اس کا ایک باطن بھی ہے اور وہ " تقوی" ہے۔ چنانچہ قرآن حکیم کی سورۃ الحج میں قربانی کے حکم کے ساتھ ( آیت : 37 میں) متنبہ کر دیا گیا کہ: ’’اللہ تک نہیں پہنچتا ان قربانیوں کا گوشت اور ان کا خون ،ہاں اس تک رسائی ہے تمہارے تقوی کی۔‘‘ <br>اگر تقوی اور روح تقوی موجود نہیں، اگر یہ ارادہ اور عزم نہیں کہ ہم اللہ کی رضا کے لیے مالی و جانی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں تو اللہ کے ہاں کچھ بھی نہیں پہنچے گا۔ یعنی ہمارے نامہ اعمال میں کسی اجر و ثواب کا اندراج نہیں ہو گا۔ گوشت ہم کھا لیں گئے کچھ دوست احباب کو بھیج دیں گے، کچھ غرباءکھانے کو لے جائیں گے، کھالیں بھی کوئی جماعت یا دار العلوم والے لے جائیں گے۔ لیکن اللہ تک کچھ نہیں پہنچے گا ،اگر وہ روح موجود نہیں ہے…….. روح کیا ہے ؟ وہ تو امتحان آزمائش اور ابتلا ء ہے اور اس میں کامیابی کاوہ تسلسل ہے جس سے سیدنا حضرت ابراہیمؑ کی پوری زندگی عبارت ہے۔<br> ہمارے لیے لمحہ فکر یہ ہے کہ ہم سوچیں غور کریں اور اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ کیا واقعتا ہم اللہ کی راہ میں اپنے جذبات و احساسات کی قربانی دے سکتے ہیں؟ کیا واقعتا ہم اللہ کے دین کی خاطر اپنے وقت کا ایثار کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے ذاتی مفادات کو اللہ اور اس کے دین کے لیے قربان کر سکتے ہیں؟ اپنے علائق دنیوی اپنے رشتے اور اپنی محبتیں اللہ کے دین کی خاطر قربان کر سکتے ہیں؟ اگر ہم یہ سب کر سکتے ہیں تو عیدالاضحی کے موقع پر یہ قربانی بھی نورعلی نور ہے ……..اور اگر ہم اللہ کے دین کے لیے کوئی ایثار کرنے کے لیے تیار نہیں تو جانوروں کی یہ قربانی ایک خول اور ڈھانچہ ہے جس میں کوئی روح نہیں ۔ بقول علامہ اقبال مرحوم<br><p style="text-align: center;">رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی<br> فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی!<br></p></span>

articleUrdu0 min

Sab Say Bari Kamyabi

Sab Say Bari Kamyabi

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br>“حقیقت یہ ہے کہ اللہ نےخر یدلی ہیں مسلمانوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے۔ وہ لڑ تے ہیں اللہ کی راہ میں، پر قتل کرتے بھی ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں ۔ یہ وعدہ ہو چکا اللہ کے ذمہ سچا تو رات، انجیل اور قرآن میں اور کون ہے جو اپنے وعدے کا پورا کرنے والا ہواللہ سے بڑھ کر؟ پس خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے اس سے کیا ہے ،اور یہی ہے بڑی کامیابی ۔” (التوبہ :111)<br> یہ آیت قرآن مجید کی اہم ترین آیات میں سے ایک ہے ،بدقسمتی سے آج ہماری زندگیوں میں اس آیت کی وہ اہمیت نہیں رہی جو صحابہ کرام ؓجن کی زندگیوں میں اس کو حاصل تھی ۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ مومن اور اللہ تعالی کے درمیان ایک خرید وفروخت کا معاملہ ہوتا ہے۔ ایمان لانے کا مطلب ہی یہ ہے کہ ایک شخص اپنے آپ کو، اپنی صلاحیتوں اور اوقات کو، اپنے وسائل اور اموال کو اللہ تعالی کے راستے میں کھپا دینے کے لیے آمادہ ہے ،اور ان تمام قربانیوں کے عوض اس سے موت کے بعد کی زندگی میں جنت کا وعدہ کیا جا تا ہے ۔ یہ وہ سوداہے جو مومن اور اللہ تعالی کے مابین انجام پاتا ہے۔ اس سودے کے نتیجے میں اہل ایمان اللہ کے راستے میں جنگ کرتے ہیں تا کہ اللہ کے دین کا بول بالا ہو۔ اس جنگ میں وہ اللہ کے دشمنوں کو بھی قتل کرتے ہیں اور خود بھی قتل ہوتے ہیں۔ <br>یہ وعد ہ اللہ نے کیا ہے اور وہ لازماً اسے پورا کرے گا۔ اس نے یہ وعدہ تین مرتبہ کیا ہے، تو رات میں انجیل میں اور پھر قرآن مجید میں ۔ اور اللہ سے زیادہ اپنے قول کا سچا اور وعدے کا پورا کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے؟ لہذا اس سودے پر جوتم نے اللہ تعالی کے ساتھ کیا ہے خوشیاں مناؤ۔ تم سے جو کچھ قربان کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے وہ نہایت حقیر شے ہے اور جس کا وعدہ کیا جا رہا ہےوہ ابدی راحت ہے۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے جو کسی انسان کو حاصل ہو سکتی ہے۔<br><p style="text-align: center;"><b>(ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کی تحریر ’’اسلامی نظم جماعت میں بیعت کی اہمیت سے اقتباس‘‘)۔ </span><br></p></b> <br> <p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Islami_Nazm-e-Jamat_Mein_Bait_Ki_Ahmiat/12/40/152/1427" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p>

articleUrdu0 min

Waqt ki Eham Tareen Zarorat

Waqt ki Eham Tareen Zarorat

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br>آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ طریق انقلاب واضح ہو جائے۔ آج مسلمانوں میں ـجذبے کی کمی نہیں ہے۔ ہزاروں لوگ جانیں دے رہے ہیں۔ اپنے جسموں سے بم باندھ کر اپنے جسموں کو اڑا رہے ہیں ۔ کشمیر کے اندر جو جذبہ ابھرا اسے پوری دنیا نے دیکھ لیا۔ کشمیریوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ تو لڑنے والی قوم ہے ہی نہیں ‘اب اس کے اندر جان پیدا ہو چکی ہے۔ پاکستان سے جا کر کتنے لوگوں نے وہاں پر جامِ شہادت نوش کر لیا۔ لیکن اسلامی انقلاب کا طریق کار یہ نہیں ہے۔ اس سے کہیں کامیابی نہیں ہو گی۔ اس طریقے سے آپ صرف اپنا غصہ نکال سکتے ہیں ۔ آپ نے جا کر افریقہ میں امریکہ کے دو سفارت خانوں کو بم سے اڑا دیا ‘اس سے امریکی تو دس پندرہ مرے‘ جبکہ ۲۰۰ وہاں کے لوکل افریقی مر گئے۔ فائدہ کیا ہوا؟ بس یہی کہ آپ نے اپنا غصہ نکال لیا۔ تو ان طریقوں سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ الیکشن سے بھی کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ اس طرح اسلامی انقلاب کا خواب کبھی شرمندئہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ آپ کا خلوص اپنی جگہ‘ لیکن یہ طریقہ غلط ہے ۔ اسلامی انقلاب کے لئے طریقہ محمدیؐ اختیار کرنا ہو گا۔ کیا حضورﷺ عرب میں الیکشن کے ذریعے سے کامیاب ہو سکتے تھے؟ قرآن تو کہتا ہے <span class="Font_AlMushaf">(وَ اِنۡ تُطِعۡ اَکۡثَرَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ یُضِلُّوۡکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ) </span> الانعام:116’’اگر تم زمین میں رہنے والوں کی اکثریت کی پیروی کرو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے گمراہ کر کے چھوڑیں گے‘‘۔ الیکشن میں تو صرف اکثریت اقلیت کا مسئلہ ہے۔ میں اس سے بھی بڑھ کر کہتا ہوں‘ کیا آیت اللہ خمینی الیکشن کے ذریعے ایران میں برسرِاقتدارآ سکتے تھے؟ قطعاًناممکن!خد اکے لئے اپنے آپ کو دھوکہ دینا چھوڑ دو۔ آج پوری امت عذابِ الٰہی سے صرف اس صورت میں نکل سکتی ہے کہ کم از کم کسی ایک ملک میں اللہ کے دین کو قائم کر کے پوری دنیا کو دعوت دے سکے کہ آؤ دیکھو ‘ یہ ہے اسلام! اس کی برکتیں دیکھو اس کی سعادتیں دیکھو یہاں کی مساوات اور یہاں کا بھائی چارہ دیکھو یہاں کی آزادی دیکھو یہاں کا امن و امان دیکھو!! اگر ہم یہ نہ کر سکے تو پھر اللہ کا عذاب سخت سے سخت تر ہو گا۔<p style="text-align: center;"> <b>(رسول انقلاب کا طریق انقلاب) </b> </p><p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Dr._Israr_Ahemd_and_Tanzeem_Islami/18/60126/60530/81920" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p></span>

articleUrdu0 min

Takzeeb-e-Hali

Takzeem-e-Hali

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br><p style="text-align: center;"><span class="Font_AlMushaf">بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ؕ سورۃ الجمعہ 5</span><br>’’بری ہے مثال اُس قوم کی جنہوں نے آیاتِ الٰہی کو جھٹلایا‘‘</p>یہاں لفظ ’’تکذیب‘‘بڑی اہمیت کا حامل ہے. تکذیب قول سے بھی ہو سکتی ہے اور عمل سے بھی. یعنی تکذیب باللسان بھی ہو سکتی ہے اور بالحال بھی. یہ بھی تکذیب ہی کی ایک صورت ہوتی اگر بنی اسرائیل زبان سے صاف کہہ دیتے کہ تورات اللہ کی کتاب نہیں ہے‘ لیکن تاریخ کی گواہی یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے اس معنی میں تورات کی تکذیب کبھی نہیں کی. ہاں تکذیب عملی کے وہ ضرور مرتکب ہوئے. وہ تکذیب عملی کہ جس کا نقشہ بدقسمتی سے آج اُمت مسلمہ پیش کر رہی ہے کہ بجائے قرآن کو اپنا پیشوا‘ رہنما اور مشعل راہ بنانے کے اُمت کی عظیم اکثریت نے اسے طاقِ نسیاں پر رکھ چھوڑا ہے. قرآن نے اس طرزِ عمل کو تکذیب کے لفظ سے موسوم کیا ہے : <span class="Font_AlMushaf">بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ؕ </span>یہ اللہ کی آیات کی تکذیب نہیں تو اور کیا ہے! زبان سے چاہے قرآن مجید پر کتنا ہی ایمان کا دعویٰ کیا جائے‘اگر قرآن مجید کو ہم نے اپنا امام نہیں بنایا‘ قرآن مجید کی رہنمائی کو عملاً اختیار نہیں کیا‘ قرآن مجید کے عطا کردہ ضابطے اور قانون کو نافذ نہیں کیا‘ اس کی تعلیمات کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو استوار نہیں کیا تو گویا کہ اپنے عمل سے ہم قرآن کی تکذیب کر رہے ہیں. یہ تکذیب حالی ہے.<br><p style="text-align: center;"> <b>(انقلاب نبوی ﷺ کا اساسی منہاج)<b> </span>