Saturday, 23 Rabiʻ I 1448 | September 5, 2026
Quran Academy

قربانی کا اصل فلسفہ اور پیغام

The true philosophy and message of sacrifice

404 Views
Released date:
File format: UNICODE
File size: 1 KB
Category: Urdu Articles
Speaker or author: Markaz Tanzeem-e-Islami
Topics Covered
  • The true philosophy and message of sacrifice
  • ایمان ایک مکمل اسلوبِ حیات۔
  • قربانی کا اصل فلسفہ اور پیغام

<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 21)۔ </span><br> فلسفہ قربانی میں بات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے کی قربانی سے شروع ہوتی ہے۔وہ بیٹا جو انھیں پیرانہ سالی میں ملا تھا،عمر کے اُس حصہ میں جب انسان اولاد کا تصور نہیں کرتا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑی خواہش کے بعد بیٹے کی نعمت سے سرفراز ہوتے ہیں لیکن حکم ہوتا ہے تو اسی بیٹے کی قربانی کے لیے نکل کھٹرے ہوتے ہیں،اور جب اُس کی گردن پر چھری رکھتے ہیں تو وہ گویا تمام محبتوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی محبت و اطاعت اور اُس کے احکامات کو بجالانے پر قربان کردیتے ہیں۔یہ حج اور قربانی کا اصل فلسفہ اور پیغام ہے۔ہماری زندگی جس ڈگرپر گزرتی ہے،جن جن میدانوں میں جولانیاں دکھاتی،اور جس مورچے اور محاذ پر اپنے آپ کو منواتی ہے،یہ زندگی اللہ رب العالمین کی اطاعت اور اس کے حکم کی بجا آوری میں صرف ہونی چاہیے اور اس راہ میں کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔خواہشات،تمناؤں اور آرزؤوں،اور کل سے بہتر آج اور آج سے بہتر کل کے جذبے کی قربانی کے لیے ہر دم تیار رہنا چاہیے۔حج اور قربانی کا یہ فلسفہ ہر لمحے ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ زندگی اس ڈگر پر گزرے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے بتائی ہے۔یہ فلسفہ اگر جذب و انجذاب کے مراحل سے گزرے،دل و دماغ کے اندر سرایت کرے اور رگ و ریشے کے اندر خون کی طرح دوڑے تو پھر وہ انسان اور وہ اجتماعیت و جود میں آتی ہے جو معاشرے کے اندر بڑی شے کو مسخر کرنے کی صلاحیت کی حامل ہوتی ہے۔ <p style="text-align: center;"> سید منور حسن (سابق امیر جماعت اسلامی)