نظریہ: قوموں کی روح
Theory: The Soul of Nations
Topics Covered
- Theory: The Soul of Nations
- ایمان ایک مکمل اسلوبِ حیات۔
- نظریہ: قوموں کی روح
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;"> (ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 15)۔ </span><br> نظریہ (IDEOLOGY) ایک قوم کے لیے روح کی سی حیثیت رکھتا ہے،جس کے ہونے سےزندگی برقرار رہتی ہے اور جس کے فقد ان کی صورت میں انسانی معاشروں سے اس حرارت و حرکت کا خاتمہ ہوجاتا ہے جس کانام زندگی ہے۔قوم کی یہ زندگی بخش نظریاتی رُوح اگر زندہ و توانا ہو تو دوسری تمام قوتیں ہاتھ آجاتی ہیں اور تھوڑی قوتوں سے بہت زیادہ نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔نظریہ سے سرشار ہونے والی قوموں کا عشق اتنا جَسُور اور فَقر اتنا غیور ہوتا ہے کہ وہ کبھی خوار نہیں ہوتیں،لیکن نظریہ کی مرکزی قوت ختم ہو جائے یا کمزور پڑ جائے تو محض روپے پیسے،صنعت و تجارت،فوجوں اور اسلحہ،ادارات اور تنظیموں اور معاہدوں اور بلاکوں کے بل پر کسی انسانی گروہ کو نہ زندگی حاصل ہوسکتی ہے،نہ ترقی و کامیابی۔بدن میں اگر رُوح ختم ہورہی ہو اور شجاعت کا جوہرِ فعال کام نہ کررہا ہو تو بھینسے جیسا عظیم جثہ گوشت کے ایک ڈھیرسے زیادہ نہیں۔ <p>نظریہ سے محروم معاشرے یا تو قائم ہی نہیں رہ سکتے،یا پھر وہ دوسروں میں ضم ہو جاتے ہیں اور کسی نظریاتی تمدن کے تابع مہمل بن جاتے ہیں۔اقوام کا زوال ’’بے زری‘‘سے نہیں ہوتا،اور اُن کا عروج بھی تو نگری کا مرہون منت نہیں ہوتا۔اسی طرح اسلحہ کی کمی کے بھی معنی لازماً یہ نہیں ہوتے کہ ایک قوم کمزور ہے،بلکہ اگر اس کے جوانوں کی خودی فولاد کی سی قوت رکھتی ہے تو وہ بہت زیادہ محتاجِ شمشیر نہیں رہتی۔دوسری طرف اگر خودی ہی جواب دے جائے تو پھر جو کچھ رہ جاتا ہے وہ خالی زرنگار نیام ہوتے ہیں جن میں شمشیریں نہیں ہوتیں۔اسی لیے علامہ اقبال فرماتے ہیں ’’قوموں کی حیات اُن کے تخیل پہ ہے موقوف۔‘‘</p> <p style="text-align: center;"> (اقبال کا شعلہ نوا)نعیم صدیقی


