حیاتِ ابراہیمی ؑ: امتحان و آزمائش کی مثال ِ کامل
Hayat-e-Ibrahimi A.S. : Imtahan-o-Azmaesh ki Misal-e-Kamil
Topics Covered
- Hayat-e-Ibrahimi A.S. : Imtahan-o-Azmaesh ki Misal-e-Kamilحیاتِ ابراہیمی ؑ: امتحان و آزمائش کی مثال ِ کامل
<span style="color: black;"><span style="font-size: 28px;">از: ڈاکٹر اسرار احمدؒ</span><br> اس امتحان کی جو کامل و مکمل مثال قرآن مجید پیش کرتا ہے وہ حضرت ابراہیم(علیٰ نبینا و علیہ السلام) کی زندگی ہے۔ چنانچہ سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۲۴ کا آغاز ان الفاظ میں ہوتا ہے تذکر ّبالقرآن اور دوسرا ہے تدبر ّبالقرآن۔: <span class="Font_AlMushaf">{وَ اِذِ ابۡتَلٰۤی اِبۡرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ ؕ} </span>’’اور یاد کرو کہ جب آزمایا ابراہیم کو اس کے رب نے بڑی بڑی باتو ں میں تو وہ ان سب میں پورا تر گیا‘‘ یہاں لفظ ابتلاء آگیا ۔ اس کے معنی ہیں کسی کو آزمانا ، امتحان و آزائش میں ڈالنا ----- یہاں لفظ <span class="Font_AlMushaf">’’بِکَلِمٰتٍ ‘‘</span> میں تنوین تنکیر کے لیے آئی ہے ، یعنی اس نے اس کو نکرہ بنا دیا ہے،اور تنکیر عربی زبان میں تفخیم کے لیے یعنی کسی چیز کی عظمت و شان کو بیان کرنے کے لیے آتی ہے۔ چنانچہ<span class="Font_AlMushaf">’’بِکَلِمٰتٍ ‘‘</span> میں بڑے بڑے اور کٹھن امتحا نات کا مفہوم شامل ہو گیا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے اس رب نے بڑے سخت اور مشکل امتحانات لیے ، لیکن اس اللہ کے بندے نے سب کو پورا کر دیکھایا۔ <span class="Font_AlMushaf">’’فَاَتَمَّہُنَّ ‘‘</span> اس کی قوّتِ ارادی میں کہیں ضعف و تا ٔمل پیدا نہیں ہوا ، اس کی عزیمت میں کمزوری اور تذبذب کے کہیں آثار ہو یدا نہیں ہوۓ۔<br>جب حضرت ابراہیم ؑ ان امتحانات کو پاس کر گئے تو ان کو یہ بشارت دی گئی <br><span class="Font_AlMushaf">قَالَ اِنِّیۡ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ؕ </span>ؕ(اللہ تعالیٰ نے ) کہا (اے ابراہیمؑ)ےیقیناََ میں تجھے پورے نوعِ انسانی کا امام بنانے والا ہوں۔‘‘ حضرت ابراہیمؑ نے بر بناۓ طبعِ بشری فوراَ َ سوال کیا: <span class="Font_AlMushaf">قَالَ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ؕ </span> عرض کیا: اے اللہ! یہ وعدہ صرف مجھ سے ہی ہے یا میری نسل سے بھی ہے؟<span class="Font_AlMushaf">قَالَ لَا یَنَالُ عَہۡدِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۲۴﴾ </span>’’ فرمایا : میرا یہ عہد ظالموں ک ساتھ نہیں ہو گا‘‘۔ تمہاری نسل میں سے جو ظالم ہو گے وہ اس وعدے کے مستحق نہیں ہوں گے----- ’’ ظلم‘‘ کے متعلق ہمارے اکثر دروس میں ذکر ہو چکا ہے کہ قرآن کریم میں اکثر و بیشتر ’’ظلم‘‘ کے الفاظ سے شرک مراد ہوتا ہے----- تمہارا اصل کمال یہ ہے کہ تم نے توحید کی ترازو میں پورا اتر کر دکھا یا ۔ اس کی وجہ سے تم <span class="Font_AlMushaf">’’امام النّاس ‘‘ </span>کے مقام پر فائز کئے جا رہے ہو۔ اب تمہاری نسل میں سے جو لوگ مشرک ہو جائیں گے تو وہ میرے اس عہدکے حق دار کیسے ہو سکتے ہیں ؟ اس مفہوم کو بھی علامہ اقبال مرحوم نے بڑے سادہ الفاظ میں ادا کیا ہے ؎:<p style="text-align: center;"> باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو<br> پھر پسر لائق میراثِ پدر کیونکر ہو؟<br> <br> <b>عید الاضحٰی اور فلسفہ قربانی ( ڈاکٹر اسرار احمد ؒ) </b> </p><p style="text-align: center;"><a href="https://tanzeemdigitallibrary.com/Book/Eid_ul_Azhaa_aur_falsafa_e_qurbani/15/40112/40419/58860" target="_blank">تفصیلی مطالعہ کے لیے کلک کریں۔ </a></p></span>


